কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১১৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٤٤۔۔ جب تم میں سے کوئی قتال کرے توچہرے پر مارنے سے احتراز کرے۔ المصنف لعبدالرزاق ، مسنداحمد، عبد بن حمید، المسند ابی یعلی، الدارقطنی فی الافراد، السنن لسعید، بروایت ابی سعید (رض) ۔
1144 – "إذا قاتل أحدكم فليجتنب الوجه". (عب حم وعبد بن حميد ع قط في الأفراد ص عن أبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٤٥۔۔ جب تم میں سے کوئی کسی کو مارے توچہرے پر مارنے سے اجتناب کرے اور نہ کسی کو یوں بددعا دے کہ اللہ تیرے چہرے کو برا کرے۔ یا تیرے چہرے جیسے چہروں کا برا کرے۔ المصنف لعبدالرزاق، مسنداحمد، الدارقطنی فی الصفات، الکبیر للطبرانی ، ابن عساکر، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1145 – "إذا ضرب أحدكم فليجتنب الوجه ولا يقل قبح الله وجهك ووجه من أشبه وجهك فإن الله عز وجل خلق آدم على صورته". (عب حم قط في الصفات طب السنة كر عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٤٦۔۔ جب تم میں سے کوئی کسی کو مارے توچہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ انسان کی صورت رحمن کی صورت پر پیدا کی گئی ہے۔ الدارقطنی فی الصفات ، بروایت ابوہریرہ۔
1146 – "إذا ضرب أحدكم فليجتنب الوجه فإن صورة الإنسان على صورة الرحمن". (قط في الصفات عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٤٧۔۔ جب تم کسی کو زودوکوب کروتوچہرے کو بچاؤ کیونکہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پید ا فرمایا ہے ، المصنف عبدالرزق ، بروایت قتادہ مرسلا۔
1147 – "إذا ضربتم فاتقوا الوجه فإن الله تعالى خلق آدم على صورته". (عب عن قتادة مرسلا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٤٨۔۔ کسی کی شکل و صورت کو برابھلامت کہو، کیونکہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق رحمن کی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ الدارقطنی فی الصفات بروایت ابن عمر (رض)۔
1148 – "لا تقبحوا الوجه فإن الله خلق آدم على صورته وفي لفظ على صورة الرحمن". (قط في الصفات عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٤٩۔۔ کسی کی صورت کو برابھلامت کہو، کیونکہ ابن آدم رحمن کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے۔ الکبیر للطبرانی ، کرر، المستدرک للحاکم، بروایت ابن عمر (رض)۔
1149 – "لا تقبحوا الوجه فإن ابن آدم على صورة الرحمن". (طب كر ك عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٥٠۔۔ کوئی تم میں سے اپنے کسی بھائی کو یوں ہرگز بددعانہ دے کہ اللہ تیرے چہرے کو براے یا تیرے جیسے چہروں کا برا کرے۔ الکبیر للطبرانی (رح) فی السنہ، بروایت ابوہریرہ ، الخطیب بروایت ابن عمر (رض)۔
1150 – "لا يقولن أحدكم لأخيه قبح الله وجهك ووجه من أشبه وجهك فإن الله عز وجل خلق آدم على صورته". (طب في السنة عن أبي هريرة) (والخطيب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٥١۔۔ میں نے اپنے پروردگار کو سب سے اچھی صورت میں دیکھا تو مجھے پروردگار نے فرمایا، اے محمد، کیا جانتا ہے ملااعلی کے فرشتے کس بات میں بحث و مباحثہ کررہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا پروردگار کفارات کے بارے میں۔ فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا کراہت وتنگی کے باوجود وضو کو کامل طریقہ سے ادا کرنا نماز کی طرف قدموں کا اٹھانا۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت عبیداللہ بن ابی رافع بروایت ابیہ۔
1151 – "رأيت ربي في أحسن صورة فقال: لي يا محمد أتدري فيم يختصم الملأ الأعلى فقلت يا رب في الكفارات قال وما الكفارات قلت إبلاغ الوضوء أماكنه على الكراهيات والمشي على الأقدام إلى الصلاة وانتظار الصلاة بعد الصلاة". (طب عن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٥٢۔۔ میں نے اپنے رب کو ایک نوجوان کی صورت میں دیکھا جس کے بال کانوں کی لوتک آئے ہوئے تھے۔ الکبیر للطبرانی (رح) فی السنہ ، بروایت ابن عباس (رض)۔ ابوزرعہ سے منقول ہے کہ یہ حدیث صحیح وثابت ہے۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں یہ خواب پر محمول ہے اسی طرح آنے والی اس قسم کی تمام احادیث خواب پر محمول ہیں۔
1152 – "رأيت ربي في صورة شاب له وفرة (طب في السنة عن ابن عباس) ونقل عن أبي زرعة أنه قال: هو حديث صحيح قلت (2) وهو محمول على رؤية المنام وكل الحديث السابق كالآتي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٥٣۔۔ میں نے اپنے رب کو ایک نوجوان کی صورت میں دیکھا جس کے بال طویل و شاداب تھے سونے کے دوجوتے پہنے ہوئے تھا اور چہرے پر بھی سونے کی چادر تھی۔ الکبیر للطبرانی (رح) فی السنہ ، بروایت ام طفیل۔
1153 - " رأيت ربي في المنام في صورة شاب موفر في الخضر عليه نعلان من ذهب وعلى وجه فراش من ذهب". (طب في السنة عن أم الطفيل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٥٤۔۔ میں نے اپنے رب کو ایک نوجوان کی صورت میں فردوس کے حظیرۃ القدس یعنی جنت میں دیکھا اس پر ایک ایسامنور تاج تھا جو نظروں کو خیرہ کیے دے رہا تھا۔الکبیر للطبرانی ، (رح) فی السنہ، بروایت معاذ بن عفرائ۔
1154 – "رأيت ربي في حظيرة من الفردوس في صورة شاب عليه تاج يلتمع البصر". (طب في السنة عن معاذ بن عفراء) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٥٥۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میری کسی ولی کی اہانت کی اس نے مجھے جنگ کے لیے دعوت مبارزت دیدی۔ اے ابن آدم میرے پاس جو ہے وہ اس وقت تک تجھے نہیں مل سکتا جب تک کہ میرے فرض کردہ اوامر کو ادا نہ کرلے۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کو اپنا محبوب بنالیتا ہوں۔ پھر میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کی زبان بن جاتاہوں جس سے وہ کلام کرتا ہے اور اس کا دل بن جاتاہوں جس سے وہ سوچتا ہے پس جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتاہوں۔ اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے مددکاطلب گار ہوتا ہے تو میں اس کی مدد کرتا ہوں اور میرے نزدیک بندے کی محبوب ترین عبادت ہردم میرا خیال رکھنا ہے۔ الکبیر للطبرانی (رح) ، الحلیہ، فی الطب، بروایت ابی امامہ۔
1155 - " إن الله تعالى يقول: من أهان لي وليا فقد بارزني بالعداوة ابن آدم لن تدرك ما عندي إلا بأداء ما افترضت عليك ولا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فأكون أنا سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ولسانه الذي ينطق به وقلبه الذي يعقل به فإذا دعاني أجبته وإذا سألني أعطيته وإذا استنصرني نصرته وأحب ما تعبد لي عبدي به النصح لي". (طب حل في الطب عن أبي أمامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٥٦۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے کسی ولی کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے کھلے عام جنگ کی دعوت دی۔ اور کوئی بندہ میرے فرائض کی ادائیگی کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ مجھ سے زیادہ تقرب حاصل نہیں کرسکتا۔ اور بندہ مسلسل نفلی عبادات میں مشغول رہتا ہے تو وہ میرا محبوب بن جاتا ہے۔ اور جس سے میں محبت کرتا ہوں اس کے لیے میں کان ، آنکھ، اور ہاتھ بن جاتاہوں اور اس کا حمایتی و مددگار بن جاتاہوں اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں۔ اور مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتاہوں۔ اور میں کسی چیز میں تردد کا شکار نہیں ہوتا سو اے اس کے جب میرے بندے کا آخری وقت آپہنچتا ہے اور وہ موت کو ناپسند کرتا ہے جبکہ میں اس کی برائی کو ناپسند کرتا ہوں اور اس کے سواچارہ کار نہیں۔ اور بعض میرے بندے اپنے لیے کسی عبادت کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں مگر میں اس بات کے پیش نظر اس دروازے کو اس پر بند رکھتاہوں کہ کہیں وہ عجب میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اور یہ کہ اس کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن جائے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو غنی ومالداری کے سوا کوئی چیز راس نہیں آتی۔ اگر میں ان کو فقر میں مبتلا کردوں تو وہ ان کو فتنہ فساد کا شکار کردے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو فقر ہی درست رکھتا ہے اگر میں ان کو غنی ومالداری بخش دوں تو یہی ان کی تباہی کا ذریعہ بن جائے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہیں کہ ان کے لیے صحت و تندرستی خیر کا باعث بنتی ہے اگر میں ان کو بیماری میں مبتلا کردوں تو یہ بیماری ان کو خراب کردے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہیں کہ ان کو بیماری ہی مناسب رہتی ہے اگر میں ان کو صحت و تندرستی عنایت کردوں تو وہ فساد و خرابی کا شکار ہوجائیں میں اپنے بندوں کے دلوں کا بھید جانتے ہوئے ان کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں میں علیم وخبیر ذات ہوں۔ ابن عساکر۔ اس میں ایک راوی حسن بن یحییٰ الخشنی ۔ یہ راوی کمزور ہے۔ الحسن بن یحییٰ الخشنی واہ، المقتی، فی سرد الکنی ج ١ ص ٣٧٨۔
1156 - "قال الله تعالى: من أخاف لي وليا فقد بارزني بالمحاربة وما تقرب إلي عبدي المؤمن بمثل أداء ما افترضت عليه ولا يزال عبدي المؤمن يتنفل حتى أحبه ومن أحببته كنت له سمعا وبصرا ويدا ومؤيدا إن سألني أعطيته وإن دعاني أجبته وما ترددت في شيء أنا فاعله ما ترددت في قبض نفس عبدي المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته ولا بد له منه وإن من عبادي المؤمنين لمن يشتهي الباب من العبادة فأكفه عنه لئلا يدخله عجب فيفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا الغني ولو أفقرته لأفسده وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا الفقر ولوبسطت له لأفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا الصحة ولو أسقمته لأفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا السقم ولو صححته لأفسده ذلك
إني أدبر عبادي بعلمي بقلوبهم إني عليم خبير". (ابن عساكر عن أنس) وفيه الحسن بن يحيى الخشني.
إني أدبر عبادي بعلمي بقلوبهم إني عليم خبير". (ابن عساكر عن أنس) وفيه الحسن بن يحيى الخشني.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٥٧۔۔ اللہ فرماتے ہیں جس نے میرے ولی کو ایذاء دی اس نے مجھ سے جنگ مول لے لی۔ اور کوئی بندہ میرے فرائض کی ادائیگی کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ مجھ سے زیادہ تقرب حاصل نہیں کرسکتا، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس کو اپنا محبوب بنالیتاہوں پھر میں اس کی نگاہ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کا ہتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اس کا دل بن جاتاہوں جس سے وہ سوچتا ہے اور اس کی زبان بن جاتاہوں جس سے وہ کلام کرتا ہے وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتاہوں اور مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور میں کسی چیز میں تردد کا شکار نہیں ہوتاسوائے اس کے کہ جب میرے بندے کا آخری وقت ہوتا ہے اور وہ موت کو ناپسند کرتا ہے جبکہ میں اس کی برائی کو ناپسند کرتا ہوں۔ مسنداحمد، الحکیم المسند لابی یعلی، الاوسط للطبرانی ، ابونعیم فی الطب، السنن للبیہقی ، ابن عساکر، بروایت عائشہ (رض)۔
1157 - "قال الله تعالى: من آذى لي وليا فقد استحل محاربتي وما تقرب إلي عبدي بمثل أداء الفرائض وما يزال العبد يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت عينه التي يبصر بها وأذنه التي يسمع بها ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بها وفؤاده الذي يعقل به ولسانه الذي يتكلم به إن دعاني أجبته وإن سألني أعطيته وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن وفاته وذاك لأنه يكره الموت وأنا أكره مساءته". (حم والحكيم ع طس وأبو نعيم في الطب ق في الزهد وابن عساكر عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٥٨۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کوئی بندہ میرے فرائض کی ادائیگی کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ مجھ سے زیادہ تقرب حاصل نہیں کرسکتا ، اور بندہ مسلسل نفلی عبادات میں مشغول رہتا ہے توتقرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس کو اپنا محبوب بنالیتاہوں پھر میں اس کا پاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کی زبان بن جاتاہوں جس سے وہ کلام کرتا ہے اور اس کا دل بن جاتاہوں جس سے وہ سوچتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور اگر مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتاہوں۔ ابن السنی فی الطب، بروایت سمویہ۔
1158 - "قال الله تعالى: ما تقرب إلي عبدي بمثل أداء فرائضي وإنه ليتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت رجله التي يمشي بها ويده التي يبطش بها ولسانه الذي ينطق به وقلبه الذي يعقل به إن سألني أعطيته وإن دعاني أجبته". (ابن السني في الطب عن سمويه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٥٩۔۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کوئی بندہ میرا تقرب اس سے بڑھ کر حاصل نہیں کرسکتا کہ وہ ان فرائض کی ادائیگی کرے جو میں نے اس پر فرض کردیے ہیں۔ الخطیب ابن عساکر، بروایت علی (رض)۔
1159 - "قال الله عز وجل: ما تحبب إلي عبدي بأحب إلي من أداء ما فترضت عليه". (الخطيب وابن عساكر عن علي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٦٠۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے کسی دوست کی اہانت کی اس نے میرے ساتھ اعلان جنگ کردیا اور میں اپنے اولیاء کی نصرت میں سب سے زیادہ سرعت سے کام لیتاہوں اور ان کے لیے اس حملہ آور شیر کی طرح غضبناک ہوتاہوں۔ اور میں کسی چیز میں تردد کا شکار نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جب میرے بندہ کا آخری وقت آپہنچتا ہے اور وہ موت کو ناپسند کرتا ہے۔ جبکہ میں اس کی برائی کو ناپسند کرتا ہوں اور اس کے سوا چارہ کار نہیں اور کسی بندے نے دنیا کی بےرغبتی سے بڑھ کر میری عبادت نہیں کی۔ اور نہ کسی بندہ نے میرے فرائض کی ادائیگی کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ مجھ سے زیادہ تقرب حاصل کیا۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا جاتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتاہوں اور جس سے میں محبت کرتا ہوں اور اس کے لیے میں کان، آنکھ اور ہاتھ بن جاتاہوں اور اس کا حمایتی و مددگار بن جاتاہوں اور اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتاہوں اور بعض میرے بندے اپنے لیے کسی عبادت کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں مگر میں اس بات کے پیش نظر اس دروازے کو اس پر بند رکھتاہوں کہ کہیں وہ عجب میں مبتلا نہ ہوجائے اور یہ اس کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن جائے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو فقرہی درست رکھتا ہے اگر میں ان کو مالداری بخش دوں تو یہی ان کی تباہی کا ذریعہ بن جائے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہیں کہ ان کے لیے صحت و تندرستی خیر کا باعث بنتی ہے اگر میں ان کو بیماری مبتلا کردوں تو یہ بیماری ان کو خراب کردے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہیں کہ ان کو بیماری ہی مناسب رہتی ہے۔ اگر میں ان کو صحت و تندرستی عنایت کردوں تو وہ فساد و خرابی کا شکار ہوجائیں۔ میں اپنے بندوں کے دلوں کا بھید جانتے ہوئے ان کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں میں علیم وخبیر ذات ہوں۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاولیاء الحکیم وابن مردویہ الحلیہ فی الاسماء ، ابن عساکر، بروایت انس (رض)۔
1160 - "يقول الله تعالى: من أهان لي وليا فقد بارزني بالمحاربة وإني لأسرع شيء إلى نصرة أوليائي إني لأغضب لهم كما يغضب الليث الحرب وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن قبض روحي عبدي المؤمن وهو يكره الموت وأكره مساءته ولا بد له منه وما تعبدني عبدي المؤمن بمثل الزهد في الدنيا ولا تقرب إلي عبدي المؤمن بمثل أداء ما افترضت عليه ولا يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت له سمعا وبصر ويدا ومؤيدا إن سألني أعطيته وإن دعاني استجبت له وإن من عبادي المؤمنين لمن سألني من العبادة فأكفه عنه ولو أعطيته إياه لدخله العجب وأفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا الغنى ولو أفقرته لأفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا الفقر ولو أغنيته لأفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا الصحة ولو أسقمته لأفسده ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلحه إلا السقم ولو أصححته لأفسده ذلك وإني أدبر لعبادي بعلمي بقلوبهم إني عليم خبير". (ابن أبي الدنيا في كتاب الأولياء والحكيم وابن مردويه حل في الأسماء وابن عساكر عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٦١۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے کسی ولی سے عدوات مول لی اس نے مجھے محاربت کی دعوت دیدی اور میں کسی چیز میں تردد وشکار نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جب میرے بندے کا آخری وقت آپہنچتا ہے اور وہ موت کو ناپسند کرتا ہے جبکہ میں اس کی برائی و تونگری عطا کردوں تو یہ اس کے لیے انتہائی براثابت ہو۔ اور بسا اوقات میرا مومن دوست مجھ سے فقر وفاقہ کا متمنی ہوتا ہے لیکن میں اس کو فراخی و کشادگی سے نہیں نکالتا اور اگر میں اس کو فقر وفاقہ کی مصیبت چکھادوں تو یہ اس کے لیے مصیبت وفتنہ کا باعث بن جائے۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم میرے عالی شان کی قسم، میرے حسن جمال جہاں آراء کی قسم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم میرا جوبندہ میری خواہش و چاہت کے آگے اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھاتا ہے اور ان کو قربان کرتا ہے ۔۔۔ تو میں اس کی موت کا وقت اس کی نگاہوں میں پہلے سے پھیر دیتاہوں اور ارض وسماوات کو اس کے لیے رزق رسانی پر مامور کردیتاہوں اور ہر تاجر کی تجارت سے بڑھ کر میں اس کا ضامن وکفیل بن جاتاہوں۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1161 - "يقول الله تبارك وتعالى: من عادى لي وليا فقد ناصبني بالمحاربة وما ترددت عن شيء أنا فاعله كترددي عن موت المؤمن يكره وأكره مساءته وربما سألني وليي المؤمن الغنى فأصرفه إلى الفقر ولو صرفته إلى الغنى لكان شرا له وربما سألني وليي المؤمن الفقر فأصرفه إلى الغنى ولو صرفته إلى الفقر لكان شرا له إن الله تعالى يقول وعزتي وجلالي وعلوي وبهائي وجمالي وارتفاع مكاني لا يؤثر عبد هواي على هوى نفسه إلا أثبت أجله عند بصره وضمنت السماء والأرض رزقه وكنت له من وراء تجارة كل تاجر". (طب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٦٢۔۔ تمام آسمان و زمین اللہ کی مٹھی میں ہیں۔ الدیلمی بروایت ابی امامہ (رض) ۔
1162 – "يمين الله عز وجل طباق السموات والأرض". (الديلمي عن أبي أمامة وشداد بن أوس معا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے کسی ولی کو ایذا مت دو
١١٦٣۔۔ اللہ کا دایاں دست مبارک خیر سے پر ہے اس کو کوئی خرچ کم نہیں کرسکتا، دن رات وہ بہتا ہے کیا تم سوچ سکتے ہو کہ جب سے اللہ نے ارض وسماوات کو پیدا کیا کس قدر خرچ کرچکا ہے لیکن اب تک اس کے خزانہ یمین میں کوئی سرمو بھی کمی نہیں آئی، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے دست مبارک میں میزان ہے جس کو پست وبالا کرتا رہتا ہے۔ الدارقطنی فی الصفات ، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1163 – "يمين الله ملأى لا يغيضها نفقة سحاء الليل والنهار أرأيتم ما أنفق منذ خلق السموات والأرض فإنه لم ينقص ما في يمينه وعرشه على الماء وبيده الأخرى الميزان يخفض ويرفع ". (قط في الصفات عن أبي هريرة) .
তাহকীক: