কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৯৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں
14940 جب اللہ تعالیٰ کسی امیر کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کو ایک مخلص وسچاوزیر دے دیتا ہے۔ اگر امیر بھولتا ہے تو وزیر اس کو یاد دلاتا ہے اور اگر وہ سیدھی راہ پر رہتا ہے تو اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ پاک کچھ اور ارادہ فرماتا ہے تو برا وزیر مقرر کردیتا ہے اگر وہ سیدھی راہ بھولتا ہے تو وزیر اس کو یاد نہیں دلاتا اور اگر وہ سیدھی راہ چلتا ہے تو وزیر اس کی مدد نہیں کرتا۔
ابوداؤد، شعب الایمان للبیہقی عن عائشہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ذخیرۃ الحفاظ 191 ۔
ابوداؤد، شعب الایمان للبیہقی عن عائشہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ذخیرۃ الحفاظ 191 ۔
14940- "إذا أراد الله بالأمير خيرا جعل له وزير صدق إن نسي ذكره وإن ذكر أعانه، وإذا أراد الله به غير ذلك جعل وزير سوء إن نسي لم يذكره وإن ذكره لم يعنه ". "د هب عن عائشة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14941 اللہ کے نزدیک قیامت کے روز سب سے بدترین مخلوق وہ شخص ہوگا جو غیر کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت ضائع کردے۔ الخرائطی فی مساوی الاخلاق عن ابوہریرہ (رض)
14941- "إن شر البرية عند الله تعالى يوم القيامة من اذهب آخرته بدنيا غيره". "الخرائطي في مساوي الأخلاق عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14942 جہنم میں ایک چٹان ہے جس کو ویل کہا جاتا ہے عرفاء (امور مملکت کے متنظمین) اس پر چڑھتے ہیں اور اترتے ہیں۔ مسند البزار عن سعد (رض)
14942- "إن في النار حجرا يقال له ويل يصعد عليه العرفاء وينزلون فيه". "البزار عن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14943 اگر تم چاہو (تو میں تم کو ناظم الامور بنادیتا ہوں) لیکن ناظم جہنم میں ہوگا۔
ابن عساکر عن سلیمان بن علی عن ابیہ عن جدہ
فائدہ : سلیمان بن علی اپنے والد علی سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ مجھے عریف (ناظم) بنادیجئے ، تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
ابن عساکر عن سلیمان بن علی عن ابیہ عن جدہ
فائدہ : سلیمان بن علی اپنے والد علی سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ مجھے عریف (ناظم) بنادیجئے ، تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
14943- " إن شئت ولكن العريف في النار" "ابن عساكر عن سليمان بن علي عن أبيه عن جده أنه قال: يا رسول الله اجعلني عريفا قال فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14944 اللہ پاک سہیل پر لعنت فرمائے۔ وہ زمین پر لوگوں سے عشروصول کرتا تھا۔ پس اللہ پاک نے اس کو مسخ کرکے ٹوٹا ہوا تارہ بنادیا۔
الکبیر للطبرانی، ابن السنی عن عمل یوم ولیلۃ عن ابی الطفیل عن علی (رض)
کلام : روایت محل کلام ہے : اللآلی 160-1 ۔
فائدہ : جاہلیت میں جو لوگ عشرہ وصول کرتے تھے اور اپنے دین سابق پر قائم تھے وہ عشرناجائز تھا ایسے عاشر کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ یا ایسا عاشر جو مسلمان ہو لیکن مسلمانوں سے زکوۃ (چالیسویں حصے) کی بجائے عشر (دسویں حصہ یعنی ٹیکس) وصول کرے اور اسی کو حلال جانے یہ بھی کفر کے زمرے میں ہے اور ایسے عاشر کو قتل کرنے کا حکم ہے اور اس کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے لیکن جو عشروصول کرنا جائز ہے وہ ذمیوں کے اموال تجارت سے عشرہ لینا ہے اور مسلمانوں کی زمینوں سے بھی بشرطیکہ آسمان کے پانی سے ان کو سیراب کیا جاتا ہو ۔ ایسا عاشرز مرۃ وعید میں داخل نہیں۔
الکبیر للطبرانی، ابن السنی عن عمل یوم ولیلۃ عن ابی الطفیل عن علی (رض)
کلام : روایت محل کلام ہے : اللآلی 160-1 ۔
فائدہ : جاہلیت میں جو لوگ عشرہ وصول کرتے تھے اور اپنے دین سابق پر قائم تھے وہ عشرناجائز تھا ایسے عاشر کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ یا ایسا عاشر جو مسلمان ہو لیکن مسلمانوں سے زکوۃ (چالیسویں حصے) کی بجائے عشر (دسویں حصہ یعنی ٹیکس) وصول کرے اور اسی کو حلال جانے یہ بھی کفر کے زمرے میں ہے اور ایسے عاشر کو قتل کرنے کا حکم ہے اور اس کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے لیکن جو عشروصول کرنا جائز ہے وہ ذمیوں کے اموال تجارت سے عشرہ لینا ہے اور مسلمانوں کی زمینوں سے بھی بشرطیکہ آسمان کے پانی سے ان کو سیراب کیا جاتا ہو ۔ ایسا عاشرز مرۃ وعید میں داخل نہیں۔
14944- "لعن الله سهيلا فإنه كان يعشرالناس في الأرض فمسخه الله شهابا". "طب وابن السني في عمل يوم وليلة عن أبي الطفيل عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14945 سہیل یمن میں عشار تھا۔عشر (دسواں حصہ) وصول کرتا تھا لوگوں پر ظلم ڈھاتا اور ان کے اموال کو غصب کرتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مسخ کرکے شہاب (بھڑکتا ہوا ٹوٹا تارہ) بنادیا جس کو تم (آسمان میں ) معلق دیکھتے ہو۔ الکبیر للطبرانی، ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ عن ابن عمر (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے الفوائد المجموعۃ 1365 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے الفوائد المجموعۃ 1365 ۔
14945- "كان سهيل عشارا باليمن يظلمهم ويغصبهم أموالهم فمسخه الله عز وجل شهابا فعلقه حيث ترونه". "طب وابن السني في عمل يوم وليلة عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14946 کوئی انسان نیک وزیر سے زیادہ اجر والا نہیں ہے جو امام کے ساتھ رہے اور اس کو اللہ کی اطاعت کا حکم دیتا رہے۔ ابن النجار عن عائشہ (رض)
14946- "ما من إنسان أعظم أجرا من وزير صالح معه إمام يأمره بذات الله فيطيعه". "ابن النجار عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14947 کوئی نبی یا حاکم ایسا نہیں جس کے دو رازدار نہ ہوں۔ ایک راز دار اس کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا تھا اور ایک راز دار اس کو کسی شر کی کمی نہیں آنے دیتا تھا۔ پس جو ایسے رازدار کی برائی سے بچ گیا وہ نجات پانے والا ہے اور دونوں رازداروں پر غالب آنے والا ہے۔
مسنداحمد ، السنن للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)
مسنداحمد ، السنن للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)
14947- "ما من نبي ولا وال إلا وله بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر، وبطانة لا تألوه خبالا، ومن وقي شرها فقد وقي وهو من التي تغلب عليه منهما". "حم ق عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14948 جس نے کسی فریق پر ظلم کے ساتھ مدد کی یا کسی ظلم پر مدد کی وہ مستقل اللہ کی ناراضگی میں رے گا حتیٰ کہ اس ظلم سے نکلے۔ ابن ماجہ والرامھر مزی فی الامثال، مستدرک الحاکم عن عمر (رض)
14948- "من أعان على خصومة بظلم أو يعين على ظلم لم يزل في سخط الله حتى ينزع". "هـ والرامهرمزي في الأمثال ك عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14949 جس نے کسی ظالم کی مدد کی کسی جھگڑے کے وقت حالانکہ وہ اس زیادتی کو جانتا ہے تو اس سے اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہے۔ الخطیب عن ابن عمر (رض)
14949- "من أعان ظالما عند خصومة ظلما وهو يعلم فقد برئت منه ذمة الله وذمة رسوله". "الخطيب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14950 جس نے کسی ظالم کی اس کے ظلم پر مدد کی وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا الیسس من رحمۃ اللہ، اللہ کی رحمت سے مایوس۔ الدیلمی عن انس (رض)
14950- "من أعان ظالما على ظلمه جاء يوم القيامة وعلى جبهته مكتوب آيس من رحمة الله". "الديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14951 جس نے کسی ظلم پر مدد کی اس کی مثال اس اوٹ کی سی ہے جو (کھائی میں) گرگیا ہو اور اس کو پونچھ کے ذریعے کھینچا جائے۔ السنن للبیہقی عن ابن مسعود (رض)
14951- "من أعان على ظلم فهو كالبعير المتردي ينزع بذنبه". "ق عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14952 جس نے اپنا نام کسی ظالم حاکم کے ساتھ نتھی کیا قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھے گا۔ المتفق والمفترق للخطیب عن مجاھد مرسلاً
کلام : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
کلام : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
14952- "من سود اسمه مع إمام جائر حشر معه يوم القيامة". "الخطيب في المتفق والمفترق عن مجاهد مرسلا وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14953 جو کسی ظالم کے ساتھ چلا پس اس نے بھی جرم کیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
انا من المجرمین منتقمون
ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ الدیلمی عن معاذ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : اسی الماطلب 1511، کشف الخفاء 2627 ۔
انا من المجرمین منتقمون
ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ الدیلمی عن معاذ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : اسی الماطلب 1511، کشف الخفاء 2627 ۔
14953- "من مشى مع ظالم فقد أجرم يقول الله {إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ} ". "الديلمي عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14954 جو کسی ظالم بادشاہ کے پاس گیا اپنی رضاء ورغبت کے ساتھ، خوشامد اور چاپلوسی کی غرض سے اور اسی کو سلام کیا وہ جہنم میں اس قدر دھنسے گا جس قدر اس نے بادشاہ کے پاس جانے کے لیے قدم اٹھائے۔ یہاں تک کہ واپس اپنے گھر لوٹ آئے اگر اس نے بادشاہ کی خواہشات کی طرف میلان کیا یا اس کے بازو کو مضبوط کیا تو جو لعنت اللہ کی طرف سے بادشاہ پر اترے گی۔ اس کے مثل خوشامد کے لیے بھی اترے گی اور بادشاہ کو دوزخ میں عذاب کی جن قسموں سے گزرنا پڑے گا اس کا چاپلوسی بھی ان عذابوں سے ضرور گزرے گا۔ الدیلمی عن ابی الدرداء (رض)
14954- "من مشى إلى سلطان جائر طوعا من ذات نفسه تملقا إليه بلقائه والتسليم عليه خاض نار جهنم بقدر خطاه إلى أن يرجع من عنده إلى منزله فإن مال إلى هواه أو أشد على عضده لم يحلل به من الله لعنة إلا كان عليه مثلها ولم يعذب في النار بنوع من العذاب إلا عذب بمثله". "الديلمي عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14955 جو کسی ظالم کے ساتھ چلاتا کہ اس کی مدد کرے حالانکہ اس کو معلوم ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔ التاریخ للبخاری ، البغوی، الباوردی، ابن شاھین، ابن قانع، ابوداؤد، الترمذی، ابونعیم ، السنن للسعید بن منصور عن اوس بن شرحبیل
امام بغوی (رح) فرماتے ہیں صحیح نام میرے خیال میں شرحبیل بن اوس ہے۔
کلام : روایت محل کلام ہے۔ السنی المطالب 1512 ۔ ضعیف الجامع 5859 ۔
امام بغوی (رح) فرماتے ہیں صحیح نام میرے خیال میں شرحبیل بن اوس ہے۔
کلام : روایت محل کلام ہے۔ السنی المطالب 1512 ۔ ضعیف الجامع 5859 ۔
14955- "من مشى مع ظالم ليعينه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام". "خ في التاريخ والبغوي والباوردي وابن شاهين وابن قانع ط ت وأبو نعيم ص عن أوس بن شرحبيل، قال البغوي والصحيح عندي شرحبيل بن أوس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14956 لوگوں میں سب سے بدترین مرتبے والا وہ ہے جو اپنی آخرت کو دوسرے کی دنیا کے بدلے خراب کردے۔ حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ (رض)
کلام : الضعیفۃ 1915 ۔ روایت ضعیف ہے۔
کلام : الضعیفۃ 1915 ۔ روایت ضعیف ہے۔
14956- "من شر الناس منزلة من أذهب آخرته بدنيا غيره". "حل عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14957 قیامت کے روز صاحب قلم (منشی) کو آگ کے تابوت میں آگ کے تالوں کے ساتھ مقفل کرکے لایا جائے گا پھر دیکھا جائے گا کہ اس کے قلم سے کیا کیا چیزیں نکلی ہیں۔ اگر اس کا قلم اللہ کی اطاعت میں چلا ہے اور اس کی رضاء مندی میں چلا ہے تو اس کا تابوت کھل جائے گا ۔ اور اگر وہ اللہ کی نافرمانی میں چلا ہے تو وہ تابوت ستر سال کی گہرائی میں جاگرے گا حتیٰ کہ قلم تراشنے والا اور دوات بنانے والا (بھی) اس سلوک سے گزرے گا اگر اس نے عمداً ظلم لکھنے کے لیے قلم ودوات بنائے ہوں گے۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے مختصر المقاصد : 220 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے مختصر المقاصد : 220 ۔
14957- "يؤتى بصاحب القلم يوم القيامة في تابوت من نار يقفل عليه بأقفال من نار فينظر قلمه فيما أجراه، فإن كان أجراه في طاعة الله ورضوانه فك عنه التابوت، وإن كان أجراه في معصية الله هوى التابوت سبعين خريفا حتى باريء القلم ولائق الدواة". "طب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14958 قیامت کے دن (ظالم) لوگوں کو کہا جائے گا اپنے کوڑے پھینک دو اور جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
کلام : روایت ضعیف موضوع ہے : تذکرۃ الموضوعات 184 ۔
کلام : روایت ضعیف موضوع ہے : تذکرۃ الموضوعات 184 ۔
14958- "يقال للرجال يوم القيامة اطرحوا سياطكم وادخلوا جهنم". "ك عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگاروں (وزیروں) کے بیان میں۔ الاکمال
14959 قیامت کے دن پولیس والے کو کہا جائے گا : اپنے کوڑا رکھ دے اور جہنم میں داخل ہوجا۔ الدیلمی عن عبدالرحمن بن سمرۃ، 892, 891 ، التعقبات
14959- "يقال للجلوازيوم القيامة ضع سوطك وادخل النار". "الديلمي عن عبد الرحمن بن سمرة".
তাহকীক: