কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১২৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٤۔۔ شیطان میرے پاس آیا اور مجھ سے بار بار مخاصمت کرنے لگا میں نے اس کو حلق سے پکڑلیا، پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان میں نے اس کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے اس کی زبان کی خنکی اپنے ہاتھ پر محسوس نہ کی۔ اور اللہ کی قسم اگر میرے بھائی سلیمان کی دعانہ ہوتی تو وہ مسجد میں پڑا ملتا۔ ابن ابی الدنیا فی مکائد الشیطان ، عن الشعبی مرسلا۔
1284 – "لقد أتاني شيطان فنازعني ثم نازعني فأخذت بحلقه فوالذي بعثني بالحق ما أرسلته حتى وجدت برد لسانه على يدي ولولا دعوة سليمان أصبح طريحا في المسجد". (ابن أبي الدنيا في مكايد الشيطان عن الشعبي) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٥۔۔ کاش تم مجھے اور ابلیس کو دیکھ لیتے میں نے اس کو اپنی طرف ہاتھ بڑھایا اور مسلسل اس کا گلاگھونٹتا رہا ، حتی کہ میں نے اس کے تھوک کی خنکی اپنی ان دوانگلیوں پر محسوس کی۔ اگر میرے بھائی سلیمان کی دعانہ ہوتی تو وہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ صبح کو جکڑا ملتا اور مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے پس اگر کوئی ایسا کرسکتا کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان نماز کے دوران کوئی نہ آئے تو وہ اس پر عمل کرے۔ مسنداحمد، بروایت ابی سعید۔
1285 – " لو رأيتموني وإبليس فأهويت بيدي فما زلت أخنقه حتى وجدت برد لعابه بين أصبعي هاتين ولولا دعوة أخي سليمان لأصبح مربوطا بسارية من سواري المسجد يتلاعب به صبيان المدينة فمن استطاع منكم أن لا يحول بينه وبين القبلة أحد فليفعل". (حم عن أبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٦۔۔ شیطان نماز میں میرے سامنے سے گزرا، میں نے اس کو پکڑا لیا اور گردن سے دبوچ لیا۔۔ حتی کہ میں نے اس کی زبان کی خنکی اپنے ہاتھ پر محسوس کی اور وہ کہنے لگا اہ مار دیا، ماردیا، اگر سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ جکڑاملتا اور مدینہ کے بچے اس کی طرف دیکھ رہے ہوتے۔ مسنداحمد، السنن للبیہقی ، بروایت ابن مسعود (رض)۔
1286 – "مر علي الشيطان فتناولته فأخذته فخنقته حتى وجدت برد لسانه على يدي وقال أوجعتني أوجعتني ولولا دعاء سليمان لأصبح مناطا إلى اسطوانة من أساطين المسجد ينظر إليه ولدان أهل المدينة".(حم ق عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٧۔۔ شیطان میرے پاس آیا میں نے اس کو جھڑ ک دیا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتاتو وہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا۔ اور مدینہ کے بچے اس کے گرد گھومتے ۔ المستدرک للحاکم، بروایت عتبہ بن مسعود۔
1287 – "جاء الشيطان فانتهرته ولو أخذته لربطته إلى سارية من سوراي المسجد حتى يطوف به ولدان أهل المدينة". (ك عن عتبة ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٨۔۔ میں صبح کی نماز کے لیے نکلا ، مسجد کے دروازے پر مجھے شیطان ملا، اور مجھ سے مزاحم ہوا حتی کہ میں نے اس کے بالوں کے لمس کو محسوس کیا پھر میں نے اس پر قابو پالیا اور اس کا گلا گھونٹا، حتی کہ میں نے اس کی زبان کی خنکی اپنے ہاتھ پر محسوس کی۔ اگر سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کو مقتول پڑاملتا لوگ اس کی طرف دیکھتے۔ عبدبن حمید، وابن مردویہ، بروایت ابی سعید۔
1288 – "خرجت لصلاة الصبح فلقيني شيطان في السدة سدة المسجد فزحمني حتى إني لأجد مس شعره فاستمكنت منه فخنقته حتى إني لأجد برد لسانه على يدي فلولا دعوة أخي سليمان لأصبح مقتولا ينظرون إليه". (عبد بن حميد وابن مردويه عن أبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان کا تاج پہنانا
١٢٨٩۔۔ صبح کے وقت ابلیس اپنے لشکر کو بھیجتا ہے کہتا ہے جس نے آج کسی مسلمان کو گمراہ کیا ہوگا میں اس کو تاج پہناؤں گا، پس اس کے کارندے اس کے پاس اپنی سرگزشت لاتے ہی، ایک کہتا ہے میں ایک شخص کو ورغلانے میں مسلسل مصروف رہا۔۔ حتی کہ بالاخر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے ڈالی۔ شیطان کہتا ہے یہ کوئی اہم کام سرانجام نہیں دیا، ممکن ہے کہ یہ دو بار ہ شادی کرلے، پھر دوسرا آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے آج میں مسلسل اس پر محنت میں مصروف رہا۔۔ حتی کہ اس نے اپنے والدین سے رشتہ توڑ لیا۔ شیطان کہتا ہے کوئی اہم کام سرانجام نہیں دیا ممکن ہے وہ پھر حسن سلوک کرنے لگ جائے۔ پھر ایک اور آگے آتا ہے اور کہتا ہے میں فلاں بندے کے ساتھ مسلسل مصروف رہا حتی کہ وہ شرک میں مبتلا ہو ہی گیا شیطان کہتا ہے ہاں تو تو واقعی کوئی کام کر آیا ہے پھر شیطان اس کو تاج پہناتا ہے۔ الکبیر للطبرانی ، المستدرک للحاکم، بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔
1289 – "إذا أصبح إبليس بعث جنوده فيقول من أضل اليوم مسلما ألبسته التاج فيجيؤون فيقول هذا لم أزل به حتى طلق امرأته فيقول يوشك أن يتزوج ويجيء هذا فيقول لم أزل به اليوم حتى عق والديه فيقول يوشك أن يبر ويجيء هذا فيقول لم أزل به حتى أشرك فيقول أنت أنت ويلبسه التاج". (طب ك عن أبي موسى) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان کا تاج پہنانا
١٢٩٠۔۔ ابلیس اپنے عرش کو سمندر پربچھاتا ہے اور اپنے گردوپیش پردے حائل کرلیتا ہے یوں وہ اس ہیئت کے ساتھ اللہ کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے پھر اپنے لشکر کو پھیلاتا ہے اور پوچھتا ہے فلاں آدمی کو کون گمراہ کرے گا، ؟ دو شیطان کھڑے ہوتے ہیں ابلیس ان کو کہتا ہے میں ایک سال کی تمہیں مہلت دیتاہوں اگر تم نے اس کو گمراہ کردیا تو میں تم سے تکلیف کو دور کردوں گا، ورنہ دونوں کو سولی چڑھادوں گا۔ الکبیر للطبرانی ، ابن عساکر، بروایت ابی ریحانہ۔
1290 – "إن إبليس ليضع عرشه على البحر دونه الحجب يتشبه بالله عز وجل ثم يبث جنوده فيقول من لفلان الآدمي فيقوم إثنان فيقول قد أجلتكما سنة فإن أغويتماه وضعت عنكما البعث وإلا صلبتكما" (طب وابن عساكر عن أبي ريحانة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩١۔۔ جب تم کسی کو جاہلیت کی نسبتوں پر فخر وشیخی جتلاتے دیکھو اسے دور کردو اور اس کو کسی کنیت کے ساتھ بھی مت پکارو۔ مسنداحمد، النسائی، ابن حبان، الکبیر للطبرانی، الضیاء بروایت ابی شرح۔ کنیت عرب میں بطور عزت کے خطاب کے استعمال ہوتی تھی اس وجہ سے اس کے ساتھ ایسے شخص کو پکارنے سے منع کیا گیا۔
1291 – "إذا سمعتم من يتعزى بعزاء الجاهلية فأعضوه ولا تكنوا". (حم ن حب طب والضياء عن أبي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩٢۔۔ جب تم کسی کو جاہلیت کی نسبتوں پر فخر وشیخی جتلاتے دیکھو اسے دور کردو اور اس کو کسی کنیت جو عزت کا خطاب ہے اس کے ساتھ بھی مت پکارو۔ مسنداحمد، ترمذی، بروایت ابی۔
1292 – "إذا رأيتم الرجل يتعزى بعزاء الجاهلية فأعضوه بهن آباءه ولا تكنوا". (حم ت عن أبي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩٣۔۔ جو شخص اپنی عزت و توقیر کی خاطر اپنے نوکافر آباء کے ساتھ نسبت جتلائے وہ جہنم میں انہی کے ساتھ دسواں ہوگا۔ مسنداحمد، السنن لابی داؤد، بروایت ابی ریحانہ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں۔ مسنداحمد کے رجال صحیح ہیں۔ مجج ج ٨ ص ٨٥۔۔
1293 – "من انتسب إلى تسعة آباء كفار يريد بهم عزا وكرما كان عاشرهم في النار". (حم د عن أبي ريحانة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩٤۔۔ اللہ نے تم سے جاہلیت کے تفاخر اور آباء و اجداد پر فخر کو دفع کردیا ہے۔ مومن متقی ہو یافاسق ، شقی ، تم سب آدم کے بیٹے ہو۔ اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہے پس لوگوں کو اپنے قبیلوں پر فخروغرور کرنا ترک کردینا چاہیے، ایسے کفر کی حالت میں چلے جانے والے لوگ جہنم کے کوئلے ہیں۔ یا وہ ان گبریلے جانوروں سے بھی زیادہ جو غلاظت و گندگی کو اپنی ناک سے سونگھتے پھرتے ہیں اللہ کے نزدیک ذلیل ترین ہیں۔ مسنداحمد، سنن ابی داؤد، بروایت ابوہریرہ (رض)۔ شرح فحم، کوئلہ الجعل الذی یدھدہ الخرابانفہ۔ یعنی وہ گبریلا کی مانند جانور جو گندگی میں منہ مارتا ہو۔ النھایہ ، فی غریب الحدیث ج ١ ص ٢٧٧۔
1294 – "إن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء مؤمن تقي وفاجر شقي، أنتم بنو آدم وآدم من تراب ليدعن رجال فخرهم بأقوام إنما هم من فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعلان التي تدفع بأنفها النتن" (حم د عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩٥۔۔ اقوام و قبائل والے اپنے مردہ آباء و اجداد پر فخر سے باز آجائیں، ایسے کفر کی حالت میں چلے جانے والے لوگ جہنم کے کوئلے ہیں یا وہ ان گبریلے جانوروں سے بھی زیادہ جو غلاظت و گندگی کو اپنی ناک سے سونگھتے پھرتے ہیں اللہ کے نزدیک ذلیل ترین ہیں، اللہ نے تم سے جاہلیت کے تفاخر اور آباء و اجداد پر فخر و غرور کو دفع کردیا ہے مومن متقی ہو یا فاسق شقی، سب آدم کے بیٹے ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہے۔ الصحیح ترمذی، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1295 – "لينتهين أقوام يفتخرون بآبائهم الذين ماتوا إنما هم فحم جهنم أو ليكونن أهون على الله من الجعل الذي يدهده الخرأ بأنفه إن الله أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء إنما هو مؤمن تقي وفاجر شقي، الناس كلهم بنو آدم وآدم خلق من تراب". (ت عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩٦۔۔ اے لوگو ! اللہ نے تم سے جاہلیت کے تفاخر اور آباء و اجداد پر فخر کے ساتھ اپنی عظمت جتانے کو ختم فرمادیا ہے۔ سو تمام لوگ فقط دو قسموں پر منقسم ہیں۔ پارسا و متقی شخص، یہ اللہ کے ہاں باعزت ومکرم ہے۔ دوسرافاسق وفاجر، شخص ، یہ اللہ کے ہاں پست مرتبہ ہے اور سب انسان آدم کے فرزند ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔ ترمذی، بروایت ابن عمر (رض)۔
1296 – "يا أيها الناس إن الله قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وتعاظمها بآبائها فالناس رجلان رجل بر تقي كريم على الله وفاجر شقي هين على الله والناس بنو آدم وخلق الله آدم من تراب". (ت عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم ۔۔ جاہلیت کے اخلاق اور حسب ونسب پر فخر کی مذمت
١٢٩٧۔۔ عہد موسوی (علیہ السلام) میں دو شخصوں نے اپنا اپنا حسب ونسب بیان کیا، ایک نے کہا میں فلاں ابن فلاں ابن فلاں ہوں، اس طرح اس نے ساتھ پشتوں کو گنوادیا، اور دوسرے سے کہا، توبتا ! تیری ماں گم ہو، تو کون ہے ؟ دوسرے نے کہا میں فلاں ابن فلاں اسلام کا فرزند ہوں، اللہ نے حضرت موسیٰ کو وحی فرمائی کہ ان کو کہو ! اے نوپشتوں تک اپنے نسب بیان کرنے والے توتوانہی نو کے ساتھ جہنم میں دسواں بن کرجائے گا۔ اور اے دوپشتوں تک اپنے نسب پر اکتفا کرنے والے تو جنت میں ان کا تیسرا ساتھی ہوگا۔ النسائی، شعب الایمان، الضیاء بروایت ابی۔ عبداللہ بن احمد نے اس کو روایت کیا اس کے اصحاب روایت صحیح کے اصحاب ہیں سوائے یزید بن ابی الجعد کے اور وہ بھی ثقہ راوی ہے۔ مجمع ج ٨، ص ٨٥۔
1297 – "انتسب رجلان على عهد موسى فقال أحدهما أنا فلان ابن فلان حتى عد تسعة فمن أنت لا أم لك قال: أنا فلان ابن فلان ابن الإسلام فأوحى الله إلى موسى أن قل لهذين المنتسبين أما أنت أيها المنتسب إلى تسعة في النار فأنت عاشرهم وأما أنت أيها المنتسب إلى اثنين في الجنة فأنت ثالثهما في الجنة". (ن هب والضياء عن أبي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٩٨۔۔ عہد موسیٰ (علیہ السلام) میں دو شخصوں نے اپنا اپنا حسب ونسب بیان کیا ایک کافر تھادوسرامسلم، تھا۔ کافر نے نوآباء تک اپنا نسب بیان کیا ۔ مسلم نے کہا، میں فلاں ابن فلاں ہوں اور باقی سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ توموسی کافر ستادہ منادی آپہنچا اور کہنے لگا اے اپنے نسب بیان کرنے والو، تمہارے متعلق فیصلہ کردیا گیا ہے لہٰذا اے کافر نوپشتوں تک اپنے نسب بیان کرنے والے توتوانہی نو کے ساتھ دسواں بن کرجائے گا۔ اور اے مسلم ، دومسلم پشتوں تک اپنے نسب پر اکتفا کرنے والے تو نے ان کے ماسوائے سے برات کا اظہار کیا تو جنت میں ان کا تیسرا ساتھی ہوگا۔ تو مسلم ہے اور باقی سے مبرا ہے۔ شعب الایمان بروایت معاذ (رض) ۔
1298 – "انتسب رجلان من بني إسرائيل على عهد موسى أحدهما كافر والآخر مسلم فانتسب الكافر إلى تسعة آباء فقال مسلم: أنا فلان ابن فلان وبرئت من سواهم فخرج منادي موسى أيها المنتسبان قد قضي بينكما ثم قال: أيها الكافر أما أنت فانتسبت إلى تسعة آباء وأنت عاشرهم في النار، وأما أنت أيها المسلم فقصرت على أبوين مسلمين وتبرأت ممن سواهم فأنت من أهل الإسلام وبرئت ممن سواهم" (هب عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٩٩۔۔ عہد موسیٰ (علیہ السلام) میں دو شخصوں نے اپنا اپنا حسب ونسب بیان کیا، ایک کافر تھادوسرامسلم، کافر نے کہاں میں فلاں ابن فلاں ہوں اس طرح اس نے سات پشتوں کو گنوایا۔ پھر دوسرے سے کہا، توبتا تیری ماں گم ہو تو کون ہے ؟ دوسرے نے کہا میں فلاں ابن فلاں ہوں اور باقی سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں موسی نے لوگوں میں منادی کروائی، اور ان کو جمع کیا، پھر فرمایا تمہارے متعلق فیصلہ کردیا گیا ہے ، لہٰذا اے نوپشتوں تک اپنے نسب بیان کرنے والے تو جہنم میں ان کی دس کی تعداد پوری کرے گا، اور اے دوباپوں تک اپنے نسب پر اکتفار کرنے والے تو اہل اسلام کا فرزند ہے۔ الکبیر للطبرانی (رح)، بروایت معاذ (رض) ، موقوف ، رجال احد ایسانید طبرانی صحیح مجمع ج ٨ ص ٨٦۔
1299 – "انتسب رجلان من بني إسرائيل على عهد موسى أحدهما مسلم والآخر مشرك فقال أنا فلان ابن فلان حتى عد تسعة آباء ثم قال لصاحبه انتسب لا أم لك فقال: أنا فلان ابن فلان وأنا بريء مما وراء ذلك فنادى موسى في الناس فجمعهم ثم قال: قد قضي بينكما أما أنت الذي انتسبت إلى تسعة آباء فأنت توفيهم العاشر في النار وأما أنت الذي انتسبت إلى أبويك فأنت امرؤ من أهل الإسلام". (طب عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٣٠٠۔۔ تمہارے یہ انساب کسی کے لیے گالی اور برتری کی چیز نہیں ہیں۔ اے بنوآدم تم ان پر صاع کی طرح ہو، اب تم اس کو بھرو کسی کو کسی پر فوقیت و برتری حاصل نہیں، مگر تقوی وعمل صالح کے ساتھ۔ کسی کے براوبدنسب ہونے کے لیے یہی کافی ہے، کہ وہ فاحش ہزیان گو، بخیل اور بزدل ہو۔ مسنداحمد، ابن جریر ، الکبیر للطبرانی بروایت عقبہ بن عامر شرح ، انتم بنوآدم کطف الصاع، ان تملنوہ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ، طف الصاع، ایسے صاع یعنی برتن کو کہتے ہیں، جو بھرنے کے قریب تر ہو لیکن مکمل بھرا ہوانہ ہو، تو مقصود یہ ہے اے بنی آدم تم سب نسبت میں ان بھرے صاع کی طرح ایک باپ کی اولاد ہو یعنی ہم درجہ وہم رتبہ ہو، اور باقی ماندہ صاع کر پر کرنا تمہارے اپنے اپنے عمل پر موقوف ہے۔ الفائق ، ج ٢، ص ، ٣٦٤۔
1300 – "إن أنسابكم هذه ليست بسباب على أحد وإنما أنتم بنو آدم كطف الصاع أن تملئوه ليس لأحد على أحد فضل إلا بدين أوعمل صالح حسب أمرء أن يكون فاحشا بذيا بخيلا جبانا". (حم وابن جرير طب عن عقبة بن عامر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٣٠١۔۔ تمہارے یہ انساب کسی کے لیے گالی اور برتری کی چیز نہیں ہیں۔ تم سب بنوآدم ہو اور بس کسی کو کسی پر فوقیت و برتری حاصل نہیں، مگر دین تقوی کی وجہ سے کسی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ فاحش ہذیان گو، اور بخیل ہو۔ شعب الایمان ، بروایت عقبہ بن عامر، (رض) ۔
1301 – "إن أنسابكم هذه ليست بمسبة على أحد كلكم بنو آدم ليس لأحد على أحد فضل إلا بدين أو تقوى الله وكفى بالرجل أن يكون بذيئا فاحشا بخيلا". (هب عن عقبة بن عامر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٣٠٢۔۔ جو قبائل کے ساتھ اپنی فاخرانہ نسبت کرے اس کو انہی کے ساتھ کردو اور اس کو کنیت کے ساتھ مت پکارو۔ ابن ابی شیبہ بروایت ابی
1302 – "من اتصل بالقبائل فأعضوه بهن أبيه ولا تكنوا". (ش عن أبي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٣٠٣۔۔ جو جاہلیت کی نسبتوں پر فخر وشیخی جتلائے اسے دور کردو اور اس کو کسی کنیت کے ساتھ بھی مت پکاروا۔ مسنداحمد، ابن حبان، الرویائی فی الافراد، بروایت ابی۔
1303 – "من تعزى بعزاء الجاهلية فأعضوه بهن أبيه ولا تكنوا". (حم ز حب والرؤياني في الأفراد عن أبي) .
তাহকীক: