কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ৬২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٥۔۔ مجھے کوئی مصیبت نہیں پہچنی مگر وہ اس وقت سے میری قسمت میں لکھی جاچکی ہے جبکہ آدم ابھی مٹی کے قالب میں تھے۔ ابن ماجہ، بروایت ابن عمر (رض)۔

پس منظر راوی کہتے ہیں کہ ام سلمہ (رض) نے رسالت ماب سے استفسار کیا یارسول اللہ آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری سے تکلیف پہنچتی ہے ؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ تب آپ نے مذکورہ بالاجواب مرحمت فرمایا تھا۔
624 – "ما أصابني شيء منها إلا وهو مكتوب علي وآدم في طينته". (هـ عن ابن عمر) قال قالت أم سلمة يا رسول الله لا يزال يصيبك كل عام وجع من الشاة المسمومة قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٦۔۔ کوئی بندہ اللہ سے ڈرنے کا حق اس وقت تک ادا نہیں کرسکتا، جب تک کہ یقین نہ کرلے کہ جو مصیبت اس کو پہنچی ہے وہ ہرگز چوک کرنے والی نہ تھی اور جو نہیں پہنچی وہ ہرگز پہنچنے والی نہ تھی ۔ الخطیب ، بروایت انس۔
625 – "لا يتقي الله عبد حق تقاته حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه". (الخطيب عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٧۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کی حلاوت نہیں پاسکتا ، جب تک کہ یقین نہ کرلے کہ جو مصیبت اس کو پہنچی ہے وہ ہرگز خطا ہونے ولی نہ تھی ۔ ابی عاصم، السنن لسعید، بروایت انس۔
626 – "لا يجد عبد حلاوة الإيمان حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطيه". (ابن أبي عاصم ص عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٨۔۔ کوئی تدبیر و احتیاط تقدیر خداوندی کو نہیں ٹال سکتی، لیکن دعا نازل شدہ اور غیرنازل شدہ ہر مصیبت کے لیے سود مند ہے کیونکہ کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو دعا اس سے جاملتی ہے اور یوں وہ دونوں قیامت تک ایکد وسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ابوداؤد ، المستدرک للحاکم، وتعقب ، والخطیب ، بروایت عائشہ (رض)۔
627 – "لا يغني حذر من قدر والدعاء ينفع مما نزل ومما ينزل، فإن البلاء ينزل فيلقاه الدعاء، فيعتلجان إلى يوم القيامة". (عد ك وتعقب والخطيب عن عائشة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٩٢۔۔ اے زبیر ! رزق عرش خداوندی سے زمین کی گہرائیوں تک کھلاہوا ہے اور اللہ ہر بندہ کو اس کی ہمت اور وسعت کے بقدر رزق دیتے ہیں الحلیہ، بروایت الزبیر (رض)۔
628 – "يا زبير إن الرزق مفتوح من لدن العرش إلى قرار بطن الأرض يرزق الله كل عبد على قدر همته ونهمته (حل عن الزبير رضي الله عنه) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٣٠۔۔ اے سراقہ ! جس بات پر تقدیر کا قلم خشک ہوچکا ہے اور تقادیر کا فیصلہ ہوچکا ہے اس کے لیے عمل کرتے رہو۔۔ یقیناہر ایک کو اسی کی توفیق ہوتی ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، سراقہ بن مالک۔
629 – "يا سراقة اعمل لما جف به القلم، وجرت به المقادير، فإن كلا ميسر". (طب عن سراقة بن مالك) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٣١۔۔ اے لڑکے ! اللہ کے حق کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ کے حق کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا اور جان لے اور جب تو سوال کرے تو صرف اللہ ہی کے آگے دست سوال دراز کر۔ اور جب مدد مانگے تو اللہ ہی سے مددمانگ کہ اگر ساری امت اس بات پر متفق ہوجائے کہ تجھ کوئی نفع پہنچائے ۔۔۔ جبکہ اللہ نے وہ نفع تیرے حق میں نہیں رکھا تو تمام لوگ اس پر قادر نہیں ہوسکتے اور اگر ساری امت اس بات پر متفق ہوجائے کہ تجھ کو کوئی ضرر پہنچائے ۔۔ جبکہ اللہ نے وہ ضرر تیرے لیے نہیں لکھا تو تمام لوگ اس پر قادر نہیں ہوسکتے ہرچیز کا فیصلہ کردیا گیا ہے قلم خشک ہوچکے ہیں صحیفے ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیے گئے ہیں۔ شعب الایمان ، بروایت ابن عباس (رض)۔
630 – "يا غلام احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده تجاهك وإذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم يكتبه الله لك لم يقدروا على ذلك، ولو اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يكتبه الله عليك لم يقدروا على ذلك قضى القضاء وجفت الأقلام وطويت الصحف". (هب عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فراخی اور خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھنا۔
٦٣٢۔۔ اے لڑکے ! کیا میں تجھ کو ایسی بات نہ بتاوں جو تیرے لیے نفع رساں ہو۔۔ اللہ کے حق کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کے حق کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا۔ فراخی اور خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھ وہ تجھے سختی وشدت میں یاد رکھے گا یہ یقین کرلے کہ جو مصیبت تجھ کو پہنچی ہے وہ ہرگز چوکنے والی نہ تھی اور جو نہیں پہنچی وہ ہرگز پہنچنے والی نہ تھی اور یقین کر کہ اگر تمام مخلوق اس بات پر مجتمع ہوجائے کہ تجھے کوئی چیز عطا کرے مگر اللہ کی یہ منشاء نہ ہو تو وہ تمام لوگ اپنے فیصلہ پر قادر نہیں ہوسکتے اور اگر تمام مخلوق تجھ سے کوئی چیز چھیننا چاہے مگر پروردگار تجھے عطا کرنا چاہے تو ساری مخلوق اپنے فیصلہ پر قادر نہیں ہوسکتی۔

قیامت تک رونما ہونے والی تمام چیزوں کا قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے اور یاد رکھ جب تو سوال کرے تو صرف اللہ کے آگے دست سوال دراز کر اور جب مدد مانگے تو اللہ ہی سے مددمانگ اور جب تو کسی سے حفاظت اور پناہ طلب کرے تو اللہ ہی سے طلب کر۔ شکر اور یقین کے ساتھ اللہ کی عبادت کر۔ جان لے کہ ناپسند اور کراہت آمیز چیز پر صبر کرنا خیر کثیر کا باعث ہے اور نصرت خداوندی بھی صبر پر موقوف ہے کشادگی مصیبت و کرب کے ساتھ ہے اور ہر تنگی کے ساتھ دو گنا آسانی ہے۔ الطبرانی فی البیر، بروایت ابن عباس ، بروایت ابی سعید۔
631 – "يا غلام ألا أعلمك كلمات ينفعك الله بهن احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده أمامك، تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة، واعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك، وأن ما أخطأك لم يكن ليصيبك،وأن الخلائق ولو اجتمعوا على أن يعطوك شيئا لم يرد أن يعطيكه، لم يقدروا على ذلك، أو أن يصرفوا عنك شيئا أراد الله أن يعطيكه لم يقدروا على ذلك، وأن قد جف القلم بما هو كائن إلى يوم القيامة، فإذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، وإذا اعتصمت فاعتصم بالله، واعمل لله بالشكر في اليقين، واعلم أن الصبر على ما تكره خير كثير، وأن النصر مع الصبر، وأن الفرج مع الكرب، وأن مع العسر يسرا". (طب عن ابن عباس) ، (حب عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فراخی اور خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھنا۔
٦٣٣۔۔ اے نوجوان۔ کیا میں تجھے نفع دینے والی چند باتوں کا تحفہ نہ دوں اور نہ سکھاؤں ؟ اللہ کے حق کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت فرمائے گا اور اللہ کے حقوق کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا اور جب تو مدد مانگے تو اللہ ہی سے مدد مانگ۔

اور جان لے۔ قیامت تک رونما ہونے والی تمام چیزوں کو قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے اور اگر تمام مخلوقات تیرے لیے کسی چیز کا ارادہ کریں جو تیرے لیے نہ لکھی گئی ہو تو وہ تمام مخلوقات اپنے فیصلہ پر قادر نہیں ہوسکتیں۔ اور جان لے نصرت خداوندی صبر پر موقوف ہے کشادگی مصیبت وکرب کے ساتھ ہے۔ اور ہر تنگی کے ساتھ دو گنا آسانی ہے۔ الطبرانی فی الکبیر۔ بروایت عبداللہ بن جعفر۔
632 – "يا فتى ألا أهب لك ألا أعلمك كلمات ينفعك الله بهن احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده أمامك وإذا استعنت بالله فاستعن بالله واعلم أن قد جف القلم بما هو كائن إلى يوم القيامة واعلم أن الخلائق لو أرادوك بشيء لم يكتب عليك لم يقدروا عليك واعلم أن النصر مع الصبر وأن الفرج مع الكرب وأن مع العسر يسرا". (طب عن عبد الله بن جعفر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فراخی اور خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھنا۔
٦٣٤۔۔ اے کعب۔۔ یہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ الصحیح لابن حبان بروایت کعب بن مالک۔

حضرت کعب بن مالک نے نبی کریم سے استفسار کیا کہ یارسول اللہ کیا جو ہم دواؤں کے ساتھ علاج کرتے ہیں اور جھاڑ پھونک کرتے ہیں یادیگراشیاء جن کو ہم بطور تدبیر کے استعمال کرتے ہیں وہ تقدیر خداوندی کو ٹال سکتی ہیں ؟ تب آپ نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔
633 – "يا كعب بل هي من قدر الله". (حب عن كعب بن مالك) قال يا رسول الله أرأيت دواء نتداوى به ورقي نسترقي بها وأشياء نفعلها هل ترد من قدر الله. قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فراخی اور خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھنا۔
٦٣٥۔۔ جس بات کا فیصلہ کردیا گیا (وہ واقع ہو کر رہے گی) الدارقطنی فی الافراد، الحلیہ، بروایت انس (رض) نعہ۔
634 – "لو قضى لكان أو قد كان". (قط في الأفراد حل عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٣٦۔۔ اللہ نے مجھ سے قبل جتنے پیغمبروں کو بھی مبعوث فرمایا ہر ایک کے بعد اس کی امت میں مرجیہ اور قدریہ ضرور پیدا ہوئے جوان کے بعد ان کی امتوں کو غلط راستے پر ڈالتے رہے آگاہ رہو اللہ نے مرجیہ اور قدریہ پر سترانبیاء کی زبانوں سے لعنت فرمائی ہے۔ خبردار۔ میری یہ امت امت مرحومہ ہے اس پر آخرت میں عذاب نہ ہوگا، اور اس کا عذاب تو دنیا میں ہی ہے۔ سوائے میری امت کے دو گروہوں کے جو جنت میں قطعا داخل نہ ہوں گی مرجیہ اور قدریہ۔ ابن عساکر۔ بروایت معاز۔

آپ کا ارشاد کہ اس امت پر آخرت میں عذاب نہ ہوگا، اس کا عذاب تو دنیا ہی میں ہے اس کا مقصد ہے کہ آخرت میں ان کو دائمی عذاب نہ ہوگا جو گناہ گار ہیں وہ بالاخر جنت میں ضرور داخل ہوجائیں گے سوائے مرجیہ اروقدریہ کے۔ کہ وہ تقدیر کے انکار کی بنا پر کفر کے مرتکب ہوں گے اور پھر کفر کی وجہ سے دائمی عذاب کی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔
635- "إن الله عز وجل لم يبعث نبيا قبلي إلا كان في أمته من بعده مرجئة وقدرية يشوشون عليه أمر أمته من بعده ألا إن الله عز وجل لعن المرجئة والقدرية على لسان سبعين نبيا ألا وإن أمتي هذه لأمة مرحومة لا عذاب عليها في الآخرة وإنما عذابها في الدنيا إلا صنفين من أمتي لا يدخلون الجنة المرجئة والقدرية". (ابن عساكر عن معاذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٣٧۔۔ میری امت کے دو گروہوں پر اللہ نے سترانبیا کی زبانوں سے لعنت فرمائی ہے ، قدریہ اور مرجیہ۔ جو کہتے ہیں کہ ایمان فقط زبان سے اقرار کا نام ہے جس میں عمل ضروری نہیں ۔ الفردوس دیلمی ، (رح) بروایت حذیفہ ۔
636 – "صنفان من أمتي لعنهم الله على لسان سبعين نبيا القدرية والمرجئة الذين يقولون الإيمان اقرار ليس فيه عمل". (الديلمي عن حذيفة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٣٨۔۔ مرجیہ پر سترانبیاء کی زبانوں سے لعنت کی گئی ہے جو کہتے ہیں کہ ایمان قول بلاعمل کا نام ہے۔ حاکم فی التاریخ بروایت ابی امامہ۔
637 – "لعنت المرجئة على لسان سبعين نبيا الذين يقولون الإيمان قول بلا عمل". (ك في تاريخه عن أبي أمامة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٣٩۔۔ اللہ نے جس بھی پیغمبر کو مبعوث فرمایا اس کی امت میں قدریہ اور مرجیہ ضرور ہے جو ان کی امت کو خراب کرتے ہیں آگاہ رہو اللہ نے قدریہ اور مرجیہ پر سترانبیاء کی زبانوں سے لعنت فرمائی ۔ الطبرانی فی الکبیر، براویت معاذ بروایت ابن مسعود۔
638 – "ما بعث الله نبيا إلا وفي أمته قدرية ومرجئة يشوشون عليه أمر أمته ألا وإن الله تعالى قد لعن القدرية والمرجئة على لسان سبعين نبيا". (طب عن معاذ) (عد عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٠۔۔ اللہ نے مجھ سے قبل جس پیغمبر کو مبعوث فرمایا اور اس کی امت سیدھی راہ پر جمع ہوئی تو ضرور مرجیہ اور قدریہ نے ان کے درمیان دراڑیں ڈال دیں آگاہ رہو اللہ نے قدریہ اور مرجیہ پر سترانبیاء کی زبانوں سے لعنت فرمائی ہے اور ان میں سے آخری میں ہوں۔ ابن الجوزی فی الواھیات بروایت ابوہریرہ۔
639 – "ما بعث الله نبيا قبلي فاستجمع له أمر أمته إلا كان فيهم المرجئة والقدرية يشوشون عليه أمر أمته ألا وإن الله تعالى قد لعن المرجئة والقدرية على لسان سبعين نبيا أنا آخرهم". (ابن الجوزي في الواهيات عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤١۔۔ میری امت کے چار گروہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے جنت میں کوئی حصہ نہیں نہ انھیں میری شفاعت نصیب ہوگی اور نہ اللہ ان پر نظر رحمت فرمائیں گے نہ ان سے ہم کلام ہوں گے بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے مرجیہ قدریہ، جہیمہ، اور رافضیہ۔ الفردوس للدیلمی، (رح) بروایت انس۔ اس روایت میں ایک راوی اسحاق بن بجیح ہے۔
640 – "أربعة أصناف من أمتي ليس لهم في الإسلام نصيب ولا في الجنة نصيب ولا تنالهم شفاعتي ولا ينظر الله إليهم ولا يكلمهم ولهم عذاب أليم المرجئة والقدرية والجهمية والرافضة". (الديلمي عن أنس) (وفيه إسحاق بن نجيح) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٢۔۔ میری امت کے دو گروہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ، اہل قدر ، اہل رجائ۔ ابوداؤد بروایت معاذ۔
641 – "صنفان من أمتي لا سهم لهم في الإسلام أهل القدر وأهل الارجاء". (عد عن معاذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٣۔۔ میری امت کے دوگراہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں مرجیہ اور قدریہ۔ دریافت کیا گیا مرجیہ کون ہیں ؟ فرمایا جو ایمان میں محض قول کے قائل ہیں اور عمل کا انکار کرتے ہیں۔ دریافت کیا گیا قدریہ کون ہیں ؟ فرمایا جو شر کو اللہ کی طرف سے مقدر نہیں مانتے۔ السنن بیہقی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
642 – "صنفان من أمتي لا سهم لهم في الإسلام المرجئة والقدرية، قيل وما المرجئة قال الذين يقولون الإيمان قول بلا عمل (2)) . قيل فما القدرية قال الذين يقولون لم يقدر الشر". (ق عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع ! قدریہ اور مرجیہ کی مذمت میں۔۔ ازالاکمال۔
٦٤٤۔۔ میری امت کے دوگرہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں قدریہ ، اور مرجیہ۔ ان سے جہاد کرنا مجھے فارس دیلم، اور روم والوں کے ساتھ جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ الفردوس دیلمی، بروایت ابی سعد۔
643 – "صنفان من أمتي لا سهم لهم في الإسلام القدرية والمرجئة وجهادهم أحب إلي من جهاد فارس والديلم والروم". (الديلمي عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক: