কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৭৩ টি
হাদীস নং: ২৬৯৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26938 ۔۔۔ ابن عمر (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا اور پھر فرمایا : یہ وظیفہ وضو ہے اور اللہ تعالیٰ اس وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑی دیر گفتگو کرتے رہے اور پھر پانی منگوایا اور اعضاء وضو کو دو دو مرتبہ دھویا اور فرمایا جو شخص اس طرح وضو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو دگنا اجر وثواب عطا فرمائیں گے پھر تھوڑی دیر گفتگو کرتے رہے اور پھر پانی منگوایا اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا اور فرمایا : یہی میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے جامع المنصف 268 وذخیرۃ الحفاظ 2890 ۔
26938 عن أبن عمر قال : دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بماء فتوضأ مرة مرة ، فقال : هذا وظيفة الوضوء ، وضوء من لا يقبل الله له صلاة إلا به ، ثم تحدث ساعة ، ثم دعا بماء فتوضأ مرتين مرتين فقال : هذا وضوء من يتوضأ به ضعف الله له الاجر مرتين مرتين ، ثم تحدث ساعة ، ثم دعا بماء فتوضأ ثلاثا ثلاثا فقال : هذا وضوئي ووضوء النبيين من قبلي.
صلى الله عليه وآله.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26939 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وضو کرتے رخساروں کو ہلکا ہلکا ملتے تھے پھر ہاتھوں کو نیچے سے داڑھی میں گھسا دیتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
26939 عن أبن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا توضأ عرك عارضيه بعض العرك ، ثم يشبك يديه في لحيته من تحتها.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26940 ۔۔۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے نافع سے پوچھا جب حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) وضو کرتے برتن کہاں رکھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) اپنے پہلو میں برتن رکھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26940 عن أبن جريج قال : قلت لنافع أين كان أبن عمر يجعل الاناء الذي يتوضأ فيه ؟ قال : إلى جنبه.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26941 ۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص “۔ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کے متعلق سوال کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا پھر فرمایا : بس یہی ہے پاکی جس شخص نے اس میں زیادتی یا کمی کی اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ و سعید بن المنصور)
26941 (مسند عبد الله بن عمرو بن العاص) نسخه عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الوضوء فدعا بماء فتوضأ ثلاثا ، ثم قال : هكذا الطهور فمن زاد أو نقص فقد تعدى وظلم (ش ، ص).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26942 ۔۔۔ ھشیم ، ابو عوام ایک محدث سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ کہا جاتا تھا (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے زمانہ میں) اعضاء وضو کو دو دو مرتبہ دھونا کافی ہے تین تین مرتبہ دھونا پورا وضو کرنا ہے اور اس کے بعد فضول بات ہے۔
26942 حدثنا هشيم أنبأنا أبو العوام عمن حدثه قال : كان يقال أثنتان تجزئان والثلاث إسباغ وما وراء ذلك فهو ولوع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26943 ۔۔۔ حسن بصری (رض) فرماتی ہیں : اپنی انگلیوں میں خلال کرو قبل ازیں کہ اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ سے تمہاری انگلیوں میں خلال نہ کر دے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
26943 عن الحسن البصري قال : خللوا أصابعكم قبل أن يخللها الله بالنار.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26944 ۔۔۔ حسن بصری (رح) روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں جو شخص وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑ لے چونکہ شیطان انسان میں خون کے چلنے کی جگہ میں چلتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
26944 عن الحسن البصري قال : ما توضأ فليستنشق فأن الشيطان يجري من أبن آدم مجرى الدم.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26945 ۔۔۔ ابراہیم ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ (وہ حضرت ابوہریرہ (رض)) وضو کرنے میں دائیں طرف سے ابتداء کرتے تھے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو اس کی خبر ہوئی تو انھوں نے پانی منگوایا بائیں طرف سے وضو کی ابتداء کی ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26945 عن إبراهيم عن أبي هريرة أنه كان يبدأ بميامنه في الوضوء
فبلغ ذلك عليا ، فدعا بماء فتوضأ فبدأ بمياسره.
صلى الله عليه وآله.
فبلغ ذلك عليا ، فدعا بماء فتوضأ فبدأ بمياسره.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26946 ۔۔۔ حارث کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے وضو کیا پھر کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پیا پھر فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے دیکھا پھر آپ نے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن جریر)
26946 عن الحارث أن عليا توضأ ، ثم قام فشرب فضل وضوئه قائما ثم قال : إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ ، ثم شرب فضل وضوئه قائما.
(ص وأبن جرير).
(ص وأبن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26947 ۔۔۔ عبد خیر کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو سنا کہ آپ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا تذکرہ کر رہے تھے آپ نے غلام کو حکم دیا اس نے آپ کی ہتھیلی پر تین بار پانی بہایا پھر آپ نے برتن میں ہاتھ داخل کیا کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر تین بار چہرہ دھویا تین بار کہنیوں تک ہاتھ دھوئے پھر برتن میں ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر دوسرے ہاتھ پر ملا اور پھر ایک بار سر پر مسح کیا ، پھر تین تین بار ٹخنوں تک پاؤں دھوئے پھر چلو بھرا اور پی لیا ، پھر فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح وضو کرتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26947 عن عبد خير قال : سمعت عليا يذكر وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمر الغلام فصب على كفه ثلاث مرات ، ثم أدخل يده في الركوة فمضمض وأستنشق ، ثم غسل وجهه ثلاثا ، وذراعيه إلى المرفقين ثلاثا ، ثم أدخل في الركوة في أسفلها فمسح بطن كفه بأسفل الركوة ، ثم مسح بها يده الاخرى ، ثم مسح رأسه مرة واحدة ، ثم غسل رجليه إلى الكعبين ثلاثا ثلاثا ، ثم أغترف بيده غرفة فشربها ، ثم قال : هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ.
صلى الله عليه وآله.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26948 ۔۔۔ حسن بن محمد بن علی روایت کی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) جب وضو کرتے داڑھی میں خلال کرتے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26948 عن الحسن بن محمد بن علي قال : كان علي بن أبي طالب إذا توضأ خلل لحيته.
صلى الله عليه وآله.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26949 ۔۔۔ ابراہیم روایت کی ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجاتا سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) پانی منگواتے چلو بھر پانی لیتے اس سے کلی کرتے ناک میں ڈالتے جو بچ جاتا اس سے چہرے ، ہاتھوں ، سر اور پاؤں پر مسح کرلیتے پھر فرماتے یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہ ہو ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
36949 عن إبراهيم قال : كان علي إذا حضرت الصلاة دعا بماء فأخذ كفا من ماء فتمضمض منه وأستنشق منه ، ومسح بفضله وجهه وذراعيه ورأسه ورجليه ، ثم قال : هذا وضوء من لم يحدث.
صلى الله عليه وآله.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26950: عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ اپنا چہرہ مبارک دائیں ہاتھ سے دھوتے تھے۔
26950 عن عطاء بن يسار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يغسل وجهه بيمينه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26951 ۔۔۔ مجاہد کہتے ہیں : ناک میں پانی ڈالنا نصف وضو ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
26951 عن مجاهد قال : الاستنشاق شطر الوضوء.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26952 ۔۔۔ مکحول روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور سر کا مسح ایک ہی بار کرتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26952 عن مكحول أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتوضأ ثلاثا ثلاثا ويمسح رأسه مرة واحدة.
صلى الله عليه وآله.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26953 ۔۔۔ مکحول روایت کی ہے کہ جب آدمی پانی حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تب صرف وضو کی جگہ ہی پاک ہوتی ہے۔ (رواہ سعید بن المنصور)
26953 عن مكحول قال : إذا تطهر الرجل وذكر أسم الله طهر جسده كله ، وإذا لم يذكر أسم الله حين يتوضأ لم يطهر منه إلا مكان الوضوء.
صلى الله عليه وآله.
صلى الله عليه وآله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26954 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرایا آپ نے بعد وضو کے زیر ناف تین مرتبہ چھینٹے مارے ۔ (رواہ ابوبکر وسندہ ضعیف) فائدہ :۔۔۔ بعض احادیث میں شرمگاہ پر چھینٹے مارنے کا حکم ہے جیسے حدیث نمبر 236937 اور اس حدیث میں زیر ناف چھینٹے مارنے کا ذکر ہے۔ مراد دونوں حدیثوں کی ایک ہی ہے الفاظ کا فرق ہے البتہ یہ چھینٹے شلوار پر مارنے چاہئیں ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اس کا واضح حکم ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو چھینٹے مارنے کی تعلیم دی ہے چونکہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ایک مرتبہ شکایت کی تھی کہ مجھے مذی آئی ہے لہٰذا دوران نماز بھی مذی آنے کی شکایت پیش آسکتی ہے لہٰذا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود عمل کر کے دکھایا ۔ از مترجم۔
26954 عن علي قال : وضأت رسول الله صلى الله عليه وسلم فنضح عانته ثلاث مرات.
(أبو بكر وسنده ضعيف).
(أبو بكر وسنده ضعيف).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26955 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر مبارک پر تین مرتبہ مسح کیا۔ (رواہ ابوبکر)
26955 عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على رأسه ثلاث مرات (أبو بكر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26956 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور سر پر ڈال لیا چنانچہ میں نے دیکھا کہ پانی کے قطرے آپ کے چہرہ اقدس پر گر رہے تھے ۔ (رواہ المخلص وسندہ حسن) ۔ فائدہ : ۔۔۔ ان احادیث سے جو چیز مترشح ہوتی ہے وہ سر کا مسح ہے خواہ ایک بار ہو یا تین بار یا چلو بھر کر سر پر ڈالا جائے مقصود سب سے سر کا مسح ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری عمل ایک بار سر کا مسح کرنے کا رہا ہے ، چنانچہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کی جمیع روایات (تقریبا) ایک بار مسح کرنے پر صریح دلیل ہیں۔
26956 عن علي قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ثلاثا ثلاثا ، ثم أخذ كفا من ماء فوضعه على رأسه فرأيت الماء ينحدر على وجهه.
(المخلص وسنده حسن).
(المخلص وسنده حسن).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (آداب الوضوء)
26957 ۔۔۔ ’ مسند ابی “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کے لیے پانی مانگا اور اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا اور پھر فرمایا وضو کا یہی وظیفہ ہے یا فرمایا کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں کرتا پھر آپ نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا اور پھر فرمایا : جو شخص طرح وضو کرے گا اللہ تعالیٰ اسے دو گنا اجر عطا فرمائے گا پھر آپ نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا اور فرمایا یہ میرا اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کا وضو ہے۔ (رواہ ابن ماجہ وھو ضعیف)
26957 (مسند أبي) أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا بماء وتوضأ مرة مرة فقال : هذا وظيفة الوضوء ، أو قال : وضوء من لم يتوضأه لم يقبل الله له صلاة ، ثم توضأ مرتين مرتين ، ثم قال : هذا وضوء من توضأه أعطاه الله كفلين من الاجر ، ثم توضأ ثلاثا ثلاثا فقال : هذا وضوئي ووضوء المرسلين قبلي.
(ه قط وهو ضعيف).
(ه قط وهو ضعيف).
তাহকীক: