কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ৯৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٨٤۔۔ معاہدین کے اموال بغیر حق کے تمہارے لیے حلال نہیں بعض لوگ آئیں گے اور کہیں گے ہم جو کتاب اللہ میں حلال پائیں گے اس کو حلال قرار دی گے اور جو اس میں حرام پائیں گے اس کو حرام قرار دیں گے سوآگاہ رہو میں معاہدین ذمیوں کے اموال کو اور ہر ذی ناب درندہ اور جن چوپایوں سے بیگار لی جاتی ہے ان کو حرام قرار دیتا ہوں ماسوا ان کے جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت المقدام۔
984 – "ماذا يحل لكم من أموال المعاهدين بغير حقها يقولون ما وجدنا في كتاب الله من حلال أحللناه وما وجدنا فيه من حرام حرمناه ألا وإني أحرم أموال المعاهدين وكل ذي ناب من السباع وما سخر من الدواب إلا ما سمى الله عز وجل". (طب عن المقدام) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٨٥۔۔ میں تمہارے کسی شخص کو یوں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے اور وہ تکیہ لگائے ہوئے ہو اور کہے مجھے اس کے بجائے قرآن پڑھ کرسناؤ پس آگارہ رہو میری طرف سے جو بھلی بات تم کو پہنچے خواہ وہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو اسے میرا ہی قول سمجھو۔ اور جو شربات میری طرف سے تم کو پہنچے یاد رکھو کہ میں کبھی کوئی شر کی بات نہیں کیا کرتا۔ مسنداحمد، بروایت ابوہریرہ ۔
985 – "لا أعرفن أحدا منكم أتاه عني وهو متكئ على أريكته يقول اتلوا علي به قرآنا ما جاءكم عني من خير قلته أو لم أقله فإني أقوله وما أتاكم عني من شر فإني لا أقول الشر". (حم عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٨٦۔۔ عنقریب تمہارا کوئی فرد یوں کہے گا یہ کتاب اللہ ہے جو اس میں حلال ہے ہم اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور جو اس میں حرام ہے ہم اس کو حرام قرار دیتے ہیں خبردار، جس کو میری حدیث پہنچے وہ اس کی تکذیب کردے تو گویا اس نے اللہ اور اس کے رسول اور اس حدیث کے مبلغ کی بھی تکذیب کردی۔ ابونصر السجری فی الابانہ ، بروایت جابر (رض)۔
986 – "يوشك أحدكم أن يقول هذا كتاب الله ما كان فيه من حلال حللناه وما كان فيه من حرام حرمناه ألا من بلغه حديث فكذبه فقد كذب الله ورسوله والذي حدثه". (أبونصر السجزي في الإبانة عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٨٧۔۔ اللہ کی قسم لوگ میری طرف کسی چیز کو منسوب نہ کریں میں کسی چیز کو حلال کرتا اور نہ حرام، مگر جو اللہ نے اپنی کتاب مقدس میں حرام فرمایا ہے۔ الشافعی، ابن سعد، بخاری، ومسلم، بروایت عقبہ بن عمیر اللیثی مرسلا۔
987 – "إني والله لا يمسك الناس علي بشيء، وإني لا أحل إلا ما أحل في كتابه ولا أحرم إلا ما حرم الله في كتابه". (الشافعي وابن سعد ق عن عقبة بن عمير الليثي مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٨٨۔۔ لوگ مجھ پر کسی چیز کونہ ڈالیں میں کسی چیز کو حلال نہیں کرتا مگر جو اللہ نے حلال فرمایا اور کسی چیز کو حرام نہیں کرتا مگر جو اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ الشافعی، ابن سعد، بخاری، مسلم، بروایت عقبہ ۔
988 – " لا يمسكن الناس علي شيئا إني لا أحل إلا ما أحل الله في كتابه ولا أحرم إلا ما حرم الله في كتابه". (الشافعي وابن سعد ق عن عقبة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٨٩۔۔ مجھ پر کسی چیز کا بار نہ ڈالو میں کسی چیز کو حلال نہیں کرتا مگر جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور کسی چیز کو حرام نہیں کرتا مگر جو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا۔ الاوسط للطبرانی بروایت عائشہ (رض)۔
989 – "لا تمسكوا علي شيئا فإني لا أحل إلا ما أحل الله في كتابه ولا أحرم إلا ما حرم الله في كتابه". (طس عن عائشة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٩٠۔۔ لوگ میری طرف کسی چیز کو منسوب نہ کریں میں ان کے لیے کسی چیز کو حلال کرتا اور نہ حرام، مگر جو اللہ نے حرام فرمایا ۔ الشافعی ، بخاری و مسلم فی المعرفۃ بروایت طاؤوس۔ یہ حدیث مرسل ہے۔
990 – "لا يمسكن الناس علي شيئا وإني لا أحل لهم إلا ما أحل الله ولا أحرم عليهم إلا ما حرم الله". (الشافعي ق في المعرفة عن طاووس) . مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل سے بچنے کے لیے سوالات نقصان دہ ہیں
٩٩١۔۔ اے انسانو، اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس میں حلال کو حلال فرمایا اور حرام کو حرام۔ سو جو اپنی کتاب میں اپنے پیغمبر کی زبان سے حلال فرمایا وہ تاقیامت حلال رہے گا، اور جو اپنی کتاب میں اپنے پیغمبر کی زبان سے حرام فرمایا وہ تاقیامت حرام رہے گا۔ ابونصر السجزی فی الابانہ بروایت انس بن عمیر اللیثی۔ یہ حدیث مرسل اور ضعیف ہے۔
991 – "يا أيها الناس أنزل الله كتابه على لسان نبيه وأحل حلاله وحرم حرامه فما أحل في كتابه على لسان نبيه فهو حلال إلى يوم القيامة وما حرم في كتابه على لسان نبيه فهو حرام إلى يوم القيامة". (أبونصر السجزي في الإبانة وقال حسن غريب عن أنس بن عمير الليثي) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٢۔۔ آگاہ رہو ، اسلام کی چکی اپنے دائرہ میں رواں ہے آپ سے دریافت کیا گیا پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے یارسول اللہ آپ نے فرمایا میری حدیث کا کتاب اللہ سے تقابل کرو، سوجوموافق پاؤ تو جان لو کہ وہ حدیث مجھ سے صادر ہوئی ہے اور میں ہی اس کا قائل ہوں۔ الطبرانی فی الکبیر، سمویہ بروایت ثوبان۔
992 – "ألا إن رحى الإسلام دائرة قيل فكيف نصنع يا رسول الله قال اعرضوا حديثي على الكتاب فما وافقه فهو مني وأنا قلته". (طب وسمويه عن ثوبان) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٣۔۔ یہود سے موسیٰ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس کے جواب میں مبالغہ کیا اور کمی بیشی کی۔۔ حتی کہ کفر کے مرتکب ہوگئے اور عنقریب میری احادیث کی کثرت سے ترویج ہوجائے گی، پس تمہارے پاس جو میری حدیث پہنچے تو کتاب اللہ پڑھو اور حدیث کو کتاب اللہ پر قیاس کروسو اگر موافق پاؤ تو جان لو کہ میں ہی اس حدیث کا قائل ہوں اور اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے ناموافق پاؤ تو سمجھ لو کہ میں اس کا قائل نہیں ہوسکتا۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت ابن عمر (رض)۔
993 – "سئلت اليهود عن موسى فأكثروا فيه وزادوا ونقصوا حتى كفروا وإنه ستفشوعني أحاديث فما أتاكم من حديثي فاقرؤوا كتاب الله واعتبروه فما وافق كتاب الله فأنا قلته وما لم يوافق كتاب الله فلم أقله". (طب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٤۔۔ عنقریب بہت سے راویان حدیث میری طرف سے احادیث روایت کریں گے سو تم ان احادیث کو کتاب اللہ پر پیش کرنا اور اگر وہ کتاب اللہ سے مطابقت رکھتی ہوں تو ان کو لے لینا، ورنہ ترک کردینا۔ ابن عساکر، بروایت علی (رض)۔
994 – "ستكون عني رواة يروون الحديث فاعرضوه على القرآن فإن وافق القرآن فخذوها وإلا فدعوها" . (ابن عساكر عن علي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٥۔۔ تم کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہو، قریب زمانہ میں تمہارا سابقہ ایسی قوم سے پڑے گا جو میری احادیث سے بہت محبت رکھتی ہے تو جس شخص نے میری طرف سے ایسی بات نقل کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ شخص اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ اور جو شخص کچھ احادیث وغیرہ یاد کرے تو وہ اس کو آگے بیان کردے۔ ابن الضریس بروایت عقبہ بن عامر، مسنداحمد، المستدرک للحاکم، بروایت ابی موسیٰ الغافقی۔
995 – "عليكم بكتاب الله وسترجعون إلى قوم يحبون الحديث عني ومن قال علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار فمن حفظ شيئا فليحدث به". (ابن الضريس عن عقبة بن عامر حم ك عن أبي موسى الغافقي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٦۔۔ کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہو، عنقریب تمہارا سابقہ ایسی قوم سے پڑے گا، جو میری احادیث کو بہت چاہیں گے سو جس کی سمجھ میں بات آجائے وہ اس کو بیان کردے اور جس نے مجھ پر افترا بازی کی وہ اپنا ٹھکانا اور گھر جہنم میں بنالے۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت مالک بن عبداللہ الغافقی۔
996 – "عليكم بكتاب الله فإنكم سترجعون إلى قوم يشتهون الحديث عني فمن عقل شيئا فليحدث به ومن افترى علي فليتبوأ مقعدا وبيتا من جهنم". (طب عن مالك بن عبد الله الغافقي)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٧۔۔ آگاہ رہو۔ عنقریب فتنہ رونما ہوگا دریافت کیا گیا یارسول اللہ اس سے خلاصی کی کیا صورت ہوگی فرمایا کتاب اللہ اس میں تم سے ماقبل اور مابعد کی خبریں ہیں۔ اور تمہارے درمیان وقوع پذیر اختلاف کا فیصلہ ہے یہ فیصلہ کن قول ہے نہ کہ یا وہ گوئی۔ جس نے اس کو سرکشی کی وجہ سے ترک کیا اللہ اس کو کاٹ کردکھ دیں گے۔ اور جس نے اس کے سوا کہیں اور ہدایت تلاش کی اللہ اس کو گمراہ کردیں گے یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے دانائی کا تذکرہ ہے سیدھی راہ ہے۔ خواہشات نفسانیہ اس میں کج روی پیدا نہیں کرسکتیں۔ زبانیں اس میں ملتبس نہیں ہوسکتیں، علماء اس سے سیر نہیں ہوتے۔ بار بار دہرانے سے پرانا نہیں ہوتا، اس کے عجائبات کا خزانہ ختم نہیں ہوتا، یہ وہی کلام ہے جس سے جن بھی باز نہ رہ سکے قرآن سنا تو بےساختہ پکار اٹھے ہم نے بہت ہی عجیب کلام سنا جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے سو ہم اس پر ایمان لائے جس کا بھی یہ کلام ہے سچاکلام ہے جس نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا عدل و انصاف کا فیصلہ کیا۔ جو اس پر عمل بجالاؤ اجرپا گیا۔ جس نے اس کی دعوت دی ، اسے سیدھی راہ کی راہنمائی مل گئی۔ ترمذی، بروایت علی (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔
997 – "ألا إنها ستكون فتنة قيل ما المخرج منها يا رسول الله قال كتاب الله فيه نبأ من قبلكم وخبر ما بعدكم وحكم ما بينكم هو الفصل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه الله ومن ابتغى الهدى في غيره أضله الله وهو حبل الله المتين وهو الذكر الحكيم وهو الصراط المستقيم وهو الذي لا تزيغ به الأهواء ولا تلتبس به الألسنة ولا تشبع منه العلماء ولا يخلق عن كثرة الرد ولا تنقضي عجائبه، هو الذي لم تنته الجن إذ سمعته حتى قالوا: {إنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباً يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ} من قال به صدق ومن عمل به أجر، ومن حكم به عدل ومن دعا إليه هدى إلى صراط مستقيم". (ش ت وضعفه عن علي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٨۔۔ لوگوں پر ایک ایسازمانہ آئے گا جس میں معیشت معصیت کے سوا باقی نہ رہ سکے گی۔۔۔ حتی کہ آدمی جھوٹ اور قسم بازی سے بھی دریغ نہ کرے گا، سو جب ایسازمانہ سرپرامنڈ آئے تو راہ فراراختیار کرو۔ دریافت کیا گیا کس طرف راہ فرار اختیار کریں یارسول لالہ فرمایا اللہ اور اس کی کتاب مقدس اور اس کے پیغمبر کی سنت کی طرف راہ پکڑو۔ الفردوس دیلمی، بروایت انس (رض)۔
998 – "يأتي على الناس زمان لا تطاق المعيشة فيهم إلا بالمعصية حتى يكذب الرجل ويحلف فإذا كان ذلك الزمان فعليكم بالهرب قيل يا رسول الله وإلى أين المهرب قال إلى الله وإلى كتابه وإلى سنة نبيه ".(الديلمي عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
٩٩٩۔۔ کیا حال ہوگا ایسی قوم کا، جو عیاش و مالدار لوگوں کو حسرت زندہ نگاہوں سے تکتے ہیں ؟ اور عبادت گزار بندگان خدا کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ؟ اور اپنی ہوس و خواہشات کے موافق قرآن پر عمل کرتے ہیں، اور خواہشات کے مخالف احکام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں یوں وہ قرآن کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہیں تو بعض حصوں کی تکفیر کرتے ہیں، اور جو عمل رزق ، عمر وغیرہ ایسے اعمال ان کے مقدر میں بغیر سعی و محنت کے لکھ دیئے گئے ہیں محض ان پر اکتفا کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور جو عظیم اجر اور نہ ختم ہونے والی تجارت سعی و محنت پر موقوف ہے اس سے کتراتے ہیں۔ الکبیر للطبرانی (رح)، ابن مندہ فی غرائب شعبہ ، الحلیہ، شعب الاایمان الخطیب عن ابن مسعود (رض)۔ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوع احادیث میں شمار کیا ہے۔
999- "ما بال أقوام يشرفون المترفين ويستخفون بالعابدين ويعملون بالقرآن ما وافق أهواءهم، وما خالف تركوه، فعند ذلك يؤمنون ببعض الكتاب ويكفرون ببعض يسعون فيما يدرك بغير سعي من القدر والمقدور والأجل المكتوب والرزق المقسوم، ولا يسعون فيما لا يدرك إلا بالسعي من الجزاء الموفور والسعي المشكور والتجارة التي لا تبور" (طب وابن منده في غرائب شعبه حل هب والخطيب عن ابن مسعود) ، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
١٠٠٠۔۔ جس نے کتاب اللہ کی پیروی کی اللہ اسے قعر ضلالت سے نکال کر نور ہدایت سے نوازیں گے اور روز قیامت حساب کتاب کی شدت سے مامون فرمائیں گے اور یہ اس لیے کہ فرمان باری ہے۔ فمن اتبع ھدای فلایضل ولایشقی، سو جس نے میری ہدایت کی اتباع کی وہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت۔ الاوسط للطبرانی (رح) بروایت ابن عباس (رض)۔
1000 – "من اتبع كتاب الله هداه الله من الضلالة، ووقاه سوء الحساب يوم القيامة، وذلك أن الله يقول: {فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقَى} ". (طس عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث رسول کا کتاب اللہ سے موازنہ
١٠٠١۔۔ اے حذیفہ ! تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم کتاب اللہ کو تھام لو، اس کو سیکھو اور اس کے فرمودات پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ شعب الایمان ، بروایت حذیفہ (رض)۔
1001 – "يا حذيفة عليك بكتاب الله فتعلمه واتبع ما فيه". (هب عن حذيفة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٢۔۔ خبردار تم کو اللہ کی کتاب مل چکی ہے ، اب اس پر عمل کرنا لازم ہوگیا ہے کسی کو اس کے ترک کرنے کا کوئی عذر نہیں ۔ سو اگر کوئی بات کتاب اللہ میں نظر نہ آئے تو میری سنت جاریہ کو پکڑو، اور اگر اس کے متعلق میری سنت نہ پاؤ تو پھر میرے اصحاب کے قول کو لازم پکڑ لو بیشک میرے اصحاب آسمان کے تاروں کی مانند ہیں کسی کی راہ بھی تھام لو ہدایت یاب ہوجاؤ گے اور میرے اصحاب کا اختلاف تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔ بخاری و مسلم ، فی المدخل، ابونصر السجری ، فی الابانہ، الخطیب ابن عساکر، الدیلمی ، بروایت سلیمان بن ابی کریمہ عن جویر عن الضحاک عن ابن عباس (رض)۔ سلیمان اور جویر دونوں راوی حدیث ضعیف ہیں اور ابونصر السجری نے بھی اس حدیث کو غریب فرمایا ہے۔
1002 – "مهما أوتيتم من كتاب الله فالعمل به لا عذر لأحد في تركه، فإن لم يكن في كتاب الله فسنة مني ماضية، فإن لم تكن سنة مني فما قال أصحابي، إن أصحابي بمنزلة النجوم في السماء فأيها أخذتم اهتديتم واختلاف أصحابي لكم رحمة". (ق في المدخل وأبو نصر السجزي في الإبانةوقال غريب والخطيب وابن عساكر والديلمي عن سليمان ابن أبي كريمة عن جويبر الضحاك عن ابن عباس) وسليمان ضعيف وكذا جويبر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کی پیروی راہ نجات ہے
١٠٠٣۔۔ یہ کیسی تمہاری لکھی ہوئی تحریر ات میرے پاس پہنچتی ہیں کیا کتاب اللہ کی موجودگی میں کسی اور کتاب کے لکھنے کی گنجائش ہے ؟ قریب ہے کہ اللہ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہوجائے عنقریب رات کے وقت اس پر نظرثانی فرمائیں گے تو کسی کسی ورق پر یا کسی دل پر کوئی نقش باقی نہیں چھوڑیں گے جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرمائیں گے اس کے دل میں ، لاالہ الا اللہ ، کو باقی رکھیں گے۔ طبرانی فی الاوسط، بروایت ابن عمر (رض)۔
1003 – "ما هذه الكتب التي يبلغني أنكم تكتبونها، أكتاب مع كتاب الله؟ يوشك أن يغضب الله لكتابه؟؟ فسيرى عليه ليلا فلا يترك في ورقة ولا قلب عنه حرفا إلا ذهب به، من أراد الله به خيرا أبقى في قلبه لا إله إلا الله". (طس عن ابن عباس وابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক: