কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨١۔۔ اللہ کے تین سوپندرہ اوصاف ہیں۔ اور رحمن کی ذات فرماتی ہے میری عزت کی قسم میرا کوئی بندہ میرے پاس اس حال میں آئے کہ ان اوصاف میں میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو تو اس کو جنت میں ضرور داخل کروں گا۔ الحکیم بروایت ابوسعید۔
81 – "إن لله تعالى ثلثمائة وخمس عشر شريعة يقول الرحمن وعزتي لا يأتيني عبد من عبادي لا يشرك بي شيئا بواحدة منهن إلا أدخلته الجنة" (الحكيم عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٢۔۔ رحمن عزوجل کے سامنے ایک لوح مبارک ہے جس میں تین سوپندرہ اوصاف ہیں رحمن فرماتے ہیں میری عزت و جلال کی قسم میرا کوئی بندہ ان اوصاف میں میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہوا آئے تو وہ یقیناً جنت میں داخل ہوگا۔ عبد بن حمید بروایت ابوسعید۔
82 – "إن بين يدي الرحمن لوحا فيه ثلثمائة وخمس عشر شريعة يقول الرحمن وعزتي وجلالي لا يأتي عبد من عبادي لا يشرك بي شيئا فيه واحدة منها إلا دخل الجنة" (عبد بن حميد عن أبي سعيد) ضعف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٣۔۔ ایمان تین سو تیس اوصاف کا نام ہے اگر کوئی ایک کے ساتھ بھی متصف ہوگا تو جنت میں داخل ہوگا۔ الطبرانی فی الکبیر، والاوسط، ابن حبان، ابن النجار، بروایت المغیرہ بن عبدالرحمن بن عبید عن ابیہ عن جدہ۔
83 – "الإيمان ثلثمائة وثلاثون شريعة من وافى شريعة (1) منها دخل الجنة" (طس طب حب (2) وابن النجار عن المغيرة بن عبد الرحمن بن عبيد عن أبيه عن جده) وضعف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٤۔۔ ایمان کے ستر یا بہتر دروازے ہیں سب سے اعلی لاالہ الا اللہ ہے اور سب سے ادنی راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے ابن حبان، بروایت المغیرہ بن عبدالرحمن بن عبید عن ابیہ عن جدہ وضعف۔
84 – "الإيمان سبعون أو اثنان وسبعون بابا أرفعه لا إله إلا الله وأدناه إماطة الأذى عن الطريق والحياء شعبة من الإيمان" (حب عنه) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٥۔۔ آدمی مومن ہوسکتا۔۔ حتی کہ اس کا دل اس کی زبان کے برابرنہ ہوجائے اور اس کی زبان دل کے برابر نہ ہوجائے اور اس کا عمل اس کے قول کی مخالفت نہ کرے۔ اور اس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ ہوجائے ابن بلال فی مکارم الاخلاق۔
85 – "إن الرجل لا يكون مؤمنا حتى يكون قلبه مع لسانه سواء ويكون لسانه مع قلبه سواء ولايخالف قوله عمله ويأمن جاره بوائقه" (ابن بلال في مكارم الأخلاق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٦۔۔ یقیناً ایمان اسی شخص کے دل میں ٹھہرتا ہے جو اللہ عزوجل سے محبت رکھتا ہے۔ الدیلمی، ابن النجار، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
86 – "الإيمان في قلب الرجل يحب الله عز وجل" (الديلمي وابن النجار عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٧۔۔ ایمان مجرد ہے اس کی زینت حیا ہے اس کالباس تقوی ہے اس کا سرمایہ عفت ہے۔ ابن النجار بروایت ابوہریرہ (رض) الخرایظی فی مکارم الاخلاق بروایت وھب ابن منبہ ۔
87 – "الإيمان عريان وزينته الحياء ولباسه التقوى وماله الفقه" (ابن النجار عن أبي هريرة) (الخرائطي في مكارم الأخلاق عن وهب (ابن منبه) معروف
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٨۔۔ تین چیزیں ایمان سے تعلق رکھتی ہیں تنگدستی میں خرچ کرنا عالم کو سلام کرنا اور اپنے نفس سے انصاف کرنا۔ ابوحامد ، الطبرانی، فی الکبیر، بروایت عمار رضیا للہ عنہ۔ بزار نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔
88 – "ثلاث من الإيمان الإنفاق في الإقتار وبذل السلام للعالم والإنصاف من نفسك" (بز طب عن عمار) ورجح بز وقفه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٨٩۔۔ تین خصلتوں کو جس نے جمع کرلیا بلاشبہ اس نے ایمان کی خصلتوں کو جمع کرلیا، تنگدستی میں خرچ کرنا، اپنے نفس سے انصاف کرنا، اور عالم کو سلام کرنا۔ الحلیہ بروایت عمار رضی الہ عنہ۔ خرچ کرنے کا مصرف عام ہے خواہ اہل و عیال پر کیا جائے یا کسی مفلس تنگدست پر۔ علامہ نووی فرماتے ہیں یہاں اگر عالم کو سلام کی تاکید ہے تو دوسرے مقام پر آیا ہے کہ سلام کروہر مسلمان شخص کو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہیں ، اور سلام کو خوب رواج دو ۔ اور یہی چیز باہمی فسادات کا قلع قمع کرنے والی بھی ہے۔

اور اپنے نفس سے انصاف کرو، اس ارشاد نبوی کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ذات سے جو حقوق متعلق ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی مت کرو خواہ خالق خداوندی کے حقوق ہوں یابندگان خالق کے سب کو بکمالہ ادا کرو۔ اور اپنے نفوس پر زائد از طاقت بوجھ ڈالنے سے بھی گریز کرو نیز اپنے لیے ایسے دعوی نہ کرو جس کے تم حامل نہیں۔
89 – "ثلاث خلال من جمعهن فقد جمع خلال الإيمان الانفاق من الاقتار والانصاف من نفسك وبذل السلام للعالم" (حل عن عمار) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٠۔۔ جس نے اللہ عزوجل کے لیے محبت کی اللہ کے لیے نفرت کی اللہ کے لیے عطا کیا اور اللہ کے لیے ہی منع کیا تویقینا اس نے ایمان مکمل کرلیا۔ مسنداحمد بروایت معاذ بن انس۔
90 – "من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الإيمان" (حم عن معاذ بن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩١۔ قسم ہے اللہ کی۔۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے نزدیک میری ذات، اس کی اولاد اس کے والد سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے مستدرک بروایت فاطمہ بن عتبہ۔
91 – "والله لا يكون أحدكم مؤمنا حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده" (ك عن فاطمة بنت عتبة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٢۔۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے نزدیک میری ذات ہے اس کی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔ مسند احمد ، بروایت عبداللہ بن ھناد۔
92 – "لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه" (حم عن عبد الله بن هشام) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٣۔۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کے نزدیک میری ذات اس کی ذات سے اور میرے اہل اس کے اہل سے اور میرا خاندان اس کے خاندان سے اور میری آل اس کی آل سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔ الطبرانی فی الکبیر، شعب الایمان، للبیقی ، بروایت عبدالرحمن بن ابی لیلی عن ابیہ۔
93 – "لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه، وأهلي أحب إليه من أهله، وعترتي أحب إليه من عترته، وذريتي أحب إليه من ذريته" (طب هب عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٤۔۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اللہ ہی کے لیے محبت نہ کرنے والابن جائے۔ مسنداحمد بروایت انس (رض)۔
94 – "لا يؤمن أحدكم حتى يحب المرء لا يحبه إلا لله" (حم عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
95 ۔۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جو تک وہ لوگوں کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ((الخرايطي في مکارم الأخلاق عن أنس) .
95 – "لا يؤمن عبد حتى يحب للناس مايحب لنفسه من الخير" (الخرايطي في مكارم الأخلاق عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٦۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ سے زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا پڑؤسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہوجائے۔ ابن عساکر بروایت سید بن عبداللہ بن زید القسری عن ابیہ عن جدہ۔
96 – "لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه مايحب لنفسه والمسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، لا يؤمن أحدكم حتى يأمن جاره شره" (ابن عساكر عن اسيد بن عبد الله بن زيد القسري عن أبيه عن جده) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٧۔۔ بندہ اس وقت تک مشرف باایمان نہیں ہوسکتا، تاوقتیکہ اس کی زبان اور دل یکساں نہ ہوجائیں اور جب تک اس کا پڑوسی اس کی تکالیف سے محفوظ نہ ہوجائے اور اس کا عمل اس کے قول کی مخالفت نہ کرے۔ ابن النجار بروایت انس (رض)۔
97 – "لا يؤمن عبد حتى يكون لسانه وقلبه سواء وحتى يأمن جاره بوائقه ولايخالف قوله فعله" (ابن النجار عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٨۔۔ بندہ اچھی طرح ایمان کو اس وقت تک نہیں پاسکتا، جب تک کہ اس کی محبت ونفرت اللہ ہی کے لیے نہ ہوجائے پس جب وہ اللہ ہی کے لیے محبت ونفرت کرنے لگے تو وہ اللہ عزوجل کی جانب سے ولایت کا مستحق ہوگیا اور میرے بندوں میں سے میرے اولیا میری مخلوق میں سب سے میرے محبوب بندے وہ ہیں جو میرا ذکر کرتے ہیں اور میں انکاذکر کرتا ہوں۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عمرو بن الحمق۔
98 – "لا يجد العبد صريح الإيمان حتى يحب ويبغض لله فإذا أحب لله وأبغض لله فقد استحق الولاية من الله وإن أولياي من عبادي وأحباي من خلقي الذين يذكرون بذكري وأذكر بذكرهم" (طب عن ابن عمرو بن الحمق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توحید کا اقرار کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا
٩٩۔۔ بندہ ایمان کی حقیقت اس وقت تک حق دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا غصہ اور ناراضگی اللہ کے لیے نہ ہوجائے پس جب یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق ہوجاتا ہے ، اور میرے محبوب اور میرے اولیاء وہ لوگ ہیں جو میرا ذکر کرتے ہیں اور میں ان کا ذکر کرتا ہوں۔ الطبرانی فی الاوسط بروایت عمرو بن الحمق۔
99 – "لا يحق العبد حقيقة الإيمان حتى يغضب لله ويرضى لله فإذا فعل ذلك فقد استحق حقيقة الإيمان وإنما أحباي وأولياي الذين يذكرون بذكري وأذكر بذكرهم" (طس عن محمد بن عمرو بن الحمق) *وضعف
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لیے محبت اللہ کے لیے نفرت ایمان کی علامت ہے
١٠٠۔۔ بندہ کامل طرح ایمان کا حقدار اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی محبت ونفرت اللہ ہی کے لیے نہ ہوجائے پس جب وہ اللہ ہی کے لیے محبت ونفرت کرنے لگے تو وہ اللہ کی جانب سے ولایت کا مستحق ہوگیا، اور میرے بندوں میں سے میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے میرے محبوب بندے وہ ہیں جو میرا ذکر کرتے ہیں اور میں ان کا ذکر کرتا ہوں۔ مسنداحمد بروایت عمرو بن الحمق۔
100 – " لا يحق العبد حق صريح الإيمان حتى يحب لله ويغضب فإذا أحب لله وأبغض فقد استحق الولاية من الله تعالى فإن أولياي من عبادي وأحباي من خلقي الذين يذكرون بذكري وأذكر بذكرهم" (حم عن ابن عمر بن الحمق) .
tahqiq

তাহকীক: