কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ৬৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٥۔۔ ہر امت میں مجوسی گذرے ہیں اور میری اس امت کے مجوسی قدریہ ہیں۔ الشیرازی فی الالقاب ، بروایت جعفر بن محمد بروایت ابیہ عن جدہ۔
644 – "إن لكل أمة مجوسا وإن مجوس أمتي هذه القدرية". (الشيرازي في الألقاب عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٦۔۔ قدری شخص کی ابتداء مجوسیت سے ہو کرزندیقیت پر انتہا ہوتی ہے۔ ابونعیم براویت انس۔
645 – "القدري أوله مجوسي وآخره زنديق". (أبونعيم عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٧۔۔ قدریہ میری امت کے مجوسی ہیں۔ بخاری، فی تاریخہ بروایت ابن عمرو (رض) ۔
646 – "القدرية مجوس أمتي". (خ في تاريخه عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٨۔۔ ہر امت میں مجوسی گزرے ہیں اور قدریہ میری اس امت کے مجوسی ہیں۔ پس جب وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادتنہ کرو اور گرمرجائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو۔ مسنداحمد بروایت عمر۔
647 – " لكل أمة مجوس وإن هؤلاء القدرية مجوس أمتي فإن مرضوا فلا تعودوهم وإن ماتوا فلا تشهدوهم". (حم عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٩۔۔ میری امت کے یہودی مرجیہ ہیں پھر اپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔ فبدل الذین ظلمواقولا غیرالذی قیل لھم۔ سوجوظالم تھے انھوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اور لفظ کہناشروع کردیا۔ ابونصر ربیعہ بن علی العجلی ، فی کتاب ھدم الاعتزال والرافعی بروایت ابن عباس (رض)۔
648 – "يهود أمتي المرجئة ثم قرأ {فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلاً غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ} " (أبو نصر ربيعة بن علي العجلي في كتاب هدم الإعتزال والرافعي عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٠۔۔ شاید تم میرے بعد ایک عرصہ تک زندہ رہو۔ حتی کہ ایسی قوم کو پاؤ جو پروردگار عالم کی قدرت کو جھ لائے گی اور اس کے بندوں کو گناہوں پر اکسائے گی۔۔ ان کی باتوں کا ماخذ اور سرچشمہ نصرانیت ہوگا۔ سو جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو ان سے تم اللہ کے لیے بےزاری کا اظہار کردو۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن عباس (رض)۔
649 – " لعلك أن تبقى بعدي حتى تدرك قوما يكذبون بقدرة الله يحملون الذنوب على عباده اشتقوا كلامهم ذلك من النصرانية، فإذا كان كذلك فابرؤوا إلى الله تعالى منهم". (طب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥١۔۔ اولاجوچیز دین کو اوندھا کرے گی اور اس کا حلیہ بگاڑ دے گی جس طرح کہ برتن کو اوندھا کیا جاتا ہے وہ لوگوں کا قدرت خداوندی میں کلام کرنا ہوگا۔ الفردوس دیلمی ، بروایت ابن عمر (رض)۔ ٦٥٢۔۔ قدریہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خیر اور شر ہمارے ہاتھوں کا کرشمہ ہے ایسے لوگوں کو میری شفاعت شمہ بھرنصیب نہ ہوگی۔ میرا ان سے کوئی تعلق نہ ان کا مجھ سے کوئی تعلق۔ ابوداؤد، بروایت ابن عمر (رض)۔
650 – "أول ما يكفأ الدين كما يكفأ الإناء على وجهه قول الناس في القدر". (الديلمي عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٢۔۔ قدریہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ خیر اور شر ہمارے ہاتھوں کا کرشمہ ہے ایسے لوگوں کو میری شفاعت شمہ بھر نصیب نہ ہوگی میرا ان سے کوئی تعلق۔ ابوداود بروایت انس۔
651 – "القدرية الذين يقولون الخير والشر بأيدينا ليس لهم في شفاعتي نصيب ولا أنا منهم ولا هم مني". (عد عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٣۔۔ اس امت میں بھی مسخ واقع ہوگا۔ آگاہ رہو اس کا ظہور تقدیر کے جھٹلانے والے زندیقوں میں ہوگا۔ مسنداحمد بروایت ابن عمر (رض)۔
652 – "سيكون في هذه الأمة مسخ إلا وذلك في المكذبين بالقدر والزنديقية". (حم عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٤۔۔ عنقریب آخرزمانہ میں ایک قوم آئے گی جو تقدیر کو جھٹلائے گی، وہ اس امت کے مجوسی ہوں گے پس اگر وہ مرض میں مبتلا ہوجائیں تو ان کی عیادت کونہ جانا اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہونا۔ ابوداؤد بروایت ابن عمر (رض)۔
653 – "سيكون في آخر الزمان قوم يكذبون بالقدر أولئك مجوس هذه الأمة فإن مرضوا فلا تعودوهم وإن ماتوا فلا تشهدوهم". (عد عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٥۔۔ میرے بعد ایک قوم آئے گی جو تقدیر کا انکار کرے گی، خبردار ، جو ان کو پائے وہ ان سے قتال کرے۔ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں، ان سے جہاد کرنا، ترک اور دیلم کے کافروں سے جہاد کی مانند ہے۔ الفردوس للدیلمی ، (رح) بروایت معاذ۔
654 – "سيكون بعدي قوم يكذبون بالقدر ألا من أدركهم فليقتلهم إني بريء منهم وهم براء مني جهادهم كجهاد الترك والديلم". (الديلمي عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٦۔۔ عنقریب آخرزمانہ میں ایک قوم آئے گی ، جو کہیں گے تقدیر کی کچھ حقیقت نہیں ہے پس اگر وہ مرض میں مبتلا ہوجائیں تو ان کی عیادت کونہ جانا۔ اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہونا۔ یقیناوہ دجال کا گروہ ہے اور اللہ پر لازم ہے کہ ان کا انہی کے ساتھ حشر فرمائے۔ ابوداؤد الطیالسی ، براویت حذیفہ۔
655 – "سيكون في آخر الزمان قوم يقولون لا قدر فإن مرضوا فلا تعودوهم وإن ماتوا فلا تشهدوهم فإنهم شيعة الدجال وحق على الله أن يلحقهم به". (ط عن حذيفة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٧۔۔ ایک قوم آئے گی جوک ہے گی تقدیر کچھ نہیں ہے پھر وہ لوگ زندیقیت کے مرتکب ہوں گے سو اگر تمہارا ان سے سامنا ہوجائے تو ان کو سلام نہ کرو۔ اور اگر وہ مرض میں مبتلا ہوجائیں تو ان کی عیادت کونہ جاؤ، اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہوؤ۔ یقیناً وہ دجال کا گروہ ہے۔ حاکم فی تاریخ براویت ابن عمر (رض)۔
656 – "يجيء قوم يقولون لا قدر ثم يخرجون منها إلى الزندقة، فإذا لقيتموهم فلا تسلموا عليهم وإن مرضوا فلا تعودوهم، وإن ماتوا فلا تشهدوا جنائزهم، فإنهم شيعة الدجال". (ك في تاريخه عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٨۔۔ دوجماعتیں جنت میں داخل نہ ہوں گی ۔ قدریہ اور مرجیہ۔ ابوداؤد بروایت ابی بکر۔
657 – "صنفان لا يدخلون الجنة القدرية، والمرجئة". (عد عن أبي بكر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٥٩۔۔ میری امت کے دو گروہ جنت میں داخل نہ ہوں گے قدریہ اور حروریہ۔ ابوداؤد بروایت انس (رض)۔
658 – "صنفان من أمتي لا يدخلون الجنة القدرية والحرورية". (عد عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٦٠۔۔ اگر فرقہ قدریہ یامرجیہ کا کوئی شخص مرجائے ۔ اور تین یوم بعد اس کی قبر کو کھودا جائے تویقینا اس کا رخ قبلہ رو نہ ملے گا۔ المستدرک للحاکم ، بروایت معروف الحیاظ عن واثلہ۔
اس روایت میں معروف نامی جو راوی ہیں بہت زیادہ منکرالحدیث ہے لہٰذا اس روایت کی صحت پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ابوسیوطی (رح) ۔
اس روایت میں معروف نامی جو راوی ہیں بہت زیادہ منکرالحدیث ہے لہٰذا اس روایت کی صحت پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ابوسیوطی (رح) ۔
659 – " لو أن قدريا أو مرجئا مات فنبش بعد ثلاث لوجد إلى غير القبلة". (ك عن معروف الخياط عن واثلة ومعروف منكر الحديث جدا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٦١۔۔ کوئی امت سوائے شرک بااللہ کے کسی اور گناہ کی وجہ سے قعر ہلاکت میں نہ پڑی اور شرک کی تحریف وابتدا محض تکذیب بالقدر سے ہوئی ۔ ابن عساکر، بروایت ابن عمر۔
660 – "ما هلكت أمة قط إلا بالشرك بالله عز وجل وما كان يبدئ شركها إلا التكذيب بالقدر". (كر عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٦٢۔۔ کوئی امت سوائے شرک باللہ کے کسی اور گناہ کی وجہ سے قعرہلاکت میں پڑی اور کوئی امت شرک کی نجاست میں اس وقت تک نہ پڑی جب تک کہ تکذیب بالقدر میں مبتلا نہ ہوجائے۔ الطبرانی فی الکبیر، تمام ، ابن عساکر، بروایت یحییٰ بن قاسم، عن ابیہ عن جدہ عبیداللہ بن عمر۔
661 – "ما هلكت أمة قط إلا بالشرك بالله عز وجل وما أشركت أمة حتى يكون بدء شركها التكذيب بالقدر". (طب وتمام وابن عساكر عن يحيى بن القاسم عن أبيه عن جده عبد الله بن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٦٣۔۔ جس نے ہمت اور استطاعت کو اپنی ذات پر منحصر سمجھا اس نے کفر کیا۔ الفردوس دیلمی ، (رح) بروایت انس۔
662 – " من جعل الاستطاعة إلى نفسه فقد كفر". (الديلمي عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٦٤۔۔ جوک ہے کہ تقدیر کی حقیقت کچھ نہیں اس کو قتل کرڈالو۔ الفردوس دیلمی بروایت ابوہریرہ۔
663 – " من قال لا قدر فاقتلوه". (الديلمي عن أبي هريرة) .
তাহকীক: