কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠١۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی وہی بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ مسندابی یعلی ، ابن حبان، سنن سعید، ابن منصور، بروایت انس (رض)۔
101 – "لا يبلغ العبد حقيقة الإيمان حتى يحب للناس مايحب لنفسه من الخير" (ع حب ص عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٢۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ یہ یقین نہ کرلے کہ جو مصیبت اس کو پہنچی ہے وہ چوک جانے والی نہ تھی، اور جو نہیں پہنچی وہ پہنچنے والی نہ تھی، الطبرانی فی الکبیر، ابن عساکر، بروایت ابوالدرداء (رض) ۔
102 – "لا يبلغ العبد حقيقة الإيمان حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه" (س وحسنه طب كر عن أبي الدرداء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٣۔۔ ہرچیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی وہی بھلائی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور جب تک کہ اس کا پڑؤسی اس کی ایذا رسانیوں سے مامون نہ ہوجائے۔ ابن عساکر ، بروایت ابن عمر (رض)۔
103 – " لكل شيء حقيقة ومايبلغ العبد حقيقة الإيمان حتى يحب للناس مايحب لنفسه وحتى يأمن جاره من بوائقه" (كر عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٤۔ کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی وہی بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ ابن جریر بروایت ابن عمرو (رض) ۔
104 – "لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يحب للناس مايحب لنفسه" (ابن جرير عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٥۔۔ اسلام کو آراستہ کرو، اس طرح کہ تم اللہ کے لیے ہی محبت کرو اور للہ کے لیے ہی نفرت کرو۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاخوان بروایت المورج۔
105 – " أوثق عرى الإسلام أن تحب في الله وتبغض في الله" (ابن أبي الدنيا في كتاب الإخوان عن البراء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٦۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کو مکمل نہیں کرسکتا، جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہیا ورجب تک اپنے مذاق اور سنجیدہ پن میں بھی اللہ سے نہ ڈرے۔ المعرفۃ لابی نعیم بروایت ابی ملیکہ الدارمی۔
106 – "لا يستكمل عبد الإيمان حتى يحب لأخيه مايحب لنفسه وحتى يخاف الله في مزاحه وجده" (أبو نعيم في المعرفة عن أبي مليكة الداري (1)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
107 ۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کو مکمل نہیں کرسکتا، جب تک کہ اس میں تین خصلتیں نہ پیدا ہوجائیں تنگدستی میں خرچ کرنا اپنے نفس سے انصاف کرنا، اور سلام کرنا، الخرائطی فی مکارم الاخلاق ، بروایت عمار بن یاسر، الدیلمی بروایت انس (رض)۔
107- "لايستكمل العبد الإيمان حتى يكون فيه ثلاث خصال الانفاق في الاقتار والانصاف من نفسه وبذل السلام" (الخرائطي في مكارم الأخلاق عن عمار بن ياسر) الديلمي عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٨۔۔ کھانا کھلاؤ اور ہر ایک کو سلام کروخواہ جان پہچان ہو یا نہیں۔ احمد بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، بروایت ابن عمرو (رض) ۔

اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک شخص نے آپ سے دریافت کیا تھا کہ اسلام میں کیا چیز بہتر ہے ، آپ نے ان کو مذکورہ بالاجواب ارشاد فرمایا تھا۔
108 – "تطعم الطعام وتقري السلام على من عرفت ومن لم تعرف" (حم خ م د ن هـ عن ابن عمر) "إن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أي الإسلام خير قال" فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔ ایمان واسلام کی فضیلت میں۔ اس فصل کے دوحصے ہیں۔ پہلاحصہ ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں۔
١٠٩۔۔ اللہ عزوجل قیامت کے روز امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق کے سامنے بلائیں گے پھر اس کے اعمال ناموں کے ننانوے دفتر اس کے سامنے پیش ہوں گے ہر دفتر انتہانظر تک پھیلاہوگا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے ؟ شاید نامہ اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کردیاہو، وہ عرض کرے گا نہیں پروردگار۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا تیرے پاس ان کا کوئی عذر ہے وہ عرض کرے گایا پروردگار نہیں۔ پھر للہ اس سے فرمائیں گے لیکن ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے اور آج کے دن تجھ پر ظلم کوئی نہیں ہوگا، پھر ایک کاغذ کا ٹکڑانکلا جائے گا، جس میں اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ وردولہ، درج ہوگا، اللہ فرمائیں گے جا اس کو وزن کرالے۔ بندہ عرض کرے گا پروردگار اتنے عظیم دفتروں کے مقابلے میں یہ اتنا ساپرزہ کیا کرے گا ؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن پر تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا، اور پھر تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں اور اس کاغذ کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا، اور کاغذ والاپلڑا اس قدر وزنی ہوگا کہ وہ تمام دفتر اڑتے پھریں گے بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہے۔ مسنداحمد مستدرک ، شعب الایمان بروایت ابن عمرو (رض) ۔
109 – "إن الله سيخلص رجلا من أمتي على رؤوس الخلائق يوم القيامة فينشر عليه تسعة وتسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر ثم يقول أتنكر من هذا شيئا أظلمك كتبتي الحافظون فيقول لا يا رب فيقول أفلك عذر فيقول لا يا رب فيقول بلى إن لك عندنا حسنة وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فيقول أحضر وزنك فيقول يا رب ماهذه البطاقة مع هذه السجلات فيقال فإنك لا تظلم فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة ولايثقل مع اسم الله تعالى شيء" (حم ت ك هب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔ ایمان واسلام کی فضیلت میں۔ اس فصل کے دوحصے ہیں۔ پہلاحصہ ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں۔
١١٠۔۔ قیامت کے روز میری امت کے ایک فرد کو بلایا جائے گا، پھر اس کے اعمال ناموں کے ننانوے دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے ہر دفتر انتہا نظر تک پھیلاہوگا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تو ان میں سے کسی کا انکار کرتا ہے تو وہ کہے گا نہیں پر اللہ اس سے فرمائیں گے شاید نامہ اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کردیاہو، وہ عرض کرے گا نہیں، پھر اللہ اس سے فرمائیں کیا تیرے پاس کوئی ان کا عذر ہے یا تیرے پاس کوئی نیکی ہے آدمی خوفزدہ ہو کر عرض کرے گا نہیں، پھر اللہ اس سے فرمائیں گے لیکن ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے اور آج کے دن پر تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر ایک کاغذ کا ٹکڑا لایا جائے گا جس میں جس میں اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ وردولہ، درج ہوگا، اللہ فرمائیں گے جا اس کو وزن کرالے۔ بندہ عرض کرے گا پروردگار اتنے عظیم دفتروں کے مقابلے میں یہ اتنا سا پرزہ کیا کرے گا ؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن پر تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا، اور پھر تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں اور اس کاغذ کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا، اور کاغذ والاپلڑا اس قدر وزنی ہوگا کہ وہ تمام دفتر اڑتے پھریں گے بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہے۔ بخاری، المستدرک للحاکم، بروایت ابن عمرو۔
110 – "يصاح برجل من أمتي يوم القيامة على رؤوس الخلائق فينشر له تسعة وتسعون سجلا كل سجل مد البصر ثم يقول الله تبارك وتعالى هل تنكر من هذا شيئا فيقول لا يا رب فيقول أظلمك كتبتي الحافظون فيقول لا يا رب ثم يقول ألك عذر ألك حسنة فيهاب الرجل فيقول لا فيقول بلى إن لك عندنا حسنة وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج له بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات فيقول إنك لا تظلم فتوضع السجلات في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة " (خ ك عن ابن عمرو) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔ ایمان واسلام کی فضیلت میں۔ اس فصل کے دوحصے ہیں۔ پہلاحصہ ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں۔
١١١۔۔ لوگوں کو یہ مژدہ سنادو کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہایکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ شخص جنت میں داخل ہوجائے گا۔ مسندابی یعلی ، بروایت عمر (رض)۔
111 – "أذن في الناس أن من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له مخلصا دخل الجنة " (ع عن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔ ایمان واسلام کی فضیلت میں۔ اس فصل کے دوحصے ہیں۔ پہلاحصہ ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں۔
١١٢۔۔ اے ابوہریرہ بطور نشانی میرے یہ دوجوتے لے جاؤ اور اس دیوار کے پیچھے جو بھی ایساشخص ملے وہ دل کے یقین کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہو تو اس کو جنت کی خوش خبری سنادو۔ مسلم، بروایت ابوہریرہ۔
112 – "اذهب بنعلي هاتين فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة" (م عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔ ایمان واسلام کی فضیلت میں۔ اس فصل کے دوحصے ہیں۔ پہلاحصہ ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں۔
١١٣۔ اے ابن خطاب جاؤ لوگوں میں اعلان کردو کہ جنت میں مومنین کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔ مسنداحمد مسلم، بروایت عمر (رض)۔
113 – "يا ابن الخطاب اذهب فناد في الناس: لا يدخل الجنة إلا المؤمنون" (حم م عن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔ ایمان واسلام کی فضیلت میں۔ اس فصل کے دوحصے ہیں۔ پہلاحصہ ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں۔
١١٤۔۔ اے ابن عوف۔ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جاؤ اور لوگوں میں اعلان کردو کہ مومن کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ابوداؤد بروایت العرباض۔
114 – "يا ابن عوف اركب فرسك ثم ناد: إن الجنة لا تحل إلا لمؤمن" (د عن العرباض) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاسق شخص سے بھی دین کا کام لیاجاتا ہے
١١٥۔۔ اے بلال کھڑے ہو اور لوگوں میں اعلان کردو کہ مومن کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کسی فاسق شخص کے ذریعے بھی اس دین کی مدد کروالیتے ہیں بخاری ، بروایت ابوہریرہ۔

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ خیبر میں بغرض جہاد حضور کے ہمراہ تھے ایک شخص جو اسلام کا دعویددار تھا آپ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ شخص جہنمی ہے پھر جب جنگ کا بازار گرم ہوا تو اس شخص نے اسلام کی حمایت میں خوب شدت کے ساتھ جنگ کی حتی کہ اس کا کاری زخم لگا، اس شخص کی اسلام کی راہ میں جانفشانی دیکھ کر صحابہ کو تعجب کا سامنا ہوا۔ آخر بارگاہ نبوت میں سوال کیا گیا یارسول اللہ جس شخص کے متعلق آپ نے جہنمی ہونے کا حکم عائد فرمایا اس نے تو راہ خدا میں اپنی جان کی بازی لگادی، لیکن آپ اپنی رائے مبارک پر قائم رہے انجام کار اس شخص نے جنگ کے زخم سے عاجز آکر خود کشی کرلی۔ اور یہ خبر بارگاہ رسالت میں پہنچی تو آپ نے حضرت بلال کو حکم فرمایا اے بلال کھڑے ہو اور لوگوں میں اعلان کروادو کہ مومن کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا، اور للہ کسی فاسق شخص کے ذریعے بھی اس دین کی مدد کروالیتے ہیں۔
115 – "يا بلال قم فأذن لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر" (خ عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاسق شخص سے بھی دین کا کام لیاجاتا ہے
١١٦۔۔ جو شخص لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کے ساتھ مجھ سے اس طرح ملے کہ اس میں کچھ شک نہ کرتا ہوں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مسنداحمد مسلم، بروایت ابوہریرہ۔
116 – "أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله لا يلقاني بهما عبد غير شاك فيهما إلا دخل الجنة"(حم م عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاسق شخص سے بھی دین کا کام لیاجاتا ہے
١١٧۔ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں جو بندہ موت کے وقت اس کو کہہ لیتا ہے ۔۔ وہ کلمہ اس کے اعمال ناموں کے لیے نور بن جاتا ہے اور اس کا جسم اور روح موت کے وقت اس کلمہ کی وجہ سے خوشی اور تروتازگی پاتے ہیں۔ نسائی، ابن ماجہ، الصحیح لابن حبان، بروایت طلحہ (رض) ۔
117 – "إني لأعلم كلمة لا يقولها عبد عند موته إلا كانت نورا لصحيفته وإن جسده وروحه ليجدان لها روحا عند الموت" (ن هـ حب عن طلحة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاسق شخص سے بھی دین کا کام لیاجاتا ہے
١١٨۔۔ لوگوں کو خوش خبری سنادو کہ جس نے لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ نسائی ، بروایت سھل بن حنیف۔ وبروایت زید بن خالد جھنی۔
118 – "بشر الناس أنه من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له وجبت له الجنة" (ن عن سهل بن حنيف وعن زيد بن خالد الجهني) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاسق شخص سے بھی دین کا کام لیاجاتا ہے
١١٩۔۔ ہرگز کوئی بندہ قیامت کے روز اللہ کی رضاء کے لیے لاالہ الاللہ کہتا ہوانہ آئے گا مگر اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام فرمادیں گے ۔ مسنداحمد ، بخاری، بروایت عتبان بن مالک۔
119 – "لن يوافى عبد يوم القيامة يقول لا إله إلا الله يبتغي بها وجه الله إلا حرم الله عليه النار" (حم خ عن عتبان بن مالك) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فاسق شخص سے بھی دین کا کام لیاجاتا ہے
٢٠۔۔ کسی بھی بندہ نے لاالہ الا اللہ کا اقرار نہیں کیا۔۔ پھر اسی پر مرگیا مگر وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا خواہ اس نے چوری کی ہو یازناکیاہو، خو اس نے چوری نہ کی ہو، اور زنا کیا ہو۔ خواہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ مسنداحمد بخاری، مسلم، ابن ماجہ، بروایت ابوذر (رض)۔ یہ مضمون مختلف احادیث میں آیا ہے علامہ ابن حجر حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ امام بخاری (رح) کے نزدیک حدیث میں ایساشخص مراد ہے جو قبل از وفات توبہ تائب ہوجائے۔ اور دیگرمحدثین کے نزدیک حدیث عموم پر محمول ہے کہ دخول جنت عام ہے خواہ اول وہلہ میں ہوجائے یا اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد۔
120 – "ما من عبد قال لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة وإن زنى وإن سرق وإن زنى وإن سرق وإن زنى وإن سرق وان رغم أنف أبي ذر" (حم ق هـ عن أبي ذر) .
tahqiq

তাহকীক: