কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৬২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14620 عدل پسند حاکم زمین پر اللہ کا سایہ اور اس کا نیزہ ہے۔ جس نے اپنے اندر اور لوگوں کے بیچ میں اس کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھا اللہ پاک اس کو اپنے سائے میں رکھے گا اور جس نے اس کو دھوکا دیا اور اللہ کے بندوں میں اس کے ساتھ دھوکا برتا اللہ پاک قیامت کے دن اس کو رسوا کردیں گے۔ ابن شاھین والا صبھانی معافی الترغیب وھو ضعیف

کلام : روایت ضعیف ہے۔
14620- "الوالي العادل ظل الله ورمحه في الأرض، فمن نصحه في نفسه وفي عباد الله أظله الله في ظله، ومن غشه في نفسه وفي عباد الله خذله الله يوم القيامة". "ابن شاهين والأصبهاني معا في الترغيب، وهو ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14621 جو حد (شرعی سزا) زمین میں (کسی مجرم پر) جاری کی جائے چالیس دن بارش برسنے سے بہتر ہے۔ ابن عساکر عن ابی ھیریرۃ
14621- "حد يقام في الأرض خير من مطر أربعين صباحا".

"كر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14622 زمین پر جو حد جاری کی جائے وہ اہل ارض کے لیے تیس یا چالیس دن بارش برسنے سے بہتر ہے۔ مسند احمد، النسائی، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے ، المشتھر 103 ۔ ضعیف النسائی 349 ۔
14622- " حد يعمل في الأرض خير لأهل الأرض من مطر ثلاثين أو أربعين صباحا". "حم ن هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14623 ایک دن کا عدل ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض)
14623- "عدل يوم أفضل من عبادة ستين سنة ". "كر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14624 عدل پرور حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے اور جو حد زمین پر برحق قائم کی جائے وہ چالیس دن کی بارش سے زیادہ زمین کے لیے بہتر ہے۔ الکبیر للطبرانی، البخاری، مسلم، اسحق عن ابن عباس (رض)
14624- "يوم من إمام عادل أفضل من عبادة ستين سنة، وحد يقام في الأرض لحقه أزكى فيها من مطر أربعين يوما". "طب ق وإسحاق عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14625 عدل پرور حاکم کو اس کی قبر میں کہا جائے گا خوشخبری ہو کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفیق ہو۔ ابونعیم عن معاذ (رض)
14625- "يقال للإمام العادل في قبره: أبشر فإنك رفيق محمد". "أبو نعيم عن معاذ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14626 بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے اور دونوں دو شہروں کے بادشاہ تھے۔ ایک رحم دل اور اپنی رعیت کے ساتھ انصاف برتنے والا تھا اور دوسرا سخت مزاج اور اپنی رعیت پر ظلم کرنے والا تھا۔ دونوں کے زمانے میں ایک پیغمبر خدا تھا۔ اللہ پاک نے اس پیغمبر پر وحی فرمائی کہ نیک خو بادشاہ کی عمر میں صرف تین سال رہ گئے ہیں اور سخت مزاج بادشاہ کی عمر کے تیس سال باقی ہیں۔ پیغمبر نے دونوں بادشاہوں کی رعایا کو خبر دی، اس عادل بادشاہ کی رعایا کو بھی رنج ہوا اور ظالم بادشاہ کی رعیت کو بھی (اس بات نے) رنجیدہ کیا کہ طویل عرصے تک ان کو اس کے ظلم سہنے ہوں گے۔

دونوں بادشاہوں کی رعایا نے (بھوک ہڑتال میں) بچوں کو ان کی ماؤں سے جدا کردیا، کھانا پینا ترک کردیا اور خدا سے دعا کرنے کے لیے صحراء میں نکل آئے اور خوب دعا کی عادل بادشاہ کی عمر میں اضافہ ہو اور ظالم بادشاہ سے ان کو نجات ملے۔ وہ تین دن تک اسی طرح دعاء میں مشغول رہے۔ تب اللہ پاک نے اس پیغمبر پر ورحی نازل فرمائی :

میرے بندوں کو خبر دیدو کہ میں نے ان پر رحم کردیا اور ان کی دعا قبول کرلی۔ میں نیک بادشاہ کی عمر ظالم کو دیدی اور ظالم بادشاہ کی عمر نیک کو لگا دی ہے۔

تب ساری رعایا اپنے گھروں کو (خوش وخرم) واپس ہوئی۔ ظالم بادشاہ تین سال پورے کرکے مرگیا اور نیک خو بادشاہ اپنی رعیت کے درمیان تیس سال تک زندہ رہا۔

پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الافی کتاب ان ذلک علی اللہ یسیر

کسی کی عمر بڑھائی نہیں جاتی اور نہ کسی کی عمر میں کمی کی جاتی مگر وہ کتاب میں لکھا ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے۔

الوالحسن بن معرف والخطیب وابن عساکر عن عبدالصمد بن علی بن عبداللہ بن عباس عن ابیہ عن جدہ

کلام : عبدالصمد بن علی بن عبداللہ بن العباس الہاشمی ایک حاکم تھا، جو قابل حجت راوی نہیں ہے۔ شاید اہل نقدوجر جرج نے اس کے مرتبہ کی رعایت کرتے ہوئے اس کے متعلق سکوت کیا ہے۔ میزان الاعتدال 620-2 ۔
14626- "كان في بني إسرائيل ملكان أخوان على مدينتين، وكان أحدهما بارا برحمه عادلا في رعيته، وكان الآخر عاقا برحمه جائرا في رعيته وكان في عصرهما نبي فأوحى الله إلى ذلك النبي أنه قد بقي من عمر هذا البار ثلاث سنين، وبقي من عمر هذا العاق ثلاثون سنة، فأخبر ذلك النبي رعية هذا ورعية هذا، فأحزن ذلك رعية العادل، وأحزن ذلك رعية الجائر، ففرقوا بين الأطفال والأمهات وتركوا الطعام والشراب وخرجوا إلى الصحراء يدعون الله عز وجل أن يمتعهم بالعادل، ويزيل عنهم أمر

الجائر، فأقاموا ثلاثا فأوحى الله إلى ذلك النبي؛ أن أخبر عبادي أني قد رحمتهم وأجبت دعاءهم فجعلت ما بقي من عمر هذا البار لذلك الجائر، وما بقي من عمر ذلك الجائر لهذا البار، فرجعوا إلى بيوتهم، ومات العاق لتمام ثلاث سنين، وبقي العادل فيهم ثلاثين سنة، ثم تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ} " "أبو الحسن بن معرف والخطيب وابن عساكر عن عبد الصمد بن علي بن عبد الله بن عباس عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14627 اللہ عزوجل کسی کو خلیفہ منتخب نہیں کرتا جب تک کہ اس کی پیشانی پر ہاتھ نہ پھیر دے۔

ابن النجار، الدیلمی عن سلیمان بن معقل بن عبداللہ بن کعب بن مالک عن ابیہ عن جدہ عن کعب بن مالک

کلام : روایت موضوع ہے۔ ترتیب الموضوعات 888، اللآلی 154-1 ۔
14627- "ما استخلف الله عز وجل خليفة حتى يمسح ناصيته بيمينه". "ابن النجار والديلمي عن سليمان بن معقل بن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه عن جده عن كعب بن مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14628 کوئی مسلمان مسلمانوں کے کسی معاملے کا سربراہ نہیں بنتا مگر اللہ پاک اس پر دو فرشتے مقرر فرماتا ہے جو اس کی درست راہ کی طرف رہنمائی کرتے رہتے ہیں، جب تک کہ وہ حق کی نیت رکھے ۔ اور جب وہ جان بوجھ کر ظلم کی نیت کرتا ہے تو وہ فرشتے اس کو اس کے سپرد کردیتے ہیں۔

الکبیر للطبرانی عن واثلۃ
14628- "ما من مسلم ولي من أمر المسلمين شيئا إلا بعث الله إليه ملكين يسددانه ما نوى الحق فإذا نوى الجور على عمد وكلاه إلى نفسه". "طب عن واثلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14629 اللہ پاک جس کو مسلمانوں کے کسی معاملے میں والی بناتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو ایک سچا وزیر دیتے ہیں، اگر وہ بھول کا شکار ہوتا ہے تو اس کا وزیر اس کو نصیحت کرتا ہے اور جب وہ درست فیصلہ کرتا ہے تو اس کی مدد کرتا ہے۔ مسند احمد عن عائشہ (رض)
4629- "من ولاه الله من أمر المسلمين شيئا فأراد به خيرا جعل له وزير صدق، فإن نسي ذكره، وإن ذكر أعانه". "حم عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14630 تم میں سے جو شخص کسی کام پر والی مقرر ہوتا ہے اور اللہ اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو نیک وزیر عطا کرتا ہے اگر بادشاہ بھول کا شکار ہوتا ہے تو اس کا وزیر اس کو یاد دلاتا ہے اور اگر درست راہ پر گامزن رہتا ہے تو اس کا وزیر اس کی مدد کرتا ہے۔

النسائی، البخاری، مسلم عن عائشہ (رض)
14630- "من ولي منكم عملا فأراد به خيرا جعل له وزيرا صالحا إن نسي ذكره، وإن ذكر أعانه". "ن ق عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت کے بیان میں۔۔۔ الاکمال
14631 مسلمانوں کے امور کا والی (حاکم) مقرر ہوا اور اس کا باطن اور اندرونی معاملہ اچھا ہو تو لوگوں کے دلوں میں اس کی ہیبت پڑتی ہے اور جب وہ نیکی کے ساتھ اپنے ہاتھ ان کے لیے کھولتا ہے تو اس کی حجت ان کے دلوں میں جاگزیں ہوتی ہے۔

جب بادشاہ رعایا کے اموال کو رعایا پر خرچ کرتا ہے تو اللہ پاک بادشاہ کو بھی اس کے مال میں وسعت اور فراخی عطا کرتا ہے، جب بادشاہ کمزور کو ظالم سے حق دلاتا ہے تو اللہ پاک اس کی بادشاہت کو مضبوط کرتا ہے اور جب بادشاہ ان کے درمیان عدل کا برتاؤ کرتا ہے تو اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ الحکیم والدیلمی وابن النجار عن ابن عباس (رض)
14631- "من ولي من أمور المسلمين شيئا فحسنت سريرته رزق الهيبة من قلوبهم، وإذا بسط يده لهم بالمعروف رزق المحبة منهم، وإذا وفر عليهم أموالهم وفر الله عليه ماله، وإذا أنصف الضعيف من القوي قوى الله سلطانه، وإذا عدل فيهم مد في عمره". "الحكيم والديلمي وابن النجار عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14632 اپنے بعد مجھے اپنی امت پر تین باتوں کا خوف ہے : حاکموں کا ظلم وستم، ستارہ شناسی پر ایمان رکھنا اور تقدیر کا انکار کرنا۔ ابن عساکر عن ابی محجن
14632- "أخاف على أمتي من بعدي ثلاثا: حيف الأئمة وإيمانا بالنجوم، وتكذيبا بالقدر". "ابن عساكر عن أبي محجن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14633 سلطان جب بھڑکتا ہے تو شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے۔

مسند احمد، الکبیر للطبرانی عن عطیۃ السعدی

کلام : روایت ضعیفہ ہے ، ضعیف الجامع 356، الضعیفۃ 2318, 581 ۔
14633- "إذا استشاط السلطان تسلط الشيطان". "حم طب عن عطية السعدي"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14634 لوگوں میں سب سے سخت عذاب والا ظالم حاکم ہوگا۔

مسند ابی یعلی، الاوسط للطبرانی، حلیۃ الاولیاء عن ابی سعید (رض)
14634- "أشد الناس عذابا إمام جائر". "ع طس حل عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14635 اے قدیم : اگر تو مرگیا اس حال میں کہ کہیں کا حکم نہ تھا اور نہ منشی اور کاہن (حال بتانے والا) تو تو کامیاب ہوگیا۔ ابوداؤد عن المقدام بن معدی کرب

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف ابی داؤد 628، ضعیف الجامع 1055 ۔
14635- "أفلحت يا قديم إن مت ولم تكن أميرا، ولا كاتبا ولا عريفا" 4. "د عن المقدام بن معد يكرب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14636 اللہ تعالیٰ ہر راعی سے سوال کرے گا ان کے بارے میں جو اس کے ماتحت ہوں گے کہ ان کی حفاظت کی ہے یا ان کو ضائع کردیا ہے ؟ حتیٰ کہ آدمی سے اس کے گھر والوں کے بارے میں بھی سوال کرے گا۔ النسائی، ابن حبان عن انس (رض)

کلام : روایت محل کلام ہے سنداً : دیکھئے : ذخیرۃ الفاظ 4268، المعلۃ 23 ۔ جبکہ متنا یعنی حدیث کا مضمون صحیح اور درست ہے اور دوسری صحیح روایات سے موید ہے۔
14636- "إن الله تعالى سائل كل راع عما استرعاه أحفظ ذلك أم ضيعه حتى يسأل الرجل عن أهل بيته". "ن حب عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14637 اللہ تعالیٰ ہر راعی سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کرے گا خواہ وہ رعیت چند نفوس پر مشتمل ہو یا کثیر افراد اس میں شامل ہوں حتیٰ کہ اللہ پاک شوہر سے اس کی بیوی کے بارے میں والد سے اس کی اولاد کے بارے میں اور مالک سے اس کے خادم کے بارے میں بھی باز پرس فرمائے گا کہ کیا ان میں اللہ کے حکم کو نافذ کیا ہے یا نہیں ؟ ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض)
14637- "إن الله سائل كل راع عما استرعاه رعية قلت أو كثرت، حتى يسأل الزوج على زوجته والوالد عن ولده والرب عن خادمه هل أقام فيهم أمر الله". "ابن عساكر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14638 حاکموں کو قیامت کے دن لایا جائے گا وہ جہنم کے پل پر کھڑے ہوں گے۔ پس جو اللہ کی اطاعت گزار ہوگا اللہ پاک اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ جہنم سے نجات دلادے گا اور جو اللہ کا نافرماں ہوگا پل اس کے نیچے سے شق ہوگا اور وہ نافرماں جہنم کے بھڑکتے شعلوں کی وادی میں جاگرے گا۔ ابن ابی شیبہ ، الباوردی وابن مندہ عن بشربن عاصم
14638- "إن الولاة يجاء بهم يوم القيامة فيقومون على جسر جهنم، فمن كان مطواعا لله يناوله الله بيمينه حتى ينجيه، ومن كان عاصيا لله انخرق به الجسر إلى واد من نار يلتهب التهابا". "ش والبارودي وابن منده عن بشر بن عاصم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔امارت سے متعلق وعید کے بیان میں
14639: اگر تو لوگوں کے عیوب کے پیچھے پڑے گا تو ان کو برباد کردے گا یا بربادی کے دھانے پر پہنچا دے گا۔ ابو داؤد عن معاویۃ (رض) ۔
14639- " إنك إن اتبعت عورات الناس أفسدتهم، أو كدت تفسدهم". "د عن معاوية".
tahqiq

তাহকীক: