কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১১০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١٠٤۔۔ کسی بدعتی سے دنیا کا پاک ہوجانا درحقیقت اسلام کی کھلی فتح ہے۔ الخطیب ، الفردوس للدیلمی (رح) ، السنن لسعید ، بروایت انس (رض)۔
1104 – "إذا مات صاحب بدعة فقد فتح في الإسلام فتحا". (خط فر ص عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١٠٥۔۔ پروردگار عزوجل نے صاحب بدعت کے لیے توبہ کا دروازہ بند کردیا ہے۔ ابن قیل ، الاوسط للطبرانی ، (رح) ، شعب الایمان ، المسند لابی یعلی ، الضیاء بروایت انس (رض)۔ بدعتی شخص چونکہ بدعت کو عین دین خیال کرکے انجام دیتا ہے اس لیے اس کو اس سے توبہ کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ یہی مطلب ہے حدیث بالا ک اور نہ توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے۔
1105 – "إن الله احتجر التوبة على صاحب كل بدعة". (ابن قيل طس هب ع والضياء عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١٠٦۔۔ اسلام اولاپھلتا پھولتا جائے گا پھر اس کی ترویج وقفہ آجائے گا۔۔۔ سویادرکھو ! اس عرصہ میں جو بدعت وغلو کی طرف مائل ہوئے وہی درحقیقت جہنم کا ایندہن بنیں گے ۔ الکبیر، لطبرانی (رح) بروایت ابن عباس (رض) ل عنہما عائشہ (رض)۔
1106 – "إن الإسلام يشيع ثم تكون له فترة فمن كانت فترته إلى غلو وبدعة فأولئك أهل النار". (طب عن ابن عباس وعائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١٠٧۔۔ جب بھی اہل بدعت غلبہ پائیں گے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کی زبان سے بھی ان پر حجت تام فرمادیں گے۔ حاکم فی التاریخ ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1107 – "ما ظهر أهل بدعة إلا أظهر الله فيهم حجة على لسان من شاء من خلقه" (ك في تاريخه عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١٠٨۔۔ اللہ تعالیٰ کسی بدعتی شخص کی نہ نماز قبول فرماتے نہ روزہ نہ صدقہ، نہ حج، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل، اور نہ ہی کوئی فرض۔۔ حتی کہ وہ اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح گندھے ہوئے آتے سے بال نکال دیاجاتا ہے۔ ابن ماجہ۔ بروایت حذیفہ (رض)۔
1108 – "لا يقبل الله لصاحب بدعة صلاة ولا صوما ولا صدقة ولا حجا ولا عمرة ولا جهادا ولا صرفا ولا عدلا يخرج من الإسلام كما تخرج الشعرة من العجين". (هـ عن حذيفة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١٠٩۔۔ جس نے ہمارے دین کے علاوہ کوئی بدعت رائج کی وہ بالکل مردود ہے۔ السنن لابی داؤد، بروایت عائشہ (رض)۔
1109 – "من صنع أمرا على غير أمرنا فهو رد". (د عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١١٠۔۔ جس داعی نے کسی کو کسی چیز کی دعوت دی تو وہ داعی روز قیامت اس چیز کے ساتھ کھڑا ہوگا اور وہ اس کے ساتھ اس طرح لازم ہوگی کہ اس سے جدانہ ہوسکے گی۔ خواہ کسی نے کسی کو دعوت دی ہو۔ التاریخ للبخاری، الدارمی، الصحیح للترمذی (رح) ۔ المستدرک للحاکم، بروایت انس (رض) ابن ماجہ، بروایت ابوہریرہ ۔
1110 – "ما من داع دعا رجلا إلى شيء إلا كان معه موقوفا يوم القيامة لا زما به لا يفارقه وإن دعا رجل رجلا". (تخ والدارمي ت ك عن أنس) (هـ عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ فی البداع۔
١١١١۔۔ اسلام میں جبر واکراہ اور تعذیب رسائی نہیں اور نہ آبادیوں سے دور جانے کا حکم اور نہ دنیا سے کنارہ کشی اور رہبانیت کا حکم ہے۔ شعب الایمان بروایت طاوس مرسلا۔
حدیث میں خزام، زمام، سیاحہ، اور تبتل کے الفاظ آئے ہیں خزام اونٹ کی ناک میں نکیل ڈالنے کو کہتے ہیں جس کو محاورہ اردو کے مطابق ناک میں نتھ ڈال دی ، بھی کہتے ہیں، یعنی اس کو مجبور وبے بس کردیا۔ اور زمام کا بھی یہی مطلب ہے اور س کا معنی لگام وعنان ڈالنا۔ دونوں کا مقصود ایک ہی ہے سیاحہ سے یہاں مقصود آبادیوں سے دور چلے جانا اور تجرد کی زندگی اپنانا ہے تبتل کا بھی یہی مطلب ہے۔
حدیث میں خزام، زمام، سیاحہ، اور تبتل کے الفاظ آئے ہیں خزام اونٹ کی ناک میں نکیل ڈالنے کو کہتے ہیں جس کو محاورہ اردو کے مطابق ناک میں نتھ ڈال دی ، بھی کہتے ہیں، یعنی اس کو مجبور وبے بس کردیا۔ اور زمام کا بھی یہی مطلب ہے اور س کا معنی لگام وعنان ڈالنا۔ دونوں کا مقصود ایک ہی ہے سیاحہ سے یہاں مقصود آبادیوں سے دور چلے جانا اور تجرد کی زندگی اپنانا ہے تبتل کا بھی یہی مطلب ہے۔
1111 – "لا خزام ولا زمام ولا سياحة (2) ولا تبتل ولا ترهب في الإسلام". (هب عن طاوس) مرسلا.البدع والرفض من الإكمال
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٢۔۔۔ اتباع کرتے رہو۔۔۔ اور کسی نئی بدعت میں نہ پڑو بیشک یہ دین تمہارے لیے کافی ووافی ہے۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت ابن مسعود (رض)۔
1112 – "اتبعوا ولا تبتدعوا فقد كفيتم". (طب عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٣۔۔ بدعات سے کلیہ اجتناب کرو۔ یقیناہربدعت صریح گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ابن عساکر۔ بروایت رجل۔
1113 – "إياكم والبدع فإن كل بدعة ضلالة وكل ضلالة تسير إلى النار". (كر عن رجل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٤۔۔ جب کوئی شخص بدعت کو اپنا شیوہ بنالیتا ہے تو شیطان اس سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور وہ عبادت میں منہمک ہوجاتا ہے اور شیطان اس پر خشوع و خضوع اور خشیت طاری کردیتا ہے ابونصر بروایت انس (رض)۔
درحقیقت کسی صاحب بدعت شخص کے قعر مذلت و گمراہی میں پڑنے کے لیے شیطان کا یہ کامیاب ترین حربہ ہے بدعتی شخص اپنی ان کیفیات باطنیہ کو دیکھ کر اپنے حق ہونے کا پختہ یقین کرلیتا ہے اور پھرا سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کسی بدعتی کا کوئی عمل ہی قبول نہیں فرماتے ۔ اس طرح گمراہی کا یہ جال اپنی گرفت کو بدعتی شخص کے گرد سخت کرتا جاتا ہے۔ اعاذنا اللہ منہا۔
درحقیقت کسی صاحب بدعت شخص کے قعر مذلت و گمراہی میں پڑنے کے لیے شیطان کا یہ کامیاب ترین حربہ ہے بدعتی شخص اپنی ان کیفیات باطنیہ کو دیکھ کر اپنے حق ہونے کا پختہ یقین کرلیتا ہے اور پھرا سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کسی بدعتی کا کوئی عمل ہی قبول نہیں فرماتے ۔ اس طرح گمراہی کا یہ جال اپنی گرفت کو بدعتی شخص کے گرد سخت کرتا جاتا ہے۔ اعاذنا اللہ منہا۔
1114 – "إن العبد إذا عمل بالبدعة خلاه الشيطان والعبادة وألقى عليه الخشوع والبكاء". (أبو نصر عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٥۔۔ اللہ تعالیٰ کسی بدعتی شخص کانہ روز قبول فرماتے ہیں نہ نماز، نہ صدقہ، نہ حج، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل اور نہ ہی کوئی فرض۔۔ حتی کہ وہ اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال دیاجاتا ہے۔ الدیلمی بروایت انس (رض)۔
1115 – "إن الله تعالى لا يقبل لصاحب بدعة صوما ولا صلاة ولا صدقة ولا حجا ولا عمرة ولا جهادا ولا صرفا ولا عدلا حتى يخرج من الإسلام كما تخرج الشعرة من العجين". (الديلمي عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٦۔۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کو بدعتی سے پردہ میں مستور فرمادیا ہے۔ شعب الایمان۔ اور ایک روایت میں احتجب کے بجائے حجب کا لفظ آیا ہے۔ المصنف لعبدالرزاق ۔ اور ایک روایت میں احتجر کا لفظ آیا ہے جس کے مطابق معنی یہ ہے پروردگار عزوجل نے صاحب بدعت کے لیے توبہ کا دروازہ بند کردیا ہے۔ ابن قیل فی جزفہ۔ شعب الایمان۔ الابانہ، کرر، ابن النجار، بروایت انس (رض)۔
1116 – "إن الله تعالى احتجب التوبة". (هب وفي لفظ حجب التوبة 4 عب وفي لفظ احتجر التوبة عن كل صاحب بدعة. (ابن قيل في جزئه هب أبو نصر السجزي في الإبانة كر وابن النجار عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٧۔۔ جو بدعت پر عمل پیرا ہوتا ہے شیطان اس کی عبادتوں میں رخنہ ڈالنے سے پہلوتہی کرلیتا ہے اور اس پر خشوع و خضوع اور خشیت طاری کردیتا ہے۔ الفردوس للدیلمی (رح) ، بروایت انس (رض)۔
1117 – "من عمل ببدعة خلاه الشيطان في العبادة وألقى عليه الخشوع والبكاء". (الديلمي عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٨۔۔ جس نے میری امت کو دھوکا میں مبتلا کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ دھوکا دہی کیا ؟ فرمایا ان کے لیے کوئی بدعت ایجاد کرے اور پھر وہ لوگ اس پر عمل پیرا ہوجائیں۔ الدارقطنی فی الافراد بروایت انس (رض)۔
1118 – "من غش أمتي فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين قالوا يا رسول الله وما الغش قال: أن يبتدع لهم بدعة فيعملوا بها". (قط في الأفراد عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعت وتشنیع۔۔۔ الاکمال
١١١٩۔۔ کسی سنت کا رواج اس وقت تک ختم نہیں ہوتاجب تک کہ اسی کے مثل کسی بدعت کی نحوست طاری نہ ہوجائے۔۔ حتی کہ سنت معدوم ہوجاتی ہے اور بدعت کا دور دور ہوجاتا ہے۔ اور پھر سنت سے بےبہر شخص بدعت ہی کو عین دین سمجھ کر گمراہ ہوجاتا ہے۔ سو جان لو ! جس نے مریی کسی مردہ معدوم سنت کو زندہ کیا تو اس کو اس کا بھی اجرملے گا اور جو بھی آئندہ اس سنت پر عمل پیرا ہوتے رہیں گے۔۔ سب کا ثواب اس کو ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے بھی کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ اور جس نے کسی بدعت کو رواج دیا اس کا وبال تو اس پر ہوگا ہی بلکہ آئندہ جو بھی اس پر عمل کرتے رہیں گے سب کے گناہوں کا وبال اور مصیبت بھی اس پر پڑے گی، لیکن ان عمل کرنے والوں سے بھی کسی گناہ کو کم نہ کیا جائے گا۔ ابن الجوزی فی الواہیات ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1119 – "لا يذهب من السنة شيء حتى يظهر من البدعة مثله حتى تذهب السنة وتظهر البدعة حتى يستوفي البدعة من لا يعرف السنة فمن أحيا ميتا من سنتي قد أميتت كان له أجرها وأجر من عمل بها من غير أن ينقص من أجورهم شيئا ومن أبدع بدعة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها لا ينتقص من أوزارهم شيئا". (ابن الجوزي في الواهيات عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعتی پر اللہ تعالیٰ کی لعنت
١١١٢٠۔۔ جس نے کوئی بدعت جاری کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی یا اپنے کو کسی غیرباپ کی طرف منسوب کیا یا کسی غلام نے اپنے کو کسی غیرمولی کی طرف منسوب کیا تو اس پر اللہ کی ملائکہ کی اور تمام فرشتوں کی لعنت ہے۔ روز قیامت اللہ اس کا کوئی فرض قبول فرمائیں گے اور نہ نفل۔ الصحیح للترمذی، بروایت ثوبان، الکبیر للطبرانی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1120 – "من أحدث حدثا أو أوى محدثا أو ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا". (ت عن ثوبان، طب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعتی پر اللہ تعالیٰ کی لعنت
١١٢١۔۔ جس نے اس امت میں کوئی بدعت پیدا کی وہ اس وقت تک نہ مرے گا جب تک کہ اس کا وبال اس کونہ پہنچ جائے۔ الاوسط للطبرانی ، المتفق والمفترق للخطیب ، بروایت ابن عباس رضی الہ عنہما۔
1121 – "من أحدث حدثا في هذه الأمة لم يكن يموت حتى يصيبه ذلك الحدث". (طس والخطيب في المفتق والمفترق عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعتی پر اللہ تعالیٰ کی لعنت
١١٢٢۔۔ جس نے بالشت بھر بھی جماعت مسلمین کی مخالفت کی اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے نکال پھینکا۔ المستدرک للحاکم، بروایت ابی ذر (رض) ۔
1122 – "من خالف جماعة المسلمين شبرا فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه". (ك عن أبي ذر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدعتی پر اللہ تعالیٰ کی لعنت
١١٢٣۔۔ جو کسی بدعتی شخص کی تعظیم کے لیے قدم بھرتا ہے وہ یقیناً عمارت اسلام کو مسمار کرنے کا مددگار بنتا ہے۔ الکبیر للطبرانی ، الحلیہ بروایت معاذ (رض)۔
1123 – "من مشى إلى صاحب بدعة ليوقره فقد أعان على هدم الإسلام". (طب حل عن معاذ) .
তাহকীক: