কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৭৩ টি

হাদীস নং: ২৬৯৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26978 ۔۔۔ ” ایضا “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برابر مسواک کا حکم دیتے رہے ہمیں گمان ہونے لگا کہیں قرآن میں مسواک کرنے کا حکم نازل ہوا چاہتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26978- "أيضا" "لم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمر بالسواك حتى ظننا أنه سينزل عليه فيه". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26979 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اس وقت تک سوتے نہیں تھے جب تک مسواک نہ کرلیتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
26979- عن أبي هريرة "أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا ينام ليلة ولا يبيت حتى يستن". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26980 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو دو رکعتیں پڑھتے پھر فارغ ہو کر مسواک کرتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
26980- عن ابن عباس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ركعتين، ثم ينصرف فيستاك". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26981 ۔۔۔ شریح روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے پوچھا : مجھے بتائیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آپ کے پاس تشریف لاتے کس چیز سے ابتداء کرتے تھے ؟ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے جواب دیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسواک سے ابتداء کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26981- عن شريح قال: "سألت عائشة قلت: أخبريني بأي شيء كان يبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل عليك؟ قالت: كان يبدأ بالسواك". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26982 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید “ حضرت جابر (رض) جب بستر پر آتے مسواک کرتے تھے رات کو جب اٹھتے مسواک کرتے جب صبح کے وقت باہر تشریف لے جاتے مسواک کرتے آپ (رض) سے کہا گیا آپ تو بس یہی مسواک کرنے میں مصروف رہتے ہیں ؟ جابر (رض) نے جواب دیا : مجھے اسماء (رض) نے بتایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مسواک سے مسواک کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26982- "مسند أسامة بن زيد" عن جابر أنه "كان يستاك إذا أخذ مضجعه وإذا قام من الليل وإذا خرج إلى الصبح فقيل له: قد شغفت بهذا السواك؟ فقال: إن أسامة أخبرني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يستاك هذا السواك". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26983 ۔۔۔ ابو عبدالرحمن سلمی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے مسواک کا حکم دیا اور فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ بندہ جب مسواک کرتا ہے پھر نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا ہے اور وہ قرآن سنتا رہتا ہے فرشتہ لگا تار قرآن سے دل لگی رکھتا جاتا ہے اور بندے کے قریب ہوتا رہتا ہے حتی کہ اپنا منہ بندے کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور بندے کے منہ میں سے جس قدر قرآن نکلتا ہے وہ فرشتے کے منہ میں پڑتا ہے لہٰذا اپنے منہوں کو اچھی طرح صاف ستھرے رکھو ۔ (رواہ ابن المبارک)
26983- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: "أمر علي بالسواك وقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن العبد إذا تسوك، ثم قام يصلي قام الملك خلفه يستمع القرآن فلا يزال عجبه بالقرآن يدنيه منه حتى يضع فاه على فيه فما يخرج من فيه شيء من القرآن إلا صار في جوف الملك فطهروا أفواهكم". "ابن المبارك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26984 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ ۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا ڈر نہ ہوتا میں انھیں ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا حکم دیتا اور تہائی رات تک عشاء کی نماز مؤخر کرنے کا حکم دیتا چونکہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے رب تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لے آتے ہیں پھر طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں رب تعالیٰ فرماتے رہتے ہیں کوئی مانگنے والا ہے جسے میں عطا کروں کوئی دعا کرنے والا ہے جس کی دعا قبول کی جائے کوئی بیمار ہے جو شفا کا خواستگار ہو ؟ کوئی گناہ گار ہے جو گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہو سو اس کی بخشش کردی جائے ۔ (رواہ عثمان بن سعید اروافی فی المدد علی الجھمۃ والدارقطنی فی احادیث النزول)
26984- عن علي قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة، ولأخرت العشاء إلى ثلث الليل الأول، فإنه إذا مضى ثلث الليل الأول هبط الله إلى سماء الدنيا فلم يزل هنالك حتى يطلع الفجر فيقول: ألا سائل يعطى سؤله؟ ألا داع يجاب؟ ألا سقيم يستشفي؟ ألا مذنب يستغفر فيغفر له". "عثمان بن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية، قط في أحاديث النزول".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسواک کا بیان :
26985 ۔۔۔ ابو عبدالرحمن اسلمی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا گیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : بندہ جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے اس کے پاس فرشتہ آجاتا ہے اور اس کے پیچھے کھڑا ہوجاتا ہے اور قرآن سنتا رہتا ہے بندے کے قریب ہوتا رہتا ہے چنانچہ مسلسل قرآن سنتا رہتا ہے اور قریب ہوتا رہتا ہے حتی کہ اپنا منہ بندے کے منہ پر رکھ دیتا ہے بندہ جو آیت بھی پڑھتا ہے فرشتے کے منہ میں جاتی ہے لہٰذا اپنے منہ کو پاک رکھو ۔ (رواہ ابن المبارک فی الزھد والاخری فی اخلاق حملۃ القرآن)
26985- عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي قال: "أمرنا بالسواك وقال: "إن العبد إذا قام يصلي أتاه الملك فقام خلفه فيستمع القرآن ويدنو فلا يزال يسمع ويدنو حتى يضع فاه على فيه، فلا يقرأ آية إلا كان في جوف الملك فطيبوا ما هنالك". "ابن المبارك في الزهد والأخرى في أخلاق حملة القرآن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح کرنے کا بیان :
26986 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عسیلہ صنابحی کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اوڑھنی پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
26986- عن عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي قال: "رأيت أبا بكر مسح على الخمار". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح کرنے کا بیان :
26987 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : تم اگر چاہو عمامہ پر مسح کرو چاہو اتار لو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
26987- عن عمر قال: "إن شئت فامسح على العمامة وإن شئت فانزعها". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح کرنے کا بیان :
26988 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موزوں پر اور عمامہ پر مسح کیا ۔ (رواہ ابن عساکر) ۔ فائدہ : ۔۔۔ سر کی بجائے عمامہ پر مسح کرنے کا جواب امام احمد بن حنبل (رح) کے ہاں ہے پھر ان کے ہاں یہ بھی ہے کہ مسح کی سنیت یا فرضیت عمامہ پر مسح کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے جبکہ احناف شوافع مالکیہ کے نزدیک عمامہ پر مسح کرنا جائز نہیں ۔ پھر امام احمد (رح) کے ہاں مسح علی العمامہ کے لیے شرائط ہیں۔ 1 ۔۔۔ عمامہ طہارت پر باندھا گیا ہو۔ 2 ۔۔۔ عمامہ پورے سر کو ڈھانپے ہوئے ہو ۔ 3 ۔۔۔ مسلمانوں کے طریقہ پر عمامہ باندھا گیا ہو یعنی عمامہ محنک ہو یا شملہ دار ہو۔ 4 ۔۔۔ مسح علی العمامہ موقت ہے۔ جمہور ائمہ احادیث بالا کی تاویل کرتے ہیں : 1 ۔۔۔ یہ احادیث معلل ہیں کما قالہ الشیخ عبد الحی لکھنوی ۔ 2 ۔۔۔ امام محمد (رح) نے موطا میں فرمایا ہے کہ پہلے عمامہ پر مسح تھا پھر منسوخ ہوگیا ۔ 3 ۔۔۔ عذر کی بنا پر مسح کیا گیا تھا ۔
26988- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم "مسح على الخفين والعمامة". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے متعلق اذکار :
26989 ۔۔۔ ” مسند ابن عمر الدیلمی ، احمد بن نصر، احمد بن نیال حسین بن عمر محمد بن عبداللہ شافعی محمد بن سلمان باغندی مقاتل فضل بن عبید سفیان ثوری عبیداللہ عمری نافع کی سند سے ابن عمر (رض) کی مرفوع حدیث مروی ہے کہ : جو شخص وضو کرنے کے بعد آیت الکرسی پڑھ لیتا ہے اسے چالیس عالموں کا ثواب ملتا ہے اس کے چالیس درجات بلند کردیئے جاتے ہیں اور چالیس حوروں کے ساتھ اس کی شادی کردی جاتی ہے ۔۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 79 والفوائد اعجموعہ 977 ۔
26989- "مسند ابن عمر" الديلمي أنا أحمد بن نضر حدثنا أحمد ابن نيال ثنا الحسين بن عمر حدثنا محمد بن عبد الله الشافعي حدثنا محمد بن سليمان الباغندي، حدثنا مقاتل، حدثنا فضل بن عبيد عن سفيان الثوري عن عبيد الله العمري عن نافع عن ابن عمر رفعه: "من قرأ آية الكرسي على أثر وضوئه أعطاه الله عز وجل ثواب أربعين عالما ورفع له أربعين درجة وزوجه أربعين حوراء" 1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے متعلق اذکار :
26990 ۔۔۔ حسن (رض) روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کا ثواب (اذکار) سکھائے اور فرمایا : اے علی ! جب تم وضو کرنا چاہو تو کہو : ” بسم اللہ العظیم والحمد للہ علی الاسلام “۔ جب شرمگاہ دھو لو تو یہ دعا پڑھو : اللہم حصن فرجی واجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین واجعلنی من الذین اذا ابتلیتھم صبروا واذا اعتیتھم شکوا “۔ یا اللہ مجھے پاکدامنی عطا فرما : مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں شامل کر دے اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جنہیں جب تم آزمائش میں ڈالتا ہے وہ صبر کردیتے ہیں اور جب تو انھیں عطا کرتا ہے وہ شکر کرتے ہیں۔ جب کلی کرو تو یہ دعا پڑھو : اللہم اعنی علی تلاوۃ ذکرک : ” یا اللہ تلاوت قرآن پر میرے عمل فرما ۔ جب ناک میں پانی ڈالو تو یہ دعا پڑھو۔ اللہم لا تحرمنی رائحۃ الجنۃ ۔ یا اللہ مجھے جنت کی خوشبو سے محروم نہ رکھنا ۔ جب چہرہ دھو تو یہ دعا پڑھو۔ اللہم بیض وجھی یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ یا اللہ قیامت کے دن میرجے چہرے کو روشن کرنا جس دن بہت سارے چہرے سفید ہوں گے بہت سارے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ جب دایاں بازو دھو تو یہ دعا پڑھو۔ ” اللہم اعطنی کتابی بیمینی وحاسبنی حسابا یسیرا “۔ یا اللہ میرا نامہ اعمال مجھے دائیں ہاتھ میں عطا کرنا اور مجھ سے ہلکا پھلکا حساب لینا ۔ جب بایاں بازو دھوؤ تو یہ دعا پڑھو۔ اللہم لا تعطنی کتابی بشمالی ولا من وراء ظھری “۔ یا اللہ مجھے میرا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں نہ دینا اور نہ ہی پیٹھ پیچھے سے ۔ جب سر کا مسح کرو تو یہ دعا پڑھو۔ اللہم غشنی برحمتک “۔ یا اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے ۔ اور جب کانوں کا مسح کرو تو یہ دعا پڑھو : اللہم اجعلنی ممن یستمع القول فیتبع احسنہ “۔ یا اللہ مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے جو باتیں سن کر اچھی باتوں کو اپنا لیتے ہیں۔ جب پاؤں دھو تو یہ دعا پڑھو : ” اللہم اجعلہ سعیا مشکورا وذنبا مغفورا وعملا متقبلا اللہم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین اللہم انی استغفرک واتوب الیک “۔ یا اللہ میرے اس عمل وضو کو سعی مشکور بنا دے گناہوں کی معافی کا سبب بنا دے اور عمل مقبول بنا دے یا اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں شامل کر دے یا اللہ میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔ پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر یہ دعا پڑھو : الحمد للہ الذی رفعھا بغیر عمد “۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہی جس نے آسمان کو بغیر ستون کے بنایا ہے۔ فرشتے تمہارے سر پر کھڑا ہے تم جو کچھ بھی کہتے ہو وہ لکھتا ہے۔ اور اس پر اپنی مہر لگا لیتا ہے پھر آسمان پر چڑھ جاتا ہے اور نوشتہ کو عرش تلے رکھ دیتا ہے اور تاقیامت اس مہر کو نہیں توڑا جاتا ۔ (رواہ ابو القاسم بن مندۃ فی کتاب الوضو الدیلمی والمستغفری فی الدعوات وابن النجار ، قال الحافظ ابن حجر فی امالیہ ھذا حدیث غریب ورواتہ معروفون لکن فیہ خارجہ بن مصعب ترکہ الجھور وکذبہ ابن معین وقال ابن حبان کان یدلس عن کذابین احادیث رو وھا عن الثقات الذین لقیھم فوقعت الموضوعات فی روایتہ)
26990- عن الحسن عن علي قال: "علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم ثواب الوضوء فقال: "يا علي إذا قدمت وضوءك فقل: بسم الله العظيم والحمد لله على الإسلام، فإذا غسلت فرجك فقل: اللهم حصن فرجي واجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين واجعلني من الذين إذا ابتليتهم صبروا وإذا أعطيتهم شكروا، وإذا تمضمضت فقل: اللهم أعني على تلاوة ذكرك، وإذا استنشقت فقل: اللهم لا تحرمني رائحة الجنة، وإذا غسلت وجهك فقل: اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه وتسود وجوه، وإذا غسلت ذراعك اليمنى فقل: اللهم أعطني كتابي بيمينى وحاسبني حسابا يسيرا، وإذا غسلت ذراعك اليسرى فقل: اللهم لا تعطني كتابي بشمالي ولا من وراء ظهري، وإذا مسحت برأسك فقل: اللهم غشني برحمتك وإذا مسحت أذنيك فقل: اللهم اجعلني ممن يستمع القول فيتبع أحسنه، وإذا غسلت رجليك فقل: اللهم اجعله سعيا مشكورا وذنبا مغفورا وعملا متقبلا اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، اللهم إني أستغفرك وأتوب إليك، ثم ارفع رأسك إلى السماء فقل: الحمد لله الذي رفعها بغير عمد والملك قائم على رأسك يكتب ما تقول ويختم بخاتمه، ثم يعرج إلى السماء فيضعه تحت العرش، فلا يفك ذلك الخاتم إلى يوم القيامة".

"أبو القاسم بن منده في كتاب الوضوء والديلمي والمستغفري في الدعوات وابن النجار، قال الحافظ ابن حجر في أماليه: هذا حديث غريب ورواته معروفون لكن فيه خارجة بن مصعب تركه الجمهور وكذبه ابن معين، وقال حب: كان يدلس عن الكذابين أحاديث رووها عن الثقات الذين لقيهم فوقعت الموضوعات في روايته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے متعلق اذکار :
26991 ۔۔۔ ابو اسحاق سبیعی نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی مرفوع حدیث بیان کی ہے۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وضو کرتے وقت پڑھتا ہوں میں انھیں بھولا نہیں ہوں چنانچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی لایا جاتا آپ ہاتھ دھوتے اور یہ دعا پڑھتے ۔ بسم اللہ العظیم والحمد للہ علی الاسلام اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین واجعلنی من الذین اذا اعطیتھم شکروا واذا ابتلیتھم صبروا “۔ اللہم حضن رجی (تین بار پڑھتے) جب کلی کرتے یہ دعا پڑھتے : اللہ عنی علی تلاوۃ ذکرک : جب ناک میں پانی ڈالتے یہ دعا پڑھتے : روایت کی ہے کہ اللہم ارحمنی رائحۃ الجنۃ “۔ جب چہرہ دھوتے تو یہ دعا پڑھتے : ” اللہم بیض وجھی یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ جب دایاں ہاتھ دھوتے یہ دعا پڑھتے : اللہم آتنی کتابی بیم یعنی وحاسبنی حسابا یسیرا “۔ جب بایاں ہاتھ دھوتے یہ دعا پڑھتے : اللہم لا تعطنی کتابی بشمالی ولا من وراء ظھری “۔ جب سر کا مسح کرتے یہ دعا پڑھتے : اللہ غشنی برحمتک “۔ جب کانوں کا مسح کرتے یہ دعا پڑھتے : اللہم اجعلنی من الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ “۔ جب پاؤں دھوتے یہ دعا پڑھتے : اللہم اجعل لی سعیا مشکورا وذنبا مغفورا وتجارۃ لن تبور “۔ پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر یہ دعا پڑھتے ۔ اللھم للہ الذی رفعھا بغیر عمد : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتہ وضو کرنے والے کے سر پر کھڑا ہوتا ہے ، بندہ جو کچھ کہتا ہے فرشتہ اسے ایک ورق پر لکھتا رہتا ہے پھر ورق کو سر بمہر کرکے لے جاتا ہے اور عرش کے نیچے رکھ دیتا ہے چنانچہ تاقیامت اس کی مہر نہیں توڑی جاتی ۔ (رواہ المستغفری فی الدعوات واردہ ابن دقیق العید فی الا قتراح وقال ابو اسحاق عن علی منقطع وفی اسنادہ غیر واحہ یحتاج الی معرفتہ والکشف عن حالہ قال ابن الملقن فی تخریح احادیث الوسیط وھو کما قال فقد بحثت عن اسمائھم فی کتاب الاسماء فلما رالا احمد بن مصعب الموزی قال فی اللسان ھو متھم یوضع الخدیث والروای عنہ ابو مقاتل سلیمان بن محمد بن الفضل ضعیف :
26991- عن أبي إسحاق السبيعي رفعه إلى علي بن أبي طالب: "علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات أقولهن عند الوضوء فلم أنسهن، "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتي بماء فغسل يديه قال: "بسم الله العظيم والحمد لله على الإسلام، اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، واجعلني من الذين إذا أعطيتهم شكروا وإذا ابتليتهم صبروا، فإذا غسل فرجه قال: اللهم حصن فرجي ثلاثا، وإذا تمضمض قال: اللهم أعني على تلاوة ذكرك، وإذا استنشق قال: اللهم أرحني رائحة الجنة، وإذا غسل وجهه قال: اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه وتسود وجوه، وإذا غسل يمينه قال: اللهم آتني كتابي بيميني وحاسبني حسابا يسيرا، وإذا غسل شماله قال: اللهم لا تعطني كتابي بشمالي ولا من وراء ظهري، وإذا مسح رأسه قال: اللهم غشني برحمتك؛ وإذا مسح أذنيه قال: اللهم اجعلني من الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه، وإذا غسل رجليه قال: اللهم اجعل لي سعيا مشكورا وذنبا مغفورا وتجارة لن تبور، ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: الحمد لله الذي رفعها بغير عمد، قال النبي صلى الله عليه وسلم: والملك قائم على رأسه يكتب ما يقول في ورقة ثم يختمه فيرفعه فيضعه تحت العرش فلا يفك خاتمه إلى يوم القيامة". "المستغفري في الدعوات وأورده ابن دقيق في الاقتراح وقال أبو إسحاق عن علي منقطع وفي إسناده غير واحد يحتاج إلى معرفته والكشف عن حاله قال ابن الملقن في تخريج أحاديث الوسيط وهو كما قال فقد بحثت عن أسمائهم في كتب الأسماء فلم أر إلا أحمد بن مصعب المروزي قال في اللسان: هو متهم بوضع الحديث والراوي عنه أبو مقاتل سليمان بن محمد بن الفضل ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے متعلق اذکار :
26992 ۔۔۔ محمد بن حنیفہ (رح) کی روایت ہے کہ میں اپنے والد ماجد حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے دائیں طرف ایک برتن پانی سے بھرا رکھا ہوا ہے برتن اٹھا کر دائیں طرف رکھ لیا پھر استنجاء کیا اور یہ دعا پڑھی : (اللھم حصن فرجی واسترعورتی ولا تشمت بی الاعداء) یا اللہ ! مجھے پاکدامنی عطا فرما میری بےپردگیوں کا ستر کرو اور دشمنوں کو مجھ سے خوش نہ کرنا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور یہ دعا پڑھی۔ (اللھم لقنی حجتنی ولا تحرمنی رائحۃ الجنتہ) پھر چہرہ دھویا اور یہ دعا پڑھی۔ (اللھم بیض وجھی یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ) پھر دائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور یہ دعا پڑھی : (اللھم اعطنی کتابی بیمینی والخلد بشمالی) پھر بائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور یہ دعا پڑھی۔ (اللھم لا تعطنی کتابی بشمالی ولا تجعلھا مغلولۃ الی عنقی) پھر سر کا مسح کیا اور یہ دعا پڑھی : (اللھم غشنا برحمتک فانا نخشی عذابک اللھم لا تجمع بین نواصینا واقدامنا) پھر گردن کا مسح کیا اور یہ دعا پڑھی : (اللھم نجنا من مقطعات التیران واغلالھا) پھر پاؤں دھوئے اور یہ دعا پڑھی : (اللھم ثبت قدمی علی الصراط یوم تزل فیہ الاقدام) پھر کھڑے ہوئے اور یہ دعا پڑھی : (اللھم کما طھرتنا بالماء فطھرنا من الذنوب) پھر آپ (رض) نے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا اور پوروں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے پھر فرمایا : اے بیٹے ! ایسا ہی کرو جیسے میں نے کیا ہے سو جو قطرہ بھی انگلیوں کے پوروں سے ٹپکتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو تاقیامت اس شخص کے لیے استغفار کرتا رہتا ہے اے بیٹے ! جو شخص بھی ایسا کرتا ہے جیسا میں نے کیا ہے اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح سخت آندھی کے دن درخت سے پتے گرتے ہیں (رواہ ابن عساکر فیا امالیہ وفیہ اصرم بن حوشب کان یضع الحدیث)
26992- عن محمد ابن الحنفية قال: "دخلت على والدي علي بن أبي طالب وإذا عن يمينه إناء من ماء فسمى ثم سكب على يمينه، ثم استنجى وقال: اللهم حصن فرجي واستر عورتي ولا تشمت بي الأعداء، ثم تمضمض واستنشق وقال: اللهم لقني حجتي ولا تحرمني رائحة الجنة، ثم غسل وجهه وقال: اللهم بيض وجهي يوم تبيض وجوه وتسود وجوه، ثم سكب على يمينه وقال: اللهم أعطني كتابي بيميني والخلد بشمالي، ثم سكب على شماله وقال: اللهم لا تعطني كتابي بشمالي ولا تجعلها مغلولة إلى عنقي، ثم مسح برأسه وقال: اللهم غشنا برحمتك فإنا نخشى عذابك، اللهم لا تجمع بين نواصينا وأقدامنا، ثم مسح عنقه وقال: اللهم نجنا من مقطعات النيران واغلالها، ثم غسل رجليه ثم قال: اللهم ثبت قدمي على الصراط يوم تزل فيه الأقدام، ثم استوى قائما ثم قال: اللهم كما طهرتنا بالماء فطهرنا من الذنوب، ثم قال بيده هكذا يقطر الماء من أنامله، ثم قال: يا بني افعل كفعلي هذا فإنه ما من قطرة تقطر من أناملك إلا خلق الله منها ملكا يستغفر لك إلى يوم القيامة، يا بني من فعل كفعلي هذا تساقط عنه الذنوب كما تتساقط الورق عن الشجر يوم الريح العاصف". "كر في أماليه وفيه اصرم بن حوشب كان يضع الحديث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے متعلق اذکار :
26993 ۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد محمد کی سند سے اپنے دادا حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے علی ! جب تم وضو کرو تو یہ دعا پڑھ لیا کرو ۔ (بسم اللہ اللھم اسالک تمام الوضو وتمام الصلوۃ وتمام رضوانک وتمام مغفرتک) شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے یا اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں وضو کا کمال نماز کا کمال تیری خوشنودی کا کمال اور تیری مغفرت کا کمال ۔ یہ دعا تمہارے وضو کی زکوۃ ہوجائے گی۔ (رواہ الحارث ولم سیق بقیتہ وفیہ حماد بن عمرو النصیبی کان نصع الحدیث) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے چونکہ سند میں حماد بن عمرو ہے جو حدیثیں وضع کرتا تھا۔
26993- عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده علي قال: قال لي" رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا علي إذا توضأت فقل: بسم الله اللهم أسألك تمام الوضوء وتمام الصلاة وتمام رضوانك وتمام مغفرتك فهذا زكاة الوضوء" - الحديث."الحارث ولم يسبق بقيته وفيه حماد بن عمرو النصيبي كان يضع الحديث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے متعلق اذکار :
26994 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب آپ (رض) وضو سے فارغ ہوتے یہ دعا پڑھتے تھے۔ (اشھدان لا الہ الا اللہ واشھدن محمدا عبدہ ورسولہ رب اجعلنی من التوابی واجعلنی من المتطھرین)
26994- عن علي أنه "كان إذا فرغ من وضوئه قال: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رب اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب :
26995 ۔۔۔ شبیبب بن ابی روح ایک صحابی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھی اور نماز میں سورت روم تلاوت کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوران نماز التباس ہوگیا اور آپ نے نماز توڑ دی اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا ہمارے ساتھ بغیر طہارت کے نماز پڑھتے ہیں جو شخص ہمارے ساتھ نماز پڑھے اچھی طرح وضو کرے چونکہ یہ لوگ ہمارے اوپر قرآن میں التباس ڈال دیتے ہیں (رواہ عبدالرزاق)
26995- عن شبيب بن أبي روح عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: "صلى النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر فقرأ سورة الروم فالتبس فيها، فلما انصرف قال: "ما بال أقوام يصلون معنا بغير طهور، من صلى معنا فليحسن طهوره فإنما يلبس علينا القرآن أولئك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق آداب :
26996 ۔۔۔ ابو روح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے ایک شخص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز پڑھی اور نماز میں سورت روم تلاوت کی آپ پر التباس ہوگیا آپ نے نماز توڑ دی اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا ہمارے ساتھ بغیر طہارت کے نماز پڑھتے ہیں جو شخص بھی ہمارے ہمارے ساتھ نماز پڑھے اچھی طرح وضو کرلیا کرے ایک روایت میں ہے کہ تمہاری ناقص طہارت ہمیں اذیت پہنچاتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
26996- عن أبي روح عن رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم قال: "صلى النبي صلى الله عليه وسلم الفجر فقرأ بالروم والتبس عليه، فلما انصرف قال: "ما بال أقوام يصلون الصلاة معنا بغير طهور من صلى معنا فليحسن وضوءه، وفي لفظ: إنما يؤذينا سوء طهوركم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات وضو :
26997 ۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : : کے پاس ایک کپڑا ہوتا تھا جب آپ وضو کرتے تو اعضاء وضو کو اس کپڑے سے صاف کرتے تھے (رواہ الدار قطنی فی الافراد)
26997- عن أبي بكر قال: "كانت للنبي صلى الله عليه وسلم خرقة إذا توضأ مسح بها."قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক: