কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ৫৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرقہ قدریہ ومرجئیہ کی مذمت میں۔
٥٦٥۔۔ قدریہ سے احتراز کرو۔ کیونکہ وہ نصاری کا گروہ ہے ، ابن ابی عاصم، الطبرانی فی الکبیر، ابوداؤد ، بروایت ابن عباس (رض)۔
565 – "اتقوا القدر فإنه شعبة من النصرانية". (ابن أبي عاصم طب عد عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرقہ قدریہ ومرجئیہ کی مذمت میں۔
٥٦٦۔۔ اس امت کے مجوسی قدریہ ہیں، لہٰذا اگر وہ بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو ان کی عیادت کونہ جاؤ ، اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو۔ ابوداؤد المستدرک للحاکم، بروایت ابن عمر (رض)۔
566 – "القدرية مجوس هذه الأمة إن مرضوا فلا تعودوهم وإن ماتوا فلا تشهدوهم" (د ك عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرقہ قدریہ ومرجئیہ کی مذمت میں۔
٥٦٧۔۔ اپنے بعد میں اپنی امت کے بارے میں دوخصلتوں سے ڈرتاہوں تقدیر کا انکار ، اور ستارہ شناسی کی تصدیق ۔ ابوداؤد بروایت فی کتاب النجوم بروایت انس۔ یعنی ستارہ شناسوں (نجومیوں ) سے غیب کی باتیں پوچھنا اور ان کی تصدیق کرنا۔
567 – " أخاف على أمتي من بعدي خصلتين: تكذيبا بالقدر وتصديقا بالنجوم". (عد عن في كتاب النجوم عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرقہ قدریہ ومرجئیہ کی مذمت میں۔
٥٦٨۔۔۔ تقدیر کے متعلق آخری بحث و مباحثہ کرنے والے آخرزمانہ میں میری امت کے بدترین افراد ہوں گے۔ الاوسط للطبرانی (رح) ، المستدرک للحاکم، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
568 – "آخر الكلام في القدر لشرار أمتي في آخر الزمان". (طس ك عن أبي هريرة)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرقہ قدریہ ومرجئیہ کی مذمت میں۔
٥٦٩۔۔ قیامت کے روز ایک منادی ندا دے گا۔۔ اے وہ لوگو جو اللہ کے دشمن ہیں کھڑے ہوجائیں اور وہ قدریہ کی جماعت ہے۔ الاوسط للطبرانی (رح) ، بروایت عمر۔
569 – "إذا كان يوم القيامة نادى مناد ألا ليقم خصماء الله وهم القدرية". (طس عن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٠۔۔ اچھے اعمال بجالاتے رہو۔۔ اگر انجام کار اچھا رہا تو جان لو کہ نوشتہ الٰہی اور تقدیر الٰہی تھا، اور کاش کاش کی بات مت کرو، کیونکہ جس نے ایسا کرنا شروع کردیا، یقیناً اس پر شیطانی عمل کا اثر ہوگیا۔ خطیب بروایت عمر خطیب (رح) نے اس کو المتفق والمفترق میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے جس نے کاش کاش کرنا شروع کردیا اس نے شیطانی عمل کو اپنی جان پر مسلط کرلیا۔ لیکن اس روایت میں اسحاق بن عبداللہ بن ابی فرعوہ ایک راوی ہیں جو متروک ہیں۔
570 – "أحسنوا، فإن غلبتهم فكتاب الله وقدره، ولا تدخلوا اللو، فإن من أدخل اللو، دخل عليه عمل الشيطان". (خط عن عمرو) ، ورواه في المتفق والمفترق بلفظ فمن أدخل اللو أدخل على نفسه عمل الشيطان وفيه إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧١۔۔ جب پروردگار کسی نطفہ کو پیدا فرمانا چاہتے ہیں تو رحم والا فرشتہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہے اے پروردگار یہ شقی ہوگا یاسعید ؟ مذکر ہوگا یامونث ؟ سرخ رنگ ہوگا یاسیاہ ؟ پھر پروردگار فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ اور فرشتہ ہراس خیریاشر امر کو اس کی پیشانی پر لکھ دیتا ہے جس سے بھی مستقبل میں اس کا سابقہ پیش آئے گا حتی کہ غلہ کی مقدار جو اس کے نصیب میں ہے وہ بھی لکھ دی جاتی ہے۔ ابن جریر، الدارقطنی فی الافراد ، بروایت ابن عمر (رض)۔
571 – "إذا أراد الله عز وجل أن يخلق النطفة خلقا قال ملك الأرحام معرضا أي رب أشقي أم سعيد ذكر أم أنثى أي رب أحمر أم أسود فيقضي الله أمره ثم يكتب بين عينيه ماهو لاق من خير أو شر حتى النكبة ينكبها". (ابن جرير قط في الأفراد عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٢۔۔ جب رحم مادر میں نطفہ پر بہتر دن بیت جاتے ہیں تو رحم والا فرشتہ آتا ہے اور اس کا گوشت ہڈیاں ، کان اور آنکھیں بناتا ہے پھر بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہے اے پروردگار یہ شقی ہوگا یاسعید ؟ پھر پروردگار اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرما دیتے ہیں، اور فرشتہ اس کا رزق عمر اور عمل لکھ لیتا ہے اور پھر نکل جاتا ہے۔ الباوردی بروایت ابی الطفیل عامر بن واثلہ بروایت حذیفہ بن اسید۔
572 – "إذا استقرت النطفة في الرحم اثنين وسبعين صباحا أتى ملك الأرحام فخلق لحمها وعظمها وسمعها وبصرها ثم قال يا رب أشقي أم سعيد فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك ثم يكتب رزقه وأجله وعمله ثم يخرج الملك". (البارودي عن أبي الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
573 ۔۔ جب نطفہ پر پنتالیس راتیں بیت جاتی ہیں فرشتہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہے اے پروردگار مذکر ہوگا یامونث ؟ پھر اللہ فیصلہ فرما دیتے ہیں اور فرشتہ لکھ لیتا ہے پھر فرشتہ عرض کرتا ہے اے پروردگار یہ شقی ہوگا یا سعید ؟ پروردگار فیصلہ فرما دیتے ہیں اور فرشتہ لکھ لیتا ہے فرشتہ پھر بارگاہ خداوندی میں اس کے رزق ، عمر اور عمل کے متعلق سوالات کرتا ہے اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے اور اس صحیفہ کو ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیتا ہے آئندہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت حذیفہ بن اسید۔
573 – " إذا مضت على النطفة خمس وأربعون ليلة قال الملك أذكرأم أنثى فيقضي الله ويكتب الملك فيقول الملك أشقي أم سعيد فيقضي الله ويكتب الملك فيقول رزقه وأجله وعمله فيقضي الله ويكتب الملك ثم يطوي الصحيفة فلا يزاد فيها ولا ينقص". (طب عن حذيفة بن أسيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٤۔۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو رحم میں پیدا ہونے والی جان پر وکیل بنایا ہے۔ وہ فرشتہ پھر بارگاہ خداوندی میں ہر مرحلہ کی تبدیلی پر عرض کرتا ہے اے پروردگار وہ نطفہ کی شکل میں ہے۔ اے پروردگار اس نطفہ نے اب منجمد خون کی شکل اختیار کرلی ہے، اے پروردگار اس نے اب لوتھڑے کی شکل اختیار کرلی ہے، پس جب اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمانا چاہتے ہیں تو فرشتہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہے اے پروردگار یہ شقی ہوگا یاسعید ؟ اے پروردگار یہ مذکر ہوگا یامونث ؟ اے پروردگار اس کا رزق کتنا ہوگا ؟ اے پروردگار اس کی عمر کتنی ہوگی، پھر فرشتہ حکم خداوندی کے مطابق مادر رحم میں ہی یہ چیزیں لکھ لیتا ہے۔ ابوداؤد الطیالسی ، مسند امام احمد، بخاری، الصحیح لامام مسلم (رح) علیہ، ابوعوانہ ، عن عبداللہ ابی بکر بن انس عن جدہ عن حذیفہ بن اسید۔
574 – " إن الله تعال قد وكل بالرحم ملكا يقول أي رب نطفة أي رب علقة أي رب مضغة فإذا أراد الله أن يقضي قال أي رب أشقي أم سعيد ذكر أم أنثى فما الرزق فما الأجل فيكتب كذلك في بطن أمه". (ط حم خ م وأبوعوانة عن عبد الله بن أبي بكر بن أنس عن جده عن حذيفة بن أسيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٥۔۔ جب نطفہ مادر میں استقرار پکڑ لیتا ہے اور اس پر چالیس یوم گزرجاتے ہیں تو رحم کافرشتہ آتا ہے اور اس کی ہڈیاں ، گوشت خون، بال ، کھال ، کان اور آنکھ وغیرہ سب چیزوں کی صورت بناتا ہے ، فرشتہ پھر بارگاہ خداوندی میں، کرتا ہے ! اے پروردگار یہ مذکر ہوگا یامونث ؟ یہ شقی ہوگا یاسعید ؟ تو پروردگار اپنی مشیت کے مطابق جو چاہتے ہیں فرما دیتے ہیں اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے اور اس صحیفہ کو ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیتا ہے آئندہ قیامت تک اس کو کھولا نہیں جائے گا۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت حذیفہ بن اسید۔
575 – "إن النطفة إذا استقرت في الرحم فمضى لها أربعون يوما جاء ملك الرحم فصور عظمه ولحمه ودمه وشعره وبشره وسمعه وبصره فيقول: يا رب أذكر أم أنثى، أشقي أم سعيد، فيقول الله عز وجل ما شاء فيكتب ثم تطوى الصحيفة فلا تنشر إلى يوم القيامة". (طب عن حذيفة بن أسيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٦۔۔ جب تم میں سے کسی کی رحم مادر میں تخلیق کی جاتی ہے تو چالیس دن میں وہ ایک نطفہ کی شکل میں آجاتا ہے پھر اتنے ہی دنوں میں وہ منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے پھر اتنے ہی دنوں میں وہ لوتھڑا بن جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ کو بھیجتے ہیں اور اس کو چار باتوں کا حکم کیا جاتا ہے ، کہ لکھ اس کا عمل ، رزق، زندگی ، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے یقینابعض اوقات کوئی شخص اہل جنت کے اعمال کرتا رہتا ہے۔۔ حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتہ خداوندی غالب آجاتا ہے۔ اور اہل جنت کے عمل کرنے لگ جاتا ہے اور انجام کار جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ مسنداحمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد ، ترمذی، ابن ماجہ، ابن مسعود
576 – "إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما نطفة، ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله إليه ملكا يؤمر بأربع كلمات ويقال له اكتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى ما يكون بينه وبين الجنة إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبين النار إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل الجنة فيدخل الجنة". (حم خ م د ت هـ عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٧۔۔ جب نطفہ کو بیالیس راتیں بیت جاتی ہیں اللہ ایک فرشتہ کو رحم میں پیدا ہونے والی جان پر وکیل بناتا ہے جب اللہ کچھ پیدا فرمانا چاہتے ہیں تو فرشتہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہے اے پروردگار یہ مذکر ہوگا یامونث اللہ فیصلہ فرما دیتے ہیں فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے اور اس صحیفہ کو ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیتا ہے آئندہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت حذیفہ بن اسید۔
577 – "إن ملكا موكل بالرحم بضعا وأربعين ليلة إذا أراد الله أن يخلق ما يشاء يأذن الله فيقول أي رب أذكر أم أنثى فيقضي ربك ويكتب الملك ثم يطوى ما زاد ولا نقص". (طب عن حذيفة بن أسيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٨۔۔ مادر رحم میں جب نطفہ چالیس راتیں گزرجاتی ہیں تو ایک فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے اور بارگاہ الٰہی سے پوچھتا ہے اے پروردگار یہ جان مذکر ہے یامونث ؟ پھر اللہ تعالیٰ مشیت کے مطابق اس کو مذکر یامونث کردیتے ہیں ، فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کو درست اور صحیح سالم پیدا کرنا ہے یا کچھ تبدیلی کرنی ہے ؟ پروردگار اس کے متعلق بھی فیصلہ فرما دیتے ہیں فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کو شقی لکھوں یاسعید ؟ پھر پروردگار عزوجل اپنی مشیت کے مطابق اس کو نیک بخت یا بدبخت پیدا فرما دیتے ہیں۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت حذیفہ بن اسید۔
578 – "تقع النطفة في الرحم أربعين ثم يتصور عليها الذي يخلقها فيقول يا رب ذكر أم أنثى فيجعلها ذكرا أو أنثى فيقول يا رب أسوي أم غير سوي فيجعله الله سويا أو غير سوي فيقول يا رب أشقي أم سعيد فيجعله الله شقيا أو سعيدا". (طب عن حذيفة بن أسيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٧٩۔۔ اللہ ہر پیدا ہونے والی جان کے متعلق اس کے مادر رحم میں ہی فیصلہ فرما دیتے ہیں کہ وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت۔ ابونعیم عن ثابت الحارث الانصاری۔
579 – "ما من نسمة يخلقها الله في بطن أمه إلا أنه شقي أو سعيد". (أبونعيم عن ثابت بن الحارث الأنصاري) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٠۔۔ کوئی جی دار نفس ایسا نہیں ہے جس کے لیے اللہ نے جنت اور جہنم دونوں میں جگہ نہ بنائی ہو، اور اس کے لیے شقاوت یا سعادت نہ لکھ دی ہو۔ استفسار کیا گیا تو کیا ہم بھروسہ نہ کربیٹھیں ؟ فرمایا نہیں عمل کرتے رہو۔ اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کے نہ بیٹھو کیونکہ ہر شخص جس کام کے لیے پیدا ہوا ہے اسی کی اس کو توفیق ہوتی ہے پس سعادت مندوں کے لیے سعادت مندوں کے اعمال آسان کردیے جاتے ہیں اور بدبختوں کے لیے اعمال بدبختوں والے آسان کردیے جاتے ہیں پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ۔ فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی، یعنی جس نے عطا کیا اور تقوی اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی۔ مسنداحمد، بخاری، ابوداؤد ، ترمذی، ابن ماجہ، بروایت علی۔
580 – "ما من نفس منفوسة إلا وقد كتب الله مكانها من الجنة أوالنار وإلا وقد كتبت شقية أو سعيدة قيل أفلا نتكل قال لا اعملوا ولا تتكلوا فكل ميسر لما خلق له أما أهل السعادة فييسرون لعمل السعادة وأما أهل الشقاوة فييسرون لعمل أهل ثم قرأ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى} " الآية. (حم خ د ت هـ عن علي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨١۔۔ آدمی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے ، جبکہ کتاب میں وہ جہنمی لکھاجاتا ہے لہٰذا موت سے چند لمحات قبل اس کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے عمل شروع کردیتا ہے اور مرکر جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اس کے برعکس آدمی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے جبکہ کتاب میں وہ جنتی لکھا ہوا ہوتا ہے لہٰذا موت سے چند لمحات قبل اس کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ اہل جنت کے عمل شروع کردیتا ہے اور مرکر جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ مسنداحمد، بروایت عائشہ۔
581 – "إن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة وإنه لمكتوب في الكتاب من أهل النار فإذا كان قبل موته بحول فعمل بعمل أهل النار فمات فدخل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار وإنه لمكتوب في الكتاب من أهل الجنة فإذا كان قبل موته بحول فيعمل بعمل أهل الجنة فمات فدخلها". (حم عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٢۔۔ بعض اوقات آدمی اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے جبکہ وہ اہل جہنم میں شامل ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اس کے برعکس آدمی اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے جبکہ وہ اہل جنت میں شامل ہوجاتا ہے اور روح نکلتے وقت شقاوت یا سعادت مسلط ہوجاتی ہے اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، الحلیہ، عن اکثم بن الجون۔
582 – "إن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة وإنه لمن أهل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار وإنه لمن أهل الجنة، تدركه الشقاوة والسعادة عند خروج نفسه فيختم له بها". (طب حل عن اكتم أبي الجون) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٣۔۔ اللہ نے ـآسمان اور زمین کی پیدائش سے قبل ایک کتاب لکھی تھی اور وہ اللہ کے پاس عرش پر موجود ہے اور تمام مخلوق کی تقدیر اس کتاب میں لکھی ہوئی ہے ابن مردویہ ، الفردوس للدیلمی (رح) بروایت انس۔
583 – "إن الله كتب كتابا قبل أن يخلق السموات والأرض وهوعنده فوق العرش والخلق منهون إلى ما في ذلك الكتاب". (ابن مردويه والديلمي عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان بالقدر ۔۔ ازاکمال
٥٨٤۔۔ اللہ نے تمام مخلوق کو ظلمت اور تاریکی کے سناٹے میں پیدا کیا، پھر ان پر اپنے نور کی بارش کی۔ جس کو نور پہنچ گیا اس نے ہدایت پائی ، اور جس کو وہ نور نہ پہنچا گمراہ ہوا۔ اسی وجہ سے میں کہتاہوں کہ قلم علم باری پر خشک ہوگیا ہے۔ مسنداحمد، ترمذی، حسن ، ابن جریر ، الطبرانی فی الکبیر، المستدرک للحاکم، بخاری مسلم، بروایت ابن عمرو (رض) ۔
584 – "إن الله تعالى خلق خلقه في ظلمة ثم ألقى عليهم من نوره فمن أصابه من ذلك النور اهتدى ومن أخطأه ضل فلذلك أقول جف القلم على علم الله". (حم ت حسن وابن جرير طب ك ق عن ابن عمر) .
তাহকীক: