কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৭৭৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفاس کا بیان :
27737 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں نفاس والی عورت چالیس روز تک بیٹھی رہتی تھی اور ہم سیاہی زردی مائل جھائیوں کی وجہ سے چہرے پر ورس بوٹی کی لیپ چڑھا لیتی تھیں (رواہ ابن عساکر)
27737- عن أم سلمة قالت: "كانت النفساء تجلس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعين يوما وكنا نطلي وجوهنا بالورس من الكلف". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفاس کا بیان :
27738 ۔۔۔ عثمان بن ابی العاص کی روایت ہے کہ نفاس والی عورت کے لیے چالیس دن کی مدت مقرر کی گئی ہے (رواہ سعید بن المنصور)
27738- عن عثمان بن أبي العاص قال: "وقت للنفساء أربعون يوما". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفاس کا بیان :
27739 ۔۔۔ عثمان بن ابی العاص (رض) کی جب کسی بیوی کو نفاس آتا تو اسے کہتے : چالیس راتوں تک میرے قریب مت آؤ ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27739- عن عثمان بن أبي العاص أنه "كان يقول للمرأة من نسائه إذا نفست: لا تقربيني أربعين ليلة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27740 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مستحاضہ کا حیض جب گزر جائے تو ہر دن غسل کرے اور گھی یا تیل میں روئی بھگو کر رکھے۔ (رواہ ابو داؤد)
27740- عن علي قال: "المستحاضة إذا انقضى حيضها اغتسلت كل يوم واتخذت صوفة فيها سمن أو زيت". "د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27741 ۔۔۔ ” مسند حمنہ بنت جحش “ حمنہ (رض) کہتی ہیں مجھے بہت زیادہ اور بہت طویل استحاضہ آتا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتوی لینے حاضر خدمت ہوئی میں نے آپ کو اپنی بیوی زینب (رض) کے گھر میں پایا میں نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ایک ضروری کام ہے آپ نے فرمایا : کیا ضروری کام ہے ؟ میں نے عرض کیا : مجھے بہت زیادہ اور طویل استحاضہ آتا ہے جو مجھے نماز روزہ سے روک دیتا ہے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں کرسف (وہ کپڑا جو ایام حیض میں اندام نہانی میں رکھا جاتا ہے) کا بیان کروں گا وہ خون ختم کردیتا ہے میں نے عرض کیا : مجھے اس سے بڑھ کر خون آتا ہے۔ آپ نے فرمایا : لگام نما کپڑا باندھو میں نے عرض کیا : خون اس سے بھی زیادہ آتا ہے فرمایا : ایک بڑا کپڑا لنگوٹ کے نیچے رکھو میں نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خون اس سے بھی نہیں رکے گا مجھے تو شدت سے خون بہتا ہے۔ فرمایا میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان میں سے تم جس کو بھی اختیار کرو گی دوسری کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم خود ہی دانا ہو چنانچہ آپ (رض) نے حمنہ (رض) سے فرمایا : یہ استحاضہ شیطان کی لاتوں میں سے ایک لات ہے لہٰذا تم چھ یا سات روز (ہر مہینہ میں) حیض کے قرار دو پھر (مدت مذکورہ گزر جانے پر) نہا ڈالو اور جب تم جان لو کہ پاک وصاف ہوچکی ہو تو تئیس دن رات (سات ایام حیض قرار دینے کی صورت میں) یا چوبیس دن رات (چھ ایام حیض قرار دینے کی صورت میں ) نماز پڑھتی رہا کرو اور اسی طرح روزے بھی رکھتی رہا کرو چنانچہ جس طرح عورتیں اپنی اپنی مدت پر ایام سے ہوتی ہیں اور پھر وقت پر پاک ہوتی ہیں تم بھی ہر مہینہ اسی طرح کرتی رہا کرو (کہ چھ دن یا سات دن تو حیض کے ایام قرار دو اور بقیہ دن پاکی کے ایام قرار دو ) تمہارے لیے یہی کافی ہے اور اگر تمہارے اندر اتنی طاقت ہو کہ ظہر کا وقت اخیر کر کے اس میں نہا لو اور عصر میں جلدی کر کے ان دونوں نمازوں (ظہر وعصر) کو اکٹھی پڑھ لو اور مغرب کا اخیر وقت کر کے اس میں نہا لو اور پھر عشاء کو جلدی کرلو اور ان دونوں نمازوں (مغرب و عشاء) کو اکٹھی پڑھ لو اور نماز فجر کے لیے علیحدہ سے نہا لو اسی طرح کرلیا کرو اور روزے رکھ لیا کرو اگر تمہارے اندر اس کی طاقت ہو (تو اسی طرح کرلیا کرو) پھر سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دنوں باتوں میں سے آخری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ وابو داؤد والترمذی وقال حسن صحیح وابن ماجہ والحاکم)
27741- "مسند حمنة بنت جحش" قالت: "كنت أستحاض حيضة كبيرة طويلة فجئت النبي صلى الله عليه وسلم أستفتيه وأخبره فوجدته في بيت أختي زينب فقلت: "يا رسول الله إن لي حاجة قال: "وما هي أي هنتاه"؟ قلت: إني أستحاض حيضة طويلة كبيرة قد منعتني الصلاة والصوم فما ترى فيها؟ قال: "أنعت لك الكرسف فإنه يذهب الدم"، قلت: هو أكبر من ذلك؟ قال: "فتلجمي"، قلت: هو أكبر من ذلك؟ قال: "فاتخذي ثوبا"، قلت: هو أكبر من ذلك يا رسول الله إنما يثج ثجا قال: "سآمرك بأمرين أيهما فعلت أجزأ عنك من الآخر وإن قويت عليهما فأنت أعلم، إنما هذه ركضة من ركضات الشيطان فتحيضي ستة أيام أو سبعة أيام في علم الله، ثم اغتسلي حتى إذا رأيت أنك قد طهرت واستنقأت فصلي ثلاثا وعشرين ليلة أو أربعا وعشرين ليلة وأيامها وصومي، فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كل شهر كما تحيض النساء وكما يطهرن لميقات حيضهن وطهرهن، وإن قويت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر فتغتسلي لهما جميعا وتجمعين بين الصلاتين الظهر والعصر وتؤخرين المغرب وتعجلين العشاء ثم تغتسلين لهما جميعا وتجمعين بين الصلاتين فافعلي، وتغتسلين مع الفجر ثم تصلين وكذلك فافعلي، وصومي إن قدرت على ذلك وهذا أعجب الأمرين إلي". "حم، عب، ش، د، ت حسن صحيح، هـ، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27742 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی جیش (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے استحاضہ آتا ہے میں پاک ہونے نہیں پاتی کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے اپنے ایام حیض میں نماز پڑھنا چھوڑ دو پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو پھر نماز پڑھو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر ٹپک رہے ہوں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ابن اماجہ 136 ۔
27742- عن عائشة قالت: "جاءت فاطمة بنت أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إني امرأة أستحاض فلا أطهر فأدع الصلاة؟ قال: "لا إنما ذلك عرق وليس بالحيضة اجتنبي الصلاة أيام حيضتك ثم اغتسلي وتوضأي لكل صلاة، ثم صلي وإن قطر الدم على الحصير". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27743 ۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب کسی عورت کا استحاضہ پیش آجائے تو وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے (یعنی نماز چھوڑ دے) جس کے بعد وہ ایک دن یا دو دن بیٹھی رہتی تھی ظہر کی نماز عصر تک مؤخر کرے اور پھر ان دونوں نمازوں کے لیے غسل کرے پھر مغرب کی نماز عشاء تک مؤخر کرے اور ان دونوں نمازوں کے لیے غسل کرے فجر کی نماز کے لیے بھی غسل کرے ۔ اور اس کا خاوند اس سے جماع کرسکتا ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27743- عن ابن عباس قال: "إذا استحيضت المرأة فلتقعد أيام أقرئها 2 التي كانت تقعد بعده يوما أو يومين وتؤخر الظهر إلى العصر، وتغتسل لهما وتؤخر المغرب إلى العشاء وتغتسل لهما وتغتسل للصبح ويأتيها زوجها". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27744 ۔۔۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : مستحاضہ ایام حیض میں نماز چھوڑ دے پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے یہ تو یہ تنگ کرنے والی رگ ہے یا فرمایا : یہ شیطان کی ضد ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27744- عن ابن عباس قال: "تدع المستحاضة الصلاة أيام حيضها ثم تغتسل ثم تتوضأ عند كل صلاة؛ فإنما هو عرق عاند أو قال تلعب من الشيطان". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27745 ۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں مستحاضہ سے اس کا خاوند جماع کرسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں (رواہ عبدالرزاق)
27745- عن ابن عباس قال: "المستحاضة لا بأس أن يجامعها زوجها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27746 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) مٹیالے اور زردی مائل رنگ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور اس میں وضو کو روا سمجھتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
27746- عن عكرمة قال: "كان ابن عباس لا يرى بالتربة والصفرة بأسا ويرى فيها الوضوء". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27747 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ (رض) کو استحاضہ کا عارضہ پیش تھا وہ کئی سال تک بیٹھی رہی چنانچہ وہ لگن میں داخل ہوئی خون پانی کے اوپر آجاتا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ حیض نہیں ہے یہ تو ایک رگ ہے (جس سے خون رس رہا ہے) چنانچہ ام حبیبہ (رض) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی (رواہ سعید بن المنصور)
27747- عن عائشة أن أم حبيبة "كانت تستحاض فتمكث السنين وأنها كانت تدخل المركن حتى يعلو الدم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليست بالحيضة إنما هو عرق وكانت تغتسل لكل صلاة". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27748 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور)
27748- "عن عائشة أنها سئلت عن المستحاضة؟ فقالت: تجلس أيام أقرائها ثم تغتسل غسلا واحدا وتتوضأ لكل صلاة". "عب، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27749 ۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : مستحاضہ ظہر سے ظہر تک غسل کرے ہر دن ایک مرتبہ نماز ظہر کے وقت (رواہ عبدالرزاق)
27749- عن عائشة قالت: "تغتسل المستحاضة من الظهر إلى الظهر كل يوم مرة عند صلاة الظهر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27750 ۔۔۔ ” مسند ام حبیبہ بنت جحش “ ام حبیبہ (رض) کو استحاضۃ کا عارضہ پیش آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے حیض کی مدت چھ دن یا سات دن مقرر کی (رواہ عبدالرزاق)
27750- "مسند أم حبيبة بنت جحش" عن أم حبيبة "أنها استحيضت فجعل النبي صلى الله عليه وسلم أجل حيضتها ستة أيام أو سبعة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27751 ۔۔۔ ام حبیبہ (رض) کی روایت ہے کہ انھیں سات سال استحاضہ کا عارضہ پیش رہا انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہے لیکن یہ ایک رگ کا خون ہے تم نہا لیا کرو چنانچہ ام حبیبہ (رض) ہر نماز کے وقت نہا لیتی تھیں اور لگن میں نہاتی تھیں چنانچہ پانی پر خون کی زردی دیکھی جاسکتی تھی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27751- "عن أم حبيبة أنها استحيضت سبع سنين فاشتكت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ليست تلك بحيضة ولكنه عرق فاغتسلي"؛ فكانت تغتسل عند كل صلاة وكانت تغتسل في المركن فيرى صفرة الدم في المركن". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27752 ۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ دریافت کیا کہنے لگی : مجھے استحاضہ کا عارضہ پیش ہے کیا میں نماز پڑھنا چھوڑ دوں فرمایا : نہیں بلکہ تم حیض کے بقدر دن رات کے لحاظ سے نماز چھوڑ دو پھر غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27752- عن أم سلمة قالت: "سألت امرأة النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إني أستحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة؟ قال: "لا ولكن دعي قدر الأيام والليالي التي كنت تحيضين وقدرهن ثم اغتسلي واستدفري وصلي". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27753 ۔۔۔ ام سلمہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک عورت کو لگا تار خون آتا تھا اس عورت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا ، آپ نے فرمایا : تم وہ دن اور رات انتظار کرو جن میں تمہیں حیض آتا تھا ان دنوں کی بقدر مہینہ میں نماز چھوڑ دو جب یہ دن گزار دو غسل کرو پھر اندام نہانی میں کپڑا باندھ لو اور پھر نماز پڑھو ۔ (رواہ مالک وعبدالرزاق و سعید المنصور) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے حسن الاثر 43 ۔
27753- عن أم سلمة أن امرأة كانت تهراق الدماء في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتت لها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: "لتنظر عدد الليالي والأيام التي كانت تحيضهن قبل أن يصيبها الذي أصابها فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر فإذا خلفت ذلك فلتغتسل، ثم لتستثفر بثوب ثم لتصل" "مالك ، عب، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27754 ۔۔۔ اسماعیل بن ابراہیم ، ہشام دستوائی ، یحییٰ بن ابی کثیر ، ابو سلمہ کی سند سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش (رض) کو لگاتار خون جاری رہنے لگا انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا آپ نے انھیں حکم دیا کہ ہر نماز کے وقت غسل کریں اور نماز پڑھ لیں ۔۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27754- حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا هشام الدستوائي عن يحيى ابن أبي كثير قال: حدثني أبو سلمة "أن أم حبيبة ابنة جحش كانت تهراق الدم وأنها سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرها أن تغتسل عند كل صلاة وتصلي". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27755 ۔۔۔ سفیان بن یحییٰ بن سعید ، قعقاع بن حکیم کہتے ہیں میں نے سعید بن المسیب (رح) سے مستحاضہ کے متعلق سوال کیا ، ابن مسیب (رح) نے فرمایا : لوگوں میں مستحاضہ کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں رہا چنانچہ مستحاضہ کے ایام حیض جب آجائیں وہ نماز چھوڑ دے جب یہ دن گزر جائیں غسل کرے اور پھر ہر نماز کے لیے غسل کرے ۔
27755- حدثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن القعقاع بن حكيم قال: "سألت سعيد بن المسيب عن المستحاضة؟ فقال: ما بقي في الناس أعلم بها مني، إذا أقبلت الحيضة فلتدع الصلاة، وإذا أدبرت فلتغتسل ثم توضأ لكل صلاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استحاضہ کا بیان :
27756 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں استحاضہ کا عارضہ پیش آیا ام حبیبہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استحاضہ کے متعلق سوال کیا ، آپ نے انھیں حکم دیا کہ ایام حیض میں انتظار کرے پھر غسل کرلے اگر اس کے بعد خون دیکھے تو لنگوٹ باندھ لے وضو کرے اور نماز پڑھے ۔۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27756- عن عكرمة "أن أم حبيبة بنت جحش استحيضت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألت عن ذلك النبي صلى الله عليه وسلم أو سئل لها؟ فأمرها أن تنظر أيام أقرائها، ثم تغتسل فإن رأت بعد ذلك احتشت واستذفرت وتوضأت وصلت". "ص".
tahqiq

তাহকীক: