সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
طلاق اور لعان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৫ টি
হাদীস নং: ৩৯০৪
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3904 ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس (رض) کا یہ بیان نقل فرماتی ہیں ، وہ خاتون ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انھوں نے اسے تیسری طلاق بھی دیدی، وہ خاتون نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا ، کیا وہ اپنے گھر سے باہر نکل سکتی ہے (یعنی کسی دوسری جگہ منتقل ہوسکتی ہیں) تو نبی نے اسے یہ ہدایت کی وہ ابن ام مکتوم کے ہاں منقتل ہوجائے۔
مروان نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مطلقہ عورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے ، اس نے سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بیان کو معتبر تسلیم نہیں کیا۔
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ نے بھی فاطمہ بنت قیس کے بیان کو تسلیم نہیں کیا۔ سیدہ عائشہ (رض) مطلقہ عورت کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھر سے نکلے جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہوجاتی۔
مروان نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مطلقہ عورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے ، اس نے سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بیان کو معتبر تسلیم نہیں کیا۔
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ نے بھی فاطمہ بنت قیس کے بیان کو تسلیم نہیں کیا۔ سیدہ عائشہ (رض) مطلقہ عورت کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھر سے نکلے جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہوجاتی۔
3904 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَحَدَّثَنِى ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِى عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَفْتَتْهُ فِى خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَأَبَى مَرْوَانُ إِلاَّ أَنْ يَتَّهِمَ فَاطِمَةَ فِى خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ وَأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَنْهَى الْمُطَلَّقَةَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا حَتَّى تَنْقَضِىَ عِدَّتُهَا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৫
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3905 ۔ اوزاعی بیان کرتے ہیں : میں نے زہری سے دریافت کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کون سی زوجہ محترمہ نے آپ سے پناہ مانگی تھی ؟ تو انھوں نے جواب دیا، عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ اس خاتون کا نام بنت جون کلابیہ تھا، جب نے اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے قریب ہوئے تو وہ بولی میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تو نبی کریم نے فرمایا تم نے ایک عظیم (ذات کی) پناہ لیے ہے تم اپنے گھروالوں کے پاس چلی جاؤ۔
3905 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ قَالَ وَسَأَلْتُهُ أَىُّ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَقَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ الْكِلاَبِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَدَنَا مِنْهَا فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِى بِأَهْلِكِ »
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৬
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3906 ۔ سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : عائشہ خثعمیہ نامی ایک خاتون حضرت امام حس بن علی (رض) کی اہلیہ تھی، جب حضرت علی (رض) کو شہید کردیا گیا تو اور حضرت امام حسن (رض) کے ہاتھ پر بیعت کرلی گئی تو اس خاتون نے کہا : امیرالمومنین آپ کو خلافت مبارک ہو تو امام حسن (رض) نے فرمایا، حضرت علی (رض) کو شہید کردیا گیا ہے اور تم مبارک باد دے رہی ہو، جاؤ تمہیں تین طلاقیں ہیں۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہوگئی تو حضرت امام حسن (رض) نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بجھوائے تو وہ عورت بولی : جدا ہوجانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔ جب حضرت امام حسن (رض) کو اس بارے میں بتایا گیا تو وہ رو پڑے اور فرمایا : اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہ ہوئے نہ سنا ہوتا، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے والد (حضرت علی (رض)) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے انھوں نے میرے نانا (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دیدیں تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ دوسری شادی کرکے مطلقہ یابیوہ نہ ہوجائے۔
(امام حسن فرماتے ہیں : ) تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہوگئی تو حضرت امام حسن (رض) نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بجھوائے تو وہ عورت بولی : جدا ہوجانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔ جب حضرت امام حسن (رض) کو اس بارے میں بتایا گیا تو وہ رو پڑے اور فرمایا : اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہ ہوئے نہ سنا ہوتا، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے والد (حضرت علی (رض)) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے انھوں نے میرے نانا (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دیدیں تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ دوسری شادی کرکے مطلقہ یابیوہ نہ ہوجائے۔
(امام حسن فرماتے ہیں : ) تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔
3906 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ صَاحِبُ الطَّعَامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِى قَيْسٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِىٌّ وَبُويِعَ الْحَسَنُ بِالْخِلاَفَةِ قَالَتْ لِيَهْنِكَ الْخِلاَفَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ يُقْتَلُ عَلِىٌّ وَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِى فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاَثًا. قَالَ فَتَلَفَّعَتْ بِسَاجِهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشَرَةِ آلاَفٍ مُتْعَةً وَبَقِيَّةٍ بَقِىَ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا فَقَالَتْ مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّى سَمِعْتُ جَدِّى أَوْ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّى يَقُولُ « أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا مُبْهَمَةً أَوْ ثَلاَثًا عِنْدَ الأَقْرَاءِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ». لَرَاجَعْتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3907 ۔ سوید بن غلفہ بیان کرتے ہیں جب حضرت علی (رض) کا انتقال ہوگیا، تو عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ جو حضرت امام حسن (رض) کی اہلیہ تھی ، انھوں نے حضرت امام حسن (رض) سے کہا آپ کو امیرالمومنین بننا مبارک ہو، تو حضرت امام حسن (رض) سے ان سے فرمایا : تم امیرالمومنین (یعنی حضرت علی (رض)) کی شہادت پر مجھے مبارک باد دے رہی ہو چلی جاؤ تمہیں طلاق ہے۔ اس عورت نے (روتے ہوئے) اپنا کپڑا منہ پر رکھا اور بولی اے اللہ میرا مقصد تو صرف بھلائی تھا (یعنی میرا یہ ارادہ نہیں تھا) ۔
بعد میں حضرت امام حسن نے متاع کے طور پر اس خاتون کو دس ہزار درہم یا دینار اور مہر کا بقیہ حصہ بھجوایا، جب یہ چیزیں اس کے سامنے رکھی گئیں تو وہ روپڑی اور بولی جدا ہوجانے والے محبوب کے مقابلے میں یہ سب کچھ بہت تھوڑا سا ہے۔ جب قاصد نے حضرت امام حسن کو اس بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا : اگر میں نے طلاق کو اس عورت کے لیے ثابت نہ کیا ہوتا تو اس سے رجوع کرلیتا۔ لیکن میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے یوں کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینے میں ایک طلاق دے یاتین طلاقیں ایک ساتھ دیدے تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی، جب تک دوسرے شخص سے شادی کرکے (مطلقہ یابیوہ) نہ ہوجائے۔
بعد میں حضرت امام حسن نے متاع کے طور پر اس خاتون کو دس ہزار درہم یا دینار اور مہر کا بقیہ حصہ بھجوایا، جب یہ چیزیں اس کے سامنے رکھی گئیں تو وہ روپڑی اور بولی جدا ہوجانے والے محبوب کے مقابلے میں یہ سب کچھ بہت تھوڑا سا ہے۔ جب قاصد نے حضرت امام حسن کو اس بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا : اگر میں نے طلاق کو اس عورت کے لیے ثابت نہ کیا ہوتا تو اس سے رجوع کرلیتا۔ لیکن میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے یوں کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینے میں ایک طلاق دے یاتین طلاقیں ایک ساتھ دیدے تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی، جب تک دوسرے شخص سے شادی کرکے (مطلقہ یابیوہ) نہ ہوجائے۔
3907 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِىُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَمِرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَلِىٌّ رضى الله عنه جَاءَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ امْرَأَةُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ فَقَالَتْ لَهُ لِيَهْنِكَ الإِمَارَةُ . فَقَالَ لَهَا تُهَنِّينِى بِمَوْتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ انْطَلِقِى فَأَنْتِ طَالِقٌ فَتَقَنَّعَتْ بِثَوْبِهَا وَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنِّى لَمْ أُرِدْ إِلاَّ خَيْرًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِمُتْعَةٍ عَشْرَةِ آلاَفٍ وَبَقِيَّةِ صَدَاقِهَا فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا بَكَتْ وَقَالَتْ مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ فَأَخْبَرَهُ الرَّسُولُ فَبَكَى وَقَالَ لَوْلاَ أَنِّى أَثْبَتُّ الطَّلاَقَ لَهَا لَرَاجَعْتُهَا وَلَكِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً أَوْ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ شَهْرٍ تَطْلِيقَةً أَوْ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا جَمِيعًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3908 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : انھوں نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دیدی ، خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی ، پھر انھوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس خاتون کو بقیہ دوطلاقیں آگے آگے آنے والے طہروں کے دوران دیں ، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں پتہ چلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن عمر ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح (طلاق دینے کا) حکم تو نہیں دیا، تم نے سنت کی خلافت ورزی کی ہے ، سنت یہ ہے کہ تم پہلے اسے طہر آلینے دو پھر ہر طہر میں طلاق دے دینا۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ہدایت کی تو میں نے اس خاتون سے رجوع کرلیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ، جب یہ پاک ہوجائے اس وقت تم اسے طلاق دینا یا اپنے ساتھ رکھنا، (یعنی طلاق نہ دینا) میں نے عرض کی یارسول اللہ ، آپ کا کیا فرمانا ہے ، اگر میں اسے تین طلاقیں دیدوں تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہوگی، کہ میں اس سے رجوع کرلوں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں (ایسی صورت میں ) وہ تم سے بائنہ ہوجائے گی اور (طلاق دینے کا یہ طریقہ) گناہ ہوگا۔
3908 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ أَنَّ عَطَاءً الَخُرَاسَانِىَّ حَدَّثَهُمْ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِىَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقَرْءَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قَرْءٍ ». قَالَ فَأَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ « إِذَا هِىَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ ». فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّى طَلَّقْتُهَا ثَلاَثًا أَكَانَ يَحِلُّ لِى أَنْ أُرَاجِعَهَا قَالَ « لاَ كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3909 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو وہ عورت اس سے بائنہ ہوجاتی ہے اور وہ شخص اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے اور اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہوتی ہے۔
3909 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ وَعَصَى رَبَّهُ تَعَالَى وَخَالَفَ السُّنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3910 ۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : بریہ، بتہ، بائن، اور حرام، کے ذریعے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور وہ عورت مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسری شادی کرکے (مطلقہ یابیوہ نہیں ہوجاتی) ۔
3910 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ الْخَلِيَّةُ وَالْبَرِّيَّةُ وَالْبَتَّةُ وَالْبَائِنُ وَالْحَرَامُ ثَلاَثٌ لاَ تَحِلُّ لَهُمْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১১
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3911 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :'' جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک وہ دوسری شادی نہیں کرلیتی، اور ان دونوں (میاں بیوی) میں سے ہر ایک دوسرے فریق کا شہد نہیں چکھ لیتا۔
3911 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِى السَّفَرِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَيَذُوقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُسَيْلَةَ صَاحِبِهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১২
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3912 ۔ نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں : حضرت رکانہ بن عبدیزید (رض) نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتہ دی پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ میں نے اپنی بیوی، سہیمہ ، کو طلاق بتہ دیدی ہے اللہ کی قسم میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت رکانہ (رض) سے دریافت کیا :
اللہ کی قسم ! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی ؟ حضرت رکانہ (رض) نے عرض کی : اللہ کی قسم، میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خاتون کو واپس بجھوادیا تھا۔
حضرت رکانہ (رض) نے اس خاتون کو دوسری طلاق حضرت عمر (رض) کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق حضرت عثمان (رض) کے عہد خلافت میں دی تھی۔
اللہ کی قسم ! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی ؟ حضرت رکانہ (رض) نے عرض کی : اللہ کی قسم، میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خاتون کو واپس بجھوادیا تھا۔
حضرت رکانہ (رض) نے اس خاتون کو دوسری طلاق حضرت عمر (رض) کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق حضرت عثمان (رض) کے عہد خلافت میں دی تھی۔
3912 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِىُّ أَخْبَرَنَا عَمِّى مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ السَّائِبِ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى طَلَّقْتُ امْرَأَتِى سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِرُكَانَةَ « وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ». فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً . فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِى زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِى زَمَانِ عُثْمَانَ رضى الله عنهما.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৩
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3913 ۔ نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں : حضرت رکانہ بن یزید نے اپنی بیوی ، سہیمہ ، کو طلاق بتہ دیدی اہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا انھوں نے عرض کی یارسول اللہ میں نے اپنی بیوی ، سہیمہ کو طلاق بتہ دیدی ہے اللہ کی قسم میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت رکانہ (رض) سے دریافت کیا :
اللہ کی قسم ! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی ؟ حضرت رکانہ (رض) نے عرض کی اللہ کی قسم میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی ، تو نبی نے اس خاتون کو واپس بھجوادیا تھا۔
حضرت رکانہ (رض) نے اس خاتون کو دوسری طلاق حضرت عمر اور تیسری طلاق حضرت عثمان (رض) کے عہد خلافت میں دی تھی۔
امام داؤد کہتے ہیں ، یہ حدیث صحیح ہے۔
اللہ کی قسم ! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی ؟ حضرت رکانہ (رض) نے عرض کی اللہ کی قسم میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی ، تو نبی نے اس خاتون کو واپس بھجوادیا تھا۔
حضرت رکانہ (رض) نے اس خاتون کو دوسری طلاق حضرت عمر اور تیسری طلاق حضرت عثمان (رض) کے عہد خلافت میں دی تھی۔
امام داؤد کہتے ہیں ، یہ حدیث صحیح ہے۔
3913 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَأَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِىُّ فِى آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنِى عَمِّى مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ السَّائِبِ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بِذَلِكَ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « آللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ». فَقَالَ رُكَانَةُ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِى زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَالثَّالِثَةَ فِى زَمَانِ عُثْمَانَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৪
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3914 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
3914 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِى عَمِّى مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ عَنِ ابْنِ السَّائِبِ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ عَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৫
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3915 ۔ عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں اپنی بیوی کو طلاق بتہ دیدی۔ نبی کریم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لیا تھا ؟ انھوں نے عرض کی : ایک (طلاق) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : کیا اللہ تعالیٰ کی قسم : انھوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہاری مراد کے مطابق (واقع شمار ) ہوگی۔
اس روایت میں ابونصر نامی راوی نے لفظ، ابن یزید بن رکانہ، نقل نہیں کیا۔ ابن مبارک نے زبیر بن سعید کے حوالے سے یہ روایت ، مرسل، طور پر نقل کی ہے۔
اس روایت میں ابونصر نامی راوی نے لفظ، ابن یزید بن رکانہ، نقل نہیں کیا۔ ابن مبارک نے زبیر بن سعید کے حوالے سے یہ روایت ، مرسل، طور پر نقل کی ہے۔
3915 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ح وَقُرِئَ عَلِى أَبِى الْقَاسِمِ أَيْضًا وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَشَيْبَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِىِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْبَتَّةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا أَرَدْتَ بِهَا ». قَالَ وَاحِدَةً . فَقَالَ « آللَّهِ ». قَالَ فَقَالَ آللَّهِ. فَقَالَ « هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ ». غَيْرَ أَنَّ أَبَا نَصْرٍ لَمْ يَقُلِ ابْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৬
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3916 ۔ عبداللہ بن علی بیان کرتے ہیں : میرے دادا حضرت رکانہ بن عبد یزید (رض) نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتہ دیدی، وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دیدی ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : (ان الفاظ کے ذریعے) تم نے کیا مراد لیا تھا ؟ انھوں نے عرض کی : میں نے ایک طلاق مراد لی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : کیا ا للہ کی قسم ! انھوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نبی کریم نے فرمایا : پھر یہ ایک (طلاق شمار) ہوگی۔
اسحاق بن اسرائیل نے اس کے برخلاف روایت نقل کی ہے۔ (جودرج ذیل ہے) ۔
اسحاق بن اسرائیل نے اس کے برخلاف روایت نقل کی ہے۔ (جودرج ذیل ہے) ۔
3916 - أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ. حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِىِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ قَالَ كَانَ جَدِّى رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى طَلَّقْتُ امْرَأَتِى الْبَتَّةَ فَقَالَ « مَا أَرَدْتَ ». قَالَ وَاحِدَةً . قَالَ « آللَّهِ ». قَالَ آللَّهِ. قَالَ « فَهِىَ وَاحِدَةٌ ». خَالَفَهُ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৭
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3917 ۔ عبداللہ بن علی اپنے دادا حضرت رکانہ بن عبد یزید (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : انھوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتہ دیدی، پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! تم نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی ؟ انھوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ، میں نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر وہ ایک طلاق شمار ہوگی۔
3917 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنِى الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ السَّائِبِ عَنْ جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ « مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ ». قَالَ وَاحِدَةً قَالَ « آللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ وَاحِدَةً ». قَالَ آللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلاَّ وَاحِدَةً. قَالَ فَهِىَ وَاحِدَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৮
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3918 ۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اے معاذاللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو اس کے نزدیک غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تو جب کوئی شخص اپنے مملوک سے یہ کہے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم آزاد ہو تو وہ غلام آزاد شمار ہوگا، اور قائل کو استثناء کا حق حاصل نہیں ہوگا، اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے اگر اللہ نے چاہا تو تمہیں طلاق ہے ، تو اس شخص کو استثناء کا حق حاصل ہوگا اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔
3918 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِىِّ بْنِ الدُّولاَبِىِّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِىِّ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعِتَاقِ وَلاَ خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاَقِ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ حُرٌّ وَلاَ اسْتِثْنَاءَ لَهُ وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ وَلاَ طَلاَقَ عَلَيْهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১৯
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3919 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ۔
حمید بیان کرتے ہیں ، یزید بن ہارون نے مجھ سے کہا : یہ کتنی عمدہ حدیث ہوتی اگر اس کے راوی حمید بن مالک لخمی معروف ہوتے تو میں نے کہا : وہ میرے دادا ہیں ، تویزید نے کہا تم نے مجھے خوش کردیا ہے ، تم نے مجھے خوش کردیا ہے۔ اب یہ حدیث (مستند ) ہوگئی ہے۔
حمید بیان کرتے ہیں ، یزید بن ہارون نے مجھ سے کہا : یہ کتنی عمدہ حدیث ہوتی اگر اس کے راوی حمید بن مالک لخمی معروف ہوتے تو میں نے کہا : وہ میرے دادا ہیں ، تویزید نے کہا تم نے مجھے خوش کردیا ہے ، تم نے مجھے خوش کردیا ہے۔ اب یہ حدیث (مستند ) ہوگئی ہے۔
3919 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. قَالَ حُمَيْدٌ قَالَ لِى يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَىُّ حَدِيثٍ لَوْ كَانَ حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ اللَّخْمِىُّ مَعْرُوفًا. قُلْتُ هُوَ جَدِّى. قَالَ يَزِيدُ سَرَرْتَنِى سَرَرْتَنِى الآنَ صَارَ حَدِيثًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২০
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3920 ۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) روایت کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایسی کسی چیز کو حلال قرار نہیں دیا، جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہوتوجوشخص طلاق دیتے ہوئے استثناء کرلے، اسے استثناء کا حق حاصل ہوگا۔
3920 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سِنِينَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِىُّ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاَقِ فَمَنْ طَلَّقَ وَاسْتَثْنَى فَلَهُ ثُنْيَاهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২১
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3921 ۔ حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) بیان کرتے ہیں : میرے چچا نے مجھ سے کہا : تم میرے لیے کام کاج کرو تاکہ میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کردوں میں نے کہا، اگر آپ میری شادی اس کے ساتھ کی تو اسے تین طلاقیں ہیں۔ پھر بعد میں مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اس خاتون کے ساتھ شادی کرلوں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ سے (اس بارے میں) دریافت کیا : تو آپ نے مجھے فرمایا، تم اس عورت کے ساتھ شادی کرلو۔ کیونکہ طلاق، نکاح کے بعد ہی دی جاسکتی ہے۔ تو میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کرلی۔ تو میرے ہاں سعد اور سعید پیدا ہوئے۔
3921 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ قَرِينٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِى ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِىِّ قَالَ قَالَ لِى عَمٌّ لِى اعْمَلْ لِى عَمَلاً حَتَّى أُزَوِّجَكَ ابْنَتِى. فَقُلْتُ إِنْ تُزَوِّجْنِيهَا فَهِىَ طَالِقٌ ثَلاَثًا ثُمَّ بَدَا لِى أَنْ أَتَزَوَّجَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِى « تَزَوَّجْهَا فَإِنَّهُ لاَ طَلاَقَ إِلاَّ بَعْدَ نِكَاحٍ ». فَتَزَوَّجْتُهَا فَوَلَدَتْ لِى سَعْدًا وَسَعِيدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২২
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3922 ۔ محمد بن عبید بیان کرتے ہیں : عدی بن عدی کندی نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے ان روایات کے بارے میں دریافت کروں، جو وہ خاتون سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے حوالے سے نقل کرتی ہے، تو اس خاتون نے بتایا، سیدہ عائشہ صدیقہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
'' زبردستی (کے ذریعے) عتاق (غلام آزاد کرنا) یہ طلاق واقع نہیں ہوتے۔
'' زبردستی (کے ذریعے) عتاق (غلام آزاد کرنا) یہ طلاق واقع نہیں ہوتے۔
3922 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ وَآخَرُونَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ بَعَثَنِى عَدِىُّ بْنُ عَدِىٍّ الْكِنْدِىُّ إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ كَانَتْ تَرْوِيهَا عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ حَدَّثَتْنِى عَائِشَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ عِتَاقَ وَلاَ طَلاَقَ فِى إِغْلاَقٍ » .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৩
طلاق اور لعان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
3923 ۔ سیدہ عائشہ صڈیقہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :
'' زبردستی (کے ذریعے) عتاق (غلام آزاد کرنا) یہ طلاق واقع نہیں ہوتے۔ ''
'' زبردستی (کے ذریعے) عتاق (غلام آزاد کرنا) یہ طلاق واقع نہیں ہوتے۔ ''
3923- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجَوْزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ مَرْدَوَيْهِ حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ جَمِيعًا عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ طَلاَقَ وَلاَ عِتَاقَ فِى إِغْلاَقٍ »
তাহকীক: