কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৭১৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27158 ۔۔۔ طلق بن حبیب روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو ناک میں خارش کرتے دیکھا یا ناک چھوتے دیکھا آپ نے فرمایا : کھڑا ہوجا اپنے ہاتھ دھو یا فرمایا طہارت حاصل کرو ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27158- عن طلق بن حبيب قال: "رأى عمر بن الخطاب رجلا حك أنفه أو مسه فقال: قم فاغسل يدك أو تطهر". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27159 ۔۔۔ سعید بن المسیب (رح) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مسجد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر بیٹھ کر گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا پھر فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھا ہوں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کھانا کھایا ہے اور آپ کی نماز پڑھی ہے۔ (رواہ ابوبکر الدیباجی فی فوائدہ)
27159- عن سعيد بن المسيب عن عمر "أنه قعد على باب مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكل لحما، ثم صلى ولم يتوضأ وقال: قعدت مقعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكلت طعام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصليت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم". "أبو بكر الديباجي في فوائده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27160 ۔۔۔ ” مسند علی “ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثرید تناول فرماتے دودھ نوش کرتے نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ (رواہ ابویعلی وابن جریر و سعید بن المنصور)
27160- "مسند علي" عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل الثريد ويشرب اللبن ويصلي ولا يتوضأ". "ع وابن جرير، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27161 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھایا ہے اور ابوبکر ، عمر عثمان (رض) اجمعین کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا ان سب نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور ابن ابی شیبۃ)
27161- عن جابر بن عبد الله قال: "أكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومع أبي بكر وعمر وعثمان خبزا ولحما فصلوا ولم يتوضؤا". "ص، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27162 ۔۔۔ ” ایضا “ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ روٹی اور گوشت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب کیا گیا آپ نے تناول فرمایا پھر وضو کے لیے پانی مانگا وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی پھر بقیہ کھانا تناول فرمایا پھر نماز نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27162- "أيضا" "قرب لرسول الله صلى الله عليه وسلم خبز ولحم، ثم دعا بوضوء فتوضأ فصلى الظهر، ثم عاد بفضل طعام فأكل ثم قام إلى الصلاة ولم يتوضأ". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27163 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا تیار کیا پھر آپ کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جماعت کے ساتھ دعوت دی پھر ان حضرات کو مخصوص دعوت کا کھانا پیش کیا گیا پھر ان کے لیے اور کھانا پیش کیا ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تناول فرمایا ، آپ کے ساتھ ہم نے بھی کھایا ، پھر آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا پھر ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر آپ کے پاس بقیہ کھانا لایا گیا ہم نے کھایا پھر ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
27163- عن جابر "أن امرأة من الأنصار صنعت شاة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فدعته في نفر من الصحابة وقربت لهم سورا ثم أتتهم بطعام فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكلنا معه فدعا بماء فتوضأ، ثم صلى بنا الظهر ثم أتى بفضول طعامهم فأكلنا، ثم قام فصلى بنا العصر ولم يتوضأ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27164 ۔۔۔ ” ایضا “ سعید بن المنصور فلیح بن سلیمان کہتے ہیں : ہم نے آگ سے پکائی ہوئی چیز کے متعلق زہری سے سوال کیا ، زہری نے ہمیں اس بارے میں بہت ساری حدیثیں سنائیں جس میں وضو کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ جن حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے روایت ذکر کیں وہ یہ ہیں حضرت ابوہریرہ ، (رض) عمر بن عبدالعزیز (رض) ، خارجہ بن زید (رض) ، سعید بن خالد (رض) ، اور عبدالملک بن ابی بکر (رض) ، میں نے زہری سے کہا : یہاں ایک قریشی ہے جس کا نام عبداللہ بن محمد ہے وہ جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت نقل کرتا ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد بن ربیع (رض) کے ہاں تشریف لے گئے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک جماعت بھی تھی ان میں ایک جابر بن عبداللہ (رض) بھی تھے (جابر (رض) کہتے ہیں) ہم نے روٹی اور گوشت کھایا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی جبکہ ہم میں سے کسی نے وضو کے لیے پانی کو چھوا تک نہیں ۔ پھر ایک مرتبہ میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے دور خلافت میں ابوبکر (رض) کے ساتھ ایک کام سے واپس لوٹے میں رات کے کھانے کی تلاش میں تھا چنانچہ کیا گیا : ہمارے ہاں اس بکری کے سوا کچھ نہیں اس نے بچہ جنم دیا ہے بکری کا دودھ دوہا گیا پھر اس کی کھیس تیار کی گئی ہم نے کھائی اور ابوبکر (رض) نے بھی کھیس کھائی پھر ابوبکر (رض) نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہے جب مال آئے گا میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا مال دوں گا چنانچہ جب ابوبکر (رض) کے پاس مال آیا آپ (رض) نے تین مرتبہ لپ بھر بھر کردیا ، پھر آپ (رض) نماز کے لیے تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی جبکہ آپ (رض) نے پانی چھوا تک نہیں اور میں نے بھی پانی چھوا تک نہیں ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اپنے دور خلافت میں بسا اوقات ہمارے لیے بڑے پیالے میں کھانا رکھتے ہم روٹی اور گوشت کھاتے پھر آپ (رض) نماز کے لیے تشریف لے جاتے ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھتے جبکہ ہم میں سے کوئی شخص وضو کے لیے پانی کو مس تک نہیں کرتا تھا ، زہری کہنے لگے : اگر تم چاہو تو میں تمہیں اسی طرح اور حدیث سناؤں چنانچہ مجھے علی بن عبداللہ بن عباس (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی حدیث سنائی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوشت کا ایک ٹکڑا (عضو) تناول فرمایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ، اسی طرح مجھے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے اپنے والد کی حدیث سنائی ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک عضو (بکری کی دستی یا شانہ) تناول فرماتے دیکھا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ہم نے کہا : اس کے بعد کیا ہوا ؟ کہا : کچھ ہوا اور اس کے بعد بھی کچھ ہوا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27164- "أيضا" ص حدثنا فليح بن سليمان قال: سألنا الزهري عما مست النار فأخبرنا في ذلك بأحاديث أمر فيها بالوضوء عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز وعن خارجة بن زيد وعن سعيد بن خالد وعن عبد الملك ابن أبي بكر فقلت له: إن ههنا رجلا من قريش يقال له عبد الله بن محمد يحدث عن جابر بن عبد الله "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى أهل سعد بن الربيع في نفر من أصحابه منهم جابر بن عبد الله فأكلنا خبزا ولحما ثم صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلينا معه وما مس أحد منا وضوءا، وانصرفت مع أبي بكر في ولايته من المغرب، فابتغى عشاء فقيل: ليس ههنا إلا هذه الشاة وقد ولدت فحلبها، ثم طبخ لنا لباء فأكل وأكلنا معه ثم قال: كيف قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جاء مال أعطيتك هكذا وهكذا وهكذا؛ فلما جاءه أعطاني ثلاث حفنات، ثم خرج إلى المسجد فصلى بالناس وما مس من ماء وما مسسته وكان عمر بن الخطاب ربما جفن لنا في ولايته فأكلنا الخبز واللحم فيخرج فيصلي ونصلي معه وما يمس أحد منا وضوءا" وقال الزهري: وأنا أحدثكم أيضا إن كنتم تريدونه، حدثني علي ابن عبد الله بن عباس أن ابن عباس أخبره "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل عضوا فصلى ولم يتوضأ وحدثني جعفر بن عمرو بن أمية الضمري عن أبيه أنه رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل عضوا فصلى ولم يتوضأ" فقلنا وما بعد هذا فقال إنه يكون أمر فيكون بعده الأمر."ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27165 ۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں انصار کی ایک عورت کے پاس سے ایک قاصد آیا اور کہنے لگا : فلاں عورت آپ کو بلا رہی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہو لیے۔ حتی کہ جب ہم مطلوبہ مقام پر پہنچے تو کھجوروں کے باغ میں ہمارے لیے دسترخوان لگا دیا گیا اور اس عورت نے بھونی ہوئی بکری لائی یہ وقت ظہر سے قدرے پہلے کا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوشت تناول فرمایا ہم نے بھی گوشت کھایا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی اس عورت نے پھر پیغام بھیجا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! بکری کا باقی بچا ہوا گوشت نہ بھیجوں ؟ فرمایا : جی ہاں ضرور بھیجو گوشت لایا گیا آپ نے تناول فرمایا : ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا پھر آپ نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27165- عن جابر قال: "بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء رسول من عند امرأة من الأنصار فقال إن فلانة تدعوك، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقمنا معه حتى انتهينا فبسطت لنا في صورة وهو النخل الملتف فأتت بشاة مشوية وذلك قبيل الظهر، فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكلنا معه، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوضأ وصلى الظهر، ثم إنها بعثت فقالت: يا رسول ألا أبعث لك ببقية أو بفضلة بقيت من الشاة؟ قال: بلى فأتي به فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأكلنا معه، ثم قام فصلى ولم يتوضأ". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27166 ۔۔۔ ” مسند حمزہ بن عمروالاسلمی “۔ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پنیر کے ٹکڑے تناول فرمائے اور پھر ان کی وجہ سے وضو کیا ۔ (رواہ الطبرانی)
27166- "من مسند حمزة بن عمرو الأسلمي" "أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم أثوار أقط فتوضأ منه". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27167 ۔۔۔ ابو طلحہ ، حضرت مغیرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پنیر کے ٹکڑے تناول فرمائے اور پھر وضو کیا ۔ (رواہ الطبرانی)
27167- عن أبي طلحة عن المغيرة "أن النبي صلى الله عليه وسلم أكل أثوار أقط فتوضأ منه". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27168 ۔۔۔ ابو طلحہ ، مغیرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانا تناول فرمایا : پھر نماز کھڑی کردی گئی آپ قبل ازیں وضو کرچکے تھے میں آپ کے پاس وضو کے لیے پانی لایا آپ نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا پیچھو ہٹو بخدا مجھے ایسا کرنے پر سخت پریشانی ہوئی پھر آپ نے نماز پڑھی اور میں نے اس جھڑک کی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے شکایت کی سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : یا رسول اللہ ! مغیرہ پر آپ کی جھڑک بہت گراں گزری ہے حتی کہ شاید آپ کے دل میں اس کے متعلق کچھ بات ہو ؟ آپ نے فرمایا : میرے دل میں اس کے متعلق بھلائی ہی بھلائی ہے لیکن وہ میرے پاس پانی لایا تھا تاکہ میں وضو کروں ، حالانکہ میں نے تو صرف کھانا کھایا ہے، اگر میں وضو کرلیتا میرے بعد لوگ بھی ایسا کرتے ۔ (رواہ ایضا، ابن ابی شیبۃ)
27168- عن أبي طلحة عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم "أكل طعاما، ثم أقيمت الصلاة وقد كان توضأ قبل ذلك فأتيته بماء ليتوضأ فانتهرني وقال: "وراءك" فساءني والله ذلك، ثم صلى فشكوت ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: يا رسول الله إن المغيرة قد شق عليه انتهارك إياه حتى أن يكون في نفسك عليه شيء فقال: "ليس في نفسي عليه إلا خيرا ولكنه أتاني بماء لأتوضأ وإنما أكلت طعاما ولو فعلت ذلك فعل الناس ذلك بعدي". "ض، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27169 ۔۔۔ ” مسند سوید بن نعمان انصاری “۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیبر تشریف لے گئے حتی کہ جب مقام صہباء پہنچے نماز عصرپڑھی پھر کھانا لائے جانے کا کہا گیا اور آپ کے پاس صرف ستو لائے گئے سب نے ستو کھائے اور پانی لیا پھر آپ نے پانی مانگاکلی کی ہم نے بھی کلی کی پھر آپ نے ہمیں نماز مغرب پڑھائی اور پانی کو چھوا تک نہیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27169- "مسند سويد بن النعمان الأنصاري" "أنهم خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى خيبر حتى إذا كانوا بالصهباء صلى العصر ثم دعى بالطعمة ولم يؤت إلا بسويق، فأكلوا وشربوا، ثم دعا بماء فمضمض ومضمضنا معه ثم قام فصلى بنا المغرب ولم يمس ماء". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27170 ۔۔۔ ابو طلحہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پنیر کے ٹکڑے تناول فرمائے اور پھر ان کے بعد وضو کیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27170- عن أبي طلحة قال: "أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثورا من أقط فتوضأ منه". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27171 ۔۔۔ ابو قلابہ بنو ہذیل کے ایک شخص سے روایت نقل کرتے ہیں جسے ابو غرہ کے نام سے پکارا جاتا ہے اسے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ کہتا ہے : وہ چیزیں جنہیں آگ متغیر کردیتی ہے ان کو کھانے کی وجہ سے وضو کیا جاتا تھا ، دودھ پینے پر کلی کی جاتی تھی اور کھجوریں کھانے کے بعد کلی نہیں کی جاتی تھی ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27171- عن أبي قلابة "عن رجل من هذيل يقال له أبو غرة وكانت له صحبة قال: كان يتوضأ مما غيرت النار ويتمضمض من اللبن ولا يتمضمض من التمر". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27172 ۔۔۔ ابن عساکر اپنی سند سے عبداللہ بن جراد (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بجر حلواء (میٹھی چیز) کے ہر چیز کو کھانے کے بعد وضو کیا جائے گا اور جب آپ کوئی میٹھی چیز تناول فرماتے پانی منگوا کر کلی کرلیتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
27172- عن ابن عساكر بسنده إلى: عبد الله بن جراد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل شيء يتوضأ منه إلا الحلواء وكان إذا أكل دعا بماء فتمضمض". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27173 ۔۔۔ ابو مریۃ کی روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے لوگوں کو سنت ودین کی تعلیم دینا شروع کی اور فرمایا : تم میں سے کوئی شخص بھی پیٹ میں بول وبرازنہ روکے رکھے (پھر وہ اسی حالت میں نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے) تم میں سے اگر کوئی شخص ایک یا دو مرتبہ شرمگاہ میں خارش کرے اور خارش بھی ہلکی سے ہو، اتنے میں لوگوں کی آنکھیں چندھیا کر جھک گئیں ، ابو موسیٰ نے پوچھا : تم لوگوں نے مجھ سے اپنی نظریں کیوں جھکا لیں ؟ لوگوں نے کہا : چاند کی چمک براہ راست آنکھوں میں لگتی ہے تب ہم نے آنکھیں جھکا لیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم سرعام اللہ تعالیٰ کو جلوہ افروز دیکھو گے ۔ (رواہ ابن عساکر)
27173- عن أبي مرية قال: "جعل أبو موسى الأشعري يعلم الناس سنتهم ودينهم وقال: ولا يدافعن أحد منكم في بطنه غائطا ولا بولا وإن حك أحدكم فرجه فمرسة أو مرستين وليكن ذلك خفيفا فشخصت أبصارهم فقال: ما صرف أبصاركم عني؟ قالوا: الهلال قال: فكيف بكم إذا رأيتم الله جهرة"؟ "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27174 ۔۔۔ جعفر بن برقان کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) آگ چھوئی ہوئی چیزوں کی وجہ سے وضو کرنے کے قائل تھے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو پیغام بھیجا کہ مجھے بتاؤ کہ اگر میں اپنی داڑھی میں پاک تیل لگاؤں کیا میں باوضو رہ سکتا ہوں ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواب دیا : اے میرے بھتیجے ! اگر میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث سناؤ تم اس کے مقابلہ میں تاویلیں نہ بیان کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27174- عن جعفر بن برقان قال "أكان أبو هريرة يتوضأ مما مسته النار فبلغ ذلك ابن عباس فأرسل إليه أرأيت إن أخذت دهنة طيبة فدهنت بها لحيتي أكنت متوضئا؟ فقال أبو هريرة: يا ابن أخي إذا حدثت بالحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تضرب له بالأمثال جدلا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27175 ۔۔۔ ” مسند بن عباس “ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں ہم تیل استعمال کرتے ہیں جو آگ پر پکایا جاتا ہے ہم آگ پر ابلے ہوئے گرم پانی سے وضو بھی کرلیتے ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27175- "مسند ابن عباس" "إنا ندهب؟؟ بالدهن وقد طبخ على النار ونتوضأ بالحميم وقد أغلى على النار". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27176 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں ابن مسعود (رض) کہتے ہیں : ہم پاؤں تلے نجاست روندے جانے کی وجہ سے وضو نہیں کرتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ والترمذی فی کتاب الطھارۃ باب ما جاء فی الوضوء من الموطاء) فائدہ : ۔۔۔ فقہاء کا اجماع ہے کہا گر خشک نجاست روندی جائے تو اس کا پاؤں کے ساتھ لگنے کا امکان کم ہی ہوتا ہے لہٰذا دھونے کی ضرورت نہیں البتہ اگر تر نجاست پاؤں کے ساتھ لگ جائے تو پاؤں دھونا واجب ہے گویا صورت مذکورہ نواقض وضو میں سے نہیں ہے۔ (از مترجم)
27176- عن ابن عباس عن ابن مسعود قال: "كنا لا نتوضأ من موطأ "ص، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27177 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو جاتے تھے درآنحالیکہ آپ سجدہ میں ہوتے ہمیں آپ کے سونے کا علم آپ کے (ہلکے ہلکے سانس نما) خزاٹوں سے ہوتا تھا پھر آپ اٹھتے اور نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27177- عن ابن مسعود "كان النبي صلى الله عليه وسلم ينام وهو ساجد فما نعرف نومه إلا بنفخة ثم يقوم فيمضي في صلاته". "ش".
tahqiq

তাহকীক: