কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ২৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٦٥۔۔ جب بندہ اسلام سے مشرف ہو اور پھر پوری طرح اسلام کو اپنی زندگی میں بھی ڈھال لے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر خطا جو اس سے سرزد ہوئی تھی کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔ اور اس کے بعد اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے کہ اس کی ہرنی کی کے بدلہ دس نیکیاں ملتی ہیں، جو سات سو گنا تک بڑھ سکتی ہیں، لیکن برائی صرف ایک گناہ ہی رہتی ہے۔ بلکہ امید ہے اللہ پاک اس سے بھی درگزر فرمائیں گے۔ بخاری، نسائی، بروایت ابی سعد۔
265 – "إذا أسلم العبد فحسن إسلامه، يكفر الله عنه كل سيئة كان أزلفها، وكان بعد ذلك القصاص، الحسنة بعشر أمثالها، إلى سبع مائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها". (خ ن عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٦٦۔۔ جب تم میں سے کوئی اسلام پر اچھی طرح کاربند ہوجائے تو اس کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھ جاتی ہے لیکن برائی صرف ایک ہی رہتی ہے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ سے جاملے۔ مسند امام احمد، بخاری، مسلم، بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
266 – "إذا أحسن أحدكم إسلامه، فكل حسنة يعملها تكتب بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها حتى يلقى الله". (حم ق عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٦٧۔۔ جب بندہ مسلمان ہوجائے اور پھر پوری طرح اسلام کو اپنی زندگی میں ڈھال لے تو اللہ اس کی ہرنی کی جو اس نے انجام دی تھی اس کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اور ہر برائی جو اس سے صادر ہوئی تھی اس کو مٹا دیتے ہیں پھر یوں بدلہ دیاجاتا ہے کہ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھ جاتی ہے اور برائی صرف ایک گنا ہی رہتی ہے بلکہ امید ہے اللہ اس سے بھی درگزر فرمادیں گے۔ لابن حبان، النسائی، بروایت ابی سعید۔
267 – "إذا أسلم العبد فحسن إسلامه، كتب الله له كل حسنة كان أزلفها، ومحيت عنه كل سيئة كان أزلفها، ثم كان بعد ذلك القصاص، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها" (ن حب عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٦٨۔۔ اعمال میں سب سے افضل، اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانا ہے پھر جہاد، پھر گناہوں سے مبراحج، اور بقیہ تمام اعمال کی باہمی فضیلت یوں ہے جس طرح طلوع شمس سے غروب شمس تک سارے دن کی ایک سی حیثیت ہے۔ مسند امام احمد، بروایت ماعز۔
268 – "أفضل الأعمال الإيمان بالله وحده، ثم الجهاد، ثم حجة مبرورة، تفضل سائر الأعمال كما بين مطلع الشمس إلى مغربها". (حم عن ماعز) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٦٩۔۔ سب سے افضل عمل، اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانا ہے اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ الصحیح لابن حبان، بروایت ابی ذر (رض) ۔
269 – "أفضل العمل إيمان بالله وحده، وجهاد في سبيله". (حب عن أبي ذر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٧٠۔۔ اللہ تعالیٰ توحید پرست بندوں کو جہنم میں اگر عذاب دیں گے تو وہ ان کے ایمان کی کمی کے بقدر دیں گے پھر ان کے ایمان کے سبب ہمیشہ کے لیے ان کو جنت میں داخل فرمادیں گے ۔ الحلیہ۔ بروایت انس (رض)۔
270 – "إن الله يعذب الموحدين في جهنم بقدر نقصان إيمانهم، ثم يردهم إلى الجنة خلودا دائما بإيمانهم". (حل عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٧١۔۔ بیشک جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوسکتا ہے اور ایام منی کھانے پینے کے دن ہیں۔ مسند امام احمد، النسائی، ابوداود، بروایت بشر بن سحیم، بروایت کعب بن مالک۔
271 – "إنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة؛ وأيام منى أيام أكل وشرب". (حم ن ط عن بشر بن سحيم عن كعب بن مالك) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٧٢۔۔ بیشک جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوسکتا ہے اللہ پاک کسی فاسق شخص کے ذریعے بھی اس دین کی مدد کروالیتے ہیں۔ مسنداحمد، النسائی، بروایت ابوہریرہ (رض)۔ روایت سے متعلق اہم امور حدیث ١١٥ کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
272 – "إنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة، وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر". (حم ن عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٧٣۔۔ جو مجھ پر ایمان لایا، اسلام سے بہرہ مند ہوا، اور ہجرت کی میں اس کے لیے جنت کے آس پاس گھر کا ذمہ دارہوں اور جنت کے عین وسط میں گھر کا ذمہ دار ہوں اور جنت کے اعلی بالاخانوں میں گھر کا ذمہ دارہوں پس جو ان اعمال میں پورا اترا اس نے خیر کا کوئی کام نہ چھوڑا اور شر کے لیے کوئی رہنے کی جگہ نہ چھوڑی پس جہاں چاہے انتقال کرے۔ النسائی، ابن حبان، المستدرک للحاکم، بیہقی، بروایت فضالہ بن عبید۔
273 – "أنا زعيم لمن آمن بي، وأسلم وهاجر، ببيت في ربض الجنة، وببيت في وسط الجنة، وببيت في أعلى غرف الجنة فمن فعل ذلك لم يدع للخير مطلبا ولا من الشر مهربا يموت حيث شاء أن يموت". (ن حب ك هق عن فضالة بن عبيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٧٤۔۔ افضل اسلام ملت ابراہیمی والا ہے۔ الاوسط للطبرانی، بروایت ابن عباس (رض)۔
274 – "أفضل الإسلام الحنيفية السمحة". (طس عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بن دیکھے ایمان کی فضیلت
٢٧٥۔۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا نماز قائم کی، زکوۃ ادا کی رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے۔ خواہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی سرزمین میں بیٹھا رہے جہاں اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ مسنداحمد، بخاری بروایت ابویرہرہ (رض) ۔
275 – "من آمن بالله ورسوله، وأقام الصلاة وآتى الزكاة وصام رمضان، كان حقا على الله أن يدخله الجنة، هاجر في سبيل الله أو جلس في أرضه التي ولد فيها". (حم خ عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناحق قتل دخول جہنم کا سبب ہے۔
٢٧٦۔۔ جو شخص اس حال میں آیا کہ وہ اللہ کی عبادت کرتا رہا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا نماز قائم کی زکوۃ ادا کی رمضان کے روزے رکھے اور کبائر سے بچتارہا تو یقیناً اس کے لیے جنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کبائر کیا چیز ہیں۔ فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا مسلمان جان کو ناحق قتل کرنا جنگ کے روز پشت دے کر بھاگنا۔ مسنداحمد، النسائی، ابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت ابی ایوب۔
276 – "من جاء يعبد الله ولا يشرك به شيئا ويقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويصوم رمضان ويتقي الكبائر فإن له الجنة، قالوا ما الكبائر؟ قال: الاشراك بالله، وقتل النفس المسلمة، وفرار يوم الزحف". (حم ن حب ك عن أبي أيوب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناحق قتل دخول جہنم کا سبب ہے۔
٢٧٧۔۔ جس شخص نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور عیسی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی باندی کے بیٹے ہیں اور اس کی نشانی ہیں جن کو اللہ نے مریم میں القاء کیا اور اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں اور جنت حق ہے جہنم حق ہے ، دوبارہ اٹھایا جانا حق ہے تو اللہ ایسے شخص کو جنت کے آٹھویں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل فرمادیں گے خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔ مسنداحمد، بخاری مسلم، بروایت عبادہ بن صامت۔
277 – "من شهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وأن عيسى عبد الله ورسوله وابن أمته وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه، وأن الجنة حق، والنار حق، وأن البعث حق، أدخله الله الجنة على ما كان من عمل، من أي أبواب الجنة الثمانية شاء" (حم ق عن عبادة بن الصامت) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناحق قتل دخول جہنم کا سبب ہے۔
٢٧٨۔۔ جس شخص نے دنیا سے اس حال میں کوچ کیا کہ وہ اللہ کے ساتھ مخلص ایمان والا تھا خالص اسی کی عبادت کرتا تھا نماز قائم کرتا تھا زکوۃ ادا کرتا تھا، تو اللہ کی قسم اس کی یہ موت اس حال میں آئی کہ اللہ پاک اس سے راضی تھے۔ ابن ماجہ، بروایت انس۔
278 – "من فارق الدنيا على الإخلاص لله وحده وعبادته لاشريك له وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة، مات والله عنه راض". (هـ ك عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناحق قتل دخول جہنم کا سبب ہے۔
٢٧٩۔۔ جس شخص کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گ اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہوا مرا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ مسنداحمد، الصحیح مسلم، بروایت جابر (رض)۔
279 – "من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة، ومن مات يشرك بالله شيئا دخل النار". (حم م عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناحق قتل دخول جہنم کا سبب ہے۔
٢٨٠۔۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس امت کا خواہ کوئی یہودی ہو یا نصرانی جس نے بھی میرے متعلق سنا اور پھر یونہی مرگیا میری دعوت پر ایمان نہ لایا تویقینا وہ اصحاب جہنم میں داخل ہوگا۔ مسند احمد، مسلم، بروایت ابوہریرہ۔
280 – "والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني، ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به، إلا كان من أصحاب النار". (حم م عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨١۔۔ زندہ درگور کرنے والی ہو اور ہونے والی دونوں جہنم میں ہوں گی۔ الایہ کہ زندہ درگور کرنے والی بعد میں اسلام کو پالے اور اس سے وابستہ ہوجائے ۔ مسنداحمد ، النسائی، بروایت سلمہ بن یزید الجعفی سلمہ بن یزید جعفی (رض) نعہ فرماتے ہیں میں اپنے بھائی کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضرہوا، اور ہم نے عرض کیا کہ ہماری والدہ ملیکہ زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور اس طرح کے دیگرنیک کام انجام دیتی تھیں، وہ زمانہ جاہلیت میں انتقال کرگئیں تو کیا یہ خیر کے کام اس کے لیے کچھ سودمند ثابت ہوں گے آپ نے فرمایا نہیں۔

ہم نے مزید عرض کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ہماری ایک بہن تھی جس کو ہماری والدہ نے زمانہ جاہلیت کے رسم کے مطابق زندہ درگور کردیا، کیا ہماری والدہ کے نیک اس گناہ کو دھودیں گے ، تب آپ نے فرمایا زندہ درگور کرنے والی اور ہونے والی دونوں جہنم میں ہیں، الایہ کہ زندہ درگور کرنے والی اسلام کو پالے اور اس سے وابستہ ہوجائے۔ قاتلہ کے جہنم جانے کے مسئلہ تو واضح ہے مگر مقتولہ زندہ درگور ہونے والی کیوں جہنم میں جائے گی اس کی وجہ زندہ درگور ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مدار اس مسئلہ پر ہے کیا اولاد مشرکین جہنم میں جائیں گے یا جنت میں ۔ اس بارے میں نصوص متعارض ہیں۔
281 – "الوائدة والموؤودة في النار إلا أن تدرك الوائدة الإسلام فتسلم". (حم ن عن سلمة بن يزيد الجعفي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٢۔۔ اے ابوسعید، جو شخص اللہ کے رب ہونے پرا اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد کے پیغمبر ہونے پر اضی ہوگیا، اور اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور دوسراعمل جس کے ذریعے بندہ جنت کے سو درجات تک پہنچ سکتا ہے جبکہ ایک درجہ زمین و آسمان کے درمیان جتنا ہے وہ جہاد فی سبیل الہ ہے جہاد فی سبیل اللہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مسنداحمد، امام مسلم، النسائی بروایت ابوسعید۔
282 – " يا أبا سعيد من رضي بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، وجبت له الجنة، وأخرى يرفع بها العبد مائة درجة في الجنة، ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض، الجهاد في سبيل الله الجهاد في سبيل الله الجهاد في سبيل الله". (حم م ن عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٣۔۔ اے معاذ بن جبل کیا تجھے پتہ ہے کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے ؟ اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔ سو جان لو کہ اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ اس کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ بندے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، اللہ ان کو عذاب نہ دے۔ مسنداحمد، بخاری و مسلم، الجامع للترمذی، ابن ماجہ، بروایت معاذ (رض)۔
283 – "يا معاذ بن جبل، هل تدري ماحق الله على عباده؛ وماحق العباد على الله؛ فإن حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا، وحق العباد على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئا". (حم ق ت هـ عن معاذ بن جبل) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندہ درگور کرنے کا برا انجام
٢٨٤۔۔ جہنم سے ہراس شخص کو نکال کیا جائے گا جس کے دل میں ایمان کا ذرہ بھی ہوگا۔ ترمذی، بروایت ابوسعید۔
284 – "يخرج من النار من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان". (ت عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক: