কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ২৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٥۔۔ اللہ سب سے ہلکے عذاب والے سے فرمائیں گے اگر تیرے پاس زمین بھر مال ہو تو کیا و اس کے عوض اپنی جان چھڑانا چاہے گا، بندہ عرض کرے جی پروردگار۔ پروردگار فرمائیں گے میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی چیز کا سوال کیا تھا، جبکہ توابھی آدم کی پشت میں تھا یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، مگر تو شرک پر مصر رہا۔ بخاری مسلم، بروایت انس (رض)۔
285 – "إن الله تعالى يقول لأهون أهل النار عذابا. لو أن لك ما في الأرض من شيء كنت تفتدي به؟ قال نعم، قال: فقد سألتك ما هو أهون من هذا وأنت في صلب آدم؛ أن لا تشرك بي شيئا فأبيت إلا الشرك". (ق عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٦۔۔ قیامت کے دن ایک جہنمی شخص کو کہا جائے گا اگر تیرے پاس زمین بھر مال ہو تو کیا تو اس کے عوض اپنی جان چھڑا ناپسند کرے گا، بندہ عرض کرے گا، بالکل پروردگار۔ اللہ فرمائیں گے میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی چیز پسند کی تھی۔۔ میں نے تجھ سے عہد لیا تھا جبکہ توابھی آدم کی پشت میں تھا یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، مگر تو شرک کرنے پر مصررہا۔ مسنداحمد، بخاری، مسلم، بروایت انس۔
286 – "يقال للرجل من أهل النار يوم القيامة: أرأيت لو كان لك مافي الأرض من شيء أكنت مفتديا به. فيقول نعم؛ فيقول: قد أردت منك أهون من ذلك؛ قد أخذت عليك في ظهر آدم أن لا تشرك بي شيئا فأبيت إلا أن تشرك". (حم ق عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٧۔۔ جب قیامت کا دن ہوگا، اللہ اس امت کے ہر شخص کو ایک ایک کافر عطا فرمائیں گے اور اس کو کہا جائے گا جہنم میں جانے سے یہ تیرا فدیہ ہے۔ امام مسلم، (رح) بروایت ابی موسیٰ۔ ہر شخص کی جنت وجہنم میں سے ایک جگہ مقرر ہوتی ہے اگر وہ اسلام لے آیا تو جنت میں گیا اور اس کی جہنم والی جگہ کافر کو مل جاتی ہے اور اگر کفر کی وجہ سے جہنم میں گیا تو جنت والی جگہ مسلمان کو مل جاتی ہے۔
287 – "إذا كان يوم القيامة أعطى الله تعالى كل رجل من هذه الأمة رجلا من الكفار فيقال له هذا فداؤك من النار". (م عن أبي موسى) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٨۔۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر مومن کے پاس ایک فرشتہ بھیجیں گے جس کے ساتھ ایک کافر ہوگا فرشتہ مومن سے کہے گا، لے اے مومن یہ کافر تیرا جہنم سے فدیہ ہے۔ الطبرانی، فی الکبیر، الکنی للحاکم، بروایت ابی موسیٰ۔
288 – " إذا كان يوم القيامة بعث الله تعالى إلى كل مؤمن ملكا معه كافر؛ فيقول الملك: للمؤمن يا مؤمن هاك هذا الكافر فهذا فداؤك من النار". (طب والحاكم في الكنى عن أبي موسى) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
289 ۔۔ اللہ کے نزدیک تمام ادیان سے زیادہ محبوب خالص ملت حنیفہ والا آسان دین ہے۔ مسنداحمد، الادب للبخاری، الطبرانی فی الکبیر ، بروایت ابن عباس ، النسائی بروایت عمر بن عبدالعزیز عن ابیہ عن جدہ۔
یعنی پہلے انبیاء کی ملل وشرائع کے منسوخ و مبدل ہونے سے قبل یہ ملت بہتر ہے۔ ورنہ وہ منسوخ و مبدل ہونے کے بعد بالکل ناجائز العمل ہیں حنیفہ کا مطلب ہے باطل سے کلیہ منحرف ہو کر محض حق کی طرف گامزن ہے اور سمحہ سے مراد آسان وسہل العمل ہے۔
یعنی پہلے انبیاء کی ملل وشرائع کے منسوخ و مبدل ہونے سے قبل یہ ملت بہتر ہے۔ ورنہ وہ منسوخ و مبدل ہونے کے بعد بالکل ناجائز العمل ہیں حنیفہ کا مطلب ہے باطل سے کلیہ منحرف ہو کر محض حق کی طرف گامزن ہے اور سمحہ سے مراد آسان وسہل العمل ہے۔
289 - الإكمال "أحب الأديان إلى الله الحنيفية السمحة" (حم خ في الأدب طب عن ابن عباس) (ن عن عمر بن عبد العزيز عن أبيه عن جده) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
290 ۔۔ اللہ کے نزدیک تمام ادیان میں سب سے زیادہ محبوب دین خالص ملت حنیفہ والادین ہے۔ الاوسط للطبرانی (رح) بروایت ابوہریرہ۔ ملت حنیفہ والے دین سے مراد وہ دین ہے جو باطل سے کلیہ منقطع ہو کرحق کی طرف مائل ہونے والا ہو۔
290 – "إن أحب الأديان إلى الله الحنيفية السمحة" (1) (طس عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٩١۔۔ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک ملت حنیفہ والا ہے پس جب تو میری امت کو دیکھے وہ ظالم کو ظالم نہیں کہتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیاجاتا ہے۔ المستدرک للحاکم، الغرائب لابی موسیٰ، معرفۃ الاصحابہ، لابی موسیٰ ، المدینی ، روایۃ السند عن جعفر بن الازھر، بن قریظ عن جدہ عن ابی امہ سلیمان بن کثیر، بن امیہ، بن سعید عن ابیہ اسعد عن عبداللہ بن مالک۔
291 – " أحب الأديان إلى الله الحنيفية فإذا رأيت أمتي لا يقولون للظالم أنت ظالم فقد تودع منهم". (ك وأبو موسى النرسي في الغرائب) (ك وأبو موسى المديني في معرفة الصحابة عن جعفر بن الأزهر بن قريظ عن جده عن أبي أمه سليمان بن كثير بن أمية بن سعيد عن أبيه أسعد عن عبد الله بن مالك الخزاعي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٩٢۔۔ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو اٹھائیں گے ایک منادی عرش کے نیچے سے تین مرتبہ ندادے گا اے توحید پرست لوگو اللہ نے تمہین معاف فرمادیا ہے لہٰذا تم بھی آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردو۔ ابن ابی الدنیا فی دم الغضب بروایت انس۔
292 – "إذا بعث الله الخلائق يوم القيامة؛ نادى مناد من تحت العرش ثلاثة أصوات: يامعشر الموحدين؛ إن الله قد عفا عنكم فيعف بعضكم عن بعض". (ابن أبي الدنيا في ذم الغضب عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٢٩٣۔۔ جب قیامت کے دن ہوگا، اللہ ایک میدان میں تمام مخلوقات کو جمع فرمائیں گے پھر ہر قوم کے معبودان باطلہ کو اٹھائیں گے جن کی وہ پرستش کیا کرتے تھے اور وہ معبودان باطلہ اپنے پجاریوں کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جائیں گے پیچھے صرف توحید پرست لوگ بچ جائیں گے ان سے استفسار کیا جائے گا، کہ تم کس کے منتظر ہو وہ کہیں گے ہم اپنے اس رب کے منتظر ہیں جس کی ہم غائبانہ پرستش کیا کرتے تھے ان سے کہا جائے کیا تم اس کو پہچانتے ہو وہ جواب دیں گے اگر ہمارا رب چاہے گا تو ہم اس کو ضرور پہچان لیں گے اس وقت اللہ ان پر اپنی تجلی ظاہر فرمائیں گے اور وہ تمام لوگ سجدہ ریز ہوجائیں گے پھر اس عالم میں ان کو خوش خبری سنائی جائے گی اے اہل توحید اپنے سروں کو اٹھاؤں پس اللہ نے تمہارے لیے جنت واجب فرمادی ہے اور تم میں سے ہر ایک کی جگہ جہنم میں کسی یہودی یا نصرانی کو بھیج دیا گیا ہے۔ الحلیہ۔ بروایت ابی موسیٰ۔
293 – "إذا كان يوم القيامة جمع الله الخلائق في صعيد واحد؛ ثم يرفع لكل قوم آلهتهم التي كانوا يعبدونها؛ فيوردونهم النار؛ ويبقى الموحدون فيقال لهم ماتنتظرون فيقولون ننتظر ربا كنا نعبده بالغيب؛ فيقال لهم أو تعرفونه فيقولون: إن شاء عرفنا نفسه فيتجلى لهم فيخرون سجودا فيقال لهم: يا أهل التوحيد ارفعوا رؤوسكم؛ فقد أوجب الله لكم الجنة؛ وجعل مكان كل رجل منكم يهوديا أو نصرانيا في النار". (حل عن أبي موسى) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٢٩٤۔۔ جب قیامت کا روز ہوگا، ایمان اور شرک آئیں گے اور پروردگار کے سامنے بحث وتمحیص کرنے لگیں گے تو پروردگار ایمان کا فرمائیں گے تو اپنے اہل کو لے کر جنت میں جا۔ التاریخ للحاکم، بروایت صفوان بن عسال۔
294 – "إذا كان يوم القيامة جاء الإيمان والشرك يجثوان بين يدي الرب؛ فيقول: للإيمان انطلق أنت وأهلك إلى الجنة". (ك في تاريخه عن صفوان بن عسال) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٢٩٥۔۔ جب تم میں سے کوئی اسلام پر اچھی طرح کاربند ہوجائے تو اس کی کوئی ہوئی ہرنی کی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھ دی جاتی ہے۔ لیکن برائی صرف ایک گنا تک لکھی رہتی ہے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ سے جاملے۔ مسنداحمد، بخاری ، صحیح مسلم، بروایت ابوہریرہ۔
295 – "إذا أحسن أحدكم إسلامه فكل حسنة يعملها تكتب له بعشر حسنات إلى سبع مائة ضعف؛ وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها حتى يلقى الله". (حم خ م عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٢٩٦۔۔ جب بندہ مسلمان ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہرنی کی جو اس نے پہلے کی ہو اور اس کو محفوظ رکھتے ہیں اور ہر برائی جو اس سے صادر ہوئی تھی اس کو مٹا دیتے ہیں پھر از سرنو معاملہ شروع ہوتا ہے اس طرح کہ ایک نیکی دس گنا تک بڑھ جاتی ہے اور برائی صرف ایک ہی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کو بھی اللہ معاف فرمادیں۔
296 – "إذا أسلم العبد كتب الله له كل حسنة قدمها ومحا عنه كل سيئة أزلفها ثم قيل له: استأنف العمل؛ الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف؛ والسيئة بمثلها إلى أن يعفو الله وهو الغفور". (سمويه عن أبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
297 ۔۔۔ اور اسلام اپنے سے پہلے اعمال کو منہدم کردیتا ہے۔ اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے اعمال کو منہدم کردیتی ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن عمر (رض)۔
297 – "إن الإسلام يجب ما كان قبله؛ والهجرة تجب ما كان قبلها". (طب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٢٩٧۔۔ جب بندہ مسلمان ہوجائے اور پھر پوری طرح اسلام کو اپنی زندگی میں بھی ڈھال لے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر نیکی جو اس نے انجام دی تھی اس کو قبول فرمالیتے ہیں اور ہر برائی جو اس سے سرزد ہوئی تھی اس کا کفارہ فرما دیتے ہیں اور اسلام میں وہ جو عمل کرے اس کے ساتھ یہ معاملہ فرماتے ہیں۔ کہ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھ جاتی ہے اور برائی صرف ایک گنا رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی محو فرمادیں گے ۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عطا بن یسار مرسلا۔
298 – "إذا أسلم العبد فحسن إسلامه؛ تقبل الله كل حسنة كان أزلفها؛ وكفر عنه كل سيئة أزلفها وكان في الإسلام ما كان، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف؛ والسيئة بمثلها إلى أن يمحوها الله". (طب عن عطاء بن يسار مرسلا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٢٩٩۔۔ کیا تمہین علم نہیں ہے کہ اسلام اپنے سے پہلے اعمال کو منہدم کردیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے اعمال کو منہدم کردیتی ہے اور حج بھی اپنے سے پہلے اعمال کو منہدم کردیتا ہے۔ السنن لسعید، بروایت عمروبن العاص۔
299 – "أما علمت أن الإسلام يهدم ما قبله؛ وأن الهجرة تهدم ما كان قبلها؛ وأن الحج يهدم ما كان قبله". (ص عن عمرو بن العاص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٣٠٠۔۔ اللہ تعالیٰ بندہ کو معاف فرماتے رہتے ہیں، جب تک پردہ حائل نہ ہو دریافت کیا گیا، پردہ کیا ہے فرمایا، اس حال میں روح نکلے کہ وہ مشرک ہو۔ مسنداحمد، بخاری ، فی التاریخ المسند لابی یعلی، الصحیح لابن حبان، البغوری، فی الجعدیات، المستدرک للحاکم۔ السنن لسعید، بروایت ابی ذر (رض) ۔
300 – " إن الله عز وجل يغفر لعبده ما لم يقع الحجاب، قيل وما وقوع الحجاب؟ قال تخرج النفس وهي مشركة". (حم خ في التاريخ ع) حب والبغوي في الجعديات ك ص عن أبي ذر رضي الله عنه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٣٠١۔۔ مسلمان جب سے اس کی ماں نے اس کو جنم دیا ہے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے تک مسلسل اللہ کی ذمہ داریاں میں رہتا ہے پس اگر اللہ سے اس حال میں سامنا ہوا کہ اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی شہادت دیاہو یا اخلاص کے ساتھ استغفار کرتا ہو آئے تو اللہ اس کے لیے جہنم سے خلاصی لکھ دیتے ہیں۔ البزار بروایت ابی سلمہ، بن عبدالرحمن عن ابیہ ولم یسمع عنہ۔
301 – "إن المسلم في ذمة الله مذ ولدته أمه إلى أن يقوم بين يدي الله تبارك وتعالى؛ فإن وافى الله بشهادة أن لا إله إلا الله صادقا؛ أو باستغفار صادقا كتب الله له براءة من النار". (ز عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبيه ولم يسمع منه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٣٠٢۔۔ نورجب سینے میں داخل ہوجاتا ہے توسینہ کشادہ ہوجاتا ہے دریافت کیا گیا کہ اس کی کوئی علامت ہے ؟ جس سے اس اس کا علم ہوسکے فرمایا، ہاں دھوکا دینے سے پہلوتہی کرنا، دائمی گھر کی طرف متوجہ ہونا، اور موت کے آنے سے قبل اس کی تیاری کرلینا۔ المستدرک للحاکم، وتعقب عن ابن مسعود، (رض) ۔
302 – "إن النور إذا دخل الصدر انفسح قيل هل لذلك من علم يعرف به قال: نعم التجافي عن دار الغرور والانابة إلى دار الخلود والاستعداد للموت قبل نزوله". (ك وتعقب عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٣٠٣۔۔ اے مسہر، اسلام سے دامن گیر ہوجانا، اور اپنے دین کو دنیا کے عوض فروخت نہ کرو۔ ابن سعد۔ بروایت الشعبی مرسلا۔
303 – "أسلم يا ابن مسهر، لا تبع دينك بدنياك". (ابن سعد عن الشعبي مرسلا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن توحید پرستوں کی حالت۔
٣٠٤۔۔ اسلام لے آ، سلامتی پاجائے گا، الطبرانی فی الکبیر، المستدرک للحاکم، بروایت اسما بنت ابی بکر (رض) ۔
304 – "أسلم تسلم". (طب ك عن أسماء بنت أبي بكر) .
তাহকীক: