কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৪ টি
হাদীস নং: ১০৪১৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا مہربان ہے
10413 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک بندے کو حاضر فرمائیں گے اور اس سے دریافت فرمائیں گے کہ تو کیا پسند کرتا ہے کہ میں تجھے دو میں سے کسی چیز کے بدلہ عمدہ بدلہ عطا فرماؤں، تیرے عمل کے بدلے ؟ یا اپنی اس نعمت کے بدلے جو تیرے پاس تھی ؟ وہ بندہ کہے گا، اے میرے رب ! آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے بدلے لے لو، چنانچہ اس کی کوئی نیکی ایسی نہ رہے گی، جسے اس نعمت نے فارغ نہ کردیا ہو، تو وہ بندہ کہے گا، اے میرے رب ! آپ کی نعمت اور رحمت کے بدلے اللہ تعالیٰ فرمائیں (ہاں) میری نعمت اور رحمت کے بدلے، پھر ایک نیک آدمی کو لایا جائے گا جو یہ سمجھتا ہوگا کہ اس نے کبھی برائی نہیں کی، اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرے دوستوں سے محبت رکھی ؟ وہ شخص کہے گا، اے میرے رب ! میں پرامن لوگوں میں سے تھا، اللہ تعالیٰ پھر پوچھیں گے کہ کیا تو نے میرے دشمنوں سے نفرت کی، تو وہ شخص کہے گا کہ اے میرے رب ! میں اس بات کو پسند نہ کرتا تھا کہ میری کسی کے ساتھ بھی ناگواری وغیرہ ہو، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم وہ شخص میری رحمت کا حق دار نہ ہوگا جس نے میرے اولیاء (دوستوں) سے دوستی نہ کی اور میرے دشمنوں سے دشمنی نہ کی “۔ (الحکیم طبرانی بروایت حضرت واثلۃ (رض))
10417 يبعث الله تعالى يوم القيامة عبدا لا ذنب له فيقول الله عزوجل بأي الامرين أحب اليك أن أجزيك ؟ بعملك ؟ أم بنعمتي عندك قال : يا رب أنت تعلم أني لم أعصك ، قال : خذوا عبدي بنعمة من نعمي ، فما يبقى له حسنة إلا استفرغتها تلك النعمة ، فيقول : يا رب بنعمتك ورحمتك ، فيقول بنعمتي ورحمتي ، ويؤتى بعبد محسن في نفسه لا يرى أن له سيئة ، فيقال له : هل كنت توالي أوليائي ؟ قال : يا رب كنت من الناس سلما ، قال : فهل كنت تعادي أعدائي ؟ قال : يا رب لم أكن أحب أن يكون بيني وبين أحد شئ فيقول الله تعالى : وعزتي وجلالي لا ينال رحمتي من لم يوال أوليائي ، ويعاد أعدائي.(الحكيم طب عن واثلة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪১৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا مہربان ہے
10414 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں کسی پر ایسا غضبناک نہیں ہوا جیسا اپنے اس بندے پر ہوا جس نے نافرمانی کی اور میری رحمت کے ہوئے ہوئے اپنے کو بڑا سمجھا، اگر میں جلدی سزا دینے والا ہوتا، یا جلد بازی میری شان ہوتی تو میں ان لوگوں کے ساتھ جلد بازی کا معاملہ کرتا جو میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں، اور اگر میں اس وجہ سے اپنے بندوں پر رحم نہ کرتا کہ وہ میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں تو میں ان کا شکریہ ادا کرتا اور ان کے ذر کے بدلے ان کو ثواب اور امن عطافرماتا “۔ (دیلمی عن المنتخب)
10418 يقول الله عزوجل : ما غضبت على أحد غضبي على عبد أتى معصية فتعاظمها في جنب عفوي ، ولو كنت معجلا العقوبة أو كانت العجلة من شأني لعجلتها للقانطين من رحمتي ، ولو لم أرحم عبادي إلا من خوفهم من الوقوف بين يدي لشكرت ذلك لهم ، وجعلت ثوابهم منه الامن لما خافوا.(الديلمي عن المنتجع)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪১৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لطف۔۔۔ تکلملہ
10415 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندے کو چار باتوں کے ساتھ فضیلت دی، میں نے دانے پر کیڑا مسلط کردیا اگر میں ایسا نہ کرتا تو بادشاہ (گندم وغیرہ کے ) دانوں کو سونے اور چاندی کی طرح ذخیرہ کرنے لگتے۔
اور میں نے جسم میں بدبو پیدا کردی، اگر ایسا نہ ہو تو کوئی قریبی دوست اپنے قریبی دوست کو کبھی دفن نہ کرتا، اور میں نے تسلی کو غم پر مسلط کردیا، اگر ایسا نہ ہو تو نسل ختم ہوجاتی اور میں نے مدت مقرر کردی اور خواہش و آرزو کو طویل کردیا، اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا ویران ہوجاتی، اور کوئی کام کاج والا اپنے کام کاج میں کمزوری کا مظاہرہ نہ کرتا “۔ (خطیب بروایت حضرت براء بن عازب (رض))
اور میں نے جسم میں بدبو پیدا کردی، اگر ایسا نہ ہو تو کوئی قریبی دوست اپنے قریبی دوست کو کبھی دفن نہ کرتا، اور میں نے تسلی کو غم پر مسلط کردیا، اگر ایسا نہ ہو تو نسل ختم ہوجاتی اور میں نے مدت مقرر کردی اور خواہش و آرزو کو طویل کردیا، اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا ویران ہوجاتی، اور کوئی کام کاج والا اپنے کام کاج میں کمزوری کا مظاہرہ نہ کرتا “۔ (خطیب بروایت حضرت براء بن عازب (رض))
10419 يقول الله تعالى : تفضلت على عبدي بأربع خصال : سلطت الدابة على الحبة ، ولولا ذلك لادخرتها الملوك كما يدخرون الذهب والفضة ، وألقيت النتن على الجسد ، ولولا ذلك ما دفن خليل خليله أبدا ، وسلطت السلو على الحزن ولو لا ذلك لانقطع النسل وقضيت الاجل وأطلت الامل ، ولو لا ذلك لخربت الدنيا ، ولم يهن ذو معيشة بمعيشته.(الخطيب عن البراء).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لطف۔۔۔ تکلملہ
10416 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں سے اپنے بندوں کو فضیلت دی۔ میں نے دانے پر کیڑے کو مسلط کردیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو بادشاہ اس (دانے وغیرہ) کو بھی سونے چاندی کی طرح خزانوں میں رکھنے لگتے۔ (اور میں نے جسم میں بدبو پیدا کردی) اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی شخص اپنے قریبی کو کبھی دفن نہ کرتا اور میں نے غم کو ختم کردیا اگر ایسا نہ ہوتا تو نسل (انسانی) ختم ہوجاتی “۔ (دیلمی بروایت حضرت زید بن ارقم (رض))
10420 يقول الله تعالى : إني تفضلت على عبادي بثلاث ألقيت الدابة على الحبة ، ولولا ذلك لكنزها الملوك كما يكنزون الذهب والفضة ، وألقيت النتن على الجسد ، ولو لا ذلك لم يدفن حميم حميمه ، واذهبت الحزن ، ولو لا ذلك لذهب النسل.(الديلمي عن زيد بن أرقم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء۔۔۔ کتاب التوبہ
افعال توبہ کے بیان میں۔۔۔ اس کی فضیلت اور احکام کے بیان میں
افعال توبہ کے بیان میں۔۔۔ اس کی فضیلت اور احکام کے بیان میں
10417 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوکر صدیق (رض) کو فرماتے سنا کہ میں نے دیکھنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ ” کوئی ایسا بندہ نہیں جس نے گناہ کیا پھر کھڑا ہوا اور وضو کیا بہترین وضو، پھر کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ضروری قرار دے لیا کہ اس کو ضرور معاف فرمائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی برائی کی، یا خوف پر کوئی ظلم کیا پھر اللہ سے معافی مانگ لی تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت معاف کرنے والا اور مہربان پائے گا “۔ (سورة النساء آیت 111 ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ)
10421 علي رضي الله عنه قال : سمعت أبا بكر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ما من عبد أذنب ذنبا ، فقام فتوضأ ، فأحسن الوضوء ، ثم قام فصلى واستغفر من ذنبه إلا كان حقا على الله أن يغفر له ، لان الله تعالى يقول : (ومن يعمل سوءا أو يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما) (ابن أبي حاتم وابن مردويه وابن السني في عمل يوم وليلة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10418 ۔۔۔ ابن السمعانی اپنی سند سے حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) نے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے تین دن بعد ایک اعرابی آیا اور جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک سے چمٹ گیا اور اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تو ہم نے آپ کا فرمان سنا، آپ نے اللہ تعالیٰ سے بیان فرمایا اور ہم نے آپ سے بیان کیا، جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی تھیں ان میں یہ بھی ہے کہ ” اگر وہ اپنی جان پر ظلم کرنے کے بعد آپ کے پاس آئیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اللہ کا رسول بھی ان کے لیے اللہ سے معافی مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول کرنے والا اور بہت مہربان رحم کرنے والا پائیں گے “۔ (سورة النساء آیت 63) ” اور میں نے تو اپنی جان پر ظلم کرلیا ہے اور آپ کے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں گے، تو قبر کے اندر سے پکار کر کہا گیا کہ تجھے معاف کردیا گیا “۔
10422 قال ابن السمعاني في الذيل : أنا أبو بكر هبة بن الفرج : أنا أبو القاسم يوسف بن محمد بن يوسف الخطيب ، أنا أبو القاسم عبد الرحمن ابن عمرو بن تميم المؤدب : ثنا ابن علي بن إبراهيم بن علان : أنا علي بن محمد بن علي : ثنا أحمد بن الهيثم الطائي : حدثنا أبي عن أبيه عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق عن علي بن أبي طالب قال : قدم علينا أعرابي بعد ما دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام فرمى بنفسه على قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، وحثا من ترابه على رأسه ، وقال : يا رسول الله ، قلت فسمعنا قولك ، ووعيت عن الله فوعينا عنك ، وكان فيما أنزل الله عليك : (ولو أنهم إذ لموا أنفسهم جاؤك فاستغفروا والله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما) (1) وقد ظلمت نفسي وجئتك تستغفر لي ، فنودي من القبر أنه قد غفر لك (2) قال في المغنى : الهيثم بن عدي الطائي متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10419 ۔۔۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) سے توبۃ النصوح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا کہ توبۃ النصوح یہ ہے کہ کوئی شخص برے کام سے توبہ کرے اور دوبارہ وہ کام کبھی نہ کرے “۔ (مصنف عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، ھناد بن منیع، مسند عبدبن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک حاکم، بیھقی فی شعب الایمان اور لکائی فی السنۃ)
10423 عن النعمان بن بشير أن عمر بن الخطاب سئل عن التوبة النصوح ، قال : أن يتوب الرجل من العمل السئ ، ثم لا يعود إليه كأبدا عب والفريابي ص ش وهناد وابن منيع وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك هب واللالكائي في السنة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10420 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا کہ توبہ کرنے والوں کے ساتھ بیٹھا کرو یہ دل نرم کرنے کے لیے سب سے بہترین چیز ہے “۔ (ابن المبارک، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد فی الزھد، ھناد، مستدرک حاکم، حلیہ ابی نعیم)
10424 عن عمر قال : جالسوا التوابين فانهم أرق شئ أفئدة.(ابن المبارك ش حم في الزهد وهناد ك حل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10421 ۔۔۔ ابواسحق السبعی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس آیا اور پوچھا کہ اے امیر المومنین ! میں نے قتل کیا ہے میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ تو حضرت عثمان (رض) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
ترجمہ :۔۔۔ حم ! اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور جاننے والا ہے گناہوں کو بخشنے والا ہے اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے “۔ پھر فرمایا کہ عمل کرو اور مایوس مت ہو “۔ (متفق علیہ، ابو عبداللہ الحسن بن یحی عن عی اس القطان)
ترجمہ :۔۔۔ حم ! اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور جاننے والا ہے گناہوں کو بخشنے والا ہے اور توبہ کو قبول کرنے والا ہے “۔ پھر فرمایا کہ عمل کرو اور مایوس مت ہو “۔ (متفق علیہ، ابو عبداللہ الحسن بن یحی عن عی اس القطان)
10425 عن أبي اسحاق السبيعي قال : جاء رجل إلى عمر فقال : يا أمير المؤمنين إني قتلت ، فهل لي من توبة ؟ فقرأ عليه عمر : (حم تنزيل الكتاب من الله العزيز العليم غافر الذنب وقابل التوب) ثم قال له : إعمل ولا تيأس.
(عبد بن حميد وابن المنذرذ وابن أبي حاتم واللالكائي).
(عبد بن حميد وابن المنذرذ وابن أبي حاتم واللالكائي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10422 ۔۔۔ ابو اسحق السبعی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور پوچھا اے امیر المومنین ! میں نے قتل کیا ہے کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ تو حضرت عمر (رض) نے یہ اس آیت تلاوت فرمائی ” ترجمہ “۔ حم، اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور جاننے والا ہے گناہوں کو بخشنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے “۔ (سورة غافر 1، 3)
پھر فرمایا کہ عمل کرو مایوس مت ہو۔ (عبدبن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور اللالکانی)
پھر فرمایا کہ عمل کرو مایوس مت ہو۔ (عبدبن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور اللالکانی)
10426 عن أبي إسحاق السبيعي قال : جاء رجل إلى عثمان بن عفان فقال : يا أمير المؤمنين إني قتلت فهل لي من توبة ، فقرأ عليه عثمان : (حم تنزيل الكتاب من الله العزيز العليم غافر الذنب واقبل التوب) ثم قال : اعمل ولا تيأس.
(أبو عبد الله الحسين بن يحيى عن عياش القطان في حديثه ق).
(أبو عبد الله الحسين بن يحيى عن عياش القطان في حديثه ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10423 ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توبۃ النصوح کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تجھ سے جب گناہ ہوجائے تو تو اس پر نادم ہو اور اپنی اس ندامت کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے پھر تو وہ گناہ کبھی نہ کرے “ (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیھقی فی شعب الایمان
10427 عن أبي بن كعب قال : سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن التوبة النصوح ؟ فقال : هو الندم على الذنب حين يفرط منك ، فتستغفر الله بندامتك عند الحافر ثم لا تعود إليه أبدا.(ابن أبي حاتم وابن مردويه هب) وهو ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10424 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ ” گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہی نہ ہو، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو پسند کرنے لگتے ہیں تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ” کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے “۔ (سورة البقرۃ آیت 222)
کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی علامت کیا ہے ؟ فرمایا ندامت “۔ (ابن النجار)
فائدہ :۔۔۔ گناہوں سے نقصان نہ پہنچنے سے مرادیہ ہے کہ اول تو اس سے گناہ سرزد ہی نہ ہوں گے اور اگر ہو بھی گئے تو اللہ تعالیٰ اس کو فوراً ہی ان پر تنبیہ فرمادیں گے اور توبہ کی توفیق عطا فرمائیں گے اور ظاہر ہے توبہ کے بعد گناہ معاف ہوجائیں گے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کی علامت کیا ہے ؟ فرمایا ندامت “۔ (ابن النجار)
فائدہ :۔۔۔ گناہوں سے نقصان نہ پہنچنے سے مرادیہ ہے کہ اول تو اس سے گناہ سرزد ہی نہ ہوں گے اور اگر ہو بھی گئے تو اللہ تعالیٰ اس کو فوراً ہی ان پر تنبیہ فرمادیں گے اور توبہ کی توفیق عطا فرمائیں گے اور ظاہر ہے توبہ کے بعد گناہ معاف ہوجائیں گے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10428 عن أنس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : التائب من الذنب كمن لا ذنب له ، وإذا أحب الله عبدا لم يضره ذنب ثم تلا : (إن الله يحب التوابين ويحب المتطهرين) قيل : يا رسول الله وما علامته ؟ قال : الندامة.
(ابن النجار).
(ابن النجار).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10425 ۔۔۔ حضرت خالد بن عزۃ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے کوئی گناہ کیا ہو ؟ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمادیں گے، پھر چوتھی مرتبہ اس نے پوچھا کہ اگر اس نے ایسا کرلیا اور پھر گناہ کیا تو ؟ فرمایا وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمادیں گے اور توبہ کرنے سے نہ تھکے یہاں تک کہ شیطان بری طرح تھک جائے “۔ (ھناد)
10429 عن خالد بن أبي عزة أن عليا أتاه رجل فقال : ما تقول في رجل أذنب ذنبا ؟ قال : يستغفر الله ويتوب إليه ، فقال له في الرابع : فقد فعل ثم عاد ، فقال : يستغفر الله ويتوب إليه ولا يمل حتى يكون الشيطان هو المحسور (هناد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10426 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو گناہ کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔ (ھناد)
10430 عن علي قال : خياركم كل مفتن تواب.(هناد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10427 ۔۔۔ حضرت زر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت صفوان بن عسال (رض) فرماتے ہیں کہ مغرب کی سمت میں ایک دروازہ کھلا ہوا ہے، اس کی چوڑائی ستر یا چالیس سال کی مسافت کے برابر ہے، اس کو بند نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہاں سے سورج نکل آئے “۔ (سنن سعید بن منصور)
10431 عن زر قال : ذكر لنا صفوان بن عسال أن بابا قبل المغرب مفتوح للتوبة مسيرة عرضه سبعون أو أربعون سنة ، لا يغلقه حتى تطلع الشمس من قبله.
(ص).
(ص).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی برکت
10428 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اے گناہ کرنے والے ! تو اپنے انجام کی برائی سے خود کو محفوظ نہ سمجھ، اور جب تو کوئی گناہ کرلے تو اس کے بعد اس سے بڑا گناہ کر، اور گناہ کرتے ہوئے اپنے دائیں بائیں کے فرشتوں سے حیا میں کمی کرنا تیرے اس گناہ سے بڑا ہے جو تو نے کیا ہے اور تیرا اس حال میں ہنسنا کہ تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ کیا کرنے والے ہیں تیرے گناہ سے بھی بڑی چیز ہے، اور گناہ کرنے کے بعد اس گناہ پر تیرا خوش ہونا تیرے اس گناہ سے بڑی چیز ہے، اور تیرا کسی گناہ کے چھوٹنے پر غم زدہ ہوجانا تیرے گناہ کرلینے سے زیادہ بڑا گناہ ہے، اور گناہ کی حالت میں اس گناہ سے بڑا گناہ ہے جس میں تو مبتلا ہے کیونکہ (تو ہوا سے تو ڈرا لیکن ) تیرا دل اس بات سے نہیں گھبرایا کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہے ہیں “۔ (ابن عساکر)
10432 عن ابن عباس قال : يا صاحب الذنب لا تأمن سوء عاقبته ، ولا تتبع الذنب أعظم من الذنب إلا عملته ، فان قلة حيائك ممن على اليمين وعلى الشمال وأنت على الذنب أعظم من الذي عملته ،وضحكك وأنت لا تدري ما الله صانع بك أعظم من الذنب ، وفرحك بالذنب إذا ظفرت به أعظم من الذنب وحزنك على الذنب إذا فاتك أعظم من الذنب إذا ظفرت به ، وخوفك من الريح إذا حركت ستر بابك وأنت على الذنب لا يضطرب فؤادك من نظر الله اليك أعظم من الذنب إذا عملته.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سو قتل کے بعدتوبہ
10429 ۔۔۔ حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی گناہ کو برا نہیں سمجھتے بلکہ معاف کردیتے ہیں، تم سے پہلے والے امتوں میں ایک شخص تھا جس نے اٹھانوے قتل کئے تھے، چنانچہ ، وہ ایک راھب کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ میں نے اٹھانوے قتل کئے ہیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میری توبہ قبول ہوجائے گی ؟ راھب نے کہا، تو نے حد ہی کردی، چنانچہ وہ شخص کھڑا ہوا اور اس راھب کو بھی قتل کردیا، پھر ایک اور راھب کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میری توبہ قبول ہوجائے گی ؟ اس راھب نے کہ تو تو حد سے تجاوز کرگیا، مجھے معلوم نہیں، لیکن یہاں دوعلاقے ہیں ایک کا نام نصرۃ ہے اور دوسرے کا نام کفرۃ، نصرۃ والے تو اہل جنت والے اعمال کرتے ہیں ان کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی (گناہ گار) نہیں رہ سکتا اور کفرۃ والے دو زخیوں والے اعمال میں مبتلا ہیں ان کے ساتھ بھی کوئی (نیکوکار) نہیں رہ سکتا ، تو تم نصرہ کی طرف چلے جاؤ، سو اگر تم ان کے ساتھ رہنے لگے اور انہی جیسے اعمال کرنے لگے تب تو تمہاری توبہ میں کوئی شک نہیں چنانچہ وہ نصرۃ والے علاقے کے ارادے سے روانہ ہوا، یہاں تک کہ جب وہ دونوں علاقوں کے درمیان پہنچا تو اس کی موت آگئی، فرشتوں نے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں علاقوں کو دیکھو، جس علاقے کے زیادہ قریب تھا اس کی طرف کا معاملہ کرو، چنانچہ انھوں نے اس کو نصرۃ سے انگلی کے ایک پورے کے برابر زیادہ قریب پایا اور اس کو انہی میں شامل سمجھا گیا۔ (طبرانی)
فائدہ :۔۔۔ یعنی اس کی توبہ کرلی گئی، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یعنی اس کی توبہ کرلی گئی، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10433 عن ابن عمرو قال : إن الله تعالى لا يتعاظمه ذنب غفره إن رجلا كان ممن كان قبلكم قتل ثمانيا وتسعين نفسا ، فاتى راهبا ، فقال : إني قتلت ثمانيا وتسعين نفسا ، فهل تجد لي من توبة ؟ فقال له : قدأسرفت ، فقام إليه فقلته ، ثم أتى راهبا آخر ، فقال : إني قتلت تسعا وتسعين نفسا ، فهل تجد لي من توبة ؟ قال : أسرفت ، فقام إليه فقتله ، ثم أتى راهبا آخ ر ، فقال : إني قتلت مائة نفس ، فهل تجد لي من توبة ؟ قال أسرفت ، وما أدري ، ولكن ههنا قريتان ، قرية يقال لها نصرة ، والاخرى يقال لها كفرة ، فأما نصرة فيعملون عمل أهل الجنة ، لا يثبت فيها غيرهم ، وأما أهل كفرة فيعملون عمل أهل النار لا يثبت فيه غيرهم ، فانطلق إلى نصرة ، فان ثبت فيها وعملت مثلها أهلها فلا يشك في توبتك ، فانطلق يريدها ، حتى إذا كان بين القريتين أدركه الموت ، فسألت الملائكة ربها عنه ؟ فقال : انظروا إلى أي القريتين كان أقرب ،فاكتبوه من أهلها ، فوجدوه أقرب إلى نصرة بقيد أنملة ، فكتب من أهلها.
(طب).
(طب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سو قتل کے بعدتوبہ
10430 ۔۔۔ حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ مومن کے کتنے پردے ہوتے ہیں ؟ فرمایا کہ گنتی اور شمار سے زیادہ لیکن جب مومن کوئی خطا کرتا ہے تو ان میں سے ایک پردہ پھٹ جاتا ہے، سو اگر وہ توبہ کرلے تو نہ صرف یہ کہ وہ پردہ ٹھیک ہوجاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ نومزید پردوں کا اضافہ کردیا جاتا ہے، اور اگر توبہ نہ کرے تو ایک ہی پردہ پھٹتا ہے، یہاں تک کہ جب اس پر کوئی پردہ باقی نہیں رہتا تو اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کو چاہتے ہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے پروں سے اسے ڈھانپ لو، چنانچہ وہ ایسا ہی کرتے ہیں پھر اگر وہ توبہ کرلے تو اس کے تمام پردے واپس آجاتے ہیں اور اگر (پھر بھی) توبہ نہ کرے تو فرشتے اس کو دیکھ کر تعجب کرنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو رکھو فرشتے اس کو بچائے رکھتے ہیں حتی کہ اس کی شرمگاہ ظاہر نہیں ہونے دیتے ہیں “۔ (ابن ابی الدنیا فی التوبہ)
10434 عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل كم للمؤمن من ستر ؟ قال : هي أكثر من أن تحصى ، ولكن المؤمن إذا عمل خطيئة هتك منها ستر ، فإذا تاب رجع إليه ذلك الستر ، وتسعة معه ، فإذا لم يتب ، هتك عنه منها ستر واحد ، حتى إذا لم يبق عليه شئ ، قال الله لمن شاء من ملائكته : حفوه بأجنحتكم فيفعلون به ذلك ، فان تاب رجعت إليه الاستار كلها ، وإن لم يتب عجب منه الملائكة فيقول الله تعالى لهم : أسلموه ، فيسلموه حتى لا يسر منه عورة.(ابن أبي الدنيا في التوبة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سو قتل کے بعدتوبہ
10431 ۔۔۔ حضرت ابو زمعۃ البلوی سے مروی ہے فرمایا کہ ” بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے ننانوے قتل کئے، پھر ایک راھب کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میری توبہ قبول ہوجائے گی ؟ اس راھب نے کہا نہیں، تو اس شخص نے اس راھب کو بھی قتل کردیا پھر ایک اور راھب کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ میں نے اٹھانوے قتل کئے ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ اس راھب نے کہا نہیں، اس شخص نے اس راھب کو بھی قتل کردیا پھر ایک تیسرے راھب کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ میں نے ننانوے قتل کئے ہیں ان میں سے دو راھبوں کا قتل بھی شامل ہے، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ اس راھب نے کہا کہ تو نے بہت براکام کیا، اگر میں کہوں کہ اللہ تعالیٰ غفورو رحیم نہیں ہیں تو یہ جھوٹ ہوگا لہٰذا تو توبہ کرلے، اس شخص نے کہا کہ تیری اس بات کے بعد تو میں تیرا ساتھ نہ چھوڑوں گا چنانچہ وہ شخص اس شرط پر راھب کے ساتھ رہنے لگا کہ کبھی اس کی نافرمانی نہ کرے گا چنانچہ وہ اس کے ساتھ رہنے لگا اور اس کی خدمت کرنے لگا، ایک دن ایک شخص مرگیا لوگوں میں اس کی برائی کی جاتی تھی چنانچہ جب وہ دفن کردیا گیا تو وہ شخص جو راھب کے پاس رہتا تھا مرنے والے کی قبر پر بیٹھ گیا اور بہت شدت سے رونے لگا، انہی دنوں ایک اور شخص کا بھی انتقال ہوگیا، لوگ اس کی اچھائی اور نیکیوں کی تعریف کیا کرتے تھے اس شخص کے دفن ہونے کے بعد راھب کے ساتھ رہنے والا (قاتل) مرنے والے کی قبر پر بیٹھا اور بےانتہا ہنسنے لگا، مرنے والے کے ساتھیوں کو یہ بات ناگوار گزری لہٰذا وہ لوگ جمع ہو کر راھب کے پاس گئے اور کہا کہ یہ شخص تمہارے پاس کیسے رہ رہا ہے جبکہ پہلے اس نے اتنے قتل کئے ہیں اور اب جو کچھ کررہا ہے وہ تم دیکھ ہی رہے ہو، یہ بات راھب اور دیگر لوگوں کے دل میں بیٹھ گئی، چنانچہ ایک مرتبہ وہ لوگ اس (قاتل) شخص کے پاس آئے وہ راھب بھی ان کے ساتھ تھا، اس راھب نے اس شخص کے ساتھ بات کی تو اس شخص نے پوچھا کہ اب تم مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ اس نے کہا کہ تو جا اور تنور دہکا، اس شخص نے ایسا ہی کیا اور آکر راھب کو بتایا، راھب نے کہا کہ تو اس تنور میں کو دجا، راھب اس سے کھیل کررہا تھا چنانچہ وہ چلا گیا اور تنور میں کود گیا، پھر راھب کو ہوش آیا اور کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس شخص نے میرے کہنے کی وجہ سے تنور میں چھلانگ نہ لگا دی، لہٰذا فوراً اس کی طرف روانہ ہو ادیکھا تو وہ زندہ تھا اور پسینے میں شرابو تھا چنانچہ راھب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور تنور سے نکالا کہ یہ مناسب نہیں کہ تو میرے خدمت کرے بلکہ مجھے تیری خدمت کرنی چاہیے، مجھے بتاؤ کہ پہلا شخص جب مرا تھا تو تو کیوں رویا تھا اور دوسرے کی وفات پر کیوں خوش ہوا تھا، تو وہ شخص کہنے لگا کہ بات یہ ہے کہ جب پہلا شخص مرا تھا اور اس کی تدفین ہوگئی تو میں نے اسے عذاب میں مبتلا دیکھا تو مجھے اپنے گناہ یاد آگئے لہٰذا میں رویا، اور جب دوسرے شخص کی تدفین ہوئی تو میں نے اس کو بھلائی اور نعمتوں میں خوش دیکھا تو میں بھی ہنسنے لگا، اس کے بعد وہ شخص بنی اسرائیل کے بڑے لوگوں میں سے ہوگیا “۔ (طبرانی)
10435 عن أبي زمعة البلوي قال : قتل رجل من بني إسرائيل سبعة وتسعين نفسا فذهب إلى راهب ، فقال : إني قتلت سبعة وتسعين نفسافهل تجد لي من توبة ؟ قال : لا ، فقتله ، ثم ذهب إلى راهب آخر ، فقال إني قتلت ثمانية وتسعين نفسا ، فهل تجد لي من توبة ؟ قال : لا ، فقتله ، ثم ذهب إلى الثالث ، فقال : إني قتلت تسعة وتسعين نفسا ، منهم راهبان ، فهل تجد لي من توبة ؟ قال : لا ، فقتله ، ثم ذهب إلى الثالث ، فقال : إني قتلت تسعة وتسعين نفسا ، منهم راهبان ، فهل تجد لي من توبة ؟ فقال : لقد عملت شرا ، لئن قلت إن الله ليس بغفور رحيم لقد كذبت فتب إلى الله ، فقال : إما أنا فلا أفارقك بعد قولك هذا ، فلزمه على أن لا يعصيه ، فكان يخدمه في ذلك ، وهلك يوما رجل والثناء عليه قبيح فلما دفن قعد على قبره فبكا بكاء شديدا ، ثم توفي آخر والثناء عليه حسن ، فلما دفن قعد على قبره فضحك ضحكا شديدا ، فانكر أصحابه ذلك ، فاجتمعوا إلى راهبهم فقالوا : كيف يأوى اليك قاتل النفوس وقد صنع ما رأيت ؟ فوقع ذلك في نفسه وأنفسهم ، فاتى إلى صاحبهم مرة من ذلك ومعه صاحب له ، فكلمه ، فقال له ، فكلمه ، فقال له : ما تأمرني ؟ فقال : اذهب فأوقد تنورا ، ففعل ثم أتاه يخبره أنه قد فعل ، قال : اذهب فألق نفسك فيها ، فلها عنه الراهب ، وذهب الآخر فالقى نفسه في التنور ، ثم استفاق الراهب ، فقال : إني لاظن أن الرجل قد ألقى نفسه في التنور ، بقولي له ، فذهب إليه ، فوجده حيا يعرق فأخذ بيده فأخرجه من التنور ، فقال : ما ينبغي أن تخدمني ، ولكن أنا أخدمك ، أخبرني عن بكائك عن المتوفى الاول ، وعن ضحكك على الآخر ، قال : أما الاول فانه لما دفن رأيت ما يلقى به من الشر فذكرت ذنوبي فبكيت وأما الآخر فاني رأيت ما يلقى به من الخير ، فضحكت ، وكان بعد ذلك من عظماء بني أسرائيل.(طب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہے
10432 ۔۔۔ کرب سے مروی ہے حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت فرماتے ہیں اور وہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، کہ اے آدم کے بیٹے ! جب تک تو مجھ سے مانگتا رہے اور میری طرف رجوع کرتا رہے گا تو میں تیرے گناہ معاف کرتا رہوں گا اگر تو مجھ سے اس زمین کی مقدار بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا تو میں تجھ سے زمین مقدار بھر مغفرت کے ساتھ ملوں گا، اور اگر تو نے اتنی خطائیں کیں کہ وہ آسمان کے کناروں تک جاپہنچیں مگر شرک نہ کیا تو میں تجھے معاف کردوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں “۔ (نسائی)
فائدہ :۔۔۔ یہ حدیث قدسی ہے۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یہ حدیث قدسی ہے۔ (مترجم)
10436 عن معد يكرب ، عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يروي عن ربه عزوجل ، قال : يا ابن آدم ما دعوتني ورجوتني فاني ساغفر لك على كان منك ، ولو لقيتني بقراب الارض خطايا لقيتك بقرابها مغفرت ، ولو عملت من الخطايا حتى تبلغ عنان السماء ما لم تشرك بي شيئا ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي.
(ن).
(ن).
তাহকীক: