কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৭৩৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27337 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ جو چیز حد واجب کرتی ہے وہ غسل بھی واجب کرتی ہے (رواہ سعید بن المنصور) ۔ فائدہ :۔۔۔ یعنی ناجائز اور حرام مجامعت سے حد (کوڑے یا رجم) واجب ہوتی ہے اس سے غسل بھی واجب ہوتا ہے البتہ غسل واجب ہوتا ہے خواہ حرام ہو یا حلال جب کہ حد حرام مجامعت پر واجب ہوتی ہے۔
27337- عن علي قال: "ما أوجب الحد أوجب الغسل". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27338 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : دو شرمگاہوں کا آپس میں ٹکراؤ ہوجائے توغسل واجب ہوجاتا ہے (رواہ العقیلی)
27338- عن علي قال: "إذا اختلف الختانان فقد وجب الغسل". "عق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27339 ۔۔۔ ” مسند ابی “ رفاعہ بن رافع کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا یکاک ایک شخص داخل ہوا اور بولا : امیر المومنین ! یہ زید بن ثابت مسجد میں جنابت سے غسل کرنے کے متعلق اپنی رائے سے فتوی دے رہے ہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا زید بن ثابت کو میرے پاس لاؤ جب سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے انھیں دیکھا فرمایا اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم اپنی رائے سے فتوی دیتے ہو ؟ زید (رض) نے کہا اے امیر المؤمنین ! بخدا میں نے ایسا نہیں کیا لیکن میں نے اپنے چچاؤں ابو ایوب ابی بن کعب اور رفاعہ بن رافع (رض) سے حدیث سنی ہے حضرت عمر (رض) حضرت رفاعہ (رض) کی طرف متوجہ ہوئے انھوں نے کہا : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایسا کرتے تھے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے تحریم کا حکم نہیں آیا اور نہ ہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے۔ حالانکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس کا علم تھا کہا مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے مہاجر بن و انصار کو جمع ہونے کا حکم دیا سب جمع ہوگئے آپ (رض) نے ان سے مشورہ کیا لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ اس صورت میں غسل نہیں ہے البتہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت معاذ (رض) فرماتے تھے کہ جب شرمگاہ دوسری شرمگاہ کو تجاوز کر جائے غسل واجب ہوجاتا ہے۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : میں کسی آدمی کے متعلق نہ سنوں کہ اس نے ایسا کیا ہے (یعنی اکسال کی صورت میں غسل نہیں کیا) تو میں اسے سخت سزا دوں گا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والطبرانی)
27339- "مسند أبي" عن رفاعة بن رافع قال: "بينا أنا عند عمر بن الخطاب إذ دخل عليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين هذا زيد بن ثابت يفتي الناس في المسجد برأيه في الغسل من الجنابة فقال عمر: علي به فجاء زيد فلما رآه عمر قال: أي عدو نفسه قد بلغت أن تفتى الناس برأيك؟ فقال: يا أمير المؤمنين بالله ما فعلت ولكني سمعت من أعمامي حديثا فحدثنا به من أبي أيوب ومن أبي ابن كعب ومن رفاعة ابن رافع، فأقبل عمر على رفاعة بن رافع فقال: وقد كنا نفعل ذلك على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يأتنا من الله فيه تحريم ولم يكن من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه نهي قال: ورسول الله صلى الله عليه وسلم يعلم ذلك قال: لا أدري فأمر عمر بجمع المهاجرين والأنصار، فجمعوا له فشاورهم، فأشار الناس أن لا غسل في ذلك إلا ما كان من معاذ وعلي فإنهما قالا: إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل، فقال عمر: لا أسمع برجل فعل ذلك إلا أوجعته ضربا". "ش، حم، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27340 ۔۔۔ ” ایضاء “ یہ جو فتوی دیا جاتا تھا کہ پانی سے پانی واجب ہوتا ہے (یعنی غسل انزال سے واجب ہوتا ہے) یہ ابتدائے اسلام میں رخصت تھی جیسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت مقرر کی تھی پھر بعد میں غسل کا حکم دیا۔ (رواہ احمد بن حنبل والدار می وابن منیع وابو داؤد والترمذی وقال حسن صحیح وابن ماجہ وابن خزیمۃ وابن الجارود والطحاوی وابن حبان والدار قطنی والباوددی والطبرانی و سعید بن المنصور)
27340- "أيضا" "إن الفتيا التي كانوا يفتون أن الماء من الماء كانت رخصة رخصها رسول الله صلى الله عليه وسلم في بدء الإسلام ثم أمر بالاغتسال بعد". "حم والدارمي وابن منيع، د، ت حسن صحيح، هـ وابن خزيمة وابن الجارود والطحاوي، حب، قط والباوردي طب، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27341 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مے میرا جسم ورنگ متغیر دیکھا فرمایا : اے علی ! تمہارے جسم کا رنگ متغیر ہوچکا ہے میں نے عرض کیا : چونکہ میں پانی سے بہت غسل کرتا ہوں چونکہ مجھے شدید مذی آتی ہے جب بھی میں کچھ مذی دیکھ لیتا ہوں غسل کرتا ہوں آپ نے فرمایا مذی آنے پر غسل مت کرو البتہ منی آنے پر غسل کرو آئندہ ایسا نہ کرنا اپنا عضو مخصوص دھو لیا کرو غسل مت کرو۔ (البتہ منی آنے پر غسل کرو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ن (رواہ ابن اسنی)
27341- عن علي قال: "رآني النبي صلى الله عليه وسلم وقد شحبت فقال: "يا علي لقد شحبت" فقلت: شحبت من اغتسالي بالماء وأنا رجل مذاء فإذا رأيت منه شيئا اغتسلت منه، قال: "لا تغتسل منه إلا من الخذف فإن رأيت شيئا منه فلا تعد أن تغتسل ذكرك ولا تغتسل إلا من الخذف". "ابن السني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27342 ۔۔۔ خرشہ بنت حبیب کی روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے کہا کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا : مرد اگر عورت کو جھومائے اور عورت کے دونوں اطراف جھوم اٹھیں تو مرد پر غسل نہیں ہے۔ (رواہ مسدد)
27342- عن خرشة بنت حبيب "أن رجلا قال لعلي: الرجل يأتي امرأته ولا ينزل؟ قال: لو هزها حتى تهتز قرناها فليس عليه غسل". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27343 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے دو شرمگاہوں کے باہم ملنے کے متعلق فرمایا : جیس کہ حد واجب ہوتی ہے اسی طرح غسل بھی واجب ہوتا ہے بھلا جو چیز حد کو واجب کردیتی ہے وہ پانی (غسل) کو واجب نہیں کرے گی (رواہ الطبرانی)
27343- عن علي قال: "في التقاء الختانين: كما يجب الحد كذلك يجب الغسل أيوجب الحد ولا يوجب قدحا من الماء". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب موجبات غسل ۔۔۔ آداب غسل حمام میں داخل ہونے کا بیان : موجبات غسل :
27344 ۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ مہاجرین و انصار کا موجب غسل کے متعلق اختلاف ہوگیا ، انصار کہتے تھے کہ پانی سے پانی واجب ہوتا ہے۔ (یعنی منی سے غسل واجب ہوتا ہے) جبکہ مہاجرین کہتے تھے کہ جب شرمگاہ دوسری شرمگاہ کو مس کر جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ دونوں فریقین نے فیصلہ کے لیے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو ثالث تسلیم کیا اور کیس اس کے پاس لے آئے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مجھے بتاؤ اگر ایک شخص عورت میں داخل کرتا ہو اور باہر بھی نکالتا ہو اس پر حد واجب ہوجاتی ہے ؟ سب نے کہا : جی ہاں ۔ فرمایا : کیا اس سے حد واجب ہوجاتی ہے اور غسل کے لیے ایک صاع پانی واجب نہیں ہوگا ۔ آپ (رض) نے مہاجرین کے حق میں فیصلہ کیا پھر حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کو اس کی خبر ہوئی انھوں نے فرمایا : بسا اوقات میں نے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیا ہے پھر ہم نے اٹھ کر غسل کرلیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27344- عن مجاهد قال: "اختلف المهاجرون والأنصار فيما يوجب الغسل فقالت الأنصار: الماء من الماء، وقالت المهاجرون: إذا مس الختان الختان وجب الغسل فحكموا بينهم علي بن أبي طالب فاختصموا إليه فقال علي: أرأيتم؟ لو رأيتم رجلا يدخل ويخرج أيجب عليه الحد؟ قالوا: نعم قال: فيوجب الحد ولا يوجب الغسل صاعا من ماء فقضى للمهاجرين فبلغ ذلك عائشة فقالت: ربما فعلنا ذلك أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم فقمنا واغتسلنا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27345 ۔۔۔ معرور کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : رہی بات میری سو میں اپنے سر پر تین لب پانی ڈال لیتا ہوں ۔ (رواہ مسدد)
27345- عن المعرور قال: "قال عمر: أما أنا فأحفن على رأسي ثلاث حفنات". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27346 ۔۔۔ یعنی بنی امیہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اونٹ کی اوٹ میں غسل کر رہے تھے اور میں نے آپ کے آگے کپڑے سے ستر کر رکھا تھا آپ (رض) نے فرمایا : اے یعلی ! میرے سر پر پانی ڈالو میں نے عرض کیا : امیر المؤمنین بہتر جانتے ہیں آپ (رض) نے فرمایا : بخدا زیادہ پانی بالوں کی پراگندگی میں اضافہ کرتا ہے پھر آپ (رض) نے اللہ کا نام لیا اور سر پر پانی ڈالا ۔ (رواہ الشافعی والبیہقی فی السنن)
27346- عن يعلى بن أمية أنه قال: "بينما عمر بن الخطاب يغتسل إلى بعيره وأنا أستر عليه بثوب إذ قال: يا يعلى اصبب على رأسي فقلت: أمير المؤمنين أعلم قال عمر: والله ما يزيد الماء الشعر إلا شعثا، فسمى الله ثم أفاض على رأسه". "الشافعي، هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27347 ۔۔۔ ابو امامہ باہلی (رض) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں اور ہر بار سر کر مل لیتا ہوں ۔ (رواہ ابن عساکر)
27347- عن أبي أمامة الباهلي عن عمر بن الخطاب "أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الغسل من الجنابة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فإني أفرغ على رأسي ثلاث مرات أعرك رأسي في كل مرة". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27348 ۔۔۔ ابن مسیب کی روایت ہے کہ عثمان غسل جنابت کرتے تو اس جگہ سے ہٹ جاتے اور دوسری جگہ جا کر پاؤں دھوتے تھے ۔ (عبدالرزاق)
27348- عن ابن المسيب قال: "كان عثمان إذا اغتسل من الجنابة تنحى عن مكانه فغسل رجليه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27349 ۔۔۔ حمران کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) جب غسل کرتے تو غسل والی جگہ سے باہر نکل جاتے اور پاؤں کے تلوے دھو لیتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27349- عن حمران "أن عثمان بن عفان كان إذا اغتسل فخرج من مغتسله يغسل بطون قدميه". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27350 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ سالم بن ابی جعد حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غسل کے لیے ایک صاع (پانی) کافی ہے اور وضو کے لیے ایک مد کافی ہے ایک شخص نے (حضرت جابر (رض) سے) کہا : مجھے یہ مقدار کافی نہیں ہے جابر (رض) نے فرمایا : پانی کی یہ مقدار اس ذات کے لیے کافی تھی جو تم سے افضل واعلی تھی اور جس کے بال بھی تم سے زیادہ تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27350- "من مسند جابر بن عبد الله" عن سالم بن أبي الجعد عن جابر بن عبد الله "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يجزيء من الغسل صاع ومن الوضوء المد فقال رجل: لا يكفيني فقال: قد كفى خيرا منك وأكثر شعرا". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27351 ۔۔۔ جابر (رض) روایت کی ہے کہ بنو ثقیف کے وفد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری سر زمین میں سردی ہوتی ہے ہم کیسے غسل کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہی بات میری سو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں (رواہ سعید بن المنصور فی سننہ)
27351- عن جابر "أن وفد ثقيف قالوا: يا رسول الله إن أرضنا أرض باردة فكيف بالغسل؟ قال: "أما أنا فأفرغ على رأسي ثلاثا". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27352 ۔۔۔ ایضا، ابو سفیان کی روایت ہے کہ بنو ثقیف کے وفد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری سرزمین میں سردی ہوتی ہے ہم کیسے غسل کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہی بات میری سو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔ رواہ سعید بن المنصور فی سننہ۔
27352- "أيضا" عن أبي سفيان قال: "سئل جابر بن عبد الله قال: أيتوضأ الجنب بعد ما يغتسل؟ قال: يكفيه الغسل". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27353: مسند عائشۃ : حضرت حسن کی روایت ہے کہ ایک شخص نے انھیں حدیث سنائی کہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ! میں نے عرض کیا : اے ام المومنین ! رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل جنابت کے لیے کتنا پانی استعمال کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے پانی منگوایا میں نے اس کا اندازہ ایک صاع کے برابر کیا جو تمہارے اس صاع کے مساوی ہے۔ رواہ سعید بن المنصور فی سننہ وابن ابی شیبہ فی المصنف۔
27353- "مسند عائشة" عن الحسن "أن رجلا حدثهم قال: دخلت على عائشة فقلت يا أم المؤمنين ما كان يقضي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجنابة؟ فدعت بماء فحزرته صاعا بصاعكم هذا". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27354 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے بسا اوقات میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کہ میرے لیے بھی پانی چھوڑیں ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27354- عن عائشة قالت: ربما قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أبق لي. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27355 ۔۔۔ ابو جعفر محمد بن علی کی روایت ہے کہ حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) دریائے فرات میں داخل ہوئے ان دونوں صاحبزادوں نے تہبند باندھ رکھے تھے پھر دونوں نے فرمایا : یقیناً پانی میں سکون ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27355- عن أبي جعفر محمد بن بن؟؟ علي أن حسنا وحسينا دخلا الفرات وعلى كل واحد منهما إزار ثم قالا: إن الماء أو إن للماء ساكنا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب غسل :
27356 ۔۔۔ حضرت میمونہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غسل کے لیے پانی رکھا آپ نے غسل جنابت کیا۔ چنانچہ آپ نے بائیں ہاتھ سے پانی کا برتن سرنگوں کیا اور دائیں ہاتھ میں پانی لے کر ہھتیلی دھوی پھر شرمگاہ پر پانی ڈالا اور شرمگاہ دھولی پھر زمین پر ہاتھ رگڑ لیا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ دھویا پھر ہاتھ دھوئے پھر سر پر پانی ڈالا پھر سارے بدن پر پانی ڈالا پھر اس جگہ سے الگ ہوگئے اور پاؤں دھوئے میں آپ نے پاس کپڑا لائی تاہم آپ نے ہاتھوں سے یوں پانی جھاڑنا شروع کردیا۔ (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ و سعید بن المنصور)
27356- عن ميمونة قالت "وضعت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا فاغتسل من الجنابة فأكفأ الإناء بشماله عن يمينه فغسل كفه، ثم أفاض على فرجه فغسله، ثم دلك يده بالأرض، ثم مضمض واستنشق وغسل وجهه وذراعيه ثم أفاض على رأسه، ثم أفاض على سائر جسده الماء، ثم تنحى فغسل رجليه فأتيته بثوب فرده وجعل يقول بالماء هكذا ينفض الماء". "عب، ش، ص".
তাহকীক: