কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৯৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14980 قاضی تین طرح کے ہیں۔ دو جہنم میں ہیں اور ایک جنت میں وہ شخص جس نے حق جانا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا جنت میں ہے اور جس نے اپنی جہالت کے باوجود فیصلہ کیا وہ جہنم میں ہے اور جس نے حق کو جانا تو سہی لیکن فیصلہ میں ظلم کیا وہ جہنم میں ہے۔

الکامل لا بن عدی، مستدرک الحاکم عن بریدۃ (رض)

کلام : امام حاکم (رح) نے اس کو صحیح الاسناد فرمایا جبکہ امام ذہبی (رح) نے فرمایا اس میں ابن بکیر الغنویٰ منکر الحدیث ہے لیکن اس کا ایک شاہد صحیح ہے۔
14980- "القضاة ثلاثة: اثنان في النار وواحد في الجنة رجل علم الحق فقضى به فهو في الجنة، ورجل قضى للناس على جهله فهو في النار، ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار". "عد ك عن بريدة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14981 قاضی تین طرح کے ہیں دو قاضی جہنم میں ہیں اور ایک قاضی جنت میں ہے جس نے خواہش پر فیصلہ کیا جہنم میں ہے، جس نے بغیر علم کے فیصلہ کیا جہنم میں ہے اور جس نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)
14981- "القضاة ثلاثة: قاضيان في النار، وقاض في الجنة قاض قضى بالهوى فهو في النار، وقاض قضى بغير علم فهو في النار، وقاض قضى بالحق فهو في الجنة". "طب عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14982 دو قاضی جہنم میں ہیں ایک قاضی جنت میں ہے۔ وہ قاضی جس نے حق کو جانا اور اسی کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے وہ قاضی جس نے حق کو جانا لیکن عمداً ظلم کا فیصلہ کیا یا بغیر علم کے فیصلہ کیا دونوں جہنم میں ہیں۔ مستدرک الحاکم عن بریدۃ (رض)
14982- "قاضيان في النار، وقاض في الجنة، قاض عرف الحق فقضى به فهو في الجنة، وقاض عرف الحق فجار متعمدا أو قضى بغير علم فهما في النار". "ك عن بريدة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14983 اللہ سے ڈرو بیشک تم میں سب سے بڑا خیانت دار ہمارے نزدیک وہ شخص ہے جو عمل (سرکاری عہدہ) طلب کرے۔ الکبیر للطبرانی عن ابی موسیٰ
14983- "اتقوا الله فإن أخونكم عندنا من طلب العمل". "طب عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14984 قیامت کے روز اللہ کے ہاں سب سے دور شخص وہ قاضی ہوگا جو خدا کے حکم کی مخالفت کرے۔ مسند الفردوس للدیلمی عن ابی ھریر (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 42 ، الضعیفۃ 2091، المغیر 11 ۔
14984- "أبعد الناس عند الله يوم القيامة القاضي الذي يخالف إلى غير ما أمر به". "فر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14985 اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے لیکن جب وہ ظلم کرتا ہے تو خدا اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور شیطان اس کے ساتھ لازم ہوجاتا ہے۔

الترمذی عن عبداللہ بن ابی اوفی
14985- "إن الله مع القاضي ما لم يجر فإذا جار تخلى عنه ولزمه الشيطان". "ت عن عبد الله بن أبي أوفى". كتاب الأحكام رقم "1330".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14986 اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہے جب تک وہ عمداً ظلم نہ کرے۔

الکبیر للطبرانی عن ابن مسعود (رض) ، مسند احمد عن معقل بن یسار

کلام : ضعیف الجامع 1662 ۔
14986- "أن الله تعالى مع القاضي مالم يحف عمدا". "طب عن ابن مسعود حم عن معقل بن يسار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14987 اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہے جب تک ظلم نہ کرے پس جب وہ ظلم کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے بری ہوجاتا ہے اور شیطان اس کے ساتھ ہوجاتا ہے۔

مستدرک الحاکم السنن للبیہقی عن ابن ابی اوفیٰ
14987- "إن الله تعالى مع القاضي ما لم يجر فإذا جار تبرأ الله منه ولزمه الشيطان". "ك هق عن ابن أبي أوفى"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14988 عدل پسند قاضی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس کو اس قدر حساب کی شدت ہوگی کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس نے کبھی دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔

الشیرازی فی الالقاب عن عائشہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 1516، المتناھیۃ 1260 ۔
14988- "إن القاضي العدل ليجاء به يوم القيامة فيلقى من شدة الحساب ما يتمنى أن لا يكون قضى بين اثنين في تمرة قط". "الشيرازي في الألقاب عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14989 عدل پسند قاضی پر قیامت کے دن ایسی گھڑ ی آئے گی کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس نے کبھی دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ مسند احمد عن عائشہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 4863 ۔
14989- "ليأتين على القاضي العدل يوم القيامة ساعة يتمنى أنه لم يقض بين اثنين في تمرة قط". "حم عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14990 میری امت میں بدترین وہ ہے جو قضاء کا عہدہ سنبھالے اگر اس پر کوئی بات مشتبہ ہوتی ہے تو وہ مشورہ نہیں کرتا اور اگر وہ درست رہتا ہے تو اکڑتا ہے اگر غصہ کرتا ہے تو ناک منہ چڑھاتا ہے اور برائی کو لکھنے والا اس پر عمل کرنے والے کے مثل ہے۔

مسند الفردوس للدیلمی عن ابوہریرہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 3384، کشف الخفاء 1536 ۔
14990- "شرار أمتي من يلي القضاء إن اشتبه عليه لم يشاور وإن أصاب بطر، وإن غضب عنف وكاتب السوء كالعامل به". "فر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14991 ایک پتھر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑایا : اے میرے معبود ! اے میرے آقا ! میں نے اتنے اتنے سال تیری عبادت کی ہے پھر تو نے مجھے ایک گرجے کی بنیاد میں رکھا ہے (میری یہ دعا سن لے) پروردگار نے فرمایا : کیا تو راضی نہیں ہوا کہ میں نے تجھے قاضیوں کی مجلس سے نکال لیا۔

تمام، ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : اسنی المطالب 876، تذکرۃ الموضوعات 186، التنزیہ 230, 2، ذی اللآلی 133 ۔
14991- "عج حجر إلى الله فقال: إلهي وسيدي عبدتك كذا وكذا سنة، ثم جعلتني في أس كنيف فقال: أما ترضى أن عزلت بك عن مجالس القضاة". "تمام وابن عساكر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14992 قاضی کی زبان دو انگاروں کے درمیان ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف۔ مسند الفردوس للدیلمی عن انس

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 4670، النواضح 1492 ۔
14992- "لسان القاضي بين جمرتين حتى يصير إما إلى الجنة وإما إلى النار". "فر عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14993 مسلمانوں کے قاضیوں میں سے کوئی قاضی ایسا نہیں جس کے ساتھ دو فرشتے نہ رہتے ہوں جو اس کی حق کی طرف رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ جب تک کہ وہ حق کے علاوہ کا ارادہ نہ کرے۔ پس جب وہ حق کو چھوڑ کر کچھ اور ارادہ کرتا ہے اور عمداً ظلم کرتا ہے تو دونوں فرشتے اس سے بری ہوجاتے ہیں اور اس کو اس کے نفس کے حوالے کردیتے ہیں۔ الکبیر للطبرانی عن عمران

کلام : محل کلام روایت ہے : ضعیف الجامع 5210 ۔
14993- "ما من قاض من قضاة المسلمين إلا ومعه ملكان يسددانه إلى الحق ما لم يرد غيره، فإذا أراد غيره وجار متعمدا تبرأ منه الملكان ووكلاه إلى نفسه". "طب عن عمران".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14994 جس نے عہد قضاء تلاش کیا اور ذمہ داروں سے اس کا سوال کیا تو اس کو اس کے نفس کے سپرد کردیا جاتا ہے اور جس کی زبردستی منصب سونپا گیا اللہ پاک اس پر ایک فرشتہ نازل کردیتا ہے جو اس کو درست راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ الترمذی عن انس (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 5320 ۔ ضعیف الترمذی 223 ۔
14994- "من ابتغى القضاء وسأل فيه الشفعاء وكل إلى نفسه ومن أكره عليه أنزل الله عليه ملكا يسدده". "ت عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14995 جس نے قضاء کا سوال کیا اس کو اس کے نفس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور جس پر قضامسلط کی گئی اس پر ایک فرشتہ نزول کرتا ہے اور اس کو درست راہ دکھاتا ہے۔

مسند احمد، الترمذی، ابنماجہ عن انس (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف ابن ماجہ 507، ضعیف الترمذی 222، ضعیف الجامع 5614
14995- "من سأل القضاء وكل إلى نفسه، ومن اجبر عليه نزل عليه ملك يسدده". "حم ت هـ عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14996 جس نے قضا کا سوال کیا اور اس پر مدد طلب کی اس کو اس کے حوالے کردیا جائے گا اور جس نے قضاء کا سوال نہیں کیا اور اس پر مدد نہیں مانگی اللہ پاک اس پر فرشتہ نازل فرمائیں گے جو اس کو درست راہ پر گامزن رکھے گا۔ ابوداؤد، الترمذی، مستدرک الحاکم عن انس (رض)
14996- "من طلب القضاء واستعان عليه وكل إليه، ومن لم يطلبه ولم يستعن عليه أنزل الله عليه ملكا يسدده". "د ت ك عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14997 جو مسلمانوں کے عہدہ قضاء کی طلب و جستجو میں لگا رہا حتیٰ کہ اس کو پالیا پھر اس کا عدل اس کے ظلم پر غالب آگیا تب بھی اس کے لیے جنت ہے۔ لیکن اگر اس کا ظلم اس کے عدل پر غالب آگیا تو اس کے لیے جہنم ہے۔ ابوداؤد، السنن للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف ابی داؤد 763، ضعیف الجامع 5689، الضعیفۃ 1186
14997- "من طلب قضاء المسلمين حتى يناله ثم غلب عدله جوره فله الجنة، ومن غلب جوره عدله فله النار". "د هق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14998 جو بندہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ فرشتہ اس کی گردن پکڑے ہوئے ہوگا پھر وہ آسمان کی طرف سر اٹھائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس کو ڈال دو ، تو وہ فرشتہ اس کو چالیس سال کی گہرای میں دھکیل دے گا۔ ابن ماجہ عن ابن مسعود (رض)

کلام : اس کی سند میں مجالد ضعیف راوی ہے۔ زوائد ابنماجہ۔ ابن ماجہ رقم 2311 ۔
14998- "ما من عبد يحكم بين الناس إلا جاء يوم القيامة وملك آخذ بقفاه ثم يرفع رأسه إلى السماء، فإن قال الله: ألقه ألقاه في مهواة أربعين خريفا". "هـ عن ابن مسعود"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৯৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔قضاء (عدلیہ) کے بارے میں

پہلی فصل۔۔۔قضاء (عدلیہ ) کی ترغیب میں
14999 جو قضاء کا والی بنا اس نے بغیر چھری کے اپنی جان کو ذبح کرلیا۔

مسند احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : ذخیرۃ الحفاظ 5643، مختصر المقاصد 1093 ۔
14999- "من ولي القضاء فقد ذبح نفسه بغير سكين". "حم د ت عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক: