কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر
٢١۔۔۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت ، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ مسنداحمد بخاری مسلم، ترمذی، نسائی، بروایت ابن عمر (رض)۔
21 – "بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان" (حم ق ت ن عن ابن عمر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر
٢٢۔۔۔ اس دین کی اصل اسلام ہے اور جو اسلام لے آیا اس کی جان ومال محفوظ ہوگئے، اور اس دین کا ستون نماز ہے، اور اس کی سربلندی جہاد ہے اس کو نہیں پاسکتا مگر افضل ترین آدمی۔ الطبرانی، فی الکبیر، بروایت معاذ (رض)۔
22 – "رأس هذا الأمر الإسلام، ومن أسلم سلم، وعموده الصلاة، وذروة سنامه الجهاد، لا يناله إلا أفضلهم" (طب عن معاذ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر
٢٣۔۔۔ اسلام ہر عیب سے پاک ہے ، اور دین کی تین بنیادیں ہیں جن پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے جس نے ان میں سے ایک کو بھی ترک کیا وہ کافر ہے اس کا خون حلال ہے۔ لاالہ الا اللہ کی شہادت فرض نماز، رمضان کے روزے۔ مسندابویعلی، بروایت ابن عباس (رض) مسند ابویعلی میں حضرت ابن عباس کی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد حضرت ابن عباس کا یہ فرمان منقول ہے کہ بقیہ دوفریضے زکوۃ اور حج اگر وسعت مال کے باوجود ادا نہ کرے تو وہ بھی کافر ہے مگر اس کا خون حلال نہیں۔ اور یہی روایت الطبرانی ، فی الکبیر میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے جس میں اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قرار دی گئی، ہے مگر اس میں ابن عباس (رض) کا اپنا موقوف قول مروی نہیں ہے۔
23– "عرى الإسلام وقواعد الدين ثلاثة عليهن أسس الإسلام من ترك واحدة منهن فهو بها كافر حلال الدم: شهادة أن لا إله إلا الله والصلاة المكتوبة وصوم رمضان" (ع عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر
٢٤۔۔۔ اے عدی ابن حاتم ! اسلام لے آمامون ہوجائے گا، شہادت دے اس بات کی کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں اور ہر تقدیر پر خواہ اچھی ہو یا بری پسندیدہ ہو یا کڑوی، کسیلی ، ایمان لے آ۔ ابن ماجہ ، بروایت عدی ابن حاتم۔
24 – "يا عدي ابن حاتم أسلم تسلم أشهد (1) أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وتؤمن بالأقدار كلها خيرها وشرها، حلوها ومرها" (هـ عن عدي بن حاتم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر
٢٥۔۔۔ اسلام نام ہے نماز قائم کرنے، زکوۃ ادا کرنے بیت اللہ کا حج کرنے رمضان کے روزے رکھنے اور جنابت سے غسل کرنے کا۔ ابودرداء بروایت عمر (رض)۔
25 – " الإسلام إقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم شهر رمضان والاغتسال من الجنابة" (د عن عمر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر
٢٦۔۔ اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، فریضۃ زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو۔ مسند احمد ، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، بروایت ابوہریرہ ، (رض) ابی ذر (رض) ۔
26 – "الإسلام أن تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان وتحج البيت" (حم ق هـ عن أبي هريرة وأبي ذر معا) الإكمال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٢٧۔۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، لاالہ الا اللہ کی شہادت، نماز، اور رمضان، کے روزے۔ جس شخص نے ان میں سے ایک کو بھی ترک کردیا، وہ کافر ہے اسکاخون حلال ہے ، الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن عباس (رض)۔
27 – "بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله والصلاة وصيام رمضان فمن ترك واحدة منهن كان كافرا حلال الدم" (طب عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٢٨۔۔۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیز و پر ہے۔ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت ، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا، اور جہاد اور صدقہ عمل صالح ہیں۔ الطبرانی، فی الکبیر بروایت ابن عمرو (رض) ۔
28 – "بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان والجهاد والصدقة من العمل الصالح" (طب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٢٩۔۔۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، لاالہ الا اللہ کی شہادت اور اس بات کی شہادت کہ محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اور جہاد اور صدقہ عمل صالح ہیں۔ الطبرانی فی الکبیربروایت ابن عمر (رض)۔
29 – "بني الإسلام على خمس خصال: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وحج البيت، وصوم رمضان. والجهاد والصدقة من العمل الصالح" (طب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٠۔۔ اسلام کی بنیاد اس چیز پر رکھی گئی ہے ، کہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دی جائے اور جو کچھ آپ اللہ کے پاس سے لائے ہیں اس کا اقرار کیا جائے اور اس بات کا اقرار بھی ہے کہ جب اللہ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے جہاد جاری ہے جب تک کہ مسلمانوں کی آخری جماعت ائے وہ بھی دجال سے قتال کرے گی، ان کو اپنے مقصد سے کسی ظالم کا ظلم ہٹا سکے گانہ کسی عادل کا عدل۔ وہ لاالہ الا اللہ کہنے والے ہوں گے ، پس ان کی کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرنا۔ نہ ہی ان پر شرک کا حکم عائد کرنا۔ اور اسلام کی بنیاد تقدیر پر بھی ہے ، کہ خواہ اچھی ہو یا بری اس کے من جانب اللہ ہونے پر یقین رکھاجائے۔ ابن النجار ، بروایت ابن عمرو (رض) ۔
30 – "بني الإسلام على خصال: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، والإقرار بما جاء من عند الله، والجهاد ماض منذ بعث رسله إلى آخر عصابة تكون من المسلمين يقاتلون الدجال لا ينقصهم جور من جار ولا عدل من عدل، وأهل لا إله إلا الله فلا تكفروهم بذنب ولا تشهدوا عليهم بشرك، والقدر خيره وشره من الله تعالى" (ابن النجار ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣١۔۔ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا۔ اے محمد ! اسلام کے دس حصے ہیں ، اور خائب و خاسر ہو وہ شخص جس کے پاس کوئی حصہ نہیں ہے۔

پہلا ! لاالہ الا اللہ کی شہادت ہے۔

دوسرا ! نماز ہے اور وہ پاکیزگی ہے۔

تیسرا ! زکوۃ ہے اور وہ فطرت ہے۔

چوتھا ! روزہ ہے اور وہ جہنم سے ڈھال ہے۔

پانچواں ! حج ہے اور وہ شریعت ہے۔

چھٹا ! جہاد ہے اور وہ غزوہ ہے۔

ساتواں ! امربالمعروف ہے اور وہ وفادار ہے۔

آٹھواں ! نہی عن المنکر ہے اور وہ ججت ہے۔

نواں۔ جماعت ہے اور وہ الفت ہے۔

دسواں۔ اطاعت ہے اور وہ حفاظت ہے۔ فوائد ابونعیم محمد بن احمد العجلی، تاریخ قزوین، للرافعی ، من طریق ، اسحاق الدبری عن عبدالرزاق عن معمر عن قتادہ عن انس (رض)۔
31 – "أتاني جبريل فقال يا محمد الإسلام عشرة أسهم وخاب من لاسهم له. أولها شهادة أن لا إله إلا الله، والثاني الصلاة وهي الطهرة، والثالث الزكاة وهي الفطرة، والرابع الصوم وهو الجنة، والخامس الحج وهو الشريعة، والسادس الجهاد وهو الغزوة (1) ، والسابع الأمر بالمعروف وهو الوفاء، والثامن من؟؟ النهي عن المنكر وهو الحجة، والتاسع الجماعة وهي الألفة، والعاشر الطاعة وهي العصمة" (أبو نعيم محمد بن أحمد العجلي في فوائده والرافعي في تاريخ قزوين من طريق إسحاق الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٢۔۔ اسلام کے آٹھ حصے ہیں۔ اسلام کا ایک حصہ ہے نماز کا ایک حصہ ہے۔ زکوۃ ایک حصہ ہے۔ بیت اللہ کا حج ایک حصہ ہے جہاد ایک حصہ ہے رمضان کے روزے ایک حصہ ہیں۔ امربالمعروف ایک حصہ ہے، نہی عن المنکر ایک حصہ ہے ، اور خائب و خاسر ہو وہ شخص جس کے پاس کوئی حصہ نہیں۔ النسائی ، بروایت حذیفہ ، (رض) ، حسنہ، المسند لابی یعلی، الدارقطنی، فی الافراد، الرافعی، بروایت علی (رض)۔
32 – " الإسلام ثمانية أسهم: الإسلام سهم والصلاة سهم والزكاة سهم وحج البيت سهم والجهاد في سبيل الله سهم وصوم رمضان سهم والأمر بالمعروف سهم والنهي عن المنكر سهم. وقد خاب من لاسهم له" (ط ن عن حذيفة وحسن ع قط في الأفراد والرافعي عن علي) ضعف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٣۔۔ اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں اسلام میں فرض فرمائی ہیں، اگر کوئی صرف تین بجالائے تب بھی وہ اس کو کچھ فائدہ نہ پہنچاسکیں گے حتی کہ تمام پر پیراعمل ہو۔ نماز زکوۃ ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔ الکبیر، للطبرانی، بروایت عمارہ بن حزم وحسنہ، مسند احمد والبغوی بروایت زیاد بن نعیم۔
33 – "أربع فرضهن الله عز وجل في الإسلام، من جاء بثلاث لم يغنين عنه شيئا حتى يأتي بهن جميعا: الصلاة والزكاة وصيام رمضان وحج البيت" (حم طب عن عمارة بن حزم وحسن، حم والبغوي عن زياد بن نعيم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٤۔۔۔ مثل راستہ کی علامات کے اسلام کی علامات ہیں۔ انھیں میں سے ہے اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا، بنی آدم کو سلام کرنا، اگر انھوں نے سلام کا جواب دیدیا، تو فرشتے تم پر اور ان پر رحمت بھیجیں گے اور اگر انھیں سلام کا جواب نہ دیا، تو فرشتے تم پر رحمت بھیجیں گے اور ان پر لعنت یا ان کے لیے خاموش رہیں گے اور جب گھر میں داخل ہواتواہل خانہ کو بھی سلام کرو۔ اور جس سے کوئی ایک چیز کم ہوگی، یقینا، اسلام کے حصوں میں سے ایک حصہ اس سے چھوٹ گیا۔ اور اس جس نے تمام کو چھوڑ دیا، اور بلاشبہ اس نے اسلام کو چھوڑ دیا۔ عمل الیوم واللیلہ، لابن السنی، الکبیر، للطبرانی، (رح) علیہ بروایت ابوہریرہ (رض)۔
34 – "إن للإسلام صنوا كمنار الطريق فمن ذلك أن يعبد الله ولا يشرك به شيئا، و؟؟ أقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، ويحج البيت، ويصوم رمضان، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر، والتسليم على بني آدم فإن ردوا عليك ردت عليك وعليهم الملائكة وإن لم يردوا عليك ردت عليك الملائكة ولعنتهم أوسكتت عنهم، وتسليمك على أهل بيتك إذا دخلت، ومن انتقص منهن شيئا فهو سهم من سهام الإسلام ترك،

ومن تركهن كلهن فقد ترك الإسلام" (ابن السني في عمل اليوم والليلة) (طب (1) عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٥۔۔ میں تمہارے پاس خیر کے سوا کچھ نہیں لایا، میں تمہارے پاس آیاہوں کہ تم اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو۔ لات اور عزی بتوں کو چھوڑ دو ، دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھو۔ سال بھر میں ایک ماہ رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، اپنے مالداروں سے اموال صدقات وزکوۃ وصول کرو اور اپنے فقراء کو دو۔ مسند احمد بروایت رجل من بنی عامر۔
35 – "لم آتكم إلا بخير، آتيتكم أن تعبدوا الله وحده لاشريك له وأن تدعوا اللات والعزى وأن تصلوا بالليل والنهار خمس صلوات وأن تصوموا من السنة شهرا وأن تحجوا البيت وأن تأخذوا من أموال أغنيائكم فتردوها على فقرائكم" (حم) عن رجل من بني عامر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٦۔۔ اے عدی بن حاتم اسلام لے آمامون ہوجائے گا، دریافت کیا اسلام کیا ہے ؟ فرمایا، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو اور تقدیر پر ایمان لے آؤ، اچھی ہو یا بری پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ۔ ابن ماجہ بروایت ابن عدی۔
36 – "يا عدي بن حاتم أسلم تسلم قال وما الإسلام قال أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وتؤمن بالأقدار كلها خيرها وشرها حلوها ومرها" (هـ) عن عدي بن حاتم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدی بن حاتم کے اسلام کا قصہ
٣٧۔۔ اے عدی بن حاتم ! اسلام لے آ، مامون ہوجائے گا، دریافت کیا اسلام کیا ہے ؟ فرمایا کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ، اور تقدیر پر ایمان لے آؤ، اچھی ہو یا بری ، پسندیدہ ہوناپسندیدہ۔ اے عدی بن حاتم، قیامت قائم نہیں ہوسکتی ۔۔۔ حتی کہ کسری اور قیصر کے خزانے فتح ہوں اے عدی بن حاتم۔ ایک وقت آئے گا کہ ایک عورت حیرہ سے تنہاچل کر اس بیت اللہ کا طواف کرے گا، اے عدی بن حاتم، قیامت قائم نہیں ہوسکتی، حتی کہ کوئی شخص مال سے بھرا تھیلا اٹھائے آئے گا اور کعبہ کا طواف کرے گا مگر کوئی ایساشخص نہ ملے گا جو اس مال کو قبول کرلے، آخر کار وہ شخص اس تھیلے کو زمین پر مارتا ہواپکارے گا، کاش !۔۔۔ تو نہ ہوتا، کاش تومٹی ہوتا۔ الکبیر اللطبرانی، (رح) ، الخطیب، ابن عساکر، بروایت عدی بن حاتم۔

حدیث کا پس منظر

یہ عدی بن حاتم شروع میں اسلام سے سخت بےزار تھے خود فرماتے ہیں جب تک میں اسلام سے بہرمند نہ ہوا تھا آپ کی ذات گرامی سے متعلق میرے اندر سب سے زیادہ بغض بھرا ہوا تھا،پھر جب حضور نے ایک لشکر ہماری طرف روانہ فرمایا میں وہاں سے فرار ہو کر سرزمین شام چلا گیا وہاں بھی یہ اطلاع ملی کہ خالد بن ولید ہماری طرف متوجہ ہونے کو ہیں، میں وہاں سے فرار ہو کر سرزمین روم کی طرف کوچ کرگیا، یہ تھے کہ اسلام سے اپنا دامن بچائے پھر رہے تھے مگر ہدایت ان کے مقدر میں لکھی جاچکی تھی، لہٰذا فرماتے ہیں میں سرزمین روم میں تھا کہ میری پھوپھی میری تلاش میں وہاں پہنچ گئیں اور اپنی داستان سرائی کرتے ہوئے کہا اے عدی بن حاتم تم ہمیں چھوڑ کر یہاں پہنچ گئے اور ہم پر خالد بن ولید نے لشکر کشی کی اور ہم کو قیدی بنا کر حضور کی خدمت میں پہنچایا آپ کا میرے پاس سے گزر ہوا تو میں نے عرض کیا میرے والد ہلاک ہوگئے اور میرے محسن مجھے چھوڑ گئے ہیں مجھے تو آزادی بخش دیجئے۔ (آپ نے فرمایا تمہارے محسن کون ہیں ؟ میں نے عرض کیا عدی بن حاتم) آپ نے فرمایا وہ تو اللہ اور اس کے رسول سے فرار ہونے والا ہے۔ یہ کہہ کر آپ تشریف لے گئے اور مزید کوئی گفتگو نہ کی تین یوم تک یہی مکالمہ رہا پھر آپ کے پاس کچھ مال پہنچاتو آپ نے مجھے یہ سواری عنایت کی اور میں تمہارے پاس چلی آئی، لہٰذا اے عدی بن حاتم، تم محمد کے پاس چلو، اسلام سے اپنے حصہ کو دامن بھرلو۔۔۔ کہیں تمہاری قوم کا کوئی فرد اس نعمت کے حصول میں تم سے سبقت نہ لے جائے آخر میں ان کے اصرار پر لوٹ آیا۔ جب میں مدینہ پہنچا تو لوگوں میں غلغلہ مچ گیا کہ عدی بن حاتم آگئے (عدی بن حاتم آگئے) میں حضور کی خدمت میں پہنچا آپ نے فرمایا، اے عدی بن حاتم، تم اللہ اور اس کے رسول سے کیوں بھاگے پھر رہے ہو، میں نے عرض کیا میں اپنے دین کو لیے پھر رہاہوں آپ نے فرمایا میں تمہارے دین کو جانتاہوں تم اسلام سے محض اس لیے اعراض کررہے ہو کہ اسلام کے نام لیوا کس مپرسی اور غربت حالی کا شکار ہیں۔ یاد رکھو۔۔ ایک ایساوقت ضرور آئے گا کہ اے عدی بن حاتم قیامت قائم نہیں ہوسکتی (حتی کہ کسی اور قیصر کے خزانے فتح ہوں۔ اے عدی بن حاتم ! ایک وقت آئے گا کہ ایک عورت حیرہ سے تنہاچل کر اس بیت اللہ کا طواف کرے گا، اے عدی بن حاتم، قیامت قائم نہیں ہوسکتی، حتی کہ کوئی شخص مال سے بھرا تھیلا اٹھائے آئے گا اور کعبہ کا طواف کرے گا مگر کوئی ایساشخص نہ ملے گا جو اس مال کو قبول کرلے، آخر کار وہ شخص اس تھیلے کو زمین پر مارتا ہواپکارے گا، کاش (تو نہ ہوتا) کاش تومٹی ہوتا) ۔

آخر اللہ نے اپنے پیغمبر کے اس فرمان کو سچ کر دکھایا، اور جس اسلامی لشکر نے کسری کے خزانے پر غارت گری کی میں بذات خود اس میں لشکر میں شریک تھا اور میں نے ایسی عورت کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھاجس نے حیرہ کے دوردراز مقام سے تنہا چل کر بغیر کسی خوف و خطرے کے کعبہ کا طواف کیا، اور خدا کی قسم آپ کی تیسری بات تھی روز روشن کی طرح صادق ہوگی، اور ضرور مسلمانوں پرکشادگی کا ایساوقت آئے گا کہ کوئی مال کو قبول کرنے والانہ ملے گا۔ خلاصہ از المعجم الاوسط ٦ ص ٣٦٠۔
37 – "يا عدي بن حاتم أسلم تسلم قال مالإسلام قال تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وتؤمن بالقدر خيره وشره حلوه ومره يا عدي بن حاتم لا تقوم الساعة حتى تفتح خزائن كسرى وقيصر يا عدي بن حاتم تأتي الظعينة من الحيرة حتى تطوف بهذه الكعبة بغير خفير، يا عدي بن حاتم لا تقوم الساعة حتى يحمل الرجل جراب المال فيطوف به فلا يجد أحد يقبله فيضرب به الأرض فيقول ليتك لم تكن ليتك كنت ترابا " (طب) الخطيب وابن عساكر عن عدي ابن حاتم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدی بن حاتم کے اسلام کا قصہ
٣٨۔۔ اسلام یہ ہے کہ تم لاالہ الاالہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو ۔ نماز قائم کرو۔ زکوۃ ادا کرو۔ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر اس تک جانے کی وسعت ہو۔ مسند احمد ، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت عمر (رض)۔
38 – "الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا" (حم د ت ن هـ عن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدی بن حاتم کے اسلام کا قصہ
٣٩۔۔۔ اسلام یہ ہے تم اپنی ذات اللہ کے سپرد کردو، اور شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا شریک کوئی نہیں اور محمداللہ کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج وعمرہ کرو اگر تم اس تک جانے کی وسعت ہو۔ اگر تم نے یہ کام سرانجام دے لیے تو تم مسلمان ہوگئے۔ مسند احمد ، نسائی، بروایت ابن عباس (رض)۔ مسند احمد بروایت ابوعامر، ابومالک (رض) نسائی بروایت انس (رض) ابن عساکر بروایت عبدالرحمن بن عوف۔
39 – "الإسلام أن تسلم وجهك لله عز وجل وأن تشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأن محمدا عبده ورسوله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم شهر (1) رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا فإذا فعلت ذلك فقد أسلمت" (2) (حم ن عن ابن عباس) (حم عن أبي عامر وأبي مالك) (ن عن أنس) (ابن عساكر عن عبد الرحمن بن غنم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عدی بن حاتم کے اسلام کا قصہ
٤٠۔۔ اسلام یہ ہے کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو ۔ نماز قائم کرو۔ زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، جنابت سے غسل کرو، وضوکامل طریقے سے کرو۔ رمضان کے روزے رکھو۔ ابن حبان، بروایت عمر (رض)۔
40 – " الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتعتمر وتغتسل عن الجنابة وأن تتم الوضوء وتصوم رمضان" (حب عن عمر) .
tahqiq

তাহকীক: