কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৭৫১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی کا بیان :
27517 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ مرد اور عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اکٹھے ایک بڑے برتن سے وضو کرلیتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
27517 عن أبن عمر قال : كان الرجال والنساء جميعا يتوضؤن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من الميضاة(أبن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی کا بیان :
27518 ۔۔۔ میمونہ (رض) کی روایت ہے کہ میں اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے غسل کرلیتے تھے ۔۔ (رواہ عبدالرزاق، و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27518 عن ميمونة قالت : كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من إناء واحد (عب ، ص ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستعمل پانی کا بیان :
27519 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں عورت کے جھوٹے پانی اور وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ عورت جنبی اور حائضہ نہ ہو ۔ جب عورت تنہا پانی استعمال کرے تو اس کے بچے ہوئے پانی کے قریب بھی مت جاؤ ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27519 عن أبن عمر قال : لا بأس بالوضوء من فضل شراب المرأة وفضل وضوئها ما لم تكن جنبا أو حائضا ، فإذا خلت به فلا تقربه (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذيل الأنجاس
27520 ۔۔۔ ” مسند ام سلمہ “ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27520 (مسند أم سلمة) أم المؤمنين أنها كانت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسلان من إناء واحد (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذيل الأنجاس
27521 ۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں : میں حضرت ام سلمہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان کے پاس ایک برتن پایا جس میں پانی رکھا ہوا تھا ، ام سلمہ (رض) نے کہا : نہ کرو یہ پانی میرے وضو سے بچا ہوا ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27521 عن أسامة قال : دخلت على أم سلمة فوجدت عندها تورا فيه ماء فقالت : لا تفعل إنه بقية وضوئي صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذيل الأنجاس
27522 ۔۔۔ ” مسند ام صبیۃ جھنیہ “ ام حبیبہ (رض) کہتی ہیں بسا اوقات میرا ہاتھ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں پڑتا رہتا تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27522 (مسند أم صبية الجهنية) (2) ربما أختلفت يدي ويد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الوضوء من إناء واحد (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذيل الأنجاس
27523 ۔۔۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) ایک ہی برتن سے غسل کرلیتے تھے ، چنانچہ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے ساتھ ایک ہی لحاف میں لیٹے ہوئے تھے ، یکایک حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) لحاف سے باہر کھسکنے لگیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کچھ کر رہی ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے حیض آنے لگا ہے آپ نے فرمایا : اٹھو اور تہبند باندھ کر میرے پاس آجاؤ ۔ چنانچہ حضرت عائشہ (رض) لحاف میں آپ کے پاس داخل ہوگئیں ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27523 عن عطاء بن يسار أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل هو وعائشة في إناء واحد ، فبينما هو معها في لحاف واحد إذ أنسلت فقال : قد فعلتيها ؟ قالت : نعم حضت يا رسول الله قال : فقومي وأتزري وأدني مني فدخلت معه في اللحاف صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27524 ۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) مسافروں کی ایک جماعت کے ساتھ کہیں تشریف لے گئے ان میں حضرت عمرو بن العاص (رض) بھی تھے ، حتی کہ ایک حوض پر آپہنچے حضرت عمرو بن العاص (رض) نے حوض کے مالک سے کہا : کیا تمہارے حوض پر درندے بھی پانی پینے آتے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے حوض کے مالک ! ہمیں مت بتلاؤ چونکہ ہم درندوں پر وارد ہوتے ہیں اور وہ ہمارے اوپر وارد ہوتے ہیں۔ رواہ مالک وعبدالرزاق ودارقطنی)
27524- عن يحيى بن عبد الرحمن "أن عمر بن الخطاب خرج في ركب فيهم عمرو بن العاص حتى وردوا حوضا فقال عمرو بن العاص لصاحب الحوض هل ترد حوضك السباع؟ فقال عمر بن الخطاب: يا صاحب الحوض لا تخبرنا فإنا نرد على السباع وترد علينا". "مالك، عب، قط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
25 275 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ (رض) نے بلی کے آگے برتن رکھا بلی نے پانی پیا پھر بلی کے جھوٹے سے آپ (رض) نے وضو کرلیا اور فرمایا : بلی تو گھریلو سازوسامان میں سے ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27525- عن عكرمة قال: "قرب أبو قتادة إناء على الهر فولغ فيه ثم توضأ من فضله وقال: إنما هو من متاع البيت". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27526 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بلی کے جھوٹے کیے ہوئے برتن کے متعلق فرماتے تھے کہ اسے ایک بار دھو لیا جائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27526- عن أبي هريرة "في الهر يلغ في الإناء وقال: اغسله مرة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27527 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے بلی کے جھوٹے کے متعلق سوال کیا گیا آپ (رض) نے فرمایا : بلی درندوں میں سے ہے اس کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ مسدد والدارقطنی)
27527- عن علي أنه "سئل عن سؤر السنور فقال: هي من السباع ولا بأس به". "مسدد، قط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27528 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے بلی کے متعلق فرمایا : جب برتن میں منہ مار جائے تو برتن کو سات مرتبہ دھو لو ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27528- عن أبي هريرة أنه قال في السنور: "إذا ولغ في الإناء يغسله سبع مرات". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27529 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : میں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے وضو کرلیتے تھے جس سے پہلے بلی پانی پی چکی ہوتی تھی ۔ (رواہ عبدالرزاق، و سعید بن المنصور)
27529- عن عائشة أنها قالت: "كنت أتوضأ أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من إناء قد أصاب منه الهر قبل ذلك". "عب، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27530 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : بلی گھریلو سازوسامان میں سے ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن ابی شیبۃ)
27530- عن ابن عباس قال: "الهر من متاع البيت". "عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27531 ۔۔۔ عکرمہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا گیا اگر بلی برتن میں منہ مار جائے تو کیا برتن دھویا جائے ؟ آپ (رض) نے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلی تو گھریلو سازو سامان میں سے ہے (رواہ عبدالرزاق)
27531- عن عكرمة قال: "سئل ابن عباس عن ولوغ الهر في الإناء يغسل؟ قال: إنما هو من متاع البيت". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27532 ۔۔۔ انصار کے ایک آزاد کردہ غلام اپنی دادی سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی آزاد کردہ باندی کو جشیش (گندم ، کھجوروں اور گوشت سے تیار کیا ہوا کھانا) ہدیۃ دے کر حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے پاسب بھیجا جب باندی ہدیہ لے کر حاضر ہوئی تو آگے ـحضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نماز پڑھا رہی تھیں باندی نے کھانا نیچے رکھ دیا اتنے میں بلی آئی اور کھانے میں سے کھا کر چلی گئی ۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے پاس عورتیں جمع تھیں جب آپ (رض) نماز سے فارغ ہوئیں تو عورتوں کو دیکھا کہ جہاں سے بلی نے کھانا کھایا تھا وہاں سے کھانا نہیں نکال رہی ہیں چنانچہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے وہیں ہاتھ رکھا جہاں سے بلی نے کھانا کھایا تھا ، اور فرمایا : بلی نجس نہیں ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27532- عن مولى للأنصار" أن جدته أخبرته أن مولاتها أرسلتها بجشيش 1 أو رز إلى عائشة تهديه فجاءت به وعائشة تصلي فوضعته فدنت منه هرة فأكلت منه وعند عائشة نساء فلما انصرفت دعت به فرأت النساء يتوقين المكان الذي أكلت منه الهرة، فوضعت عائشة يدها في المكان الذي أكلت منه الهرة وقالت: ليست بنجس". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درندوں کے جھوٹے پانی کا بیان :
27533 ۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) گدھے ، کتے اور بلی کے جھوٹے پانی سے وضو کرنا مکروہ سمجھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27533- عن نافع عن ابن عمر "كان يكره سؤر الحمار والكلب والهر أن يتوضأ بفضلهم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مراسیل حسن بصری :
27534 ۔۔۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم اپنے والد س روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اور مکہ کے درمیان یہ جو حوض ہیں ان سے درندے اور کتے پانی پیتے رہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جتنا پانی ان کے پیٹ میں چلا گیا وہ ان کے حصہ کا ہے اور جو باقی بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27534- حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم حدثني أبي "أن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: يا رسول الله إن هذه الحياض التي تكون بيننا وبين مكة تردها السباع والكلاب؟ فقال: "ما جعلت في بطونها فهو لها وما بقي فهو لنا طهور". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتنوں کا بیان :
27535 ۔۔۔ اسلم کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے وضو کے لیے پانی تلاش کیا لیکن پانی ایک نصرانیہ کے سوا کسی سے نہ ملا اسلم پانی لے کر آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ (رض) کو وہ پانی بہت اچھا لگا اور فرمایا یہ پانی کہاں سے لایا ہے ؟ عرض کیا : اس نصرانیہ کے کے پاس سے لایا ہوں ، آپ (رض) نے وضو کیا اور پھر اس عورت کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : اسلام قبول کرلو ، عورت نے سر سے کپڑا ہٹایا کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا سر بالکل سفید ہوچکا ہے وہ بولی : میں کیا اس عمر کے بعد اسلام قبول کروں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27535- "عن أسلم أنه التمس لعمر وضوءا فلم يجده إلا عند نصرانية ثم استوهبها ثم جاء إلى عمر فأعجبه حسنه فقال عمر: من أين هذا؟ فقال: من عند هذه النصرانية فتوضأ ثم دخل عليها فقال: أسلمي فكشفت عن رأسها فإذا هو كأنه ثغامة بيضاء فقالت: أبعد هذه السن". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برتنوں کا بیان :
27536 ۔۔۔ اسلم کی روایت ہے کہ جب ہم ملک شام میں تھے میں پانی لے کر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) نے پانی سے وضو کیا اور فرمایا : یہ پانی تم نے کہاں سے لیا ہے میں نے ایسا میٹھا اور عمدہ پانی حتی کہ آسمان کا پانی بھی نہیں دیکھا ؟ میں نے عرض کیا : میں یہ پانی اس بوڑھی نصرانیہ کے گھر سے لایا ہوں جب آپ (رض) نے وضو کیا اس بڑھیا کے پاس آئے اور فرمایا : اے بڑھیا اسلام قبول کرو اللہ تعالیٰ نے محمد کو برحق نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ، بڑھیا نے اپنے سر سے کپڑا جو ہٹایا کیا دیکھتے ہیں کہ بالکل سفید ہوچکا ہے بڑھیا بولی : میں بہت بوڑھی ہوچکی ہوں میں تو ابھی مرجاؤں گی ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! گواہ رہنا ۔ (رواہ الدارقطنی وابن عساکر)
27536- عن أسلم قال: "لما كنا بالشام أتيت عمر بن الخطاب بماء توضأ منه فقال: من أين جئت بهذا الماء فما رأيت ماء عذبا ولا ماء سماء أطيب منه ؟ قلت : جئت به من بيت هذه العجوز النصرانية ، فلما توضأ أتاها فقال : أيتها العجوز أسلمي بعث الله تعالى محمدا بالحق فكشفت عن رأسها فإذا مثل الثغامة فقالت : عجوز كبيرة وإنما أموت الآن فقال عمر : اللهم أشهد (قط ، كر).
tahqiq

তাহকীক: