কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ৬০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٥۔۔ اے ابن خطاب ! تمام چیزوں کے فیصلوں سے فراغت ہوچکی ہے اور ہر ایک اسی کے موافق عمل میں مصروف ہے سعادت مند سعادت کے عمل انجام دے رہا ہے اور اہل شقاوت شقاوت کا عمل انجام دے رہا ہے۔ مسنداحمد، ترمذی، بروایت ابن عمر (رض)۔

پس منظر۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے بارگاہ رسالت میں سوال کیا تھا کہ بندہ جو عمل سرانجام دیتا ہے وہ از سرنو معاملہ ہوتا ہے یا پہلے سے اس کے بارے میں خدا کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے ؟ تب آپ نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔ اس حدیث پر امام ترمذی (رح) نے حسن اور صحیح کا حکم جاری فرمایا ہے۔
604 – "فيما قد فرغ منه يا ابن الخطاب وكل ميسر أما من كان من أهل السعادة فإنه يعمل السعادة، وأما من كان من أهل االشقاوة فإنه يعمل للشقاوة". (حم ت حسن صحيح عن ابن عمر) قال قال عمر "يا رسول الله أرأيت مايعمل فيه أمر مبتدأ أو فيما قد فرغ منه". قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٦۔۔ جس کے بارے میں قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے اور امو ر تقدیر جاری ہوچکے ہیں عمل کرتے رہو (کیونکہ ہر ایک کو اسی کی توفیق حاصل ہوتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے) پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی، فامامن اعطی واتقی وصدق للحسنی ، فسنیسرہ للیسری، یعنی جس نے عطا کیا اور تقوی اختیار کیا، اور اچھی بات کی تصدیق کی ہم اس کو نیک کام میں سہولت دیں گے۔ عبد بن حمید ابن شاھین، ابن قانع ، بروایت بشیر بن کعب العدوی،۔

پس منطر۔۔ ایک سائل نے آپ سے سوال کیا یارسول اللہ انسان عمل کس تحریک کی بنا پر انجام دیتا ہے تب آپ نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا ۔ اس حدیث کو مرسل ہونے کو ترجیح دی گئی ہے کیونکہ راوی اول کی آپ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔ مسنداحمد، امام مسلم، ابوعوانہ، الصحٰح لابن حبان، براویت جابر۔
605 – "فيما جف به القلم وجرت به المقادير، فاعملوا فكل ميسر لما خلق له ثم قال: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى} ". (ابن شاهين وعبد بن حميد وابن قانع عن بشير بن كعب العدوي) . إن سائلا قال يا رسول الله فيم العمل قال فذكره ورجح إرساله وأنه لا صحبة له. (حم م وأبوعوانة حب عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٧۔۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں، میری معرفت کی علامت میرے بندوں کے دلوں میں ہے۔
606 - "قال الله عز وجل: علامة معرفتي في قلوب عبادي. حسن موقع قدري أن لا أشتكى ولا أستبطى ولا أستخفى". (الديلمي عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٨۔۔ مجھے جبرائیل نے کہا اللہ عزوجل فرماتے ہیں، اے محمد جو شخص مجھ پر ایمان لایا، مگر خیر و شر تقدیر پر ایمان نہ لایا تو وہ میرے سوا اپنا کوئی اور پروردگار تلاش کرلے۔ الشیرازی فی الالقاب، بروایت علی (رض)۔ اس روایت میں محمد بن عکاشہ الکرمانی ہے۔
607 - " قال لي جبريل قال الله عز وجل: يا محمد من آمن بي ولم يؤمن بالقدر خيره وشره فليلتمس ربا غيري". (الشيرازي في الألقاب عن علي) وفيه محمد بن عكاشة الكرماني.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٩۔۔ شقی اور سعید ہر ایک کے متعلق قلم ہوچکا ہے اور چار چیزوں سے فراغت پاچکا ہے۔ تخلیق، اخلاق، رزق اور عمر۔ الدیلمی بروایت ابن مسعود۔
608 – "جري القلم بالشقي والسعيد وفرغ من أربع، من الخلق والخلق والرزق والأجل". (الديلمي عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٠۔۔ آخرزمانہ میں میری امت پر تقدیر ایک باب منکشف ہوگا جس کا کوئی سدباب نہیں ہوسکے گا، تمہیں اس سے نجات کے لیے یہی آیت کفایت کرسکے گی۔ مااصاب من مصیبۃ فی الارض ولافی انفسکم الا فی کتاب۔ کوئی مصیبت دھرتی پر اور خود تم پر نہیں پڑتی، مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں ہے۔ الدیلمی بروایت سلیم ، بن جابر الھجیمی۔
609 – "سيفتح على أمتي باب من القدر في آخر الزمان لا يسده شيء يكفيكم منه أن تلقوه بهذه الآية: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ} " الآية. (الديلمي عن سليم ابن جابر الهجيمي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١١۔۔ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام تقدیروں کو مقدر کردیا ہے اور ان کو لکھ دیا ہے۔ مسنداحمد، ترمذی، الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن عمرو۔ امام ترمذی نے مذکورہ حدیث کو حسن صحیح اور غریب لکھا ہے۔
610 – "قدر الله المقادير وكتبها قبل أن يخلق السموات والأرضين بخمسين ألف سنة". (حم ت حسن صحيح. غريب طب عن ابن عمرو) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٢۔۔ آدم (علیہ السلام) کی موسیٰ سے ملاقات ہوئی تو موسی نے کہا آپ وہی آدم ہیں جن کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنی جنت میں رہائش بخشی، اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا، پھر آپ نے جو کیا، کیا۔ اور اپنی ذریت کو جنت سے نکلوادیا ؟ آدم (علیہ السلام) نے فرمایا، آپ وہی موسیٰ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا اور آپ کو اپنے ساتھ شرف کلام سے بخشا، اور آپ کو راز ونیاز کے لیے اپنے قریب کیا، موسیٰ نے فرمایا جی ہاں۔ آدم نے کہا کیا میرا وجود مقدم ہے یا تقدیر کا ؟ موسیٰ نے کہا تقدیر کا اور آدم (علیہ السلام) موسیٰ پر غالب آگئے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت جندب ابوہریرہ (رض)۔
611 – "لقي آدم موسى فقال موسى: أنت آدم الذي خلقك الله بيده وأسكنك جنته وأسجد لك ملائكته ثم فعلت ما فعلت فأخرجت ذريتك من الجنة قال آدم أنت موسى الذي اصطفاك الله برسالته وكلمك وقربك نجيا قال نعم قال فأنا أقدم أما الذكر قال بل الذكر فحج آدم موسى فحج آدم موسى". (طب عن جندب وأبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٣۔۔ اگر کوئی بندہ رزق سے فرار ہو۔۔ تو رزق اس کو موت کی طرح تلاش کرے گا۔ ابن عساکر، بروایت ابی الدردائ۔
612 – "لو أن عبدا هرب من رزقه لطلبه رزقه كما يطلبه الموت". (ابن عساكر عن أبي الدرداء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٤۔۔ اگر اللہ عزوجل تمام اہل زمین و آسمان کو عذاب دیں تو یہ پروردگار کا ان پر قطعا ظلم نہ ہوگا اور اگر ان پر اپنی رحمت برسائیں تو اس کی یہ رحمت ان کے اعمال کی وجہ سے نہیں ، بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ اور اگر تو اس کے راہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سوناخرچ کردے تو پروردگار اس کو اس وقت تک ہرگز قبول نہ فرمائیں گے جب تک کہ تو تقدیر پر ایمان نہ لائے اور اس بات کا یقین نہ رکھے کہ تجھ کو پہنچنے والی مصیبت ہرگز ٹلنے والی نہ تھی ، اور جس سے تو محفوظ رہا وہ ہرگز تجھ کو پہنچنے والی نہ تھی ، اور اگر اس کے سوا کسی اعتقاد پر تیری موت آئی تو سیدھا جہنم میں جائے گا۔ ابوداؤد الطیالسی مسنداحمد، بروایت زید۔ مسند احمد عبد بن حمید، ترمذی، المسندابی یعلی، الصحیح لابن حبان ، الطبرانی فی الکبیر، ضیا المقدسی شعب الایمان بروایت ابی بن کعب وزید بن ثابت و حذیفہ وابن مسعود۔
613 – "لو أن الله عذب أهل سمواته وأهل أرضه لعذبهم وهوغير ظالم لهم، ولو رحمهم لكانت رحمته لهم خيرا لهم من أعمالهم، ولو أنفقت ملء أحد ذهبا في سبيل الله ماقبله الله منك حتى تؤمن بالقدر فتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وما أخطأك لم يكن ليصيبك ولو مت على غير هذا لدخلت النار". (ط حم عن زيد) ، (حم وعبد بن حميد ت ع حب طب ض هب عن أبي بن كعب وزيد بن ثابت وحذيفة وابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٥۔۔ اگر اللہ تعالیٰ تمام اہل زمین و آسمان کو عذاب دیں تو یہ اللہ کا ان پر قطعا ظلم نہ ہوگا اور اگر ان پر اپنی رحمت برسائیں تو اس کی یہ رحمت ان کے گناہوں سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ لیکن وہ جیسے چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے کسی کو عذاب کے شکنجہ میں جکڑتا ہے اور کسی پر رحم فرماتا ہے جس کو عذاب سے دوچار کرتا ہے بالکل برحق کرتا ہے۔ اور جس پر اپنی رحمت نچھاور کرتا ہے وہ بھی برحق ہے اور اگر تو اس کی راہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سوناخرچ کردے تو وہ تجھ سے اس وقت تک ہرگز قبول نہ کیا جائے گا جب تک کہ تو اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عمران بن حصین۔
614 – " لو أن الله عذب أهل السماء والأرض عذبهم غير ظالم، ولو أدخلهم في رحمته كانت رحمته أوسع من ذنوبهم، ولكنه كما قضى يعذب من يشاء ويرحم من يشاء، فمن عذب فهو الحق، ومن رحم فهو الحق، ولو كان مثل أحد ذهبا تنفقه في سبيل الله ما قبل منك حتى تؤمن بالقدر خيره وشره". (طب عن عمران بن حصين) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٦۔۔ نہیں ہے ایسا کوئی نفس، جو موت کی آغوش میں چلا جائے ، اور چیونٹی برابر بھی اس کی کوئی نیکی اللہ کے پاس ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کو بھی گارے سے لیپ کر رکھیں گے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت معاذ۔ گارے سے لیپ کر رکھنا کنایہ ہے اس کو اچھی طرح محفوظ رکھنے سے۔
615 – " ما من نفس تموت ولها عند الله مثقال نملة من خير إلا طين عليها طينا". (طب عن معاذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٧۔۔ جس نے دنیا میں تقدیر کے متعلق حرف زنی کی اس سے قیامت کے روز باز پرس ہوگی اور اگر اس سے لغزش ہوگئی تو ہلاک ہوجائے گا اور جس نے اس بارے میں سکوت اختیار کیا اس سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ الدارقطنی فی الافراد بروایت ابوہریرہ (رض)۔
616 – " من تكلم في القدر في الدنيا سئل عنه يوم القيامة، فإن أخطأ هلك، ومن يتكلم لم يسأل عنه يوم القيامة". (قط في الأفراد عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٨۔۔ دونوں مقام میں سے جس کے لیے اللہ نے کسی کو پیدا فرمایا ہوتا ہے اسی کے لیے عمل کرنے کی اس کو توفیق ملتی ہے۔ مسنداحمد، بروایت عمران بن حصین۔
617 – "من كان الله خلقه لواحدة من المنزلتين يهيئه لعملها". (حم عن عمران بن حصين) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦١٩۔۔ جو شخص اللہ کے فیصلہ قضا الٰہی پر راضی نہ ہو اور تقدیر خداوندی پر ایمان نہ لایا وہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا تلاش کرلے۔ الخطیب بروایت انس (رض)۔
618 – "من لم يرض بقضاء الله ولم يؤمن بقدر الله فليلتمس إلها غير الله عز وجل". (الخطيب عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٠۔۔ ٹھہرو، ٹھہرو۔ اے امت محمدیہ یہ دوگہری وادیاں ہیں دوتاریک گڑھے ہیں جوش و اضطراب سے جہنم میں نہ گرو۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم، سنویہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جنت اور ان کے آبا اور اجداد اور امہات اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں تمہارا رب بندوں کے فیصلہ جات سے فارغ ہوچکا ہے اور تمہارا رب فارغ ہوچکا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سنویہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جہنم اور ان کے آباء و اجداد اور امہات اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں تمہارا پروردگار فارغ ہوچکا ہے، تمہارا پروردگار فارغ ہوچکا ہے، تمہارا پروردگار فارغ ہوچکا ہے، میں حجت قائم کرچکا، میں تمہیں ڈراچکا۔ اے اللہ میں تیرا پیغام رسالت پہنچاچکا۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابی الدرداء ، وواثلہ ، وابی امامہ ، وانس۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم فرماتے ہیں رسول اللہ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ ہم تقدیر کے متعلق بحث وتمحیص میں مصروف تھے یہ دیکھ کر آپ نے مذکورہ خطاب فرمایا۔
619 – "مه مه، اتقوا الله يا أمة محمد، واديان عميقان، قعران مظلمان، لا تهيجوا عليكم وهج النار، بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من الرحمن الرحيم بأسماء أهل الجنة وآبائهم وأمهاتهم وعشائرهم، فرغ ربكم فرغ ربكم، بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من الرحمن الرحيم بأسماء أهل النار وآبائهم وأمهاتهم وعشائرهم فرغ ربكم فرغ ربكم فرغ ربكم، أعذرت أنذرت اللهم إني بلغت". (طب عن أبي الدرداء وواثلة وأبي أمامة وأنس) ، قالوا "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ونحن نتذاكر القدر" قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢١۔۔ ایسی کسی چیز میں جلدی سے کام مت لوجس کے متعلق تمہارا گمان ہے کہ تم جلد بازی کے ساتھ اس کو حاصل کرلو گے خواہ اللہ نے اس کو تمہارے لیے مقدر نہ کیا ہو اور اسی طرح ایسی کسی چیز میں تاخیر سے کام مت لو، جس کے متعلق تمہارا گمان ہے کہ تمہاری تاخیر کے ساتھ وہ چیز تمہارے سر سے ٹل جائے گی خواہ اللہ نے اس کو تمہارے لیے مقدور کردیا ہو۔ الطبرانی فی البیر، بروایت معاذ۔
620 – "لا تعجل إلى شيء تظن أنك إن استعجلت إليه أنك مدركه، وإن كان الله لم يقدر ذلك، ولا تستأخرن عن شيء تظن أنك إن استأخرت عنه أنه مدفوع عنك، وإن كان الله قد قدره عليك". (طب عن معاذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
622 ۔۔ تقدیر کے متعلق بحث نہ کرو، کیونکہ یہ اللہ کا راز ہے پس اللہ کے راز کو اس پر افشاء کرنے کی کوشش نہ کرو۔ الحلیہ، بروایت ابن عمر (رض) نعہ۔
621 – "لا تكلموا في القدر فإنه سر الله فلا تفشوا الله سره". (حل عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٣۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا۔۔۔ جب تک کہ تقدیر خداوندی پر ایمان نہ لائے ۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت سھل بن سعد۔
622 – "لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر". (طب عن سهل بن سعد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٢٤۔۔ کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ مسنداحمد، بروایت ابن عمرو (رض) ۔
623 – "لا يؤمن المرء حتى يؤمن بالقدر خيره وشره". (حم عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক: