কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৭১৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27138 ۔۔۔ ” مسند ابن مسعود “ ہم پاؤں تلے روندی جانے والی اذیتوں نجاسات سے وضو نہیں کرتے تھے ہم سر نہیں کھولتے تھے اور نہ ہی بالوں کی کنڈلی بناتے تھے ابن جریج کہتے ہیں : ابن مسعود (رض) کے قول ” ہم ستر نہیں کھولتے تھے “ سے مراد یہ ہے کہ دوران نماز جب ہاتھ پر کپڑا آجاتا ہم ہاتھ سے کپڑا نہیں ہٹاتے تھے ۔ (راوہ عبدالرزاق)
27138- "مسند ابن مسعود" "كنا لا نتوضأ من موطئ ولا نكشف سترا ولا نكف شعرا، قال ابن جريج: قوله لا نكشف سترا يده إذا كان عليها الثوب في الصلاة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27139 ۔۔۔ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے ک ہم ستر کھولیں بالوں کی کنڈلی بنائیں یا وضو پر وضو کریں یحییٰ بن ابی کثیر نے ان فرامین کی یوں تفسیر کی ہے ” ہم ستر نہیں کھولیں “ یعنی جب سجدے میں ہاتھ پر کپڑا آجائے اسے نہ ہٹایا جائے ” وضو پر وضو نہ کیا جائے “ یعنی جب باوضو ہو کر چلتے ہوئے پاؤں تلے نجاست روندی جائے اس کے بعد وضو نہ کیا جائے (رواہ عبدالرزاق)
27139- "نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نكشف سترا ونكف شعرا أو نحدث وضوءا، قال يحيى بن أبي كثير: أن نكشف سترا يقول لا نكشف الثوب عن يده إذا سجد أو يحدث وضوءا قال: إذا وطئ نتنا وكان متوضئا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27140 ۔۔۔ عبیداللہ بن عکراش کی روایت ہے کہ ابو عکراش بن ذویب کہتے ہیں مجھے بنو مرہ بن عبیدہ نے اپنے اموال کے صدقات دے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ مہاجرین و انصار کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے میں آپ کے پاس اونٹ لے کر آیا جو ایک قطار میں چل رہے تھے آپ نے فرمایا : یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں عکراش بن ذوئب ہوں فرمایا : اپنا شجرہ نسب بیان کرو۔ میں نے عرض کیا : عکراش بن ذوئب بن صرقوص بن جعدہ بن عمرو بن نزال بن مرہ بن عبیدہ اور یہ بنو مرہ بن عبید کے صدقات ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے پھر فرمایا : یہ میری قوم کے صدقات ہیں : یہ میری قوم کے صدقات ہیں پھر آپ نے داغنی سے داغ لگانے کا حکم دیا اور یہ کہ انھیں دوسرے صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ ضم کردیا جائے ، پھر مجھے ہاتھ سے پکڑ کر ام سلمہ (رض) کے گھر لے گئے آپ نے فرمایا : کچھ کھانا ہے ؟ چنانچہ ہمیں ایک بڑے پیالے میں ثرید اور اونٹ کی چربی دی گئی ہم کھانے میں مصروف ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے سامنے سے تناول فرمانے لگے ۔ میں نے برتن کے کناروں کناروں سے کھانا شروع کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ لیا پھر فرمایا : اے عکراش ! ایک ہی جگہ سے کھاؤ چونکہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں انواع و اقسام کی تازہ کھجوریں یا چھوہارے تھے (عبیداللہ بن عکراش کو کھجوریں یا چھوہارے ہونے میں شک ہوا ہے) میں نے کھجوریں اپنے سامنے سے کھانی شروع کردیں جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پورے برتن میں گھوم رہا تھا پھر آپ نے فرمایا : اے عکراش ! جہاں سے چاہو کھجوریں کھاؤ چونکہ کھجوریں مختلف انواع و اقسام کی ہیں پھر پانی لایا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ دھوئے پھر ہاتھوں کے ساتھ لگی ہوئی تری ہتھیلیوں ، بازؤں چہرے اور سر پر مل لی پھر فرمایا : اے عکراش ! آگ سے متغیر ہوجانے والی چیزوں کی وجہ سے اسی طرح کا وضو کیا جاتا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
27140- عن عبيد الله بن عكراش قال: حدثني أبي عكراش بن ذويب قال: "بعثني بنو مرة بن عبيد بصدقات أموالهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقدمت عليه المدينة فوجدته جالسا بين المهاجرين والأنصار، فأتيته بإبل كأنها عروق الأرطى فقال: "من الرجل"؟ فقلت عكراش بن ذويب فقال: "ارفع في النسب فقلت ابن حرقوص بن جعدة بن عمرو بن النزال بن مرة بن عبيد وهذه صدقات بني مرة بن عبيد فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: "هذه إبل قومي هذه صدقات قومي" ثم أمر بها أن توسم بميسم إبل الصدقة وتضم إليها ثم أخذ بيدي فانطلق بي إلى منزل أم سلمة فقال: "هل من طعام" فأتينا بجفنة كبيرة الثريد والودك فأقبلنا نأكل منها فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم مما بين يديه، وجعلت أخبط في نواحيها فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده اليسرى على يدي اليمنى ثم قال: "يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد"، ثم أتينا بطبق فيه ألوان من رطب أو تمر شك عبيد الله بن عكراش رطبا كان أو تمرا، فجعلت آكل مما بين يدي، فجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال: "يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون" ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه، ثم مسح ببلل كفيه ووجهه وذراعيه ورأسه ثم قال: "يا عكراش هكذا الوضوء مما غيرت النار". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27141 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہنڈیا کے پاس آئے اس سے ایک ہڈی نکالی وہ کھائی پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
27141- عن عكرمة "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى على قدر فانتشل منها عظما فأكله ثم صلى ولم يتوضأ". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27142 ۔۔۔ ” مسند ابی “ حضرت انس بن مالک (رض) ، روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ میں ، حضرت ابی (رض) اور حضرت ابو طلحہ (رض) بیٹھے روٹی اور گوشت کھا رہے تھے پھر میں نے پانی مانگا ان دونوں نے مجھ سے کہا : تم وضو کیوں کرتے ہو ؟ میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے ؟ ان دونوں نے کہا : کیا تم پاکیزہ چیزوں کی وجہ سے وضو کر رہے ہو حالانکہ وہ ہستی جو تم سے بدرجہا افضل ہے اس نے وضو نہیں کیا ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
27142- "مسند أبي" عن أنس قال "كنت أنا وأبي وأبو طلحة جلوسا فأكلنا خبزا ولحما، ثم دعوت بوضوء فقالا لي: لم تتوضأ؟ فقلت لهذا الطعام الذي أكلنا فقالا: أتتوضأ من الطيبات لم يتوضأ منه من هو خير منك". "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27143 ۔۔۔ ” مسند اکیمۃ بن عبادہ “ اکیمہ (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بکری کا شانہ تناول فرماتے دیکھا پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ ابن السکن قال فی الاصابۃ واسنادہ مجھول)
27143- "مسند أكيمة بن عبادة" "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل كتفا وصلى ولم يتوضأ". "ابن السكن، قال في الإصابة واسناده مجهول".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27144 ۔۔۔ ” مسند انس “ ۔ ابو قلابہ کہتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس آیا لیکن انھیں گھر نہ پایا ، میں اس کی انتظار میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد آپ (رض) آئے دراں حالیکہ آپ غصہ میں تھے کہنے لگے : میں حجاج کے پاس تھا ان لوگوں نے کھانا کھایا پھر نماز پڑھنے لگے اور وضو نہیں کیا میں نے کہا : اے ابو حمزہ ! کیا آپ لوگ ایسا نہیں کرتے تھے ؟ جواب دیا نہیں ہم نہیں کرتے تھے ۔ (رواہ سعد بن المنصور وابن ابی شیبۃ وھو صحیح)
27144- "مسند أنس" عن أبي قلابة قال: "أتيت أنس بن مالك فلم أجده فقعدت انتظره فجاء وهو مغضب فقال: كنت عند هذا يعني الحجاج فأكلوا ثم قاموا فصلوا ولم يتوضؤا، فقلت: أو ما كنتم تفعلون هذا يا أبا حمزة؟ قال: لا ما كنا نفعله". "ص، ش، وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27145 ۔۔۔ ” ایضاء “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے سر نماز عشاء کی انتظار میں اونگھ کی وجہ سے جھک جاتے تھے پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ (رواہ سعد بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27145- "أيضا" "كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يخفقون برؤوسهم ينتظرون العشاء ثم يقومون فيصلون ولا يتوضؤن". "ص، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27146 ۔۔۔ ” ایضاء “ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز کی انتطار میں سوئے دیکھا ہے حتی کہ میں ان میں سے بعض کے خراٹے سن لیتا تھا اور وہ بیٹھے ہوئے تھے پھر وضو نہیں کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27146- "أيضا" "لقد رأيت أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوقظون للصلاة وإني لأسمع لبعضهم غطيطا يعني وهو جالس فما يتوضؤن". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27147 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شانے سے گوشت کھاتے دیکھا ہے (یا ہڈی سے) پھر آپ نے ہاتھوں کا مسح کرلیا اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
27147- عن أنس قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم تعرق كتفا أو عظما ثم مسح يده ولم يتوضأ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27148 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھنے ہوئے گوشت کا ایک ٹکڑا دیا گیا آپ کے پاس ابوبکر صدیق (رض) بیٹھے ہوئے تھے پھر عمر بن خطاب (رض) داخل ہوئے ان سب حضرات نے گوشت مل کر کھایا پھر ایک کپڑے سے ہاتھ صاف کرلیے پھر نماز کی انتظار میں بیٹھے رہے ، تھوڑی دیر بعدموذن نے مغرب کی اذان دی پھر سب نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے سب نے نماز پڑھی جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) و عمر (رض) نے وضو نہیں کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
27148- عن أنس قال "أتي النبي صلى الله عليه وسلم بعضو من لحم شواء وعنده أبو بكر الصديق، ودخل عليهم عمر بن الخطاب فأكلوا جميعا ثم مسحوا بخرقة، ثم انتظروا حتى أتاهم المؤذن بالمغرب فقاموا جميعا فصلوا ولم يتوضأ النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27149 ۔۔۔ قیس بن سکن روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ، حضرت حذیفہ بن الیمان اور حضرت ابو ہریرہ (رض) عضو مخصوص کو چھونے پر وضو کرنے کے قائل نہیں تھے اور فرماتے تھے اسے چھونے میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27149- عن قيس بن السكن "أن عليا وابن مسعود وحذيفة بن اليمان وأبا هريرة لا يرون من مس الذكر وضوءا وقالوا: لا بأس به". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27150 ۔۔۔ ابن عمر وشبانی روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) مستورد عجلی کو توبہ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے جا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تیرے اوپر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں مستورد بولا : میں عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) سے تیرے اوپر مدد مانگتا ہوں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے مستورد کی گردن کی طرف ہاتھ بڑھایا کیا دیکھتے ہیں کہ اس کی گردن میں صلیب پڑی ہوئی ہے آپ (رض) نے صلیب توڑ دی جب آپ (رض) نماز میں داخل ہوئے ایک شخص کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا اور خود وضو کرنے چلے گئے پھر لوگوں کو خبر دی کہ کسی حدث کی وجہ سے میرا وضو نہیں ٹوٹا لیکن میں اس نجاست (صلیب) کی وجہ سے وضو کرنا اچھا سمجھتا ہوں ۔۔ (رواہ عبدالرزاق)
27150- عن ابن عمرو الشباني "أن عليا استتاب المستورد العجلي وهو يريد الصلاة قال: إني أستعين بالله عليك، فقال: إني أستعين بالمسيح عليك فأهوى علي بيده إلى عنقه فإذا هو بصليب فقطعه، فلما دخل في الصلاة قدم رجلا وذهب ثم أخبر الناس أنه لم يحدث ذلك لحدث أحدثه ولكن من هذه الأنجاس فأحب أن يحدث منها وضوءا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27151 ۔۔۔ عبدالکریم بن ابی امیہ روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) آگ سے پکائی جانے والی چیزوں کی وجہ سے وضو نہیں کرتے تھے ۔۔ (رواہ عبدالرزاق)
27151- عن عبد الكريم بن أبي أمية "أن عليا كان لا يتوضأ مما مست النار". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27152 ۔۔۔ حبان بن حارث کہتے ہیں : ہم سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس آئے آپ (رض) ابو موسیٰ (رض) کے لشکر میں تھے میں نے آپ (رض) کو کھانا کھاتے ہوئے پایا ، آپ نے فرمایا : قریب ہوجاؤ اور کھانا کھاؤ میں نے عرض کیا : میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں ، آپ (رض) نے فرمایا : میں بھی تو نماز پڑھوں گا چنانچہ جب آپ (رض) کھانے سے فارغ ہوئے اپنے موذن ابن تیاح سے فرمایا : اقامت کہو ۔ (رواہ الشافعی ومسرود والدروقی والبیہقی)
27152- عن حبان بن الحارث قال: "أتينا عليا وهو بعسكر أبي موسى فوجدته يطعم فقال: ادن فكل، فقلت: إني أريد الصلاة فقال: وأنا أريد الصلاة فأكل حتى إذا فرغ قال لمؤذنه ابن التياح: أقم "الشافعي ومسرود والدورقي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27153 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کہتے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بکری کا شانہ دانتوں سے نوچ نوچ کر تناول فرماتے دیکھا پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ ابو یعلی وابو نعیم فی المصرفۃ ویعلی فی فوائدہ والبزار) بزار کی روایت میں ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ اس روایت میں انقطاع اور ضعف ہے۔
27153- "مسند الصديق" عن أبي بكر قال: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم نهش من كتف ثم صلى ولم يتوضأ". "ع وأبو نعيم في المعرفة والخلعي في فوائده والبزار ولفظه: أكل خبزا ولحما ثم صلى ولم يتوضأ، وفيه انقطاع وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27154 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے اپنی ناک صاف کی یا بغل میں خارش کی وہ وضو کرے ۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27154- عن عمر قال: "من نقى أنفه أو حك إبطه فليتوضأ". "ص، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27155 ۔۔۔ ابوسبرہ روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اونٹ کا گوشت تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27155- عن أبي سبرة "أن عمر بن الخطاب أكل من لحوم الإبل ثم صلى ولم يتوضأ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27156 ۔۔۔ عطاء خراسانی روایت کی ہے کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) کو فرماتے سنا : سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے آگ پر پکایا ہوا کھانا کھایا پھر نماز کے لیے چلے گئے اور وضو نہیں کیا ، پھر فرمایا : جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اسی طرح میں نے وضو کیا جیسے آپ نے کھانا تناول فرمایا اسی طرح میں نے بھی کھایا پھر جس طرح آپ نے نماز پڑھی اسی طرح میں نے بھی نماز پڑھی ۔۔ (رواہ عبدالرزاق، واحمد بن حنبل والعدنی و سعید بن المنصور)
27156- عن عطاء الخراساني سمعت سعيد بن المسيب يقول: "إن عثمان بن عفان أكل طعاما قد مسته النار، ثم مضى إلى الصلاة ولم يتوضأ، ثم قال توضأت كما توضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأكلت كما أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وصليت كما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب، حم والعدني، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27157 ۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پیالے میں کھانا تناول فرمایا : پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
27157- عن جابر قال:" أكل عمر من جفنة ثم قام فصلى ولم يتوضأ". "عب".
tahqiq

তাহকীক: