কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১০০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٤۔۔ اے لوگو ! یہ کون سی ہے جس کو تم لکھ رہے ہو، کیا کتاب اللہ کے ہوتے ہوئے اور کتاب لکھنے کی ضرورت ہے ، ہوسکتا ہے کہ اللہ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہو اور کسی کاغذ میں یا کسی ہاتھ میں کسی چیز نہ چھوڑے۔ سب کو ملیامیٹ کردے۔ پوچھا گیا یارسول لالہ اس زمانہ میں مومن مرد اور عورت کا کیا حال ہوگا، آپ نے فرمایا جس کے ساتھ اللہ خیرکا ارادہ فرمائے گا تو اس کے دل میں لاالہ الا اللہ کو باقی رکھے گا۔ ابن عساکر، بروایت ابن عمر (رض)۔
1004 – "يا أيها الناس، ماهذا الكتاب الذي تكتبون: أكتاب مع كتاب الله؟ يوشك أن يغضب الله لكتابه فلا يدع في ورق ولا في يد أحد منه شيئا إلا أذهبه، قالوا يا رسول الله فكيف بالمؤمنين والمؤمنات يومئذ؟ قال: من أراه الله به خيرا أبقى الله في قلبه لا إله إلا الله". (ابن عساكر عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٥۔۔ مجھ سے قران کے سوا نہ لکھو۔۔ سو جس نے قرآن کے سوا لکھا ہو وہ اس کو محو کردے۔ اور بنی اسرائیل سے مروی روایات کو روایت کرلیاکروتو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ مسندالبزار بروایت ابوہریرہ ۔
1005 – "لا تكتبوا عني إلا القرآن، فمن كتب عني غير القرآن فليمحه، وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج ومن كذب علي فليتبوأ مقعده من النار". (بز عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٦۔۔ اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق سوال نہ کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تم سے صدق بیانی سے کام لیں گے توتب بھی تم ان کو جھٹلاؤ گے ، یا وہ تم سے غلط بیانی کرین گے توشاید تم ان کو سچاجان لو۔۔ لہٰذا تم پر قرآن کو تھامنا لازم ہے ، کیونکہ اس میں تم سے اگلے لوگوں کی خبریں ہیں اور تم سے بعد والوں کی بھی خبریں ہیں اور تمہارے باہمی جھگڑوں کے فیصلے ہیں۔ ابن عساکر، بروایت ابن مسعود۔
1006 – "لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإني أخاف أن يخبروكم بالصدق فتكذبوهم أو يخبروكم بالكذب فتصدقوهم، عليكم بالقرآن فإن فيه نبأ من قبلكم وخبر ما بعدكم وفصل ما بينكم". (ابن عساكر عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٧۔۔۔ اہل کتاب سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کرو وہ ہرگز تمہارے لیے ہدایت رساں نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ خود گمراہ ہوچکے ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ تم کسی باطل بات پر ان کی تصدیق کرنے لگو یا کسی حق بات پر ان کو جھٹلانے لگو۔ اور مزید برآں جان رکھو۔ اگر موسی بھی تمہارے درمیان حیات ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے سوا چارہ کار نہ ہوتا۔ شعب الایمان ۔ الفردوس دیلمی، ابونصر السجزی ، فی الابانۃ بروایت جابر (رض)۔
1007 – "لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم لن يهدوكم وقد ضلوا، إما أن تصدقوا بباطل وتكذبوا بحق، وإلا لو كان موسى حيا بين أظهركم ما حل له إلا أن يتبعني". (هب والديلمي وأبو نصر السجزي في الإبانة عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٨۔۔ اے دینی مسائل کے استفسار کے لیے اہل کتاب سے رجوع مت کرو، کیونہ وہ خود بھی گمراہ ہوچکے ہیں اور تم سے اگلی اقوام بھی کھلی گمراہی کی راہ پر ڈال چکے ہیں۔ کرر، ، بروایت ابی اسلم، الحمصی، عن ابی مالک عن الزھری عن انس (رض)۔
1008 – "لا تحملوا دينكم على مسائلة أهل الكتاب فإنهم قد ضلوا وأضلوا من كان قبلكم ضلالا مبينا". (ابن عساكر عن أبي أسلم الحمصي عن مالك عن الزهري عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠٠٩۔۔ اے ابن خطاب ! کیا تم اس ملت میں حیران وشک زدہ ہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں یہ خالص اور صاف ستھری ملت تمہارے پاس لایاہوں لہٰذا تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ کے متعلق سوال مت کرو ممکن ہے کہ وہ تم سے حق بیانی سے کام لیں مگر تم اس کی تکذیب میں مبتلا ہوجاؤ یا وہ دروغ گوئی کریں مگر تم ان کی تصدیق کرنے لگو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر موسی بھی حیات ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہوتا۔ مسنداحمد، ابن ماجہ، بروایت ابن عباس (رض)۔ روایت بالا کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق حضور انور کی خدمت عالیہ میں اہل کتاب کی کتاب کا ایک نسخہ لے کر حاضر خدمت ہوئے جس کی وجہ سے نبی کریم غضبناک ہوگئے اور آپ نے مندرجہ بالا وعید ارشاد فرمائی۔
1009 – "أمتهوكون فيها يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده لقد جئتكم بها بيضاء نقية لا تسألوهم عن شيء فيخبروكم بحق فتكذبونه وبباطل فتصدقونه والذي نفسي بيده لو أن موسى كان حيا ما وسعه إلا أن يتبعني".(حم هـ عن ابن عباس) إن عمر أتى النبي بكتاب أصابه من بعض أهل الكتاب فغضب قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٠۔۔ تم بھی یونہی حیران و سرگرداں پھرو گے جس طرح یہود و نصاری حیران و پریشان ہوئے حالانکہ میں ایسی خالص اور صاف ستھری ملت تمہارے پاس لایاہوں کہ اگر موسی بھی تمہارے درمیان حیات ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے سوا گنجائش نہ ہوتی۔ الصحیح لابن حبان ، بروایت ابن جابر (رض)۔
1010 – "لتهوكون كما تهوكت اليهود والنصارى لقد جئتكم بها بيضاء نقية لو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي". (حب عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١١۔۔ قسم ہے اس ہستی کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تمہارے درمیان موسیٰ بھی آموجود ہوں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگو تو ضرور تم انتہائی دور کی گمراہی میں جاگرو گے ، آگاہ رہو تم تمام امم میں سے میرے لیے منتخب کردیے گئے ہو اور میں تمام انبیاء میں سے تمہارے لیے منتخب کیا جاچکاہوں۔ ابن سعد، مسنداحمد، الحاکم فی الکبیر، الکبیر للطبرانی شعب الایمان، بروایت عبداللہ بن ثابت انصاری، الکبیر للطبرانی بروایت ابی الدردائ، شعب الایمان بروایت عبداللہ بن الحارث۔
1011 – "والذي نفس محمد بيده لو أصبح فيكم موسى ثم اتبعتموه وتركتموني لضللتم ضلال بعيدا ألا إنكم حظي من الأمم وأنا حظكم من الأنبياء". (ابن سعد حم والحاكم في الكنى طب هب عن عبد الله بن ثابت الأنصاري. (طب عن أبي الدرداء هب عن عبد الله بن الحارث) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٢۔۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر موسی بھی تمہارے لیے رونماہوجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کو تھام لو تویقینا تم سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے ۔ اور اگر موسی حیات ہوں اور وہ میری نبوت کو پالیسی تو ضرور میری پیروی کریں۔ الدارمی بروایت جابر۔
1012 – " والذي نفس محمد بيده لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم عن سواء السبيل ولو كان حيا وأدرك نبوتي لا اتبعني". (الدارمي عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٣۔۔ قسم ہے اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تمہارے پاس یوسف صدیق (علیہ السلام) بھی آجائیں جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگو تو بیشک گمراہی میں جاپڑو گے۔ المصنف لعبدالرزاق ، شعب الایمان ، بروایت الزھری مرسلا۔
1013 – "والذي نفسي بيده لو أتاكم يوسف وأنا بينكم فاتبعتموه وتركتوني لضللتم ". (عب هب عن الزهري) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٤۔۔ میری اتباع کرلوآباد ہوجاؤ گے در ہجرت کرلو تو اپنی اولاد کو عظمت و بزرگی کے وارث کردو گے ۔ العسکری فی الامثال ، بروایت انس (رض)۔ اس میں عباس بن بکار ایک راوی ہے جو ضعیف ہے۔
1014 – "اتبعوني تكونوا بيوتا وهاجروا تورثوا أبناءكم مجدا". (العسكري في الأمثال عن أنس) وفيه العباس بن بكار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٥۔۔ میری ، تمہاری اور دیگرانبیاء کی مثال اس جماعت کی سی ہے ۔۔ جو چلتے چلتے ایک ایسے بےنشان جنگل میں جاپہنچی۔ کہ انھیں یہ بھی معلوم نہ ہورہا کہ اب تک قطع کی ہوئی مسافت زیادہ ہے یا باقی ماندہ ۔ حتی کہ وہ اسی سرگردانی میں تھک ہارچکے زادہ راہ ختم ہوچکی آخرجنگل کے درمیان بےآسرا گرپڑے۔ اب انھیں اپنی ہلاکت کا کامل یقین ہوگیا ہے اسی یاس وقنوط کی حالت میں ان پر ایک بہترین پوشاک زیب تن کے شخص کا گذر ہوا جس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں، اسے دیکھ کر اہل جماعت آپس میں کہنے لگے یہ شخص تازہ تازہ کسی شاداب وتروتازہ جگہ سے آیا ہے یہ سوچ کر وہ اس کی طرف گئے اس خوش عیش نے اس جماعت سے دریافت کیا یہ تمہارا کیا ماجرا ہے ؟ کہنے لگے تم دیکھ رہے ہو ہم انتہائی لاغر وناتواں ہوچکے ہیں ہمارا زاد سفر ختم ہوچکا ہے اور جنگل کے درمیان بےآسراپڑا ہے ہمیں یہ تک نہیں معلوم کہ کتناسفر طے ہوچکا ہے اب تک قطع کی ہوئی مسافت زیادہ ہے یا باقی ماندہ۔ اس خوش پوشاک نے کہا کہ اگر میں تمہیں کسی بہتے چشمے اور سرسبز و شاداب باغ میں اتاردوں تو میرا کیا صلہ ہوگا ؟ اہل جماعت نے کہا ہم تمہیں منہ مانگا دیں گے۔ خوش عیش بھلا کیا تم مجھے اس بات کا عہد و پیمان دیتے ہو کہ میری نافرمانی نہ کرو گے ؟ اہل جماعت نے اس شخص کو کامل یقین دلایا کہ وہ اس کی کسی حکم کی نافرمانی نہ کریں گے۔ آخر اس بھلے شخص نے ان کو شاداب باغات اور جاری چشموں کی جگہ پہنچادیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد وہ نیک شخص بولا اب اٹھو اور ان باغات سے بڑھ کر عمدہ شاداب باغات اور اس پانی سے بہتر پانی کی طرف چلو اس پر قوم کے سربرآور وہ اشخاص بولے یہی ہمارے لیے کافی ہے ہم تو قریب تھا کہ اس پر بھی قادر نہ ہوتے لیکن دوسرے کچھ لوگ بولے کیا تم نے پہلے اس شخص سے قول وقرار نہ کیے تھے کہ ہم تیری اطاعت سے منہ نہ موڑیں گے اب اس کی پاسداری کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے پہلی بار تم سے سچ بولا تھا اور ضروریہ دوسری بات بھی پہلی کی طرح سچی ہوگی، لہٰذا وہ اس خیرخواہ کے ساتھ چل دیے ۔ اور اس نے انھیں پہلی سے بھی بدرجہا بہتر جگہ پر جا اتارا اور وہاں پانی کے میٹھے چشمے بہہ رہے تھے اور سرسبز شادابی اپنے عروج پر تھی۔ اور پچھلے جن لوگوں نے اس کی اطاعت سے سرتابی کی تھی ، ان پر دشمن نے راتوں رات آکریلغار کی، حتی کہ ان کی صبح اس حالت میں ہوئی کہ کچھ تہ تیغ ہوگئے اور بقیہ اسیر ہوگئے۔ الامثال للرامھزمزی ، ابن عساکر، بروایت ابن المبارک، قال بلغنا عن الحسن وقال ابن عساکر، ھذامرسل وشبہ، انقطاع بروایت اس المبارک والحسن۔
1015 – "إنما مثلي ومثلكم ومثل الأنبياء كمثل قوم سلكوا مفازة غبراء لا يدرون ما قطعوا منها أكثر أم ما بقي فحسر ظهورهم ونفذ زادهم وسقطوا بين ظهراني المفازة فأيقنوا بالهلكة فبينما هم كذلك إذ خرج عليهم رجل في حلة يقطر رأسه فقالوا إن هذا لحديث عهد بالريف فانتهى إليهم فقال: مالكم يا هؤلاء قالوا: ما ترى حسر ظهرنا ونفد زادنا وسقطنا بين ظهراني المفازة ولا ندري ماقطعنا منه أكثر أم ما بقي علينا قال ما تجعلون لي إن أوردتكم ماء روى ورياضا خضرا قالوا نجعل لك حكمك قال تجعلون لي عهودكم ومواثيقكم أن لا تعصوني فجعلوا له عهودهم ومواثيقهم أن لا يعصوه فما بهم فأوردهم رياضا خضرا وماء روى فمكث يسيرا فقال هلموا إلى رياض أعشب من رياضكم وماء أروى من مائكم فقال جل القوم ما قدرنا على هذا حتى كدنا ألا نقدر عليه وقالت طائفة منهم ألستم قد جعلتم لهذا الرجل عهودكم ومواثيقكم أن لا تعصوه وقد صدقكم في أول حديثه، وآخر حديثه مثل أوله فراح وراحوا معه فأوردهم رياضا خضرا وماء روى وأتى الآخرين العدو من تحت ليلتهم فأصبحوا ما بين قتيل وأسير". (الرامهرمزي في الأمثال كر عن ابن المبارك قال بلغنا عن الحسن) وقال كر هذا مرسل وفيه انقطاع عن ابن المبارك والحسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٦۔۔ میرے پاس گزشتہ رات دو فرشتے آئے ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائینتی بیٹھ گیا۔ ایک نے دوسرے سے کہا، اس کی اور اس کی امت کوئی مثال بیان کرو دوسرا گویا ہوا اس کی اور اس کی امت کی مثال اس مسافر قوم کی سی ہے جو چلتے چلتے ایک بےآب وگیاہ جنگل کے سرے پر جاپہنچی ، لیکن ان کے ساتھ زاد رہ انھیں ہے، جس سے جنگل کو قمع کرسکیں واپس اپنے مستقر پر پہنچ سکیں۔ اسی پیچ وتاب میں تھے کہ ایک سنورے بالوں والا یمنی چادر میں ملبوس شخص کا ان پر گزر ہوا۔ اور ان کی حالت زار پر رحم کھاتے ہوئے ان سے کہنے لگا آؤ میں تم کو شاداب باغیچوں اور جاری پانی کے حوضوں پر اتاردوں۔ وہ چل دیے۔ اور اس سرسبز مقام پر عیش و عشرت کے ساتھ کھاتے پیتے خوب فربہ ہوگئے۔ پھر اس ہمدرد نے ان کو دوبارہ کہا : کیا میں تمہارے پاس تمہاری سابقہ پریشانی اور پراگندہ ہیبت میں نہیں آیا تھا، اور تم سے صدق بیانی سے کام لیا تھا ؟ وہ بیک آواز بولے بےشک۔ اس پر اس شخص نے کہا تو آؤ اب تمہارے آگے اس بھی کہیں زیادہ سرسبز عمدہ زمین اور بہتے چشمے ہیں، سو میری اتباع کرو۔ ایک جماعت نے کہا، بیشک یہ سچ گو انسان ہے خدا کی قسم ہم اس کی ضرور پیروی کریں گے دورسری جماعت انجام سے بےخبر بولی ہم تو اسی پر خوش ہیں اور یہیں قیام کریں گے۔ المستدرک للحاکم، بروایت سمرہ۔
1016 - " إنه أتاني الليلة آتيان ملكان فقعد واحد عند رأسي والآخر عند رجلي قال أحدهما للآخر اضرب مثله ومثل أمته فقال إن مثله ومثل أمته كمثل قوم سفر انتهوا إلى رأس مفازة فلم يكن معهم من الزاد ما يقطعون به المفازة ولا يرجعون فبينما هم كذلك إذ أتاهم رجل مرجل في حلة حبرة فقال: أرأيتم إن أوردت بكم رياضا معشبة وحياضا رواء فأكلوا وشربوا وسمنوا فقال لهم ألم آتكم على تلك الحال فقلت لكم فصدقتم فقالوا بلى فقال إن بين أيديكم أرضا أعشب من هذا وحياضا أروى من هذه فاتبعوني فقال طائفة صدق والله لنتبعن وقال طائفة قد رضينا بهذه نقيم عليه". (ك عن سمرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٧۔۔ کیا میں تم کو اپنی اور پروردگار کے فرشتوں کی سرگزشت نہ سناؤں جو آج رات میرے ساتھ بیتی ہے۔ وہ میرے پاس آئے اور مجھ پرچھاگئے میرے سرہانے ، پائنتی اور دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ اور کہنے لگے اے محمد، تیری آنکھ سوتی رہے مگر دل نہ سوئے ۔ اور تیرا دل وہی کرے جو ہم کہیں ، پھر ایک نے کہا محمد کے لیے کوئی مثال بیان کرو، دوسرے نے کہا، ان کی مثال اس شخص کی سی ہے ، جس نے ایک گھر بنایا۔ اور ایک پیغام رساں کو بھیجا کہ جاکرلوگوں کو بلالائے۔ پس جس نے داعی کی پکار پر لبیک کہا، وہ گھر میں داخل ہوگیا اور وہاں کی دعوت میں شریک ہوا۔ اور جس نے داعی کی پکار پر توجہ نہ دی وہ گھر میں داخل نہ ہوسکا، اور نہ شریک دعوت ہوسکا اور سردار بھی اس پر غضبناک ہوا سو جان لو، سردار تو اللہ ہے۔ محمد داعی ہے۔ جس نے محمد کی دعوت پر لبیک کہا جنت میں داخل ہوگیا اور وہاں کی مرغوبات سے تناول کیا اور جس نے محمد کی ، دعوت کو قبول نہ کیا وہ جنت میں داخل ہوسکا نہ وہاں کی نعمتوں سے متمتع ہوسکا۔ التاریخ للحاکم، الدیلمی، بروایت عبدالرحمن بن سمرہ۔
1017 – "ألا أخبركم عني وعن ملائكة ربي البارحة حفوا بي عند رأسي وعند رجلي وعن يميني وعن يساري فقالوا يا محمد تنام عينك ولا ينام قلبك فليفعل قلبك ما نقول فقال بعضهم لبعض اضربوا لمحمد مثلا قال مثله كمثل رجل بنى دارا وبعث داعيا يدعو فمن أجاب الداعي دخل الدار وأكل مما فيها ومن لم يجب الداعي لم يدخل الدار ولم يأكل مما فيها وسخط السيد عليه فالله السيد ومحمد الداعي فمن أجاب محمدا دخل الجنة وأكل مما فيها ومن لم يجب محمدا لم يدخل الجنة ولم يأكل مما فيها". (ك في تاريخه والديلمي عن عبد الرحمن بن سمرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٨۔۔ میں بیداری وخواب کی حالت کے درمیان تھا کہ میرے پاس دوسرے فرشتے آئے ایک دوسرے سے مخاطب ہوا کہ اس کی کوئی مثال بیان کروتودوسرے نے جواب دیا، ایک سردار نے گھربنایا، اور دعوت کا اہتمام کیا، پھر کسی منادی کو بھیجا کہ لوگوں کو بلالائے، سو سردار اللہ ہے ، گھر جنت ہے دعوت اسلام ہے اور داعی محمد ہیں۔ الامثال للرامھرمزی ، بروایت جویبر عن الضحاک وغیرہ۔
1018 – "بينا أنا بين النائم واليقظان إذا أتاني ملكان فقال أحدهما إن له مثلا فاضرب له مثلا فقال سيد بنى دارا واتخذ مأدبة وبعث مناديا فالسيد الله والدار الجنة والمأدبة الإسلام والداعي محمد". (الرامهرمزي في الأمثال عن جويبر عن الضحاك أوغيره) . مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠١٩۔۔ مجھے کہا گیا آپ کی آنکھ سوتی رہے دل جاگتا رہے اور کان سنتے رہیں۔ پس میری آنکھ سو گئی ، میرا دل جاگتا رہا اور میرے کان سنتے رہے اور پھر کہا گیا ایک سردار نے گھربنایا پھر دستر خوان کا اہتمام کیا اور ایک پیغام رساں کو بھیجا سو جس نے داعی کی پکار لبیک کہا گھر میں داخل ہوگیا اور وہاں کے دسترخوان سے کھایا اور جس نے داعی کے بلاوے کا لحاظ نہ کیا وہ گھر میں داخل ہوسکا اور نہ وہاں کی دعوت کھاسکا، اور سردار بھی اس پر ناراض ہواپس اللہ سردار ہے اسلام گھر ہے جنت دسترخوان ہے داعی محمد ہیں۔ ابن جریر ، بروایت ابی قلابہ، مرسلا، الکبیر للطبرانی (رح) ، عن ابی قلابہ عن عطیہ عن ربیعہ الجرشی۔
1019 – "قيل لي لتنم عينك وليعقل قلبك ولتسمع أذنك فنامت عيني وعقل قلبي وسمعت أذني ثم قيل سيد بنى دارا ثم صنع مأدبة وأرسل داعيا فمن أجاب الداعي دخل الدار وأكل من المأدبة ورضي عنه السيد ومن لم يجب الداعي لم يدخل الدار ولم يأكل من المأدبة ولم يرض عنه السيد فالله السيد والدار الإسلام والمأدبة الجنة والداعي محمد". (ابن جرير عن أبي قلابة) مرسلا (طب عن أبي قلابة عن عطية عن ربيعة الجرشي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠٢٠۔۔ مجھے کہا گیا ! اے محمد آپ کی آنکھ سوتی رہے، آپ کے کان سنتے رہیں لیکن دل آپ کا بیدار رہے پس میری آنکھ سو گئی، میرا دل بیداررہا، اور میرے کان سنتے رہے۔ ابن سعد، بروایت ابی بکر بن عبداللہ بن ابی مریم، مرسلا۔
1020 – "قيل لي يا محمد لتنم عينك ولتسمع أذنك وليع قلبك فنامت عيني ووعى قلبي وسمعت أذني". (ابن سعد عن أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دین میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں
١٠٢١۔۔ ایک سردار نے گھربنایا اور دعوت کا اہتمام کیا پھر ایک قاصد کو بھیجا، سو سردار توجبار عزوجل کی ذات ہے ، دعوت قرآن ہے ، گھر جنت ہے قاصد میں ہوں، اور قرآن میں میرا نام محمد ہے، انجیل میں احمد ہے ، توراۃ میں احید ہے، اور احید میرا نام اس وجہ سے ہے کہ میں اپنی امت کو جہنم سے چھٹکارا دلاؤں گا، پس تم عرب کے ساتھ اپنے دل کی گہرائیوں سے محبت رکھو۔ ابن عدی، ابن عساکر، بروایت ابن عباس (رض)۔ اس میں ایک راوی اسحاق بن بشر متروک ہے لہٰذا حدیث ضعیف ہے۔
1021 – "سيد بنى دارا واتخذ مأدبة وبعث داعيا فالسيد الجبار والمأدبة القرآن والدار الجنة والداعي أنا فأنا اسمي في القرآن محمد وفي الإنجيل أحمد وفي التوراة أحيد وإنما سميت أحيد لأني أحيد عن أمتي جهنم فأحبوا العرب بكل قلوبكم". (عد ابن عساكر عن ابن عباس) وفيه إسحاق بن بشر متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا
١٠٢٢۔۔ اے لوگو ! کیا تمہیں علم ہے کہ میری اور تمہاری کیا مثال ہے ؟ سو میری اور تمہاری مثال اس قوم کی سی ہے ، جسے کسی آنے والے دشمن کا خوف ہو، جس کی وجہ سے انھوں نے ایک آدمی کو دشمن کی خبرلانے کے لیے بھجیجا، ابھی قوم اسی پریشان کن حالت میں تھی کہ اس قاصد نے دشمن کو دیکھ لیا اور اپنی قوم کو ڈرانے کے لیے متوجہ ہوالیکن قاصد کو یہ خطرہ دامن گیرہوا کہ کہیں اس کے اطلاع دینے سے قبل ہی دشمن میری قوم پر حملہ نہ کر بیٹھے اس خطرہ کے پیش نظر قاصد نے دورہی سے کپڑے کو زور زور ہلانا اور چلانا شروع کردیا، اے لوگو ! تم گھیر لیے گئے۔۔ اے لوگو ! تم گھیر لیے گئے ۔۔ اے لوگو تم گھیر لیے گئے۔۔ مسنداحمد، الرویانی، السنن لسعید، بروایت عبداللہ بن یزید۔
1022 – "يا أيها الناس تدرون ما مثلي ومثلكم إنما مثلي ومثلكم مثل قوم خافوا عدوا يأتيهم فبعثوا رجلا يتراءى لهم فبينما هم كذلك أبصر العدو فأقبل لينذرهم وخشي ليدركهم العدو قبل أن ينذر قومه فأهوى بثوبه أيها الناس أتيتم ثلاث مرات". (حم والرؤياني ص عن عبد الله بن يزيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا
١٠٢٣۔۔ میں تمہیں تین باتوں کا حکم کرتا ہوں اور تین باتوں سے منع کرتا ہوں، ایک تو حکم کرتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور یہ کہ فرمان برداری کا دامن عین مضبوطی سے تھامے رہو، حتی کہ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے فیصلہ کن امر آپہنچے اور تم اسی حالت پرکاربندملو۔ اور تیسری بات یہ کہ ان صاحب اقتدار حاکموں سے خیرخواہی رکھو، جو تمہیں اللہ کے اوامر کا حکم دیں۔ اور تمہیں لایعنی بحث و مباحثہ ، کثرت سے سوال اور اضاعۃ مال سے منع کرتا ہوں۔ الکبیر للطبرانی (رح) ، بروایت عمر بن مالک الانصاری۔
1023 – "آمركم بثلاث وأنهاكم عن ثلاث، آمركم أن لا تشركوا بالله شيئا وأن تعتصموا بالطاعة جميعا حتى يأتيكم أمر من الله وأنتم على ذلك وأن تناصحوا ولاة الأمر من الذين يأمرونكم بأمر الله وأنهاكم عن قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال". (طب عن عمر ابن مالك الأنصاري) .
tahqiq

তাহকীক: