কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৭৫৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27577 ۔۔۔ عطاء روایت کی ہے کہ حضرت ابو ذر (رض) جنبی ہوگئے جبکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین دن کی مسافت پر تھے ، ابوذر (رض) جب مدینہ پہنچے آپ (رض) نماز سے فارغ ہوچکے تھے اور رفع حاجت کے لیے چلے گئے تھے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابو ذر (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے پھر چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27577- عن عطاء قال: "أجنب أبو ذر وهو من النبي صلى الله عليه وسلم على مسيرة ثلاثة، فجاء وقد انصرف من صلاة الصبح، وتبرز لحاجته فالتفت إليه فوضع يده في التراب فمسح وجهه وكفيه. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27578 ۔۔۔ عطاء روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں کچھ لوگوں کو دانے نکل گئے ایک شخص مرگئے ایک شخص مرگیا ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں نے اسے ضائع کیا اللہ تعالیٰ انھیں ضائع کرے لوگوں نے اسے قتل کیا اللہ اسے قتل کرے ۔ (رواہ سعید بن المنصور) ۔ فائدہ : ۔۔۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ شخص غسل کرنے کی وجہ سے مرا تھا ۔ (ازمترجم)
27578- عن عطاء "أن قوما غسلوا مجدورا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ضيعوه ضيعهم الله قتلوه قتلهم الله". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27579 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا جب کسی شخص کو جنگل میں جنابت لاحق ہوجائے اور اس کے پات تھوڑا پانی ہو وہ ترجیحی بنیاد پر پانی سے پیاس مٹائے اور مٹی سے تیمم کرے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27579- عن علي قال: "إذا أجنب الرجل في فلاة من الأرض ومعه الماء اليسير فليؤثر شفتيه بالماء وليتيمم بالصعيد". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27580 ۔۔۔ ” مسند اسلع بن شریک اعرجی “ اسلع بن شریک کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو سفر کے لیے تیار کرتا تھا چنانچہ ایک رات مجھے جنابت لاحق ہوگئی اور اس رات شدید سردی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کرنے کا ارادہ کیا میں نے حالت جنابت میں سواری تیار کرنا اچھا نہ سمجھا جب کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے مجھے مرجانے کا خوف دامن گیر ہوا یا کم از کم بیمار ہوجاؤں گا میں نے انصار میں سے ایک شخص کو حکم دیا اس نے آپ کی اونٹنی تیار کی پھر میں نے پتھروں سے آگ روشن کی اور پانی گرم کے کے غسل کیا اور پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا ملا آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے اسلع ! کیا وجہ ہے میں تمہاری سواری متغیر دیکھتا ہوں ایک روایت میں ہے کہ تمہاری سواری مضطرب دیکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری میں نے نہیں تیار کی بلکہ ایک انصاری نے تیار کی ہے۔ آپ نے وجہ دریافت کی میں نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی سردی کی وجہ سے مجھے اپنی جان کا خطرہ تھا تب میں نے اسے سواری تیار کرنے کا کہا اور میں نے آگ جلا کر پانی گرم کیا اور اس سے غسل کیا چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی۔ ” یا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلاۃ الی قولہ عفوا غفوارا “ (رواہ الحسن بن سفیان والبغوی والباوردی والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم والبیھقی والضیاء)
27580- "مسند الأسلع بن شريك الأعرجي" عن الأسلع بن شريك قال: "كنت أرحل ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم فأصابتني جنابة في ليلة باردة وأراد رسول الله صلى الله عليه وسلم الرحلة فكرهت أن أرحل ناقته وأنا جنب وخشيت أن أغتسل بالماء البارد فأموت أو أمرض، فأمرت رجلا من الأنصار فرحلها، ثم رضفت أحجارا فأسخنت بها ماء فاغتسلت، ثم لحقت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه فقال: "يا أسلع مالي أرى راحلتك تغيرت" - وفي لفظ: "مضطربة" -؟ قلت: يا رسول الله لم أرحلها رحلها رجل من الأنصار قال: "لم"؟ قلت: إني أصابتني جنابة فخشيت القر على نفسي فأمرته أن يرحلها، ورضفت أحجارا فأسخنت بها ماء فاغتسلت به فأنزل الله {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ} إلى قوله {عَفُوّاً غَفُوراً} "الحسن بن سفيان والبغوي والباوردي، طب وابن مردويه وأبو نعيم، ق، ض"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27581 ۔۔۔ ” ایضاء “ اسلع کی رویت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا آپ کے لیے سواری تیار کرتا تھا ایک رات آپ نے مجھے فرمایا : کہ اسلع اٹھو اور میرے لیے سواری تیار کرو میں نے عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے آپ خاموش ہوگئے حتی کہ جبرائیل امین آیت تیمم لے کر آئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اسلع ! اٹھو اور تیمم کرو آپ نے مجھے تیمم کا طریقہ سکھلایا دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں پھر انھیں جھاڑا پھر چہریء کا مسح کیا حتی کہ داڑھی کہ داڑھی پر بھی ہاتھ پھیر لیے ۔ پھر دوبارہ دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا اور دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے رگڑے اور پھر جھاڑے پھر آپ نے کہنیوں تک ظاہر و باطن سے ہاتھوں کا مسح کیا پھر میں نے سواری تیار کی آپ روانہ ہوگئے اور راستے میں ایک جگہ پانی پر سے گزر ہوا مجھے فرمایا : اے اسلع ! غسل کرلو : (رواہ ابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر والقاضی اسماعیل فی الاحکام والطحاوی والدار قطنی والطبرانی وابو نعیم والبھیقی)
27581- "أيضا" عن الأسلع قال: "كنت أخدم النبي صلى الله عليه وسلم وأرحل له فقال لي ذات ليلة: "يا أسلع قم فارحل لي" قلت: يا رسول الله أصابتني جنابة فسكت عني ساعة حتى جاءه جبريل بآية الصعيد فقال: "قم يا أسلع فتيمم"، ثم علمني التيمم ضرب النبي صلى الله عليه وسلم بكفيه الأرض، ثم نفخهما، ثم مسح بهما وجهه حتى أمر على لحيته، ثم أعادهما إلى الأرض، ومسح بكفيه الأرض، فدلك إحداهما بالأخرى، ثم نفضهما، ثم مسح بهما ذراعيه ظاهرهما وباطنهما إلى المرفقين ثم رحلت له، فسار حتى مر بماء فقال لي: "يا أسلع أمس هذا جلدك". "ابن سعد وعبد بن حميد وابن جرير والقاضي إسماعيل في الأحكام والطحاوي، قط، طب، وأبو نعيم، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27582 ۔۔۔ ” مسند اسلع بن القع “ خطیب نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے : ابو مسلم غالب بن علی بن محمد رازی (نیشار پور میں) حسین بن احمد بن محمد صفار (ہرات میں) عبدالملک بن محمد بن عبدالوھاب ابو محمد داؤد بن احمد ابو سلیمان بغدادی یہ دمیاط میں رہتے تھے ہمیں حدیث املا کرائی ابو عبدالرحمن معمر بن خالد شیبانی سروجی ربیع بن بدر عن ابیہ عن جدہ کے سلسہ سند سے حضرت اسقع (رض) کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری لے کر چلتا تھا لیکن مجھے جنابت لاحق ہوگئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اسقع ہمارے لیے سواری تیار کرو میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں میں جنابت میں مبتلا ہوگیا ہوں جب کہ پانی نہیں ہے آپ نے فرمایا : اے اسقع ! آؤ میں تمہیں تیمم کا طریقہ بتاتا ہوں جیسا کہ جبرائیل امین نے مجھے اس کا طریقہ بتایا ہے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ مجھے راستے کے کنارے پر لے گئے اور مجھے تیمم کا طریقہ سکھایا ۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں مجھے ربیع نے تیمم کا طریقہ سکھایا۔ جس طرح انھیں ان کے باپ نے سکھایا اور انھیں جس طرح ان کے دادا نے سکھایا اور انھیں جس طرح اسقع (رض) نے سکھایا اور انھیں جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا اور آپ کو جس طرح جبرائیل امین نے سکھایا عبدالملک کہتے ہیں : ہمیں ابو سلیمان نے تیمم کا طریقہ سکھایا حسین کہتے ہیں ہمیں عبدالملک نے سکھایا غالب کہتے ہیں ہمیں حسین بن احمد نے تیمم کا طریقہ سکھایا جس طرح انھیں عبدالملک نے سکھایا خطیب کہدتے ہیں ہمیں غالب نے تیمم کا طریقہ سکھایا جس طرح انھیں حسین نے سکھایا کہ انھوں نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا پھر ہاتھ زمین پر مارے اور کہنیون تک ہاتھوں کا مسح کیا۔
27582- "مسند أسلع بن الأسقع" قال الخطيب في تاريخه: أنبأنا أبو مسلم غالب بن علي بن محمد الرازي بنيسابور حدثنا الحسين بن أحمد بن محمد الصفار بهراة ثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الوهاب أبو محمد ثنا داود بن أحمد أبو سليمان البغدادي وكان يسكن دمياط املاء علينا حدثنا أبو عبد الرحمن معمر بن خالد الشيباني السروجي ثنا الربيع بن بدر عن أبيه عن جده عن الأسقع قال: "كنت أرحل للنبي صلى الله عليه وسلم فأصابتني جنابة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ارحل لنا يا أسقع" فقلت: بأبي أنت وأمي أصابتني جنابة وليس في المنزل ماء فقال: "تعال يا أسقع أعلمك التيمم مثل ما علمني جبريل"، فأتيته فنحاني عن الطريق قليلا فعلمني التيمم، قال أبو عبد الرحمن علمني الربيع مثل ما علمه أبوه مثل ما علمه جده مثل ما علمه الأسقع مثل ما علمه النبي صلى الله عليه وسلم مثل ما علمه جبريل، قال عبد الملك: وعلمنا أبو سليمان قال الحسين وعلمنا عبد الملك قال غالب وعلمنا الحسين بن أحمد مثل ما علمه عبد الملك قال الخطيب وعلمنا غالب مثل ما علمه الحسين ضرب بيديه الأرض، ثم مسح بهما وجهه ثم ضرب الأرض ومسح ذراعيه إلى المرفقين
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27583 ۔۔۔ ” مسند عمر “ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ میں سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موزوں پر پانی سے مسح کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابو داؤد والطیالسی وابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والبزار وابو نعیم فی الحیلۃ والبیھقی و سعید بن المنصور)
27583- "مسند عمر" عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين بالماء في السفر". "ط، ش، حم والبزار، حل، ق، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27584 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ موزوں پر مسح کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ابن عمر (رض) نے پوچھا : اگرچہ کوئی بول وبراز سے فارغ ہی کیوں نہ ہوتا وہ بھی مسح کرلیتا ؟ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جی ہاں ۔ اگرچہ اسے بول وبراز کی حاجت کیوں نہ پیش آتی۔ (رواہ عبدالرزاق واحمد بن حنبل وابن ماجہ وابن جریر فی تھذیب الاثار)
27584- عن عمر قال: "كنا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نمسح على أخفافنا لا نرى بذلك بأسا قال ابن عمر: وإن جاء من الغائط والبول؟ قال: نعم وإن جاء من الغائط والبول". "عب، حم، هـ وابن جرير في تهذيب الآثار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27585 ۔۔۔ زید بن وہب کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ہمیں خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا : ہم موزوں پر مسح کیا جائے مسافر تین دن تین رات مسح کرے اور مقیم ایک دن ایک رات (رواہ عبدالرزاق سعید بن المنصور والطحاوی)
27585- عن زيد بن وهب قال: "كتب إلينا عمر أن نمسح على الخفين؛ للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن وللمقيم يوم وليلة". "عب، ص والطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27586 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ ہم موزوں پر مسح کریں ۔ (رواہ ابن شاھین فی السنۃ)
27586- عن عمر قال:" أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نمسح على الخفين". "ابن شاهين في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27587 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا آپ نے حکم دیا کہ موزے کی پشت پر مسح کیا جائے مسافر تین دن تین رات مسح کرسکتا ہے اور مقیم ایک دن ایک رات (رواہ ابو یعلی وابن خزیمۃ والدارقطنی و سعید بن المنصور)
27587- عن عمر قال: "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يأمر بالمسح على ظهر الخف للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن وللمقيم يوم وليلة". "ع وابن خزيمة، قط، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27588 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسح کا حکم دیتے سنا ہے کہ جب طہارت کی حالت میں موزے پہنے جائیں ان کی پشت پر مسح کیا جاسکتا ہے (رواہ ابو یعلی)
27588- عن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر بالمسح على ظهر الخفين إذا لبسهما وهما طاهرتان". "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27589 ۔۔۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں مصر سے حاضر ہوئے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پوچھا : کتنے دنوں سے تم نے موزے نہیں اتارے ؟ عقبہ نے جواب دیا : ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : تم نے سنت پر عمل کیا ۔ (رواہ ابن ماجہ والدار قطنی والطحاوی وابو یعلی و سعید بن المنصور)
27589- عن عقبة بن عامر "أنه قدم على عمر بن الخطاب من مصر فقال: منذ كم لم تنزع خفيك؟ قال: من الجمعة إلى الجمعة قال: أصبت السنة". "هـ، قط والطحاوي، ع ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27590 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں جو شخص پاؤں کو پاک کر کے موزوں میں داخل کرے وہ آئندہ اسی گھرڑی تک ایک دن اور ایک رات مسح کا سکتا ہے (رواہ الطحاویٰ
27590- عن عمر قال: "من أدخل قدميه وهما طاهرتان فليمسح عليهما إلى مثل ساعته من يومه وليلته". "الطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27591 ۔۔۔ نافع و عبداللہ بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کوفہ میں حضرت سعد ابی وقاص (رض) کے پاس آئے ابن عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا اور اس کا انکار کیا : حضرت سعد (رض) نے فرمایا : اپنے والد سے پوچھ لو جب ان کے پاس واپس جاؤ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) جب سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس گئے پوچھنا بھول گئے کچھ عرصہ بعد حضرت سعد (رض) تشریف لائے اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے کہا : کیا تم نے اپنے والد سے پوچھا ہے : جواب دیا نہیں دیا ۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے پوچھا : آپ نے فرمایا : جب تم پاؤں موزوں میں داخل کرو بشرطیکہ پاؤں پاک ہوں تو موزوں پر مسح کرلو ۔ عبداللہ (رض) نے کہا : اگر کوئی پاخانے سے فارغ ہو کر آئے وہ بھی مسح کرے ؟ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اگرچہ کوئی پاخانے سے فارغ ہو کر آئے وہ بھی مسح کرے (رواہ مالک واحمد بن حنبل)
27591- عن نافع وعبد الله بن دينار "أن عبد الله بن عمر قدم الكوفة على سعد بن أبي وقاص وهو أميرها فرآه عبد الله بن عمر يمسح على الخفين فأنكر ذلك عليه فقال له سعد: سل أباك إذا قدمت عليه فقدم عبد الله، فنسي أن يسأل عمر عن ذلك حتى قدم سعد فقال: أسألت أباك؟ فقال: لا فسأله عبد الله فقال له عمر: إذا أدخلت رجليك في الخفين وهما طاهرتان فامسح عليهما، قال عبد الله: وإن جاء أحدنا من الغائط؟ قال عمر: نعم وإن جاء أحدكم من الغائط". "مالك حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27592 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کو عراجین میں موزوں پر مسح کرتے دیکھا میں اس کا انکار کیا چنانچہ جب ہم دونوں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس اکٹھے ہوئے حضرت سعد (رض) نے کہا : اپنے والد سے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ لو جس کا تم نے مجھ پر انکار کیا تھا میں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس کا تذکرہ کیا آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں جب تمہیں سعد (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ہے سنائیں تو پھر اس کے متعلق کسی اور سے سوال مت کرو (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی)
27592- عن ابن عمر قال: "رأيت سعد بن أبي وقاص يمسح على خفيه بالعراجين توضأ فأنكرت ذلك عليه، فلما اجتمعا عند عمر بن الخطاب قال لي: سل أباك عما أنكرت علي من مسح الخفين، فذكرت ذلك له فقال: نعم إذا حدثك سعد بشيء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تسأل عنه غيره". "حم، ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27593 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی کی روایت ہے کہ میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھا آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں نے شوال کا چاند دیکھ لیا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے لوگو افطار کرلو ۔ پھر آپ (رض) پانی کے ایک برتن کی طرف اٹھے وضو کیا اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں میں نے ایسی ہستی کو دیکھا ہے جو مجھ سے اور ساری امت سے افضل واعلی ہے چنانچہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسح کرتے دیکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شامی جبہ پہن رکھا تھا اور اس کی آستیین تنگ تھیں آپ نے جیب کے نیچے سے ہاتھ نکالے پھر مغرب کی نماز پڑھائی (رواہ عبدالرزاق وابن سعد والبزار)
27593- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: "كنت مع عمر فأتاه رجل فقال: إني رأيت الهلال هلال شوال فقال عمر: يا أيها الناس أفطروا، ثم قام إلى عس فيه ماء فتوضأ ومسح على خفيه فقال الرجل: والله يا أمير المؤمنين ما أتيتك إلا لأسألك عن هذا أرأيت غيرك فعل؟ قال: نعم رأيت خيرا مني وخير الأمة رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل مثل الذي فعلت وعليه جبة شامية ضيقة الكمين، فأدخل يده من تحت الجبة، ثم صلى المغرب". "عب وابن سعد والبزار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27594 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت سعد (رض) کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا عبداللہ بن عمر (رض) نے مسح کا انکار کیا سعد (رض) نی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا عبداللہ نے موزوں پر مسح کرنے کا انکار کیا ہے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کسی مسلمان کے دل میں موزوں پر مسح کرنے کے متعلق خلجان نہیں پڑتا چاہے اگرچہ وہ پاخانے سے فارغ ہو کر کیوں نہ آیا ہو۔ (رواہ عبدالرزاق)
27594- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن "أن عمر رأى سعد بن أبي وقاص يمسح على خفيه فأنكر ذلك عبد الله فقال سعد: إن عبد الله أنكر علي أن أمسح على خفي فقال عمر: لا يتخلجن في نفس رجل مسلم أن يتوضأ على خفيه وإن كان جاء من الغائط". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27595 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عبداللہ بن سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے فرمایا : تمہارا چچا یعنی حضرت سعد (رض) مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ جب تم اپنے پاؤں پاک کر کے موزوں میں داخل کرو ان پر مسح کرسکتے ہو اگرچہ تم پاخانے سے فارغ ہو کر کیوں نہ آئے ہو (رواہ عبدالرزاق)
27595- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن "أن عمر قال لعبد الله بن عمر: عمك أعلم مني يعني سعدا إذا أدخلت رجليك الخفين وهما طاهرتان فامسح عليهما وإن جئت من الغائط". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ موزوں پر مسح کرنے کا بیان :
27596 ۔۔۔ ابو عثمان نہدی کی روایت ہے کہ جس وقت حضرت سعد (رض) اور ابن عمر (رض) موزوں پر مسح کرنے کا جھگڑا لے کر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے میں ادھر موجود تھا۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : آدمی اس گھڑٰ تک ایک دن اور ایک رات مسح کرسکتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور)
27596- عن أبي عثمان النهدي قال "حضرت سعدا وابن عمر يختصمان إلى عمر في المسح على الخفين فقال عمر: يمسح عليهما إلى مثل ساعته من يومه وليلته". "عب، ص".
তাহকীক: