কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৭২৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27277 ۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک چوہا تیل میں گرگیا آپ (رض) نے فرمایا : اس سے چراغ جلانے کا کام لو۔ (رواہ عبدالرزاق)
27277- عن ابن عمر "أن فأرة وقعت في زيت فقال: استسرجوا به وادهنوا به الأدم "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27278 ۔۔۔ ” مسند ام سلمہ “ میرا دامن لمبا تھا میں گندگی والی جگہ سے گزرتی تھیں اور پھر پاک جگہ سے بھی گزرتی تھی پھر میں حضرت ام سلمہ (رض) کی خدمت میں داخل ہائی ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا ام سلمہ (رض) نے کہا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے بعد والی جگہ اسے پاک کردیتی ہے (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27278- "مسند أم سلمة" "كنت أطيل ذيلي فأمر بالمكان القذر والمكان الطيب فدخلت على أم سلمة، فسألتها فقالت أم سلمة: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يطهره ما بعده". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27279 ۔۔۔ حسن اپنی والدہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ (رض) کو بچی کا پیشاب دھوتے دیکھا جب کہ آپ (رض) بچے کا پیشاب نہیں دھوتی تھین حتی کہ بچہ کھانا کھانے لگتا اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا لیتی تھیں (رواہ سعید بن المنصور فی سننہ)
27279- عن الحسن عن أمه قالت: "رأيت أم سلمة تغسل بول الجارية ما كانت ولا تغسل بول الغلام حتى يطعم تصب عليه الماء صبا". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27280 ۔۔۔ ام فضل کہتی ہیں ایک مرتبہ حسین (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گود میں پیشاب کردیا میں نے عرض کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کپڑے مجھے دیں اور آپ دوسرے کپڑے پہن لیں تاکہ میں انھیں دھولو ۔ آپ نے فرمایا لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں اور لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27280- عن أم الفضل قالت: "بال الحسين بن علي في جحر النبي صلى الله عليه وسلم فقلت له: يا رسول الله أعطني ثوبك والبس ثوبا غيره حتى أغسله فقال: "إنما ينضح من بول الذكر، ويغسل من بول الأنثى". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27281 ۔۔۔ موسیٰ بن عبداللہ بن یزید ایک عورت جو کہ بنی عبدالاشہل سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میرے اور مسجد کے درمیان راستے میں نجاست ہے آپ نے فرمایا گندے راستے کے بعد صاف ستھرا راستہ بھ آتا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا ؟ یہ اس کے بدلہ میں ہوگیا (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ)
27281- عن موسى بن عبد الله بن يزيد عن امرأة من بني عبد الأشهل "أنها سألت النبي صلى الله عليه وسلم أن بيني وبين المسجد طريقا قذرا قال: "فبعدها طريق أنظف منها"؟ قالت: نعم قال: "هذه بهذه". "عب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27282 ۔۔۔ ابو مجلز آل علی کے ایک نوجوان سے روایت نقل کرتے ہیں وہ نوجوان یا تو ابن حسن بن علی ہے یا ابن حسین بن علی ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے گھر کی ایک عورت نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گدی کے بل لیٹے ہوئے تھے ایک بچہ آپ کے سینے پر کھیل رہا تھا۔ بچے نے پیشاب کردیا یہ عورت کھڑی ہوئی تاکہ بچے کو اٹھالے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے چھوڑا دو اور میرے پاس پانی کا لوٹا لاؤ میں نے پانی سے بھرا لوٹا لایا آپ نے پیشاب پر پانی گرا دیا حتی کہ پانی پیشاب کے متبادل ہوگیا آپ نے فرمایا : اسی طرح لڑکے کے پیشاب کے ساتھ کیا جاتا ہے اور لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے (رواہ سعید بن المنصور)
27282- عن أبي مجلز عن فتى من آل علي إما ابن الحسن بن علي وإما ابن الحسين بن علي قال: حدثتنا امرأة من أهلنا قالت: "بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مستلقيا على ظهره يلاعب صبيا على صدره إذ بال فقامت لتأخذه فقال: "دعيه ائتني بكوز من ماء، فأتيته بكوز من ماء، فنضح الماء على البول حتى تقايض الماء على البول وقال: هكذا يصنع بالبول من الذكر ويغسل من الأنثى". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27283:۔۔۔ ” مسند ام قیس بنت محصن “ ام قیس کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حیض کے خون کے متعلق دریافت کیا جو کپڑوں پر لگ جاتا ہے آپ نے فرمایا : اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ دھو لو اور ہڈی وغیرہ سے اسے رگڑ لو (رواہ عبدالرزاق)
27283- "مسند أم قيس بنت محصن" عن أم قيس "سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن دم الحيضة يصيب الثوب فقال: "اغسليه بماء وسدر وحكيه بضلع". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27284 ۔۔۔ ” مسند ام قیس بنت محصن اسدی “ ام قیس کی روایت ہے کہ میں اپنے ایک بیٹے کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی یہ بچہ ابھی کھانا نہیں کھا سکتا تھا بچے نے آپ پر پیشاب کردیا آپ نے پانی منگوایا اور پیشاب پر چھینٹے مار دیئے۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27284- "مسند أم قيس ابنة محصن الأسدية" عن أم قيس قالت: "دخلت بابن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يأكل الطعام فبال عليه، فدعا بماء فرشه". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27285 ۔۔۔ ” ایضاء “ ام قیس کہتی ہیں : میں اپنے ایک بچے کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے بچے پر علق لٹکا رکھی تھی تاکہ بچے کی گندگی مخفی رہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم عورتیں اس علق کے ساتھ اپنی اولاد کے گلے میں انگلیاں کیوں چڑھاتی ہو تمہیں یہ عود ہندی یعنی کست (کٹھ) سے کام لینا چاہیے چونکہ اس میں سات شفائیں ہیں ان میں سے ایک ذات الجنب (نمونیہ) سے شفاء کا ملنا بھی ہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچہ لیا اور اپنی گود میں بٹھایا بچے نے آپ پر پیشاب کردیا آپ نے پانی منگوایا اور پیشاب پر بہا دیا دھویا نہیں بچہ کھانا کھانے کے عمر کو ابھی نہیں پہنچا تھا زہری کہتے ہیں : یہی طریقہ چل پڑا ہے کہ بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں اور بچی کا پیشاب دھو لیا جائے ایک روایت میں ہے کہ یہی طریقہ چل پڑا کہ جو بچے کھانا کھاتے ہوں ان کے پیشاب پر پانی بہا دیا جائے اور جو کھانے کھاتے ہو ان کا پیشاب دھویا جائے (رواہ عبدالرزاق)
27285- "أيضا" "جئت بابن لي قد أعلقت عليه مخافة أن يكون به العذرة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "علام تدغرن أولادكن بهذه العلق، عليكن بهذا العود الهندي يعني الكست فإن فيه سبعة أشفية منها ذات الجنب"، ثم أخذ النبي صلى الله عليه وسلم الصبي فوضعه في حجره فبال عليه، فدعا بماء فنضحه ولم يغسله، ولم يكن الصبي بلغ أن يأكل الطعام، قال الزهري: فمضت السنة أن يرش بول الصبي ويغسل بول الجارية، وفي لفظ: مضت السنة بذلك، وفي لفظ: فمضت السنة بذلك من النضح على بول من لم يأكل من الغلمان ويغسل بول من أكل منهم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27286 ۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن (رض) یا حضرت حسین (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیٹ پر کھیل رہے تھے اتنے میں پیشاب کرو یا صحابہ کرام (رض) اٹھے تاکہ بچے کو اٹھالیں آپ نے فرمایا : چھوڑ دو اور میرے بیٹے کا پیشاب منقطع نہ کرو بچے کو چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کردیا پھر پانی منگوایا اور پیشاب پر بہا دیا۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27286- عن الحسن قال: "بينا الحسن أو الحسين يلعب على بطن النبي صلى الله عليه وسلم إذ بال، فذهبوا ليأخذوه فقال: "مهلا لا تزرموا ابني" فتركه حتى قضى بوله فدعا بماء فصبه عليه". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27287 ۔۔۔ عبدالرحمن بن حسنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں ڈھال کی مانند کوئی چیز تھی آپ نے اسے نیچے رکھا پھر اس کی آڑ میں پیشاب کیا بعض لوگوں نے کہا ان کی طرف دیکھو یہ ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے اس کی بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن لی فرمایا : تیری ہلاکت تجھے معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوگیا تھا چنانچہ بنی اسرائیل کے بدن یا کپڑے پر جب پیشاب لگ جاتا تو اس جگہ کو قینچیوں سے کاٹ دیتے تھے اس شخص نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا لوگوں نے یہ عمل ترک کردیا جس کی پاداش میں منع کرنے والے کو قبر میں عذاب دیا جائے لگا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والبیھقی فی کتاب عذان القبر)
27287- عن عبد الرحمن بن حسنة قال "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يده كهيئة الدرقة فوضعها ثم جلس فبال إليها فقال بعضهم: انظروا إليه يبول كما تبول المرأة فسمعه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ويحك ما علمت ما أصاب صاحب بني إسرائيل كانوا إذا أصابهم البول قرضوه بالمقاريض، فنهاهم فتركوه فعذب في قبره". "ش، ق في كتاب عذاب القبر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27288 ۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس جگہ کو کھودو اور مٹی باہر پھینک دو اور پھر اس پر پانی بہاؤ آسانی پیدا کیا کرو مشکل کی طرف مت جاؤ۔ (رواہ سعید بن المنصور )
27288- عن طاوس قال: "بال أعرابي في المسجد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "احفروا مكانه فاطرحوه وأهريقوا عليه دلوا من ماء غامر ويسروا ولا تعسروا". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27289 ۔۔۔ عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی اپنے والد اور دادا کے واسطہ سے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو قبروں کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا : انھیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی کبیرہ گناہ میں عذاب نہیں دیا جا رہا۔ سو ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلخور تھا۔ (رواہ الحاکم)
27289- عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي عن أبيه عن جده عن علي ابن أبي طالب قال: "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبرين يعذبان فقال: "إنهما يعذبان وما يعذبان في كبير، أما أحدهما فكان لا يتنزه عن بوله، وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة". "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27290 ۔۔۔ ” مسند علی “ حسن بن عمارہ منہال عمرو بن صعصعہ بن صوحان عبدی کی سند سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خنزیر سے کسی قسم کا بھی فائدہ اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابو عروبۃ الحرانی فی مسند القاضی ابی یوسف)
27290- "مسند علي" حدثنا الحسن بن عمارة عن المنهال عن عمرو ابن صعصعة بن صوحان العبدي عن علي بن أبي طالب قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينتفع من الخنزير بشيء". "أبو عروبة الحراني في مسند القاضي أبي يوسف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27291 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ پیتے بچے کے متعلق فرمایا : لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دو اور لڑکی کا پیشاب دھو لو (رواہ البخاری وابو داؤد والترمذی وقال حسن وابن ماجہ وابن خزیمۃ والطحاوی والدار قطنی والحاکم والبیھقی)
27291- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم "قال في بول الرضيع: "ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية". "خ، د، ت وقال حسن، هـ وابن خزيمة والطحاوي قط، ك، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27292 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا لڑکی کا پیشاب دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی بہایا جائے جب تک لڑکا کھانا نہ کھائے۔ (رواہ ابو داؤد والبیھقی)
27292- عن علي قال: "يغسل بول الجارية وينضح بول الغلام ما لم يطعم". "د، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27293 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس کے طرف لپکے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے چھوڑ دو اس کا پیشاب منقطع نہ کرو پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور پیشاب پر بہا دیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27293- عن أنس "أن أعرابيا بال في المسجد فقام إليه بعض القوم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "دعوه لا تزرموه" فدعا بذنوب من ماء فصبه على بوله". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازالہ نجاست اور بعض اقسام نجاست :
27294 ۔۔۔ ” ایضا “ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک اعرابی داخل ہوا اور مسجد کے ایک کونے میں اس نے پیشاب کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینا سے دیکھ کر سیخ پا ہوگئے اور چاہا کہ اسے یہاں سے اٹھا دیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعینکو منع فرمایا جب اعرابی پیشاب سے فارغ ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو پانی کا ایک ڈول پیشاب پر بہا دیا گیا پھر (اعرابی سے) فرمایا۔ یہ جگہ پیشاب کے لیے نہیں ہے یہ جگہ تو نماز کے لیے ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
27294- "أيضا" "بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد إذ دخل أعرابي فبال في ناحية المسجد فصاح به أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وأرادوا أن يقيموه، فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم، حتى إذا فرغ أمر النبي صلى الله عليه وسلم فأهريق على بوله سجل من ماء ثم قال: "إن هذا مكان لا يبال فيه إنما هو للصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مائع چیزوں کی نجاست :
27295 ۔۔۔ حضرت میمونہ ام المومنین (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چوہے کے متعلق دریافت کیا گیا جو گھی میں پڑگیا ہو آپ نے فرمایا : گھی اگر جامد (ٹھوس) ہو تو چوہے اور اس کے اردگر کا گھی پھینک دو (باقی کھالو) اگر گھی مائع ہو تو اس کے قریب بھی مت جاؤ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27295- عن ميمونة أم المؤمنين "سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الفأرة تقع في السمن قال: "إن كان جامدا فألقوها وما حولها، وإن كان مائعا فلا تقربوه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مائع چیزوں کی نجاست :
27296 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جب چوہا گھی میں پڑجائے جبکہ گھی جامد ہو تو چوہا اور اس کے آس پاس کا گھی نکال پھینکو اور بایق گھی کھالو اور اگر گھی میں چوہا پڑجائے اگر گھی مائع حالت میں ہو تو چوہا نکال پھینکو اور گھی سے نفع اٹھالو البتہ کھاؤ نہیں ۔ (رواہ ابن جریر)
27296- عن علي قال: "إذا وقعت الفأرة في السمن وهو جامد فماتت فخذها وما حولها من السمن فألقه وكل السمن، وإذا وقعت في السمن وهو ذائب فخذوها وألقوها وانتفعوا بالسمن ولا تأكلوه". "ابن جرير".
তাহকীক: