কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৭২৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27297 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ کہ ہم منی کو اذخر (گھاس) یا فرمایا اون سے صاف کرلیتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27297- عن ابن عباس قال: "المني كنا نمسحه بالإذخر أو قال بالصوف صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27298 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے منی کے متعلق فرمایا : منی تو بس رینٹ اور بلغم کی طرح ہے تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ اسے کپڑے یا اذخر سے صاف کر دو ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27298 عن أبن عباس أنه قال في المني : إنما هو كالنخاعة أو النخامة وإنما يجزئك أن تنحيه عنك بخرقة أو إذخرة صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27299 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب تمہیں کپڑوں میں احتلام ہوجائے تو اسے اذخر یا کپڑے سے صاف کر دو چاہو تو اسے نہ دھو ہاں البتہ اگر تمہیں اس سے گھن آئے یا اسے کپڑوں پر دیکھنا اچھا نہ سمجھو تو دھو لو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27299 عن أبن عباس قال : إذا أحتلمت في ثوبك فأمطه بأذخرة أو خرقة ولا تغسله إن شئت إلا أن تقذره أو تكره أن يرى في ثوبك (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27300 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ بخدا ! میں تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑے سے منی کھرچ لیتی تھی اور پانی سے آپ اسے نہیں دھوتے تھے پھر اسی میں نماز پڑھ لیتے ہم بھی نماز پڑھ لیتی تھیں ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27300 عن عائشة قالت : والله إن كنت لافرك المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم وما يغسله بالماء ثم يصلي فيه ونصلي صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27301 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کہتی ہیں بسا اوقات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑے سے میں انگلی کے ساتھ منی کھرچ دیتی تھی ۔۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27301 عن عائشة قالت : ربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصبعي صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27302 ۔۔۔ ” مسند علی “ مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے کپڑوں سے منی کھرچ لیتے تھے ۔۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27302 (مسند علي) عن مصعب بن سعد عن أبيه أنه كان يفرك الجنابة من ثوبه صلى الله عليه وآله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27303 ۔۔۔ زید بن صلت کی روایت ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ مقام جرف کی طرف گیا وہاں پہنچ کر دیکھا کہ انھیں احتلام ہوا ہے اور بغیر غسل کرنے کے نماز پڑھ لی ہے آپ (رض) نے فرمایا : بخدا میں تو یہی سمجھا ہوں کہ مجھے احتلام ہوا ہے حالانکہ مجھے پتہ بھی نہیں چلا اور میں نے نماز بھی پڑھ لی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا اور کپڑوں پر دکھائی دینے والی منی بھی دھو دی اور جو دکھائی نہیں دیتی تھی اس پر پانی کے چھینٹے مار لیے ، پھر اذان دی اقامت کہی اور سورج بلند ہوجانے کے بعد نماز پڑھی ۔۔ (رواہ مالک وابن وھب وعبدالرزاق و سعید بن المنصور والطحاوی)
27303 عن زيد بن الصلت قال : خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه إلى الجرف فنظر فإذا هو قد أحتلم وصلى ولم يغتسل فقال : والله ما أراني إلا قد أحتلمت وما شعرت وصليت وما أغتسلت ، فأغتسل وغسل ما رأى في ثوبه ، ونضح ما لم ير وأذن ، وأقام ، ثم صلى بعد أرتفاع الضحى متمكنا (مالك وأبن وهب ، عب ، ص والطحاوي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27304 ۔۔۔ سلیمان بن یسار کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) صبح صبح اپنی زبان کی طرف تشریف لے گئے جو کہ مقام صرف میں تھی آپ (رض) نے اپنے کپڑوں پر احتلام کے اثرات دیکھے اور آپ نے فرمایا : جب سے میں نے بار خلافت اٹھایا ہے آج میں احتلام میں مبتلا ہوا ہوں چنانچہ آپ (رض) نے غسل کیا اور کپڑوں پر جو منی نظر آتی تھی اسے دھویا پھر سورج طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھی ۔ (رواہ مالک)
27304 عن سليمان بن يسار أن عمر بن الخطاب غدا إلى أرضه بالجرف فرأى في ثوبه أحتلاما فقال : لقد أبتليت بالاحتلام مذ وليت أمر الناس فأغتسل وغسل ما رأى في ثوبه من الاحتلام ، ثم صلى بعد أن

طلعت الشمس (مالك)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27305 ۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مسافروں کی ایک جماعت کے ساتھ عمرہ کیا ان میں حضرت عمرو بن العاص (رض) بھی تھے راستے ہی میں عمر (رض) نے پچھلے پہر پڑاؤ کیا اور آپ (رض) کو احتلام ہوا ، قریب تھا کہ صبح ہوجاتی آپ نے مسافروں کے پاس پانی نہ پایا آپ نے وہاں سے کوچ کردیا ۔ حتی کہ پانی کے پاس پہنچے عمر (رض) نے کپڑوں پر لگی ہوئی منی جو دکھائی دیتی تھی اسے دھونا شروع کیا حتی کہ صبح کی سفیدی اچھی طرح پھیل گئی حضرت عمرو بن العاص (رض) نے آپ (رض) سے کہا : آپ نے صبر کردی حالانکہ ہمارے پاس کپڑے ہیں ، آپ اپنے کپڑے چھوڑ دیں بعد میں دھو لیے جائیں گے ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابن العاص ! بڑے تعجب کی بات ہے اگر تمہارے پاس کپڑے ہیں تو کیا سب مسلمانوں کے پاس کپڑے ہیں ، بخدا ، اگر میں ایسا کرتا تو سنت بن جاتی بلکہ میں تو دکھائی دینے والی منی دھوؤں گا اور جو نظر نہ آئے گی اس پر پانی کے چھینٹے مار لوں گا ۔ (رواہ مالک وابن وھب وعبدالرزاق و سعید بن المنصور والطحاوی ورواہ ابن وھب فی مسندہ)
27305 عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب عن أبيه أن عمر بن الخطاب أعتمر في ركب فيهم عمرو بن العاص أن عمر عرس ببعض الطريق فأحتلم وقد كان أن يصبح فلم يجد مع الركب ماء ، فركب حتى جاء الماء فجعل يغسل ما رأى في ثوبه من الاحتلام حتى أسفر فقال له عمرو : أبن العاص : قد أصبحت ومعنا ثياب فدع ثوبك يغسل ، فقال عمر : واعجبا لك يا أبن العاص إن كنت تجد ثيابا ما كل المسلمين يجد ثيابا فوالله لو فعلتها لكانت سنة بل أغسل ما رأيت وأنضح ما لم أر (مالك وأبن وهب ، عب ، ص والطحاوي ورواه أبن وهب في مسنده.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27306 ۔۔۔ ” ایضا “ نافع ، سلیمان بن یسار کے طریق سے مروی ہے ہمیں ایک شخص نے حدیث سنائی ہے جو سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ سفر میں شریک تھا جس سفر میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو احتلام ہوگیا تھا ۔ جبکہ آپ کے پاس پانی نہیں تھا آپ نے فرمایا : ذرا تیز چلو ، ہوسکتا ہے طلوع آفتاب سے پہلے ہمیں پانی مل جائے، لوگوں نے کہا : جی ہاں لوگوں نے اپنی سواریاں تیار کیں اور پانی تک جا پہنچے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے غسل کیا اور پھر کپڑوں پر لگی ہوئی منی دھونے لگے آپ (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) یا مغیرہ (رض) نے کہا اے امیر المؤمنین اگر آپ دوسرے کپڑوں میں نماز نہیں پڑھی جس میں انھیں جنابت لاحق ہوئی تھی ؟ نہیں بلکہ میں دکھائی دینے والی منی دھو لوں گا اور نہ دکھائی دینے والی پر پانی کے چھینٹے مار لوں گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27306 (أيضا) من طريق نافع عن سليمان بن يسار قال : حدثنا من كان مع عمر بن الخطاب في سفر فأصابته جنابة وليس معه ماء فقال : أترونا لو (1) رفعنا ندرك الماء قبل طلوع الشمس ؟ قالوا : نعم ، قال : فرفعوا دوابهم فجاؤا الماء قبل طلوع الشمس فأغتسل عمرو وأخذ يغسل ما أصاب ثوبه من الجنابة فقال له عمرو بن العاص أو المغيرة يا أمير المؤمنين لو صليت في غير هذا الثوب ؟ فقال : أتريد أن لا أصلي في ثوب أصابته جنابة فيقال : إن عمر لم يصل في ثوب أصابته جنابة ؟ لا بل أغسل ما رأيت وأرش ما لم أر (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27307 ۔۔۔ سلیمان بن یسار کی روایت کی ہے کہ مجھے شرید نے حدیث سنائی ہے کہ میں اور سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ہمارے درمیان نالی حائل تھی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنی کپڑوں میں منی کے اثرات دیکھے فرمایا : جب سے ہم نے چربی کھائی ہے ہمارے اوپر یہ احتلام ہوا ہے۔ پھر آپ (رض) نے دکھائی دینے والی منی دھو ڈالی اور غسل کرکے نماز لوٹائی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27307 عن سليمان بن يسار قال : حدثني الشريد قال : كنت أنا وعمر بن الخطاب جالسين بيننا جدول فرأى عمر في ثوبه جنابة فقال : خرط علينا هذا الاحتلام منذ أكلنا هذا الدسم ، ثم غسل ما رأى في ثوبه وأغتسل وأعاد الصلاة (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27308 ۔۔۔ ابن جریر کی روایت ہے کہ مجھے اہل مدینہ کے ایک شخص نے حدیث سنائی ہے اور کہا ہے یہ حدیث ہمارے نزدیک ثابت شدہ ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ہر ہفتہ دو مرتبہ سوار ہو کر باہر تشریف لے جاتے تھے ایک مرتبہ مہاجرین یتامی کے اموال کو دیکھنے کے لیے اور دوسری مرتبہ لوگوں کے غلاموں کو دیکھنے کے لیے ، چنانچہ ایک دن اسی سلسلہ میں آپ مقام صرف پہنچے ، شلوار میں ہاتھ ڈال کر دیکھا اور کچھ محسوس ہوا فرمایا میرا خیال ہے کہ میں نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھ لی ہے ہم جب چربی کھالیتے ہیں تو ہماری رگیں نرم ہوجاتی ہیں پھر آپ (رض) نے غسل کیا اور صبح کی نماز (دوبارہ) پڑھی جب کہ آپ (رض) نے لوگوں کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا ۔
27308 عن أبن جرير قال : حدثني بعض أهل المدينة قال حديث مثبت عندنا أن عمر بن الخطاب كان يركب في كل جمعة ركبتين : إحداهما ينظر في أموال يتامى المهاجرين ، والاخرى ينظر في أرقاء الناس مما يبلغ منهم حتى إذا كان يوما في بعض ذلك الجرف أدخل يده فوجد شيئا فقال : إني لاظنني قد صليت جنبا ، إنا إذا أصبنا الودك لانت عروقنا ثم أغتسل فصلى الصبح ولم يأمر الناس أن يصلوها.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی زائل کرنے کا بیان :
27309 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات ہمارے ہاں ایک شخص مہمان بنا ہم نے اسے زرد رنگ کی چادر اوڑھنے کے لیے دی ۔ اسے چادر میں احتلام ہوگیا ، مہمان کو اس طرح چادر بھیجنے میں حیاء آئی چونکہ چادر میں احتلام کا اثر تھا ، مہمان نے چادر پانی میں بھگو دی اور پھر عائشہ (رض) کو بھیجوادی ، حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا اسے تو اتنی بات کافی تھی کہ انگلی سے کھرچ دیتا بسا اوقات میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑے کو انگلی سے کھرچتی تھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27309 عن عائشة نزل بنا ليلة ضيف فأمرت بملحفة صفراء فأحتلم فيها فأستحيي أن يرسل بها وفيها أثر الاحتلام فغمسها في الماء ، ثم أرسل بها فقالت عائشة : لم أفسد علينا ثوبا إنما كان يكفيه أن يفرك بأصبعه ربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصبعي (ش)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27310 ۔۔۔ ابو وائل کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مردار کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دباغت اسے پاک کردیتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27310- عن أبي وائل عن عمر أنه "سئل عن ميتة فقال: طهورها دباغها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27311 ۔۔۔ ابن سیرین حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا اس نے ایک ٹوپی پہن رکھی تھی ٹوپی کا استر لومڑی کے چمڑے کا بنا ہوا تھا عمر (رض) نے اس کے سر سے اتار کر پھینک دی اور فرمایا : تمہیں کیا معلوم ہوسکتا ہے یہ پاک نہ ہو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27311- عن ابن سيرين عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب "رأى رجلا يصلي وعليه قلنسوة بطانتها من جلود الثعالب فألقاها عن رأسه وقال: ما يدريك لعله ليس بذكي". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27312 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردار کے چمڑے کو استعمال کرنے میں رخصت دی ہے ۔۔ (رواہ عبدالرزاق، وفیہ حجاج بن ارطاۃ ضعیف)
27312- "من مسند جابر بن عبد الله"رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم في جلود الميتة". "عب وفيه حجاج بن أرطاة ضعيف"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27313 ۔۔۔ ” مسند جون بن قتادہ تیممی “ جون بن قتادہ کی روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ کا صحابی ایک جگہ لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس سے گزرا مشکیزے میں پانی تھا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پانی پینا چاہا ۔ مشکیزے کے مالک نے کہا : یہ مردار کے چمڑے سے بنایا گیا ہے صحابی رک گیا حتی کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جگہ پہنچے تو آپ سے اس کا تذکرہ کیا ، آپ نے فرمایا : پانی پیو چونکہ دباغت چمڑے کو پاک کردیتی ہے۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر وقال ھکذا حدث ھیشم بھذا الحدیث لم یجاوزبہ جون بن قتادۃ ولیس لجوف صحبۃ، ورواہ ھشیم فقال عن جون عن سلمۃ بنالمحیق)
27313- "مسند جون بن قتادة التميمي" عن جون بن قتادة قال: "كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره فمر بعض أصحابه بسقاء معلق فيه ماء فأراد أن يشرب فقال له صاحب السقاء: إنه جلد ميتة، فأمسك حتى لحقهم النبي صلى الله عليه وسلم فذكروا له فقال: "اشربوا فإن دباغ الميتة طهورها". "ابن منده، كر وقال هكذا حدث هشيم بهذا الحديث لم يجاوز به جون بن قتادة وليس لجون صحبة ورواه عن هشيم فقال عن جون عن سلمة ابن المحبق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27314 ۔۔۔ مسند سلمہ بن اکوع “ ۔ جون بن قتادہ سلمہ بن محبق (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم ایک مشکیزے کے پاس آئے اس میں پانی تھا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پانی پینا چاہا مشکیزے کے مالک نے کہا : یہ مردار کے چمڑے سے بنا ہے ، صحابہ رک گئے اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا فرمایا : پانی پیو چونکہ دباغت چمڑے کو پاک کردیتی ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
27314- "من مسند سلمة بن الأكوع" عن جون بن قتادة عن سلمة ابن المحبق قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فأتينا على سقاء فيه ماء فأراد القوم أن يشربوا فقال صاحب السقاء: إنها ميتة فأمسك القوم حتى جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا ذلك له فقال: اشربوا فإن دباغه طهوره". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27315 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردار کے چمڑے سے نفع اٹھانے کا حکم دیا ہے بشرطیکہ چمڑے کو دباغت دی گئی ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف النسائی 284 ۔
27315- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم "أمر أن يستمتع بجلود الميتة إذا دبغت". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دباغت کا بیان :
27316 ۔۔۔ ” مسند ابن عباس “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میمونہ (رض) کی آزاد کردہ باندی کی مردار بکری کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا : تم نے اس کے چمڑے میں نفع کیوں نہیں اٹھایا ؟ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے کیسے نفع اٹھایا جاسکتا ہے حالانکہ یہ مردار ہے ؟ فرمایا : حرام تو بس اس کا گوشت ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27316- "من مسند ابن عباس" "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على شاة لمولاة لميمونة ميتة فقال: "أفلا استمتعتم بإهابها؟ قالوا: كيف وهي ميتة يا رسول الله؟ قال: إنما حرم لحمها". "عب".
tahqiq

তাহকীক: