কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১২৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٦٤۔۔ وسوسہ صریح ایمان ہے۔ محمد بن عفان، الاذر، فی کتاب الوسوسہ عن ابراہیم۔
1264 – "الوسوسة محض الإيمان". (محمد بن عفان الأذرعي في كتاب الوسوسة عن إبراهيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٦٥۔۔ نماز میں وساوس کا گھیرنا صریح ایمان ہے اور یہ وساوس کسی مومن کو نہیں چھوڑتے ۔ الاوزاعی بروایت عقیل بن مدرک السلمی۔
1265 – "الوسوسة في الصلاة من الدين من صريح الإيمان ولا تكاد تخطئ مؤمنا". (الأوزاعي عن عقيل بن مدرك السلمي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٦٦۔۔ ابلیس کی کتے کی طرح ایک سونڈ ہوتی ہے جس کو وہ ابن آدم کے قلب پر ڈالے رکھتا ہے اس کے ذڑیعہ سے وہ اس قلب میں شہوات اور لذات کی رغبت ڈالتا رہتا ہے اور طرح طرح کی تمنائیں دلاتا ہے اور اس کے قلب پر وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔۔ حتی کہ اس کو اپنے رب کی ذات کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار بنالیتا ہے۔ پھر اگر بندہ یہ دعا پڑھ لے۔ اعوذ بااللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم، واعوذ بااللہ ان یحضرون ان اللہ ھوالسمیع العلیم۔ کہہ لے تو شیطان ہڑبڑا کر اپنی سونڈ فورا کھینچ لیتا ہے۔ الدیلمی بروایت معاذ (رض)۔
1266 – "إن إبليس له خرطوم كخرطوم الكلب واضعه على قلب ابن آدم يذكره الشهوات واللذات ويأتيه بالأماني ويأتيه بالوسوسة على قلبه ليشككه في ربه، فإذا قال العبد أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم وأعوذ بالله أن يحضرون إن الله هو السميع العليم خنس الخرطوم عن القلب". (الديلمي عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٦٧۔۔ وسوسہ انداز شیطان کی پرندے کی مانند ایک چونچ ہوتی ہے جب ابن آدم اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے توہ شیطان اپنی چونچ کے ذریعہ سے قلب کے کان میں وسوسہ اندازی شروع کردیتا ہے پھر جب ابن آدم اللہ کا ذکر کرنے لگتا ہے تو وہ شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اپنی سونڈ کھینچ لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام وسواس پڑگیا ہے۔ ابن شاہین فی الترغیب فی الذکر بروایت انس (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔
1267 – "إن للوسواس خطما كخطم الطائر فإذا غفل ابن آدم وضع ذلك المنقار في أذن القلب يوسوس فإن ابن آدم ذكر الله عز وجل نكص وخنس فذلك سمى الوسواس". (ابن شاهين في الترغيب في الذكر عن أنس) . وهو ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٦٨۔۔ ہر دل کے لیے ایک وسوسہ انداز شیطان ہوتا ہے پس جب وہ شیطان دل کا پردہ پھاڑ دیتا ہے تو اس بندہ کی زبان اسی کے بول بولتی ہے اور بندہ کو شیطانی خیالات گھیرلیتے ہیں ، لیکن اگر وہ پردہ نہ پھاڑ سکے اور نہ زبان اس پر زیراثر کلام کرے توتب کوئی حرج نہیں ہے۔ الدیلمی ، ابن عساکر، بروایت عائشہ (رض)۔ اس روایت میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن ابی کریمہ ، علامہ عقیلی ان کے متعلق فرماتے ہیں یہ شخص ایسی باطل احادیث بیان کرتا ہے جن کا کوئی ثبوت نہیں۔
1268 – " لكل قلب وسواس فإذا فتق الوسواس حجاب القلب نطق به اللسان وأخذ به العبد وإذا لم يفتق القلب ولم ينطق به اللسان فلا حرج". (الديلمي وابن عساكر عن عائشة وفيه محمد بن سليمان بن أبي كريمة قال عق حدث ببواطيل لا أصل لها) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٦٩۔۔ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور وہ اپنی نماز میں مشغول ہوتا ہے شیطان اس کی مقعد کو کھولتا ہے اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ اس کی ہواخارج ہوگئی ہے اور اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے حالا کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا ہوتاجب کسی کو ایسی صورت پیش آجائے تو وہ نماز سے نہ لوتے جب تک کہ اپنے کانوں سے اس کی آواز نہ سن لے یا اس ریخ کی بو کا احساس نہ ہوجائے۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1269 – "إن الشيطان يأتي أحدكم وهو في صلاته حتى يفتح مقعدته فيخيل إليه إنه أحدث ولم فإذا وجد أحدكم ذلك فلا ينصرف حتى يسمع صوت ذلك بأذنه أو يجد ريح ذلك بأنفه". (طب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٠۔۔ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس کی دبر کے پاس چونچ مارتا ہے تو وہ اس وقت تک نماز سے نہ نکلے جب تک کہ آواز نہ سن لے یاریح کے نکلنے کا یقینی احساس نہ ہوجائے۔ یا خود عمدا ایسانہ کرلے۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1270 – "إن الشيطان يأتي أحدكم فينقر عند عجانه فلا يخرجن حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا أو يفعل ذلك متعمدا". (طب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧١۔۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں مشغول ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور جس طرح کوئی اپنے جانور کو کچوکے لگاتا ہے اسی طرح شیطان اس کو کچوکے لگاتا ہے جب وہ پرسکون ہوجاتا ہے تو اس کو اپنی سرین کے قریب آواز محسوس ہوتی ہے تاکہ وہ شک میں مبتلا ہوجائے سو جب کوئی ایسی صورت سے دوچار ہو اور اس کو شک گزرے کہ کچھ خارج ہوا ہے یا نہیں ؟ تو وہ وضو کے لیے مسجد سے ہرگز نہ نکلے جب تک کہ آواز نہ سن لے یاریح محسوس نہ کرلے۔ مسنداحمد، بروایت ابوہریرہ ۔
1271- "إن أحدكم إذا كان في الصلاة جاء الشيطان فأيس به كما يئس الرجل بدابته فإذا سكن له أضرط بين اليتيه ليفتنه عن الصلاة فإذا وجد أحدكم شيئا من ذلك فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا". (حم عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٢۔۔ جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور جس طرح کوئی اپنے جانور کو کچوکے لگاتا ہے اسی طرح شیطان اس کو کچوکے لگاتا ہے جب وہ پرسکون ہوجاتا ہے تو شیطان اپنی لگام اور کڑوں کیس اتھ اس سے کھیلتا ہے۔ مسنداحمد، ابوالشیخ فی الثواب ، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1272 – "إن أحدكم إذا كان في المسجد جاء الشيطان فايس منه كما يئس الرجل بدابته فإذا سكن له زنقه وألجمه". (حم وأبو الشيخ في الثواب عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٣۔۔ جب تجھے یہ وسوسہ گزرے تو تو اپنی شہادت کی انگلی اپنی دائیں ران میں چبھودے اور بسم اللہ کہہ لے پس یہ شیطان کے لیے چھری ہے۔ الحکیم، الباوردی، الکبیر للطبرانی، بروایت ابی الملیح عن ابیہ۔
1273 – "إذا وجدت ذلك يعني الوسوسة فارفع أصبعك السبابة اليمنى فاطعنه في فخذك اليمنى وقل بسم الله فإنه سكين الشيطان". (الحكيم والبارودي طب عن أبي المليح عن أبيه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٤۔۔ یوں مت کہہہ، شیطان کا ناس ہو براہو، کیونکہ اس سے وہ شیخی میں آکرپھول جاتا ہے حتی کہ ایک کمرے کے بقدر پھول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس کو اپنی قوت و طاقت کے بل بوتے پر زیر کرلیا ہے۔ بلکہ اس کو اس کے بجائے بسم اللہ ۔۔ کہہ لینی چاہیے کیونکہ جب بندہ بسم اللہ کہتا ہے تو شیطان حقیر و چھوٹا ہوتا ہوتا مثل مکھی کے ہوجاتا ہے۔ مسنداحمد، ابی داؤد، نسائی، المسند ابی یعلی، الباوردی، الکبیر للطبرانی ، ابن السنی فی عمل الیوم، واللیلہ۔ المستدرک للحاکم، الدارقطنی فی الافراد، السنن لسعید، بروایت ابی الملیح عن ابیہ مسند احمد، البغوی، صحیح لابن حبان، بروایت ابی تمیمہ ، الھجیمی عن ردیف النبی۔
1274 – "لا تقل تعس الشيطان فإنك إذا قلت ذلك تعاظم فإنه يعظم حتى يصير مثل البيت ويقول بقوتي صرعته ولكن قل بسم الله فإنك إذا قلت ذلك تصاغر حتى يصير مثل الذباب". (حم د ن ع والبارودي طب وابن السني في عمل اليوم والليلة ك قط في الأفراد ص عن أبي المليح عن أبيه) (حم والبغوي حب عن أبي تميمة الهجيمي عن رديف النبي صلى الله عليه وآله وسلم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٥۔۔ تم میں سے کوئی ایساشخص نہیں ہے جس کے ساتھ شیطان نہ ہو۔ صحابہ کرام نے استفسار کیا، اور آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اس پر اللہ نے میری مدد فرمادی ہے وہ میرا مطیع ہوگیا ہے۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی، الکبیر للطبرانی، السنن لسعید، بروایت ابن عباس (رض)۔
1275 – "ليس منكم من أحد إلا وقد وكل به قرينه من الشيطان قالوا وأنت يا رسول الله قال نعم ولكن الله أعانني عليه فأسلم". (حم ع طب ص عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٦۔۔ تم میں سے کوئی ایساشخص نہیں ہے جس کے ساتھ شیطان نہ ہو، صحابہ کرام نے عرض کیا اور نہ آپ ؟ فرمایا ہاں نہ میں باقی بچا ہوں لیکنا للہ نے میری مدد فرمادی ہے وہ میرا مطیع ہوگیا ہے اور مجھے خیر کے سوا کوئی حکم نہیں کرتا۔ الکبیر للطبرانی، بروایت المغیرہ (رض) ۔
1276 – "ما من أحد إلا جعل معه قرين من الجن قالوا ولا أنت يا رسول الله قال ولا أنا إلا أن الله تعالى أعانني عليه فأسلم فلا يأمرني إلا بخير". (طب عن المغيرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٧۔۔ تم میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے ساتھ شیطان نہ ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ اور آپ ؟ کے ساتھ بھی، فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اللہ میری مدد فرمادی ہے اور وہ میرا مطیع ہوگیا ہے اور تم میں سے کوئی ایساشخص نہیں ہے جو اپنے عمل کے زور پر جنت میں داخل ہوجائے صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ اور نہ آپ ؟ فرمایا نہ میں لیکن اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے۔ صحیح لابن حبان، البغوی، ابن قانع، الکبیر للطبرانی ، بروایت شریک بن طارق ۔ امام بغوی فرماتے ہیں میں شریک کی اس کے سوا کسی اور روایت سے واقف نہیں ۔
1277 – "ما منكم من أحد إلا وله شيطان قالوا ولك يا رسول الله قال ولي ولكن الله أعانني عليه فأسلم وما منكم من أحد يدخله عمله الجنة قالوا ولا أنت يا رسول الله قال ولا أنا إلا أن يتغمدني الله برحمته". (حب والبغوي وابن قانع طب عن شريك بن طارق) . قال البغوي لا أعلم له غيره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٨۔۔ کوئی بھی بندہ جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو وہ مخلوق خدا کے دواطراف میں گھرا ہوا ہوتا ہے مخلوق خدا اپنے ہاتھ پھیلائے منہ کھولے اس کی ہلاکت کی تاک میں ہوتی ہے اگر اللہ اس کی نگہبانی کے لیے حفاظت فرشتے مقرر نہ کیے ہوتے تو مخلوق خدا اس کو ہلاک کر ڈالتی ، نگہبان فرشتے مسلسل ان کو دفع کرتے رہتے ہیں اللہ عزوجل فرشتگان کو حفاظت کا حکم دیتے ہیں اور وہ ہراس بلا کی مصیبت کو اس سے ٹالتے رہتے ہیں جو لوح محفوظ میں اس کے مقدر میں نہیں لکھی ہوتی، لیکن جو مصیبت اس کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے اس کو فرشتے ہرگز دور نہیں کرتے اگر ابن آدم ان شیطان وغیرہ مرئی مخلوق کو دیکھ لے جو اس کو نقصان دہی کے درپے ہوتی ہے تویوں محسوس کرے گا جس طرح پہاڑوں اور وادیوں ہر جگہ میں کسی مردار پر مکھیوں کے بھٹ کے بھٹ اٹے ہوئے ہیں۔ الدیلمی ، بروایت ابن عمرو۔
1278 – "ما من عبد يخرج من بيته إلا كان بين حفافين من خلق الله كلهم باسط يده فاغر فاه يريد هلكته ولولا ما قدر الله به من الحفظة لأهلكوه وتقول الحفظة إليكم إليكم حتى يأذن الله عز وجل فيه فيدرؤون عنه ما لم يقدر عليه في اللوح المحفوظ ولا يدرؤون عنه شيئا مما قدر عليه ولو تراءى لابن آدم ما وكل به من الشياطين لتراءى له في السهل والجبل بمنزلة الذباب على الجيفة". (الديلمي عن ابن عمرو) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہوا خارج ہونے کا وسوسہ ۔
١٢٧٩۔۔ مومن کی نگہبانی کے لیے تین سو ساٹھ فرشتے مامور ہوتے ہیں جو اس سے ہر غیر مقدر بلا و مصیبت کو ہٹاتے رہتے ہیں ان میں سے نوفرشتے آنکھ کی حفاظت کے لیے مقرر ہوتے ہیں۔ وہ اس طرح اس کی حفاظت کرتے ہیں جس طرح گرمی کے دن شہد کے پیالہ سے مکھیوں کو بار بار دور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ ان دیکھی مخلوق تم پر ظاہر ہوجائے تویوں محسوس کرو گے کہ پہاڑوں وادیوں ہر جگہ میں بلائیں اپنے ہاتھ پھیلائے منہ کھولے اس کی ہلاکت کی تاک میں ہیں اور اگر بندہ کو پلک جھپکنے تک اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو شیطان اس کو اچک لیں۔ ابن ابی الدنیا، فی مکائد الشیطان، ابن قانع، الکبیر لطبرانی، بروایت ابی امامہ (رض) ۔
1279 – "وكل بالمؤمن ستون وثلاثمائة ملك يذبون عنه ما لم يقدر عليه، من ذلك للنظر تسعة أملاك يذبون عنه كما يذبون قصعة العسل من الذباب في اليوم الصائف وما لوبدا لكم لرأيتموهم على كل جبل وسهل كلهم باسط يده فاغر فاه وما لو وكل العبد فيه إلى نفسه طرفة عين خطفته الشياطين". (ابن أبي الدنيا في مكايد الشيطان وابن قانع طب عن أبي أمامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٠۔۔ شیطان مجھ پر آگ کے شرار ڈال رہا تھا تاکہ میری نماز خراب کرے میں نے اس کو پکڑ نے کا ارادہ کیا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو مجھ سے چھوٹ نہ پاتا حتی کہ مسجدوں کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیاجاتا۔ اور مدینہ کے بچے اس کو دیکھتے۔ الکبیر للطبرانی ، المصنف لعبدالرزاق ، مسنداحمد، الباوردی، السنن لسعید، بروایت جابر بن سمرہ (رض) ۔
1280 – "إن الشيطان كان يلقي علي شرر النار ليفتنني عن الصلاة فتناولته فلو أخذته ما انفلت مني حتى يناط إلى سارية من سواري المسجد ينظر إليه ولدان أهل المدينة". (طب عب حم والبارودي ص عن جابر بن سمرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨١۔۔ شیطان نے نماز میں میرے سامنے سے گزرناچاہا میں نے اس کو گردن سے دبوچ لیا۔۔ حتی کہ میں نے اس کی زبان کی خنکی اپنے ہاتھ پر محسوس کی۔ اور اللہ کی قسم اگر میرے بھائی سلیمان کی بات نہ ہوتی تو وہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے گرد گھومتے۔ الدارقطنی ، طبرانی، بخاری و مسلم، بروایت جابر بن سمرہ۔ حضرت سلیمان کو جنوں پر حکومت حاصل تھی، اور انھوں نے دعا فرمائی کہ یا اللہ مجھے ایسی سلطنت عطا فرماجو میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو اس وجہ سے حضور نے ابلیس جن کونہ پکڑا کہ کہیں ان کی اس حکمرانی میں ایک گونہ مجھے شرکت حاصل نہ ہو۔ یہ محض محبت اور قلبی تعلق کی خاطر آپ نے ایسا فرمایا۔
1281 – "إن الشيطان أراد أن يمر بين يدي فخنقته حتى وجدت برد لسانه على يدي وايم الله لولا ما سبق إليه أخي سليمان لارتبط إلى سارية من سواري المسجد حتى تطيف به ولدان أهل المدينة". (قط طب ق عن جابر بن سمرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٢۔۔ دشمن خدا ابلیس میرے پاس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ میرے چہرے پر ڈال دے ، میں نے تین بارکہا، اعوذ بااللہ منک، پھر میں نے تین بار کہا، العنک بلعنۃ اللہ التامہ۔ لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں لیکن اگر میرے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ شیطان صبح کو جکڑا ملتا اور مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ مسلم، نسائی، بروایت ابی الدردائ۔
1282 – "إن عدو الله إبليس جاء بشهاب من نار ليجعله في وجهي فقلت: أعوذ بالله منك ثلاث مرات ثم قلت ألعنك بلعنة الله التامة فلم يستأخر ثلاث مرات ثم أردت أخذه والله لولا دعوة أخينا سليمان لأصبح موثقا يلعب به ولدان أهل المدينة". (م ن عن أبي الدرداء) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیطان وسوسے میں ڈالتا ہے۔
١٢٨٣۔۔ اس شیطان نے میرے قدموں پر آگ کا ایک شعلہ ڈال دیا تاکہ میری نماز فاسد کردے لیکن میں نے اس کو جھڑک دیا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو وہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا۔ اور مدینہ کے بچے اس کے گرد گھومتے۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت جابر بن سمرہ (رض) ۔
پس منظر :۔۔ حضور اکرم صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے سامنے کسی چیز کو دھتکارنے لگے پھر نماز سے فراغت کے بعد ہمارے سوال کرنے پر مذکورہ ارشاد فرمایا۔
پس منظر :۔۔ حضور اکرم صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے سامنے کسی چیز کو دھتکارنے لگے پھر نماز سے فراغت کے بعد ہمارے سوال کرنے پر مذکورہ ارشاد فرمایا۔
1283 – "ذاك شيطان ألقى على قدمي شرارا من النار ليفتني عن صلاتي وقد انتهرته ولو أخذته لنيط إلى سارية من سواري المسجد حتى يطيف به ولدان أهل المدينة". (طب عن جابر بن سمرة) قال صلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم الصبح فجعل ينتهر شيئا قدامه فلما انصرف سألناه قال فذكره.
তাহকীক: