সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০ টি
হাদীস নং: ২৫১৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2519 ۔ معاویہ بن قرہ ایک انصاری بزرگ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص حالت احرام میں اپنی سواری پر جارہا تھا، وہ شتر مرغ کے گھونسلے کے پاس پہنچا اس نے وہاں سے انڈا لیا جو اس کے ہاتھ سے گرگیا، تو حضرت علی بن ابوطالب (رض) نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ بنات مخاض خریدے گا، انھیں جفتی کے لیے دے گا پھر وہ جن بچوں کو جنم دیں گی وہ شخص ان بچوں کو بیت اللہ کے لیے ہدیہ کردے گا، اور اگر ان اونٹنیوں نے کسی بچے کو جنم نہ دیا تو بھی اس شخص کا کفارہ ادا ہوجائے گا، چونکہ بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نکل آتا ہے اور بعض کسی انڈے سے بچہ نہیں نکلتا۔ راوی بیان کرتے ہیں وہ شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، حضرت علی بن ابوطالب (رض) نے اسے فتوی دیا ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا علی نے تو جو کہنا تھا سو کہہ دیا، کیا تم کچھ رخصت حاصل کرنا چاہتے ہو اس نے عرض کی جی ہاں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ہر ایک انڈے کے عوض میں ایک مسکین کو کھانا کھلانا یا ایک دن کا روزہ رکھنا (کفارہ ) ہوگا۔
2519 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطِّينِىُّ حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً كَانَ مُحْرِمًا عَلَى رَاحِلَتِهِ فَأَتَى عَلَى أُدْحِىِّ نَعَامَةٍ فَأَصَابَ مِنْ بَيْضِهَا فَسُقِطَ فِى يَدَيْهِ فَأَفْتَاهُ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنْ يَشْتَرِىَ بَنَاتِ مَخَاضٍ فَيَضْرِبُهُنَّ فَمَا أَنْتَجَ مِنْهُنَّ أَهْدَاهُ إِلَى الْبَيْتِ وَمَا لَمْ يُنْتِجْ مِنْهُنَّ أَجْزَأَ عَنْهُ لأَنَّ الْبَيْضَ مِنْهُ مَا يَصْلُحُ وَمِنْهُ مَا يَفْسُدُ. قَالَ فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ بِمَا أَفْتَاهُ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ قَالَ عَلِىٌّ مَا قَالَ فَهَلْ لَكَ فِى الرُّخْصَةِ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « فَإِنَّ فِى كُلِّ بَيْضَةِ نَعَامٍ إِطْعَامَ مِسْكِينٍ أَوْ صَوْمَ يَوْمٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2520 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
2520 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدَائِنِىُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2521 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ایک انصاری صحابی سے منقول ہے۔
2521 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2522 عبدالرحمن بن ابولیلیٰ ‘ حضرت علی (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلادے دیا ‘ وہ شخص حالت احرام میں تھا ‘ وہ حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس کی بات کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا ایک انڈے کے عوض میں تمہیں ایک اونٹنی کو (جفتی کے لیے دینا ہوگا) یا ایک اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچہ دینا ہوگا ‘ وہ شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا علی نے تو اس بارے میں جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے لیکن تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے ؟ ہر ایک بارے کے عوض تم پر ایک دن کا روزہ رکھنا لازم ہوگا یا ایک دن کا کھانا کھلانا ہوگا۔
2522 - وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِىَّ نَعَامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَتَى عَلِيًّا فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عَلَيْكَ فِى كُلِّ بَيْضَةٍ ضَرِيبُ نَاقَةٍ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ « قَدْ قَالَ عَلِىٌّ فِيهَا مَا قَالَ وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِى كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2523 معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شتر مرغ کا گھونسلاتوڑدیا ‘ اس نے حضرت علی (رض) سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا ہر ایک انڈے کے عوض میں تمہیں ایک اونٹنی کو جفتی کے لیے دینا ہوگا یا اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچے کی ادائیگی کرنا ہوگی ‘ وہ شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا جو حضرت علی (رض) نے اس سے کہا ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس نے جو کہا وہ تم نے سن لیا ‘ تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے ؟ ایک انڈے کے عوض میں تمہیں ایک دن کا روزہ رکھنا ہوگا اور ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہوگا۔
2523 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ بْنُ الْمَحَامِلِىِّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَنَّ رَجُلاً أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِىَّ نَعَامٍ فَسَأَلَ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ عَلِىٌّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ. فَقَالَ « قَدْ قَالَ مَا سَمِعْتَ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2524 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے شترمرغ کے ایک انڈے کے عوض میں (کفارے میں) ایک دن روزہ رکھنا ہوگا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہوگا۔
2524 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِى عِمْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ. وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فِى بَيْضَةِ نَعَامٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2525 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2525 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2526 حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انڈے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا ‘ جسے کسی آدمی نے حالت احرام میں توڑدیا تھا (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ یہ تھا ) ایک انڈے کے عوض میں ایک روزہ رکھنا ہوگا۔
ابوخالد نامی راوی بیان کرتے ہیں اگر حالت احرام والاشخص شترمرغ کے انڈے کو توڑدے تو وہ ایک دن روزہ رکھے گا۔
ابوخالد نامی راوی بیان کرتے ہیں اگر حالت احرام والاشخص شترمرغ کے انڈے کو توڑدے تو وہ ایک دن روزہ رکھے گا۔
2526 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزِّنَادِ عَمَّنْ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَضَى فِى بَيْضِ نَعَامٍ كَسَرَهُ رَجُلٌ صِيَامُ يَوْمٍ فِى كُلِّ بَيْضَةٍ. وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ فِى بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ صِيَامُ يَوْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2527 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شترمرغ کے انڈے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا (اس انڈے کو حالت احرام والے ایک شخص نے توڑدیا تھا ‘ وہ فیصلہ یہ تھا ) وہ شخص ایک انڈے کے عوض میں ایک روزہ رکھے گا۔
2527 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الإِسْمَاعِيلِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- حَكَمَ فِى بَيْضِ النَّعَامِ كَسَرَهُ رَجُلٌ مُحْرِمٌ صِيَامُ يَوْمٍ لِكُلِّ بَيْضَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2528 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شتر مرغ کے انڈے کے بارے میں یہ فرمایا ہے حالت احرام والاشخص اگر اسے توڑ دیتا ہے تو وہ اس کی قیمت اداکرے گا۔
انڈے کے بارے میں یہ فرمایا ہے حالت احرام والاشخص اگر اسے توڑ دیتا ہے تو وہ اس کی قیمت اداکرے گا۔
انڈے کے بارے میں یہ فرمایا ہے حالت احرام والاشخص اگر اسے توڑ دیتا ہے تو وہ اس کی قیمت اداکرے گا۔
2528 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُوهُسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَلِىٍّ - وَهُوَ ابْنُ غُرَابٍ - عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ أَبِى الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ ثَمَنُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2529 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک بار کچھ لوگوں نے ایک گوہ کو قتل کردیاتو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا ان سب لوگوں پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہوگی جسے وہ مل جل کر اداکریں گے۔
2529 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِى قَوْمٍ أَصَابُوا ضَبُعًا قَالَ عَلَيْهِمْ كَبْشٌ يَتَخَارَجُونَهُ بَيْنَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2530 عمارنامی راوی بیان کرتے ہیں ابن زبیر کے کچھ غلام حالت احرام میں تھے ‘ ایک مرتبہ ایک گوہ ان کے پاس سے گزری ‘ انھوں نے لاٹھیوں کے ذریعے مارکرا سے قتل کردیا ‘ پھر انھیں اس بارے میں الجھن ہوئی ‘ وہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا تم پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہوگی ‘ انھوں نے عرض کی کیا ہم میں سے ہر شخص پر دنبے کی قربانی لازم ہوگی ؟ تو عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا اپنے اوپر زیادتی کررہے ہو ‘ تم سب پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہوگی۔
علم لغت کے ماہرین نے یہ کہا ہے روایت کے یہ الفاظ لمعزربکم سے مرادیہ ہے اس صورت میں تم اپنے ساتھ زیادتی کروگے۔
علم لغت کے ماہرین نے یہ کہا ہے روایت کے یہ الفاظ لمعزربکم سے مرادیہ ہے اس صورت میں تم اپنے ساتھ زیادتی کروگے۔
2530 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِى هَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِىَ لاِبْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَخَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا فَوَقَعَ فِى أَنْفُسِهِمْ فَأَتَوُا ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عَلَيْكُمْ كَبْشٌ قَالُوا عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ قَالَ إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ جَمِيعًا كُلِّكُمْ كَبْشٌ. قَالَ اللُّغَوِيُّونَ إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ أَىْ لَمُشَدَّدٌ عَلَيْكُمْ إِذًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2531 حضرت اسامہ بن شریک (رض) بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا ‘ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ کوئی یہ کہہ رہا تھا یارسول اللہ ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کرلی ہے ‘ یا میں نے ایک چیز کو موخر کردیا ہے ‘ یا ایک رکن کو پہلے کو لیا ہے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہی فرما رہے تھے کوئی حرج نہیں ہے ‘ ماسوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچائے اور وہ زیادتی کرنے والا ہو ‘ یہ شخص حرج کا شکار ہوجائے گا اور ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔ صرف جریرنامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کرلی۔
2531 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمِنْ قَائِلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ « لاَ حَرَجَ إِلاَّ رَجُلٌ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَاكَ الَّذِى حَرِجَ وَهَلَكَ ». لَمْ يَقُلْ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ إِلاَّ جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2532 حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کرتے ہوئے عرض کی میں نے قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈوالیا ہے ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اب قربانی کو لو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک اور شخص بولا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ! کوئی حرج نہیں ہے۔
2532 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ « اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ آخَرُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2533 حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) بیان کرتے ہیں قربانی کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر ٹھہرگئے ‘ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کرنا شروع کیے ‘ ان میں سے کسی نے عرض کی یارسول اللہ ! مجھے یہ پتہ نہیں تھا ‘ قربانی سے پہلے کنکریاں مارنی ہیں ‘ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ہے ‘ دوسرے شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے پتہ نہیں تھا ‘ قربانی سرمنڈوانے سے پہلے ہوگی ‘ میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اب قربانی کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) اس دن میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوسنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس بھی کسی معاملے سے متعلق سوال کیا گیا ‘ جسے کوئی شخص بھول گیا تھا یاجس سے وہ واقف نہیں تھا ‘ یعنی اس نے کوئی کام کسی دوسرے کام سے پہلے کرلیا ‘ یا اس طرح کا کوئی عمل پہلے کرلیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے یہی فرمایا تم اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
2533 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الأَزْهَرِ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْىَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ أَوْ يَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ الأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلاَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « افْعَلْهُ وَلاَ حَرَجَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2534 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2534 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2535 حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات یاد ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منی میں اپنی اونٹنی پر موجود تھے ‘ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا ‘ قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈوالیاجاتا ہے تو میں نے قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب قربانی کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا ‘ کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالینا چاہیے ‘ اس لیے میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں اس دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا یعنی آدمی نے کوئی کام پہلے کرلیا یا بعد میں کیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ اضافی ہیں ” کنکریاں مارنے سے پہلے روانہ ہوگیا “۔
ان الفاظ میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی اور میرا خیال ہے ‘ راوی کو یہ الفاظ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ اضافی ہیں ” کنکریاں مارنے سے پہلے روانہ ہوگیا “۔
ان الفاظ میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی اور میرا خیال ہے ‘ راوی کو یہ الفاظ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔
2535 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الأَزْهَرِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِنًى وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . قَالَ « انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْىِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ وَلاَ أَخَّرَهُ إِلاَّ قَالَ « افْعَلْهُ وَلاَ حَرَجَ ». كَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ.وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَزَادَ ابْنُ أَبِى حَفْصَةَ فِى حَدِيثِهِ أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَأُرَاهُ وَهِمَ فِيهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2536 حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوسنا ‘ قربانی کے دن ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے ‘ اس شخص نے عرض کی یارسول اللہ ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے ‘ پھر ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی طواف افاضہ کرلیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں اس دن میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے باری میں بھی سوال کیا گیا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا تم اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں اس دن میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے باری میں بھی سوال کیا گیا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا تم اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
2536 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّى كُنْتُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّى أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ . قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ».
قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ « افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ »
قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ « افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ »
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2537 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں قربانی کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالیایاذبح کرلیایا قربانی کرلی یا اسی کی مانند کسی کام کو پہلے کرنے یا بعد میں کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
2537 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِىَ أَوْ ذَبَحَ أَوْ نَحَرَ وَأَشْبَاهِ هَذَا فِى التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2538 عطاء اور دیگرراویوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ تین باتیں نقل کی ہیں ‘ ایسے شخص کے بارے میں جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالیا تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ہے ‘ منڈوانا بھی رمی کا حصہ ہے اور رمی کرنا بھی سرمنڈوانے کی طرح ہے ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ قربانی کرنا کنکریاں مارنے کا حصہ ہے اور کنکریاں مارنا قربانی کرنے کی طرح ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک اور شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے سرمنڈوانے سے پہلے قربانی کرلی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب سرمنڈوالو کوئی حرج نہیں ہے ‘ قربانی کرنا سرمنڈوانے کا حصہ ہے اور سرمنڈوانا قربانی کرنے کی طرح ہے۔
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے “۔
اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں ”(اس شخص نے عرض کی ) میں یہ سمجھا تھا ‘ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے (راوی نے یہ الفاظ تین کاموں کے بارے میں نقل کیے ہیں) “۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے “۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) وہ تین کام ہیں ‘ یعنی کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالینا ۔
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے “۔
اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں ”(اس شخص نے عرض کی ) میں یہ سمجھا تھا ‘ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے (راوی نے یہ الفاظ تین کاموں کے بارے میں نقل کیے ہیں) “۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے “۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) وہ تین کام ہیں ‘ یعنی کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالینا ۔
2538 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ وَغَيْرُهُ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لِرَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِىَ قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ الْحَلْقُ مِنَ الرَّمْىِ وَالرَّمْىُ مِنَ الْحَلْقِ » وَرَجُلٌ جَاءَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ النَّحْرُ مِنَ الرَّمْىِ وَالرَّمْىُ مِنَ النَّحْرِ ». قَالَ وَرَجُلٌ جَاءَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ قَالَ « احْلِقْ وَلاَ حَرَجَ النَّحْرُ مِنَ الْحَلْقِ » . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ فِى أَثَرِ حَدِيثِ عَطَاءٍ. هَذَا حَدِيثُ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ مَا كُنْتُ أَحْسَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حَرَجَ ». وَفِى هَذِهِ الثَّلاَثِ الْحَلْقُ قَبْلَ الرَّمْىِ.
তাহকীক: