কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ৫৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٥۔۔ اللہ عزوجل نے جنت کو پیدا فرمایا اور اس کے اہل بھی چھوٹے بڑے قبیلوں کی صورت میں پیدا فرمایا، اور اب ان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی، اور جہنم کو پیدا فرمایا اور اس کے اہل بھی چھوٹے بڑے قبیلوں کی صورت میں پیدا فرمایا، اور اب ان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی، اور جہنم کو پیدا فرمایا اور اس کے اہل بھی چھوٹے بڑے قبیلوں کی صورت میں پیدا فرمایا، اور اب ان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی، سو عمل کرتے رہو، ہر شخص کو وہی عمل میسر آتا ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا۔ الخطیب بروایت ابوہریرہ (رض)۔
585 – " إن الله عز وجل خلق الجنة وخلق لها أهلا بعشائرهم وقبائلهم ثم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم، وخلق النار وخلق لها أهلا بعشائرهم وقبائلهم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم اعملوا فكل امرئ ميسر لما خلق له". (الخطيب عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٦۔۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مشیت اپنے دائیں دست قدرت سے بھری اور دوسری بائیں دست قدرت سے بھری اور فرمایا یہ اس کے لیے ہے اور یہ اس کے لیے اور مجھے کوئی پروا نہیں ۔ الصحیح امام مسلم (رح) بروایت ابی عبداللہ۔
586 – "إن الله قبض قبضة بيمينه وأخرى باليد الأخرى قال هذه لهذه وهذه لهذه ولا أبالي". (م عن أبي عبد الله) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٧۔۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں میرے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں میں نے ہی خیر کو پیداک یا اور جس کے حق میں چاہا میں نے اسکومقدر کیا کیا ہی بہتری ہے اس کے لیے جس کو میں نے خیر کے لیے پیدا کیا اور خیر کو اس کے لیے پیدا کیا اور خیر کو اس کے ہاتھوں سے جاری کردیا۔ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں میں نے ہی شر کو پیدا کیا اور جس کے حق میں چاہا میں نے اس کو مقدر کردیا افسوس حسرت ہے اس شخص کے لیے جس کو میں نے شر کے واسطے پیدا کیا اور شر کو اس کے واسطے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں سے شر کو جاری کردیا۔ ابن النجار ، بروایت ابی امامہ۔
587 – " إن الله عز وجل يقول: لا إله إلا أنا خلقت الخير وقدرته فطوبي لمن خلقته للخير وخلقت الخير له وأجريت الخير على يديه أنا الله لا إله إلا أنا خلقت الشر وقدرته فويل لمن خلقته للشر وخلقت الشر له وأجريت الشر على يديه". (ابن النجار عن أبي أمامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٨۔۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں میں اپنے بندوں پر زمین میں زلزلہ برپا کرتا ہوں سو اس زلزلہ میں جن مومنین کی روح قبض کرتا ہوں یہ زلزلہ ان کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے اور یہی ان کی موت کا مقررہ وقت ہوتا ہے اور اس زلزلہ میں جن کافروں کی روح قبض کرتا ہوں یہ زلزلہ ان کے لیے باعث عذاب اور رسوائی ہوتا ہے اور یہی ان کی موت کا مقرر وقت ہوتا ہے۔ نعیم بن حماد فی الفتن ، بروایت عروہ بن رویم مرسلا۔
588 - " إن الله تعالى يقول: أنا أرجف الأرض بعبادي في خير فيافي فمن قبضته فيها من المؤمنين كانت له رحمة وكانت آجالهم التي كتبت عليهم ومن قبضت من الكفار كانت عذابا لهم وكانت آجالهم التي كتبت عليهم". (نعيم بن حماد في الفتن عن عروة بن رويم مرسلا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٩۔۔ تم کسی پر شک اور تعجب مت کرو، جب تک کہ اس کا خاتمہ اعمال نہ دیکھ لو۔ بسا اوقات کوئی پرہیزگار اپنی زندگی کے عرصہ دراز تک نیک عمل انجام دیتارہتا ہے حتی کہ اگر اسی پر خاتمہ ہوجائے توسید ھا جنت میں داخل ہو لیکن پھر اس کی زندگی نیاموڑ اختیار کرتی ہے اور وہ برے اعمال میں منہمک ہوجاتا ہے اور بعض مرتبہ کوئی بندہ عرصہ دراز تک برائیوں میں مبتلارہتا ہے حتی کہ اگر اسی پر اس کا خاتمہ ہوجائے تو سیدھا جہنم میں جاگرے مگر آخر میں اس کی زندگی کی کایاپلٹ جاتی ہے اور وہ نیک عمل میں مصروف ہوجاتا ہے اور جب اللہ کسی بندہ کا بھلا چاہتے ہیں تو اس کو موت سے قبل عمل میں مصروف فرما دیتے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ کیسے عمل میں مصروف فرما دیتے ہیں فرمایا نیک عمل کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں اور اسی پر اس کی روح قبض کرلیتے ہیں۔ مسنداحمد، عبد بن حمید، ابن ابی عاصم، ابن منیع ، بروایت ضیاء مقدسی ، بروایت انس (رض)۔
589 – " لا عليكم أن تعجبوا بأحد حتى تنظروا بما يختم له فإن العامل يعمل زمانا من عمره أو برهة من دهره بعمل صالح لو مات عليه دخل الجنة ثم يتحول فيعمل عملا سيئا وإن العبد ليعمل البرهة
بعمل سيء لو مات عليه لدخل النار ثم يتحول فيعمل عملا صالحا وإذا أراد الله بعبد خيرا استعمله قبل موته قالوا يا رسول الله كيف يستعمله قال يوفقه لعمل صالح ثم يقبضه عليه". (حم وعبد بن حميد وابن أبي عاصم وابن منيع ع ض عن أنس) .
بعمل سيء لو مات عليه لدخل النار ثم يتحول فيعمل عملا صالحا وإذا أراد الله بعبد خيرا استعمله قبل موته قالوا يا رسول الله كيف يستعمله قال يوفقه لعمل صالح ثم يقبضه عليه". (حم وعبد بن حميد وابن أبي عاصم وابن منيع ع ض عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٠۔۔ بعض مرتبہ کوئی شخص ظاہراً لوگوں کی نگاہوں میں اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے جب کہ وہ اہل جہنم میں شامل ہوجاتا ہے بعض مرتبہ کوئی شخص ظاہراً لوگوں کی نگاہوں میں اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے جب کہ وہ اہل جنت میں شامل ہوجاتا ہے اور اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ مسنداحمد، بخاری، طبرانی فی الکبیر، الدارقطنی فی الافراد، بروایت سھل بن سعد۔
590 – "إن العبد ليعمل عمل أهل الجنة فيما يرى الناس وإنه لمن أهل النار وإنه ليعمل عمل النار فيما يرى الناس وإنه لمن أهل الجنة وإنما الأعمال بالخواتيم" وفي لفظ "بخواتمها" (حم خ طب قط في الأفراد عن سهل بن سعد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩١۔۔ رزق بندہ کو یونہی تلاش کرتا ہے جس طرح موت اس کو تلاش کرتی ہے۔
591 – "إن الرزق ليطلب العبد كما يطلبه أجله".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٢۔۔ کوئی بندہ طویل ترین مدت تک مومن رہتا ہے۔ پھر مزید طویل ترین مدت تک مومن رہتا ہے ، اور پھر انتقال کرجاتا ہے مگر اس کے باوجود اللہ اس پر برافروختہ اور ناراض ہوتے ہیں اور بعض مرتبہ اس کے برعکس کوئی بندہ طویل ترین مدت تک کافر رہتا ہے پھر مزید طویل ترین مدت تک کافر رہتا ہے اور پھر انتقال کرجاتا ہے مگر اس کے باوجود اللہ اس سے راضی اور خوش ہوتے ہیں اور جو اس حال میں مرا کہ طعنہ زنی اور چغل خوری اور بندگان خدا کو برے القاب سے ستانا اس کی عادت تھی تو قیامت کے روز اللہ اس کی یہ نشانی مقرر فرمائیں گے کہ اس کے دونوں ہونٹوں کو اس کی ناک پر داغ دیں گے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن عمر (رض)۔
592 – " إن العبد يلبث مؤمنا أحقابا ثم أحقابا ثم يموت والله عز وجل عليه ساخط وإن العبد يلبث كافرا أحقابا ثم أحقابا ثم يموت والله عز وجل عنه راض ومن مات همازا لمازا ملقبا للناس كان علامته يوم القيامة أن يسمه الله على الخرطوم من كلا الشفتين". (طب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٣۔۔ اگر تم اس درخت کے پاس نہ آتے تو یقیناً بہرصورت یہ کھجوریں تمہارے پاس آجاتیں۔ الطبرانی فی الکبیر، شعب الایمان ، بروایت ابن عمر (رض)۔
593 – "أما إنك لم تأتها لأتتك يعني تمرة". (طب هب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٤۔۔ بندہ اپنی عمر کے طویل زمانہ تک یابل کہ پوری زندگی تک اہل جنت کے عمل انجام دیتارہتا ہے جبکہ وہ اللہ کے ہاں اہل جہنم میں لکھا ہواہوتا ہے اور کبھی بندہ طویل زمانہ تک یا اپنی زندگی کے بیشتر زمانہ تک اہل جہنم کا عمل کرتا ہے جبکہ وہ اللہ کے ہاں اہل جنت میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ خطط، بروایت عائشہ (رض)۔
594 – "إن العبد ليعمل الزمن الطويل من عمره أو كله بعمل أهل الجنة وإنه مكتوب عند الله من أهل النار وإن العبد ليعمل الزمن الطويل من عمره أو أكثره بعمل أهل النار وإنه لمكتوب عند الله من أهل الجنة". (خط عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٥۔۔ بندہ مومن پیدا ہوتا ہے اور مومن بن کر جیتا ہے، لیکن کافر ہو کرمرتا ہے اور کبھی اس کے عکس بندہ کافر پیدا ہوتا ہے اور کفر کی حالت میں جیتا ہے مگر مومن ہو کرمرتا ہے بسا اوقات بندہ ایک زمانہ تک عمل کرتا رہتا ہے ، لیکن پھر کتاب کا لکھا اس پر غالب آجاتا ہے اور وہ شقاوت کی موت مرتا ہے۔ اور بسا اوقات اس کے برعکس بندہ ایک زمانہ تک شقاوت کے عمل کرتا رہتا ہے لیکن پھر کتاب کا لکھا ہوا اس پر غالب آجاتا ہے اور وہ سعادت کی موت مرتا ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن مسعود۔
594- "إن العبد يولد مؤمنا ويعيش مؤمنا ويموت كافرا وإن العبد يولد كافرا أو يعيش كافرا ويموت مؤمنا وإن العبد ليعمل برهة من دهره بالسعادة ثم يدركه ما كتب له فيموت شقيا وإن العبد ليعمل برهة من دهره بالشقاء ثم يدركه ما كتب له فيموت سعيدا". (طب عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٦۔۔ سب سے بڑا خوف اپنی امت کے بارے میں جو مجھے دامن گیر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ستارہ شناسوں کی تصدیق کرنا شروع ہوجائیں گے اور تقدیر خداوندی کا انکار کرنا شروع ہوجائیں گے اور جب تک خیروبد، خوشگوار وتلخ تقدیر پر کامل ایمان نہ رکھیں گے ہرگز ایمان کی حلاوت نہ پائیں گے ۔ ابن النجار بروایت انس۔
595 – "إن أخوف ما أخاف على أمتي تصديق بالنجوم وتكذيب بالقدر ولا يجد حلاوة الإيمان حتى يؤمن بالقدر خيره وشره حلوه ومره". (ابن النجار عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٧۔۔ میری امت اس دین کو مسلسل مضبوطی کے ساتھ تھامے رہے گی، تاوقتیکہ وہ تقدیر کونہ جھٹلائیں گے ۔ اور جب وہ تقدیر کو جھٹلانے لگیں گے تو یہی ان کی ہلاکت کا زمانہ ہوگا ۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابی موسیٰ۔
596 – " إن أمتي لا تزال متمسكة بدينها مالم يكذبوا بالقدر فإذا كذبوا بالقدر فعند ذلك هلاكهم". (طب عن أبي موسى) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٨۔۔ پروردگار کی سب سے پہلے تخلیق شدہ چیز قلم ہے۔ پھر جب پروردگار نے اسکوپیدا کیا تو اس سے فرمایا لکھ ۔۔ اس نے دریافت کیا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ۔ پس جو کچھ بھی قیامت تک ہونے والا تھا سارا اس گھڑی لکھ دیا گیا۔ ابوحاتم، ابن ابی شیبہ، ابن منیع، ابن جریر، المسند لابی یعلی ، الطبرانی فی الکبیر، السنن لسعید، بروایت ابی ذر (رض) ۔
597 – "إن أول ما خلق الله القلم، ثم قال له اكتب فقال وما أكتب قال اكتب القدر فجرى في تلك الساعة بما هو كائن إلى يوم القيامة". (حم ش وابن منيع وابن جرير ع طب ص عن أبي ذر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٩٩۔۔ تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب ان کا اپنے انبیاء سے کثرت سوال اور آپس میں اختلاف کرنا تھا، اور یاد رکھو کوئی شخص اس وقت تک ہرگز مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عمرو۔
598 – "إنما هلك من كان قبلكم، بسؤالهم أنبياءهم، واختلافهم عليهم ولن يؤمن أحد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره". (طب عن عمرو) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٠۔۔ تم فلاح کے بارے میں جھگڑتے ہوئے دو حصوں میں بٹ گئے جبکہ اسی وجہ سے تم سے پہلی اقوام قعر ہلاکت میں جاگریں۔ سنو ! یہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے ، اس میں اہل جہنم اور ان کے آبا و اجداد اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں، اور آخر میں لکھا ہوا ہے ان میں سے کبھی ایک فرد کی کمی بھی نہیں ہوسکتی، اور ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق جہنم میں۔
اور یہ کتاب بھی رحمن ورحیم کی ہے اور اس میں اہل جنت اور ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں اور آخر میں لکھا ہوا ہے ان میں سے کبھی ایک فرد کی کمی بھی نہیں ہوسکتی۔ اور ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق جہنم میں۔ الدار قطنی فی الافراد بروایت ابن عباس (رض)۔
حدیث مذکورہ کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور اپنے دولت کدہ سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین تقدیر کے مسئلہ میں الجھ رہے ہیں تب آپ نے مذکورہ خطاب فرمایا۔
اور یہ کتاب بھی رحمن ورحیم کی ہے اور اس میں اہل جنت اور ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں اور آخر میں لکھا ہوا ہے ان میں سے کبھی ایک فرد کی کمی بھی نہیں ہوسکتی۔ اور ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق جہنم میں۔ الدار قطنی فی الافراد بروایت ابن عباس (رض)۔
حدیث مذکورہ کا پس منظر یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور اپنے دولت کدہ سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین تقدیر کے مسئلہ میں الجھ رہے ہیں تب آپ نے مذکورہ خطاب فرمایا۔
599 – "إنكم قد أخذتم في شعبتين بعيدي الفوز فيهما هلك أهل الكتاب من قبلكم هذا كتاب من الرحمن الرحيم فيه تسمية أهل النار بأسمائهم وأسماء آباءهم وقبائلهم وعشائرهم أجمل على آخرهم لا ينقص منهم أحد فريق في الجنة وفريق في السعير هذا كتاب من الرحمن الرحيم فيه تسمية أهل الجنة بأسمائهم وأسماء آباءهم وقبائلهم وعشائرهم مجمل على آخرهم لا ينقص منهم أحد فريق في الجنة وفريق في السعير". (قط في الأفراد عن ابن عباس) قال "خرج النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوما فسمع ناسا من أصحابه يذكرون القدر" قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠١۔۔ اہل جنت اپنے اور اپنے آباء کے اسماء کے ساتھ لکھ دیے گئے ہیں اس میں قیامت تک کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی، اہل جہنم اپنے اور اپنے آباء اور قبائل کے اسماء کے ساتھ لکھ دیے گئے ہیں اس میں قیامت تک کوئی زیادتی نہیں ہوسکتی، کبھی سعادت مندوں پر بھی شقاوت کی راہیں کھل جاتی ہیں اور حتی کہ ان پر آوازے کسے جاتے ہیں ، اور کبھی اہل شقاوت پر بھی سعادت کی راہیں کھل جاتی ہیں حتی کہ ان کی تعریفیں کی جاتی ہیں کہ دیکھوانکو، دیکھوانکو۔ لیکن پھر عدل خداوندی ہوتا ہے اور شقاوت ان پرچھاجاتی ہے اور سعاد سے ان کو نکال دیاجاتا ہے سو ہر ایک کو اسی کی توفیق ہوتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عبداللہ بن یسر۔
600 – "أهل الجنة بأسمائهم وأسماء آباءهم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم إلى يوم القيامة أهل النار بأسمائهم وأسماء آباءهم وقبائلهم لا يزاد فيهم إلى يوم القيامة وقد يسلك بأهل السعادة طريق الشقاء حتى يقال منهم بل هم هم فتدركهم السعادة فتخرجهم من طريق الشقاء وقد يسلك بأهل الشقاء طريق السعادة حتى يقال منهم هم هم فيدركهم الشقاء فيخرجهم من طريق السعادة فكل ميسر لما خلق له". (طب عن عبد الله بن بسر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٢۔۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ یہ پروردگار رب العالمین کی کتاب ہے اس میں اہل جنت اور ان کے آباء و اجداد ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں اور آخر میں لکھا ہوا ہے کبھی اسمیں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ صحابہ کرام نے پوچھا ہم پھر عمل کیوں کریں ؟ جبکہ اس امر سے فراغت ہوچکی ہے۔ تو آپ نے فرمایا سیدھے رہے اور قریب قریب رہو، کیونکہ صاحب جنت کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوگا، خواہ پہلے کیسے ہی اعمال کرتا رہاہو۔ اور صاحب جہنم کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل پر ہوگا، خواہ پہلے کیسے ہی اعمال کرتا رہاہو، تمہارا رب بندوں کے فیصلوں سے فارغ ہوچکے ہیں اور تمہارا رب مخلوق سے بھی فارغ ہوچکا ہے۔ ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق جہنم میں، اور اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے اور ابن جریر ، بروایت رجل من الصحابہ۔
601 – " هل تدرون ما هذا، هذا كتاب من رب العالمين، فيه أسماء أهل الجنة وأسماء آبائهم وقبائلهم، ثم أجمل على آخرهم فلا يزاد فيهم ولاينقص منهم أبدا، قالوا ففيم إذن نعمل إن كان هذا أمر قد فرغ منه قال بل سددوا وقاربوا، فإن صاحب الجنة يختم له بعمل أهل الجنة وإن عمل أي عمل، وإن صاحب النار يختم له بعمل أهل النار، وإن عمل أي عمل فرغ ربكم من العباد، فرغ ربكم من الخلق، فريق في الجنة وفريق في السعير العمل إلى خواتمه". (ابن جرير عن رجل من الصحابة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٣۔۔ قریب ہے کہ تم کہیں مرجئیہ نہ بن جاؤ میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا یامحمد اپنی امت کی خبرلیجئے وہ راہ سے ہٹ رہی ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ثوبان۔ راوی کہتے ہیں کہ چالیس صحابہ کرام اجمعین قدر اور جبر کے بارے میں بحث کررہے تھے پھر رسول اللہ ان کے پاس تشریف لائے اور مذکورہ خطاب فرمایا۔
602 – "أولى لكم إن كدتم لترجئون أتاني الروح الأمين فقال أخرج على أمتك يا محمد فقد أحدثت". (طب عن ثوبان) . قال اجتمع أربعون رجلا من الصحابة ينظرون في القدر والجبر فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم". فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٦٠٤۔۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے اور ان کی عمریں اعمال اور رزق بھی لکھ دیے۔ الخطیب بروایت ابوہریرہ (رض)۔
603 – "خلق الله عز وجل الخلق فكتب آجالهم وأعمالهم وأرزاقهم". (الخطيب عن أبي هريرة) .
তাহকীক: