কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৭৫৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27557 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : جو شخص سفر میں ہو اور سے جنابت لاحق ہوجائے جب کہ اس کے پاس تھوڑا پانی ہو اور غسل کرنے پر اسے پیاسا رہنے کا خوف ہو تو وہ تیمم کرلے اور غسل نہ کرے (رواہ الدارقطنی)
27557- عن علي "في الرجل يكون في السفر فتصيبه الجنابة ومعه الماء القليل يخاف أن يعطش؟ قال: يتيمم ولا يغتسل". "قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27558 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) مکروہ سمجھتے تھے کہ تیمم کرنے والا وضو کرنے والوں کی امامت کرے (رواہ سعید بن المنصور ومسدد)
27558- عن علي "أنه يكره أن يؤم المتيمم المتوضئين". "ص ومسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27559 ۔۔۔ ” مسند عمار “ حضرت عمار (رض) کی روایت ہے کہ میں اونٹوں کو چرواہا تھا مجھے جنابت لاحق ہوگئی مجھے پانی نہ ملا میں نے چوپائے کی طرح مٹی میں اپنے آپ کو لوٹ پوٹ کردیا پھر میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر انھیں خبر دی آپ نے فرمایا : تمہیں اس صورت میں تیمم ہی کافی تھا (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ)
27559- "مسند عمار" أجنبت وأنا في الإبل ولم أجد ماء فتمعكت تمعك الدابة فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال: "إنما كان يكفيك من ذلك التيمم". "عب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27560 ۔۔۔ ” ایضاء “ حضرت عمار (رض) کہتے ہیں میں ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا اور آپ کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) بھی تھیں عائشہ (رض) کا ہار گم ہوگیا جس کی وجہ سے لوگ اسے تلاش کرنے لگے اور آگے نہ جاسکے حتی کہ صبح کا وقت ہوگیا جب کہ لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا تیمم کا حکم نازل ہوا لوگوں نے زمین (مٹی) پر ہاتھ مار کر چہروں پر مسح کرلیا پھر دوبارہ ہاتھ مارے اور ہاتھوں کا بغلوں تک مسح کرلیا یا فرمایا کہ کاندھوں تک مسح کرلیا (رواہ عبدالرزاق)
27560- "أيضا" "كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر ومعه عائشة فهلك عقدها فاحتبس الناس في ابتغائه حتى أصبحوا وليس معهم ماء فنزل التيمم فقاموا فضربوا بأيديهم فمسحوا بها وجوههم، ثم عادوا فضربوا بأيديهم ثانية فمسحوا بها أيديهم إلى الإبطين أو قال إلى المناكب". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27561 ۔۔۔ حضرت عمار (رض) کی روایت ہے کہ میں فلاں زمین میں اونٹوں کے ساتھ تھا مجھے جنابت لاحق ہوگئی تاہم میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو لیا بعد میں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا آپ ہنس پڑے اور فرمایا : تمہیں تو بس مٹی سے اتنا ہی کافی تھا اس کے بعد آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انھیں جھاڑ کر چہرے کا مسح کرلیا اور نصف بازوؤں کا بھی مسح کیا (رواہ عبدالرزاق)
27561- "أيضا" "كنت بأرض كذا أرعى الإبل فأجنبت فتمعكت في التراب فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك فقال: "إن كان ليكفيك من ذلك الصعيد أن تقول هكذا" فضرب بيديه الأرض، ثم نفخهما ثم مسح بهما على وجهه وذراعيه إلى قريب من نصف الذراع". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27562 ۔۔۔ ” ایضاء “ ابن ابزی کی روایت ہے کہ حضرت عمار (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا کیا آپ کو یاد ہے جس دن ہم فلاں جگہ تھے ہمیں پانی نہ ملا ور ہم مٹی میں لوٹ پوٹ ہو لیے تب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ سے آگاہ کیا آپ نے فرمایا : تمہیں اتنا ہی کافی تھا پھر آپ نے دونوں ہاتھوں سے زمین پر ضرب لگائی اور پھر چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلیا ( رواہ ابن ابی شیبۃ)
27562- "أيضا" عن ابن أبزي قال: "قال عمار لعمر: أما تذكر يوم كنا في مكان كذا وكذا وأجنبنا فلم نجد الماء، فتمعكنا في التراب فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم ذكرنا ذلك قال: " إنما كان يكفيكما هكذا" وضرب الأعمش بيديه ضربة ثم نفخهما، ثم مسح بهما وجهه وكفيه". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27563 ۔۔۔ عبدالرحمن بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت عمر وبن العاص (رض) نے فرمایا : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غزوہ ذات السلاسل کے لیے روانہ کیا تو مجھے سخت سردی والی رات احتلام ہوگیا مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا ہلاک ہوجاؤں گا میں نے تیمم کیا اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹے میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمرو ! تم نے بحالت جنابت اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس رات مجھے احتلام ہوا وہ رات نہایت درجے کی ٹھنڈی تھی مجھے خوف ہوا کہ اگر غسل کیا تو مرجاؤں گا مجھے فرمان باری تعالیٰ یاد آگیا (ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما) یعنی اپنے آپ کو مت قتل کرو اللہ تبارک وتعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمانے والا ہے۔ لہٰذا میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور کچھ نہیں فرمایا : (رواہ احمد بن حنبل)
27563- عن عبد الرحمن بن جبير عن عمرو بن العاص قال: "لما بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم عام ذات السلاسل احتلمت في ليلة باردة شديدة البرد فأشفقت إن اغتسلت أن أهلك، فتيممت ثم صليت بأصحابي صلاة الصبح، فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت ذلك له فقال: "يا عمرو صليت بأصحابك وأنت جنب"؟ قلت: نعم يا رسول الله إني احتلمت في ليلة باردة شديدة البرد فأشفقت إن اغتسلت أن أهلك وذكرت قول الله عز وجل {وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيماً} فتيممت ثم صليت فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ولم يقل شيئا". "حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27564 ۔۔۔ ابو امامہ بن سہل بن حنیف اور عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) کو جنابت لاحق ہوگئی جب کہ آپ (رض) لشکر کے امیر تھے عمر نے موت کے خوف کی وجہ سے غسل نہ کیا بحالت جنابت اپنے ہمرائیوں کا نماز پڑھا دی ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وقعہ سے آگاہ کیا آپ نے اس کی تقریر فرمائی اور خاموش رہے۔ (رواہ عبدالرزاق والخطیب فی المتفق)
27564- عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف وعبد الله بن عمرو بن العاص عن عمرو بن العاص أنه" أصابته جنابة وهو أمير الجيش، فترك الغسل من أجل أنه قال: إن اغتسلت مت، فصلى بمن معه جنبا، فلما قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم عرفه بما فعل وأنبأه بعذره فأقر وسكت". "عب، خط في المتفق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27565 ۔۔۔ قتادہ کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) (پانی نہ ملنے پر) ہر نماز کے لیے تیمم کرتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
27565- عن قتادة أن عمرو بن العاص "كان يحدث لكل صلاة تيمما". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27566 ۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) کی روایت ہے کہ میں مدینہ میں تھا وہاں کی ہوا میرے مزاج کے موافق نہ رہی (اور میں بیمار رہنے لگا) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بکریاں دے کر کہیں کوچ کرنے کا حکم دیا مجھے جنابت لاحق ہوئی میں نے مٹی سے تیمم کرلیا اسی حالت میں میں نے کئی دنوں تک نماز پڑھی میرے دل میں کچھ تردد پڑگیا حتی کہ مجھے خیال ہوا کہ میں تو ہلاکت تک پہنچ گیا ہوں میں نے ایک اونٹ تیار کرنے کا حکم دیا اونٹ پر سامان سفر باندھ دیا گیا اور پھر میں سوار ہو کر مدینہ آگیا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صحابہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں بیٹھے پایا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سر مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا : سبحان اللہ ابو ذر ! میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جنبی ہوگیا تھا اور میں کئی دنوں تک تیمم کرتا رہا پھر مجھے کچھ شک ہوا حتی کہ مجھے خیال ہوا کہ میں تو ہلاک ہوگیا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا چنانچہ سیاہ فام باندی ایک بڑے سے برتن میں پانی لائی جو اوپر سے چھلک رہا تھا جو اس بات کی خبر دے رہا تھا کہ وہ بھر ہوا نہیں ہے۔ میں سواری کی اوٹ میں چلا گیا جبکہ آپ نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے میرے آگے ستر کرلیا ، میں نے غسل کرلیا پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! پاک مٹی کافی ہوتی ہے جب تک تمہیں پانی نہ ملے اگرچہ دس سال تک کیوں نہ ملے۔ جب پانی پالو غسل کرلو (رواہ عبدالرزاق، و سعید بن المنصور)
27566- عن أبي ذر قال: "كنت بالمدينة فاجتويتها 1 فأمر لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بغنيمة فخرجت فيها فأصابتني جنابة فتيممت الصعيد فصليت أياما فوقع في نفسي من ذلك شيء حتى ظننت أني هالك فأمرت بقعود فشد عليه ثم ركبته حتى قدمت المدينة فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ظل المسجد في نفر من أصحابه فسلمت عليه فرفع رأسه وقال: " سبحان الله أبو ذر" فقلت: نعم يا رسول الله أصابتني جنابة فتيممت أياما، ثم وقع في نفسي من ذلك شيء حتى ظننت أني هالك، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بماء فجاءت به أمة سوداء في عسيتخضخض يقول ليس بملآن، فاستترت بالراحلة وأمر رجلا فسترني، فاغتسلت ثم قال: "يا أبا ذر إن الصعيد الطيب كاف ما لم تجد الماء ولو إلى عشر سنين؛ فإذا وجدت الماء فأمسه بشرتك". "عب، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27567 ۔۔۔ اے ابوذر ! پاک مٹی تمہیں کافی ہے اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، جب تمہیں پانی مل جائے غسل کرلو ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابو داؤد الطیالسی والطبرانی فی الاوسط عن ابی ذر)
27567- "يا أبا ذر "إن الصعيد الطيب كافيك، وإن لم تجد الماء عشر سنين، فإذا وجدت الماء فأمسه جلدك". "عبد الرزاق، ط، طس عنه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27568 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے وہ کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ بکریاں آئیں آپ نے مجھے حکم دیا اے ابوذر ! ان بکریوں کو لے کر دیہات میں چلے جاؤ چنانچہ میں دیہات میں چلا گیا وہاں مجھے جنابت لاحق ہوئی تقریبا پانچ چھ دن اسی حالت میں رہا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا : اے ابو ذر ! تیری ماں تجھے گم پائے آپ نے ایک بڑا سا برتن پانی سے بھرا ہوا منگوایا میں نے سواری کی اوٹ میں غسل کیا ، مجھے یوں محسوس ہوا گویا میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اٹھا کر پھینک دیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر ! پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو کرنے کی چیز ہے اگرچہ دس سال تک کیوں نہ ہو جب پانی پاؤ غسل کرلو ۔ (رواہ الضیاء)
27568- عن أبي ذر قال: "قدمت غنيمة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ابد فيها يا أبا ذر" فبدوت فكانت تصيبني الجنابة فأمكث الخمس والست، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ثكلتك أمك يا أبا ذر" فدعا بعس من ماء، فاستترت بالراحلة، ثم اغتسلت فكأني ألقيت عني جبلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا ذر الصعيد الطيب وضوء المسلم ولو إلى عشر سنين فإذا وجدت الماء فأمسه جلدك فإن ذلك خير". "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27569 ۔۔۔ ” مسند ابوہریرہ “ جب آیت تیمم نازل ہوئی مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں کیا کروں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن آپ کو گھر پر نہ پایا میں آپ کی تلاش میں چل پڑا چنانچہ میں نے آپ کو سامنے سے آتے ہوئے پایا جب آپ نے مجھے دیکھا اور میرے آنے کی وجہ معلوم کی آپ نے پیشاب کیا پھر زمین پر دونوں ہاتھ مارے پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27569- "مسند أبي هريرة" "لما نزلت آية التيمم لم أدر كيف أصنع فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فلم أجد فانطلقت أطلبه فاستقبلته فلما رآني عرف الذي جئت له، فبال ثم ضرب بيديه الأرض فمسح وجهه وكفيه". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27570 ۔۔۔ ” مسند ابوہریرہ “ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم چار پانچ ماہ سے ریگستان میں رہ رہے ہیں جبکہ ہم میں نفاس والی عورت ، حائضہ اور جنبی بھی ہوتے ہیں : آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تمہیں مٹی سے تیمم کرلینا چاہیے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27570- "مسند أبي هريرة" "جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم إني أكون في الرمل أربعة أشهر أو خمسة فيكون منا نفساء أو الحائض أو الجنب فما ترى؟ قال "عليك بالتراب". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27571 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : سنت میں سے ہے کہ آدمی تیمم سے صرف ایک ہی نماز پڑھے پھر دوسری نماز کے لیے دوبارہ تیمم کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعاف الدارقطنی 131 والضعیفۃ 423 ۔ حیض ونفاس والی بھی تیمم کرے :
27571- عن ابن عباس قال: "من السنة أن لا يصلي الرجل بالتيمم إلا صلاة واحدة، ثم يتيمم للصلاة الأخرى". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27572 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ دیہات کے کچھ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہم لوگ تقریبا تین چار ماہ سے ریگستان میں رہ رہے ہیں جبکہ ہمارے بیچ جنبی ، نفاس والی عورت اور حائضہ بھی ہوتی ہے جبکہ ہم پانی نہیں پاتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں مٹی سے تیمم کرلینا چاہیے پھر آپ نے تیمم کا طریقہ بتاتے ہوئے زمین پر ہاتھ مارے اور چہرے کا مسح کرلیا پھر دوسری مرتبہ زمین پر ہاتھ مارے اور کہنیوں تک ہاتھوں کا مسح کرلیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27572- عن أبي هريرة "أن ناسا من أهل البادية أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: إنا نكون بالرمال الأشهر الثلاثة والأربعة، ويكون منا الجنب والنفساء والحائض ولسنا نجد الماء؟ فقال: "عليكم بالأرض"، ثم ضرب بيده الأرض لوجهه ضربة واحدة، ثم ضرب ضربة أخرى فمسح على يديه إلى المرفقين". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27573 ۔۔۔ عطاء کہتے ہیں : مجھے ایک شخص نے خبر دی ہے کہ حضرت ابوذر (رض) نے اپنی بیوی سے جماع کرلیا جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا ، انھوں نے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرلیا ، پھر ان کے دل میں کچھ تردد پیدا ہو اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابو ذر (رض) سے تین دن کی مسافت پر تھے جب مدینہ پہنچے دیکھا کہ لوگ صبح کی نماز پڑھ چکے ہیں ، لوگوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پوچھا پتہ چلا کہ آپ رفع حاجت کے لیے گئے ہیں۔ ابو ذر (رض) ان کے پیچھے چل دیئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو ذر (رض) کو دیکھا اور زمین کی طرف جھک کر دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر جھاڑ کر چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلیا (رواہ عبدالرزاق)
27573- عن عطاء قال: "أخبرني رجل أن أبا ذر أصاب أهله ولم يكن معه ماء فمسح وجهه ويديه، ثم وقع في نفسه شيء، فذهب إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو منه على مسيرة ثلاث، فوجد الناس قد صلوا الصبح فسأل عن النبي صلى الله عليه وسلم فإذا هو يتبرز للخلاء فاتبعه، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم فرآه فأهوى النبي صلى الله عليه وسلم بيديه إلى الأرض فوضعهما ثم نفضهما ثم مسح بهما وجهه ويديه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27574 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں تیمم چہرے اور ہاتھوں کا ہوتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27574- عن ابن عباس قال: "التيمم للوجه والكفين". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27575 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں مریض کو تیمم کرنے میں رخصت دی گئی ہے اگرچہ وہ پانی پاتا ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27575- عن ابن عباس قال: "إن رخصة للمريض في التمسح بالتراب وهو يجد الماء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تیمم کے بیان میں :
27576 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جگہ تیمم کرتے دیکھا اس جگہ کو بکریوں کا باڑا کہا جاتا ہے حالانکہ آپ مدینہ کے گھروں کو دیکھ رہے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
27576- عن ابن عمر قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم تيمم بموضع يقال له مربد الغنم ويرى بيوت المدينة". "كر".
তাহকীক: