কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৭০৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ وضو کو توڑنے والی چیزوں کے بیان میں :
27098 ۔۔۔ عابس بن انس جو کہ بنی سعد بن لیث میں سے ہیں کہتے ہیں : سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ، عمار بن یاسر اور مقداد بن اسود (رض) کے درمیان مذی کے مسئلہ پر مذاکرہ ہوا ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کثرت سے مذی آجاتی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے سوال کرو، مجھے سوال کرنے سے حیاء آتی ہے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی میرے نکاح میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ مذی ہے جب تم میں سے کسی شخص کو مذی آئے اسے چاہیے کہ بدن سے اسے دھو لے پھر اچھی طرح وضو کرے اور شرمگاہ پر چھینٹے مارے ۔ (رواہ العقیلی)
27098- عن عابس بن أنس أحد بني سعد بن ليث قال: "تذاكر علي بن أبي طالب وعمار بن ياسر والمقداد بن الأسود المذى فقال علي: إني رجل مذاء فاسألوا عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فإني استحيى أن أسأله عن ذلك لمكان ابنته مني فسأله أحد الرجلين فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ذاكم المذي إذا وجده أحد منكم فليغسل ذلك منه ثم ليتوضأ فيحسن وضوءه ثم لينضح فرجه". "عق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭০৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل :۔۔۔ وضو کو توڑنے والی چیزوں کے بیان میں :
27099 ۔۔۔ ” مسند ابی “ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ وہ حضرت ابی (رض) کے پاس آئے ان کے ساتھ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی تھے ، ابی (رض) ان دونوں کے پاس باہر آئے اور کہا : مجھے مذی آگئی تھی میں نے عضو مخصوص دھو کر وضو کرلیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کیا یہ کافی ہے ؟ ابی (رض) نے جواب دیا جی ھاں عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم نے اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سنا ہے۔ جواب دیا : جی ہاں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن ماجہ)
27099- "مسند أبي" عن ابن عباس أنه أتى أبيا ومعه عمر فخرج عليهما فقال: إني وجدت مذيا فغسلت ذكرى وتوضأت فقال عمر: أو يجزيء ذلك؟ قال: نعم قال: أسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: نعم."ش، هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27100 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر نیچے بچھی ٹاٹ سے ہاتھ صاف کیے پھر کھڑے ہوئے اور نماز شروع کردی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27100- عن ابن عباس "أكل النبي صلى الله عليه وسلم كتفا ثم مسح يده بمسح كان تحته ثم قام فصلى". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27101 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہڈی یا پسلی کے ساتھ لگا ہوا گوشت تناول فرمایا ، پھر نماز پڑھی جبکہ آپ نے وضو نہیں کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وعبدالرزاق، و سعید بن المنصور)
27101- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم "أكل من عظم أو تعرق من ضلع ثم صلى ولم يتوضأ". "عب، ش، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27102 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لائے آپ نماز کے لیے جانا چاہتے تھے ، آپ گوشت سے ابلی ہوئی ہنڈیا کے پاس سے گزرے ہنڈیا سے ہڈی یا شانہ لیا اور اس سے گوشت تناول کیا پھر نماز کے لیے چل پڑے حالانکہ آپ نے وضو نہیں کیا ۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27102- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم "خرج وهو يريد الصلاة فمر بقدر يفور فأخذ منها عرقا أو كتفا فأكله ثم مضى إلى الصلاة ولم يتوضأ". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27103 ۔۔۔ ” ایضاء “ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہڈی سے گوشت (نوچ کر) تناول فرما رہے تھے اتنے میں موذن آگیا آپ نے ہڈی وہیں رکھی اور نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور پانی کو چھوا تک نہیں (رواہ عبدالرزاق)
27103- "أيضا" بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم "يأكل عرقا أتاه المؤذن فوضعه وقام إلى الصلاة ولم يمس ماء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27104 ۔۔۔ ” ایضاء “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں تھے اتنے میں موذن آیا آپ نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے حتی کہ جب آپ دروازے پر پہنچے آپ کو ایک پلیٹ تھما دی گئی جس میں روٹی اور گوشت تھا آپ اپنے صحابہ کرام (رض) سمیت واپس لوٹ آئے کھانا آپ نے بھی کھایا اور صحابہ کرام (رض) نے بھی پھر نماز کے لیے واپس لوٹ آئے اور وضو نہیں کیا۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔ فائدہ :۔۔۔ مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ (مما مست النار) (آگ سے پکی ہوئی چیزوں) سے وضو نہیں ٹوٹتا جب کہ حدیث نمبر 26335 ۔ یعنی جن چیزوں کو آگ تبدیل کر دے انھیں کھانے کے بعد وٖضو کرو میں وضو کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا وضو والا حکم منسوخ ہوچکا ہے یا وضو سے مراد وضو لغوی ہے نہ کہ اصطلاحی۔
27104- "أيضا" "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه في بيته فجاءه المؤذن فقام إلى الصلاة حتى إذا كان بالباب لقي بصحفة فيها خبز ولحم فرجع بأصحابه فأكل وأكلوا ثم رجع إلى الصلاة ولم يتوضأ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27105 ۔۔۔ ” ایضاء “ ابن عباس (رض) کہتے ہیں میں نے اپنی خلہ میمونہ (رض) کے ہاں رات بسر کی رات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے رفع حاجت سے فارغ ہو کر چہرہ اور ہاتھ دھوئے پھر سو گئے پھر رات کو نماز کے لیے اٹھے مشکیزے کے پاس آئے مختصر مگر پورا وضو کیا پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے میں نے انگڑائی لی اس بات کو ناپسند سمجھتے ہوئے کہ میں انھیں دیکھ رہا ہوں پھر میں اٹھ گیا اور ایسا ہی کیا جیسا کہ آپ نے کیا تھا میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا مجھے قریب والے کان سے پکڑ کر گھمایا حتی کہ میں آپ کی دائیں طرف ہوگیا آپ برابر نماز میں رہے آپ کی نماز رتیرہ (13) رکعتوں تک مکمل ہوئی ان میں دو رکعتیں فجر کی بھی تھیں۔ پھر آپ پہلو کے بل سو گئے حتی کہ خراٹے لینے لگے ۔ حتی کہ بلال (رض) آئے اور نماز کے لیے کہا آپ کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا آپ کی دعا میں یہ الفاظ تھے یا اللہ نور کر دے میرے دل میں نور کر دے میری شنوائی میں نور کر دے میری سامنے نور کر دے میرے پیچھے اور مجھے نور عظیم عطا فرما۔ کریب کہتے ہیں میرے پاس چھ چیزیں اور ہیں جو صندوق میں پڑی ہیں اور وہ یہ ہیں ” نور کر دے میرے پٹھوں، دماغ، خون، بال، چمڑی اور ہڈیوں میں۔ (راوہ عبدالرزاق)
27105- "أيضا" "بت عند خالتي ميمونة فقام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فأتى الحاجة ثم جاء فغسل وجهه ويديه ثم نام ثم قام يصلي من الليل فأتى القربة ثم توضأ وضوء من لم يكثر وقد أبلغ ثم قام فصلى وتمطيت كراهية أن يراني أبقيه يعني أراقبه ثم قمت ففعلت كما فعل فقمت عن يساره فأخذ بما يلي أذني حتى أدارني فكنت عن يمينه وهو يصلي فتتامت صلاته إلى ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر، ثم اضطجع فنام حتى نفخ ثم جاء بلال فأذنه بالصلاة فقام فصلى ولم يتوضأ وكان في دعائه: "اللهم اجعل في قلبي نورا وفي سمعي نورا، وفي بصري نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، ومن فوقي نورا، ومن تحتي نورا، ومن بين يدي نورا ومن خلفي نورا وأعظم لي نورا"، قال كريب وست عندي في التابوت وعصبي ومخي ودمى وشعري وبشري وعظامي". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27106 ۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں میں اپنی خالہ میمونہ (رض) سے ملاقات کرنے گیا چنانچہ میری ملاقات میمونہ (رض) کے ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات سے ہوگئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے نماز ا کے بعد سو گئے حتی کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی پھر بلال (رض) آپ کو نماز کا بتلانے آئے آپ نماز کے لیے تشریف لے گئے آپ نے وضو نہیں کیا اور پانی چھوا تک نہیں۔ (راوہ ابن ابی شیبۃ)
27106- "أيضا" "زرت خالتي ميمونة فوافقت ليلة النبي صلى الله عليه وسلم فقام من الليل يصلي ثم نام فلقد سمعت صفيره ثم جاء بلال يؤذنه بالصلاة فخرج إلى الصلاة ولم يتوضأ ولم يمس ماء". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27107 ۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوشت تناول فرمایا پھر نماز پڑھی حالانکہ آپ نے وضو نہیں کیا۔ (راوہ ابن عساکر)
27107- عن ابن عباس قال: "أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم لحما ثم صلى ولم يتوضأ". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27108 ۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ہر سونے والے پر وضو واجب ہو جات ہے البتہ جو شخص کھڑے کھڑے یا بیٹھے بیٹھے ایک دو مرتبہ اونگھ لے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا (رواہ سعید بن المنصور)
27108- عن ابن عباس قال: "وجب الوضوء على كل نائم إلا من خفق برأسه خفقة أو خفقتين وهو قائم أو قاعد". "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27109 ۔۔۔ زہری انصار کے لیے شخص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اس شخص کے والد کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ نے بکری کا شانہ تناول فرمایا پھر نماز کے لیے تشریف لیے گئے اور آپ نے وضو نہیں کیا (رواہ عبدالرزاق)
27109- عن الزهري عن رجل من الأنصار عن أبيه قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل من كتف شاة ثم قام إلى الصلاة ولم يتوضأ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27110 ۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگ سے پکی ہوئی چیز تناول فرماتے دیکھا ہے پھر آپ نے نماز پڑھی حالانکہ آپ نے وضو نہیں کیا۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ)
27110- عن ابن عباس قال: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يأكل مما مست النار ثم يصلي ولا يتوضأ". "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27111 ۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ نوش فرمایا پھر پانی مانگا کلی کی اور فرمایا : دودھ میں چکنا ہٹ ہوتی ہیں۔ (رواہ سعید بن المنصور والبخاری ومسلم وابو دؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حریر)
27111- عن ابن عباس "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب لبنا ثم دعا بماء فتمضمض ثم قال: "إن له دسما". "ص" خ، م، د، ت، ن، هـ وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27112 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں میمونہ (رض) کے ہاں مہمان ہواوہ اس رات نماز نہیں پڑھ رہی تھیں ۔ میمونہ (رض) نے پہلے ایک چادر لائی پھر دوسری چادر لائی اور سرہانے کے پاس رکھ دی پھر چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں میرے لیے بھی اپنے پہلو میں ہلکا سا بستر لگا دیا تھا میں نے انہی کے سرہانے کا اپنا سرہانا بنایا اور لیٹ گیا اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز پڑھ کر تشریف لائے بستر تک پہنچے سرہانے سے ایک کپڑا لیا اس کی تہبند باندھی اور اپنے کپڑے اتا ر دیئے کپڑے لٹکا دیئے پھر میمونہ (رض) کے ساتھ لحاف میں گھس گئے رات کے آخری حصہ میں لٹکے ہوئے مشکیزہ کی طرف اٹھے اسے کھول کر اس سے وضو کیا میں نے ارادہ کیا کہ اٹھ کر آپ پر پانی بہاؤں پھر میں نے ناپسند سمجھا کہ آپ دیکھیں گے کہ میں جاگتا ہوں پھر اپنے بستر پر آئے تہبند کھول دی اور کپڑے پہن لیے پھر گھر میں نماز کے لیے مقررہ جگہ پر آئے اور نماز پڑھنے لگے میں اٹھ کھڑا ہوا وضو کیا اور آپ کی بائیں جانب آکھڑا ہوا آپ نے مجھے اپنے پیچھے سے پکڑا اور اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا آپ کے ساتھ میں نے بھی تیرہ (13) رکعتیں پڑھیں پھر آپ گئے میں بھی آپ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ آپ نے اپنا رخسار میرے رخسار کے قریب کردیا حتی کہ میں سونے والے کی طرح آپ کے سانس لینے کی آوازسننے لگا۔ پھر بلال (رض) آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوچکا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کی طرف چل دیئے آپ نے دو رکعتیں شروع کردیں اور پھر بلال (رض) اقامت کہنے لگے (رواہ ابن النجار)
27112- عن ابن عباس قال: "تضيفت ميمونة وهي ليلتئذ لا تصلي فجاءت بكساء ثم جاءت بكساء آخر فطرحته عند رأس الفراش، ثم اضطجعت ومدت الكساء عليها وبسطت لي بسيطا إلى جنبها فتوسدت معها على وسادها فجاء النبي صلى الله عليه وسلم وقد صلى العشاء الآخرة فانتهى إلى الفراش فأخذ خرقة عند رأس الفراش فاتزر بها وخلع ثوبيه فعلقهما ثم دخل معها في لحافها حتى إذا كان في آخر الليل قام إلى سقاء معلق فحله ثم توضأ منه فهممت أن أقوم فأصب عليه ثم كرهت أن يرى أني كنت مستيقظا ثم جاء إلى الفراش فأخذ ثوبيه وخلع الخرقة ثم قام إلى المسجد فقام يصلي فقمت فتوضأت ثم جئت فقمت عن يساره فتناولني بيده على ورائه فأقامني عن يمينه فصلى فصليت معه ثلاث عشرة ركعة ثم جلس وجلست إلى جنبه فأصغى بخده إلى خدي حتى سمعت نفس النائم، ثم جاء بلال فقال: الصلاة يا رسول الله فقام إلى المسجد فأخذ في الركعتين وأخذ بلال في الإقامة". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27113 ۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنی خالہ میمونہ (رض) کے پاس رات بسر کی میں نے سوچا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھو (کہ آپ کے رات کو کیا معمولات ہیں) آپ رات کو اٹھے اور ہلکا سا وضو کیا پھر واپس لوٹ آئے پھر اٹھے اور پیشاب کیا اور پھر اچھی طرح سے وضو کیا پھر میں نے وضو کیا آپ رات کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ نے ہاتھ سے مجھے پکڑ کر اپنے دائیں طرف کھڑا کردیا آپ نے چار چار رکعتیں پڑھیں پھر تین وتر پڑھے پھر آپ سو گئے حتی کہ میں آپ (ہلکے ہلکے) خراٹے سننے لگا پھر موذن آیا اور آپ نماز کے لیے چل پڑے اور آپ نے وضو نہیں کیا۔ (راہ ابن جریر)
27113- عن عكرمة عن ابن عباس قال: "بت عند خالتي ميمونة فقلت لأنظرن إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقام من الليل فقمت معه فبال وتوضأ وضوءا خفيفا ثم عاد ثم قام فبال وتوضأ فأحسن الوضوء، ثم توضأت، ثم قام يصلي من الليل فقمت خلفه فأهوى بيده وأخذ برأسي، فأقامني عن يمينه إلى جنبه فصلى أربعا أربعا ثم أوتر بثلاث، ثم نام حتى سمعته ينفخ ثم أتاه المؤذن فخرج إلى الصلاة ولم يحدث وضوءا". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27114 ۔۔۔ ” مسند زینب بنت ام سلمہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بکر ی کا شانہ لایا آپ نے تناول فرمایا : پھر نماز پڑھی اور پانی چھوا تک نہیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27114- "مسند زينب بنت أم سلمة" "أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بكتف شاة فأكل منه فصلى ولم يمس ماء". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27115 ۔۔۔ اسحاق بن عبداللہ بن حارث بن نوفل ھاشمی کی روایت ہے کہ صفیہ (رض) کہتی ہیں ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے میں نے ایک شانہ آپ کے قریب کیا جو ٹھنڈا ہوچکا تھا میں ہڈی سے گوشت الگ کر کے آپ کو دیتی رہی اور آپ تناول فرماتے رہے پھر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ (رواہ ابو یعلی)
27115- عن إسحاق بن عبد الله بن الحارث بن نوفل الهاشمي قال: حدثتني صفية قالت: "دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقربت له كتفا باردة فكنت أسحا له، فأكلها ثم قام فصلى."ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27116 ۔۔۔ ضباء بنت زبیر کی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گوشت پیش کیا آپ نے گوشت تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور آپ نے وضو نہیں کیا۔ (رواہ احمد بن حنبل والشاسی وابو یعلی والبیھقی وابن مندہ)
27116- عن ضباعة بنت الزبير "أنها دفعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لحما فانتهش منه ثم صلى ولم يتوضأ". "حم والشاشي، ع، ق، ابن منده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان چیزوں کا بیان جن سے وضو نہیں ٹوٹتا :
27117 ۔۔۔ حضرت عائشۃ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک بیوی کے ہاں قیلولہ کیا پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا عروہ کہتے ہیں میں نے کہا : وہ (بیوی) آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتی حضرت عائشہ (رض) ہنس پڑیں (رواہ ابن ابی شیبۃ)
27117- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم "قبل بعض نسائه ثم خرج إلى الصلاة ولم يتوضأ قال عروة: فقلت: من هي إلا أنت فضحكت". "ش".
তাহকীক: