মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৩ টি
হাদীস নং: ৩৫১৪৫
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٤٦) حضرت عوف بن مالک سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جس کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شخص ہوگا جو اللہ سے سوال کرے گا کہ اس کو جہنم سے نکال دیا جائے یہاں تک کہ جب جنتیوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور جہنمی لوگ جہنم میں داخل ہوجائیں یہ ان کے درمیان ہوگا وہ عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم ! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم ! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا آپ کی طرح کون ہے اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔
پھر وہ جنت کے دو وازے کے پاس درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا، مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور امن کا پھل کھا سکوں اللہ فرمائیں گے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ پھر سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، پھر وہ اس سے بھی اعلیٰ دیکھے گا تو عرض کرے گا اے میرے اللہ ! مجھے اس کے قریب کر دے اللہ فرمائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ دوبارہ سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اللہ جی ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا جنت کی طرف دوڑ جتنی جنت پر تیرے قدم پڑیں اور تیری آنکھیں جتنی جنت کو دیکھے وہ تیرے لیے ہے وہ دوڑے گا یہاں تک کہ تھک کر چکنا چور ہوجائے گا تو عرض کرے گا اے اللہ ! کیا یہ اور وہ میرے لیے ہے ؟ اللہ فرمائے گا اس کے مثل اور اس سے دو گنا بھی تیرے لیے ہے، وہ عرض کرے گا میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا، اگر مجھے دنیا والوں کے لباس اور ان کی خوراک کی اجازت دی جائے تو میں اس پر قادر ہوسکتا ہوں۔
پھر وہ جنت کے دو وازے کے پاس درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا، مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور امن کا پھل کھا سکوں اللہ فرمائیں گے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ پھر سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، پھر وہ اس سے بھی اعلیٰ دیکھے گا تو عرض کرے گا اے میرے اللہ ! مجھے اس کے قریب کر دے اللہ فرمائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ دوبارہ سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اللہ جی ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا جنت کی طرف دوڑ جتنی جنت پر تیرے قدم پڑیں اور تیری آنکھیں جتنی جنت کو دیکھے وہ تیرے لیے ہے وہ دوڑے گا یہاں تک کہ تھک کر چکنا چور ہوجائے گا تو عرض کرے گا اے اللہ ! کیا یہ اور وہ میرے لیے ہے ؟ اللہ فرمائے گا اس کے مثل اور اس سے دو گنا بھی تیرے لیے ہے، وہ عرض کرے گا میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا، اگر مجھے دنیا والوں کے لباس اور ان کی خوراک کی اجازت دی جائے تو میں اس پر قادر ہوسکتا ہوں۔
(۳۵۱۴۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی لأَعْلَمُ آخِرَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ دُخُولاً الْجَنَّۃَ ، رَجُلٌ کَانَ یَسْأَلُ اللَّہَ أَنْ یُزَحْزِحَہُ عَنِ النَّارِ ، حَتَّی إِذَا دَخَلَ أَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ ، وَأَہْلُ النَّارِ النَّارَ کَانَ بَیْنَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَا رَبِ ، أُدْنُنِی مِنْ بَابِ الْجَنَّۃِ ، فَقِیلَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَسْأَلْ أَنْ تُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ؟ قَالَ : یَا رَبِ ، وَمَنْ مِثْلُک ، فَأَدْنُنِی مِنْ بَابِ الْجَنَّۃِ ، فَقِیلَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَسْأَلْ أَنْ تُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ؟ قَالَ : وَمَنْ مِثْلُک، فَأَدْنُنِی مِنْ بَابِ الْجَنَّۃِ۔
فَنَظَرَ إِلَی شَجَرَۃٍ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ ، فَقَالَ : أُدْنُنِی مِنْہَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا ، وَآکُلَ مِنْ ثَمَرِہَا ، قَالَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَقُلْ ؟ فَقَالَ : یَا رَبِ ، وَمَنْ مِثْلُک ، فَأَدْنُنِی مِنْہَا ، فَرَأی أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَا رَبِ ، أُدْنُنِی مِنْہَا ، فَقَالَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَقُلْ ؟ حَتَّی قَالَ : یَا رَبِّ ، وَمَنْ مِثْلُک ، فَأَدْنُنِی۔
فَقِیلَ : أُعْدُ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : الْعَدْوُ : الشَّدُّ ، فَلَکَ مَا بَلَغَتْہُ قَدَمَاک وَرَأَتْہُ عَیْنَاک ، قَالَ : فَیَعْدُو حَتَّی إِذَا بَلَّحَ ، یَعْنِی أَعْیَا ، قَالَ : یَا رَبِ ، ہَذَا لِی ، وَہَذَا لِی ؟ فَیُقَالَ : لَکَ مِثْلُہُ وَأَضْعَافُہُ ، فَیَقُولُ : قَدْ رَضِیَ عَنْی رَبِّی ، فَلَوْ أَذِنَ لِی فِی کِسْوَۃِ أَہْلِ الدُّنْیَا وَطَعَامِہِمْ لأَوْسَعْتُہُمْ۔ (طبرانی ۱۴۳)
فَنَظَرَ إِلَی شَجَرَۃٍ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّۃِ ، فَقَالَ : أُدْنُنِی مِنْہَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّہَا ، وَآکُلَ مِنْ ثَمَرِہَا ، قَالَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَقُلْ ؟ فَقَالَ : یَا رَبِ ، وَمَنْ مِثْلُک ، فَأَدْنُنِی مِنْہَا ، فَرَأی أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَا رَبِ ، أُدْنُنِی مِنْہَا ، فَقَالَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَقُلْ ؟ حَتَّی قَالَ : یَا رَبِّ ، وَمَنْ مِثْلُک ، فَأَدْنُنِی۔
فَقِیلَ : أُعْدُ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : الْعَدْوُ : الشَّدُّ ، فَلَکَ مَا بَلَغَتْہُ قَدَمَاک وَرَأَتْہُ عَیْنَاک ، قَالَ : فَیَعْدُو حَتَّی إِذَا بَلَّحَ ، یَعْنِی أَعْیَا ، قَالَ : یَا رَبِ ، ہَذَا لِی ، وَہَذَا لِی ؟ فَیُقَالَ : لَکَ مِثْلُہُ وَأَضْعَافُہُ ، فَیَقُولُ : قَدْ رَضِیَ عَنْی رَبِّی ، فَلَوْ أَذِنَ لِی فِی کِسْوَۃِ أَہْلِ الدُّنْیَا وَطَعَامِہِمْ لأَوْسَعْتُہُمْ۔ (طبرانی ۱۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৪৬
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٤٧) حضرت ابو سعید الخدری (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ادنیٰ جنتی کا رتبہ جنت میں یہ ہوگا کہ اللہ ایک شخص کا چہرہ جہنم سے جنت کی طرف پھیر دیں گے، اس کیلئے ایک سایہ دار درخت ظاہر کیا جائے گا وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو اس کے علاوہ مجھ سے کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں تیری عزت کی قسم نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ اس شخص کو درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کو ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو سایہ دار اور پھل دار ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تجھے یہ عطا کر دوں تو اس کے علاوہ مجھ سے دوبارہ کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم نہیں اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کیلئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو سایہ دار پھل دار اور پانی والا ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اور اس کا پانی پی سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے دے دوں تو کیا تو دوبارہ مجھ سے سوال کرے گا وہ شخص عرض کرے گا تیری عزت کی قسم اس کے علاوہ سوال نہ کروں گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کیلئے جنت کے دروازے کو ظاہر فرمائے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کی چوکھٹ کے نیچے بیٹھ کر اس کے رہنے والوں کو دیکھ سکوں اللہ تعالیٰ اس کو قریب فرما دے گا پھر وہ شخص جنتی لوگوں کو اور جنت کی نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اللہ جی مجھے جنت میں داخل فرما دے۔
اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہے گا یہ میرے لیے ہے اور یہ بھی میرے لیے ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو خواہش کر وہ خواہش کرے گا، اللہ پاک اس کو یاد دلائیں گے کہ یہ یہ سوال کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات مکمل ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ بھی تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا اور بھی پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس کے پاس اس کی دو بیویاں جو حورعین میں سے ہوں گی آئیں گی اور کہیں گی تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے آپ کو ہمارے لیے اور ہمیں آپ کے لیے منتخب کیا وہ جنتی کہے گا جس طرح مجھے عطا کیا گیا ہے اس جیسا کسی کو عطا نہیں کیا گیا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کیلئے جنت کے دروازے کو ظاہر فرمائے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کی چوکھٹ کے نیچے بیٹھ کر اس کے رہنے والوں کو دیکھ سکوں اللہ تعالیٰ اس کو قریب فرما دے گا پھر وہ شخص جنتی لوگوں کو اور جنت کی نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اللہ جی مجھے جنت میں داخل فرما دے۔
اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہے گا یہ میرے لیے ہے اور یہ بھی میرے لیے ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو خواہش کر وہ خواہش کرے گا، اللہ پاک اس کو یاد دلائیں گے کہ یہ یہ سوال کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات مکمل ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ بھی تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا اور بھی پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس کے پاس اس کی دو بیویاں جو حورعین میں سے ہوں گی آئیں گی اور کہیں گی تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے آپ کو ہمارے لیے اور ہمیں آپ کے لیے منتخب کیا وہ جنتی کہے گا جس طرح مجھے عطا کیا گیا ہے اس جیسا کسی کو عطا نہیں کیا گیا ہے۔
(۳۵۱۴۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ أَدْنَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً ، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّہُ وَجْہَہُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّۃِ ، وَمُثِّلَ لَہُ شَجَرَۃٌ ذَاتُ ظِلٍّ ، فَقَالَ : أَیْ رَبِ ، قَدِّمْنِی إِلَی ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ أَکُونُ فِی ظِلِّہَا ، فَقَالَ اللَّہُ : ہَلْ عَسَیْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِی غَیْرَہُ ، فَقَالَ : لاَ ، وَعِزَّتِکَ، فَقَدَّمَہُ اللَّہُ إِلَیْہَا ، وَمُثِّلَ لَہُ شَجَرَۃٌ أُخْرَی ذَاتُ ظِلٍّ وَثَمَرَۃٍ ، فَقَالَ : أَیْ رَبِ ، قَدِّمْنِی إِلَی ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ لأَکُونَ فِی ظِلِّہَا وَآکُلَ مِنْ ثُمَّرِہَا ، فَقَالَ اللَّہُ : ہَلْ عَسَیْتَ إِنْ أُعْطِیتُک ذَلِکَ أَنْ تَسْأَلَنِی غَیْرَہُ ، فَقَالَ : لاَ ، وَعِزَّتِکَ ، فَیُقَدَّمَہُ اللَّہُ إِلَیْہَا ، فَتُمَثَّلُ لَہُ شَجَرَۃٌ أُخْرَی ذَاتُ ظِلٍّ وَثَمَرٍ وَمَائٍ ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِ ، قَدِّمْنِی إِلَی ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ، أَکُونُ فِی ظِلِّہَا ، وَآکُلُ مِنْ ثَمَرِہَا ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِہَا ، فَیَقُولُ : ہَلْ عَسَیْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِی غَیْرَہُ ، فَیَقُولُ : لاَ ، وَعِزَّتِکَ لاَ أَسْأَلُک غَیْرَہُ ، فَیُقَدِّمُہُ اللَّہُ إِلَیْہَا۔
قَالَ : فَیَبْرُزُ لَہُ بَابُ الْجَنَّۃِ ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِ ، قَدِّمْنِی إِلَی بَابِ الْجَنَّۃِ ، فَأَکُونُ تَحْتَ نِجَافِ الْجَنَّۃِ وَأَنْظُرُ إِلَی أَہْلِہَا ، فَیُقَدِّمُہُ اللَّہُ إِلَیْہَا ، فَیَرَی أَہْلَ الْجَنَّۃِ وَمَا فِیہَا ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِ ، أَدْخِلْنِی الْجَنَّۃَ ، فَیُدْخِلُہُ اللَّہُ الْجَنَّۃَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، قَالَ : ہَذَا لِی وَہَذَا لِی ، فَیَقُولُ اللَّہُ : تَمَنَّ ، فَیَتَمَنَّی ، وَیُذَکِّرُہُ اللَّہُ : سَلْ مِنْ کَذَا وَکَذَا ، حَتَّی إِذَا انْقَطَعَتْ بِہِ الأَمَانِی ، قَالَ اللَّہُ : ہُوَ لَکَ وَعَشَرَۃُ أَمْثَالِہِ ، قَالَ : ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتَہُ ، فَیَدْخُلُ عَلَیْہِ زَوْجَتَاہُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ، فَتَقُولاَنِ لَہُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اخْتَارَک لَنَا ، وَاخْتَارَنَا لَکَ ، فَیَقُولُ : مَا أُعْطِیَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِیتُ۔ (مسلم ۱۷۵۔ احمد ۲۷)
قَالَ : فَیَبْرُزُ لَہُ بَابُ الْجَنَّۃِ ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِ ، قَدِّمْنِی إِلَی بَابِ الْجَنَّۃِ ، فَأَکُونُ تَحْتَ نِجَافِ الْجَنَّۃِ وَأَنْظُرُ إِلَی أَہْلِہَا ، فَیُقَدِّمُہُ اللَّہُ إِلَیْہَا ، فَیَرَی أَہْلَ الْجَنَّۃِ وَمَا فِیہَا ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِ ، أَدْخِلْنِی الْجَنَّۃَ ، فَیُدْخِلُہُ اللَّہُ الْجَنَّۃَ ، فَإِذَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، قَالَ : ہَذَا لِی وَہَذَا لِی ، فَیَقُولُ اللَّہُ : تَمَنَّ ، فَیَتَمَنَّی ، وَیُذَکِّرُہُ اللَّہُ : سَلْ مِنْ کَذَا وَکَذَا ، حَتَّی إِذَا انْقَطَعَتْ بِہِ الأَمَانِی ، قَالَ اللَّہُ : ہُوَ لَکَ وَعَشَرَۃُ أَمْثَالِہِ ، قَالَ : ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتَہُ ، فَیَدْخُلُ عَلَیْہِ زَوْجَتَاہُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ، فَتَقُولاَنِ لَہُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اخْتَارَک لَنَا ، وَاخْتَارَنَا لَکَ ، فَیَقُولُ : مَا أُعْطِیَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِیتُ۔ (مسلم ۱۷۵۔ احمد ۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৪৭
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٤٨) حضرت علی (رض) قرآن کریم کی آیت { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کس چیز پر ان کو جمع کیا جائے گا ؟ خدا کی قسم ان کو قدموں کے بل (چل کر) نہیں جمع کیا جائے گا بلکہ وہ ایسے اونٹوں پر آئیں گے جن کے مثل لوگوں نے پہلے دیکھا نہ ہوگا ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگا میں زبر جد کی ہوں گی وہ متقین ان پر بیٹھیں ہوں گے پھر وہ جانور ان کو لے کر چلیں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں کو کھٹکھٹائیں گے۔
(۳۵۱۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِینَ إِلَی الرَّحْمَن وَفْدًا} ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : ہَلْ تَدْرُونَ عَلَی أَیِّ شَیْئٍ یُحْشَرُونَ ؟ أَمَا وَاللہِ مَا یُحْشَرُونَ عَلَی أَقْدَامِہِمْ ، وَلَکِنَّہُمْ یُؤْتَوْنَ بِنُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلاَئِقُ مِثْلَہَا ، عَلَیْہَا رِحَالُ الذَّہَبِ ، وَأَزِمَّتُہَا الزَّبَرْجَدُ ، فَیَجْلِسُونَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ یُنْطَلَقُ بِہِمْ حَتَّی یَقْرَعُوا بَابَ الْجَنَّۃِ۔ (طبری ۱۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৪৮
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٤٩) حضرت ابوہریرہ (رض) اس آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اونٹوں پر جمع کئے جائیں گے۔
(۳۵۱۴۹) حَدَّثَنَا قُرَادُ أَبُو نُوحٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ فِی قَوْلِہِ : {یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِینَ إِلَی الرَّحْمَن وَفْدًا} ، عَلَی الإِبِلِ۔ (طبری ۱۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৪৯
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٠) حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشاد فرمایا : میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جو جہنم سے نکلے گا یہ وہ شخص ہوگا جو جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا اس کو کہا جائے گا چلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا وہ وہاں جائے گا تو لوگ پہلے ہی رتبہ حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا اے اللہ ! لوگوں نے تو اپنے رتبے حاصل کرلیے ہیں اس سے کہا جائے گا کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا ؟ وہ عرض کرے گا جی اس سے کہا جائے گا تو تمنا اور خواہش کر وہ خواہش کرے گا اسے کہا جائے گا جو تو نے خواہش کی ہے یہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا سے دس گنا زیادہ بھی تیرے لیے ہے وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! آپ بادشاہ ہو کر مجھ سے مزاق کر رہے ہیں ؟ راوی فرماتے ہیں کہ یہ بات بیان کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں مبارک میں نے دیکھیں۔
(۳۵۱۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبِیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی لأَعْرِفُ آخِرَ أَہْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنْہَا زَحْفًا ، فَیُقَالَ لَہُ : انْطَلِقْ فَادْخُلَ الْجَنَّۃَ ، قَالَ : فَیَذْہَبُ فَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ، فَیَجِدُ النَّاسَ قَدَ اتَّخَذُوا الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَیَرْجِعُ فَیَقُولُ : یَا رَبِ ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : أَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِی کُنْتَ فِیہِ ؟ فَیَقُولُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : تَمَنَّ ، فَیَتَمَنَّی ، فَیُقَالَ : لَکَ ذَلِکَ الَّذِی تَمَنَّیْتَ وَعَشَرَۃُ أَضْعَافِ الدُّنْیَا ، قَالَ : فَیَقُولُ لَہُ : أَتَسْخَرُ بِی وَأَنْتَ الْمَلِکُ ؟ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔
(بخاری ۶۵۷۱۔ مسلم ۱۷۴)
(بخاری ۶۵۷۱۔ مسلم ۱۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫০
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥١) حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں کے چاند جیسے ہوں گے اور دوسرا گروہ موتی کی طرح چمکتے ہوئے تاروں کی طرح ہوں گے ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے ستر جوڑے ہوں گے اور ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا ان ستر جوڑوں میں بھی نظر آ رہا ہوگا۔
(۳۵۱۵۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ، وَالثَّانِیَۃُ عَلَی لَوْنِ أَحْسَنِ کَوْکَبٍ دُرِّیٍّ فِی السَّمَائِ إِضَائَۃً ، لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا زَوْجَتَانِ ، عَلَی کُلِّ زَوْجَۃٍ سَبْعُونَ حُلَّۃً ، یَبْدُو مُخُّ سَاقَیْہَا مِنْ وَرَائِہَا۔ (ترمذی ۲۵۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫১
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٢) حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! ادنیٰ جنتی کا رتبہ کیا ہوگا ؟ فرمایا ایک شخص جانوروں کے باڑہ میں باقی رہے گا (کوڑے خانے میں) اس طور پر کہ لوگوں نے اس کو محبوس کیا ہوگا، اس کو حکم ہوگا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ عرض کرے گا کہاں سے داخل ہوجاؤں لوگوں نے تو مجھ سے سبقت کرلی ہے ؟ اس کو کہا جائے گا دنیا کے چار بادشاہوں کی بادشاہت اور سلطنت کے بقدر تمنا اور خواہش کر وہ کہے گا فلاں بادشاہ پس وہ چار بادشاہوں کو گنے گا پھر اس کو کہا جائے گا اپنے دل میں جو جو چاہے خواہش کر وہ تمنا کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا جو چاہو خواہش کرلے، وہ خواہش کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا یہ سب بھی تیرے لیے ہے اور دس گنا اور بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! آپ کے مخلص دوستوں کیلئے کیا نعمتیں ہیں ؟ ان سے کہا گیا، یہ ہے جو میں نے ارادہ کیا ہے میں نے ان کے اکرام کیلئے بنایا ہے اور اپنے ہاتھ سے بنا کر ان پر مہر لگا دی ہے، جن نعمتوں کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بشر کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن }
(۳۵۱۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، قَالَ : قَالَ مُوسَی : یَا رَبِّ ، مَا لأَدْنَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً ؟ قَالَ : رَجُلٌ یَبْقَی فِی الدِّمْنَۃِ حَیْثُ یُحْبَسُ النَّاسُ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : قُمْ فَادْخُلَ الْجَنَّۃَ ، قَالَ : أَیْنَ أَدْخُلُ وَقَدْ سَبَقَنِی النَّاسُ ؟ قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : تَمَنَّ أَرْبَعَۃَ مُلُوکٍ مِنْ مُلُوکِ الدُّنْیَا ، مِمَّنْ کُنْت تَتَمَنَّی مِثْلَ مُلْکِہِمْ وَسُلْطَانِہِمْ ، قَالَ : فَیَقُولُ : فُلاَنٌ ، قَالَ : فَیَعُدُّ أَرْبَعَۃً ، ثُمَّ یُقَالَ لَہُ : تَمَنَّ بِقَلبِکَ مَا شِئْتَ ، قَالَ : فَیَتَمَنَّی ، قَالَ : ثُمَّ یُقَالَ لَہُ : اِشْتَہِ مَا شِئْتَ ، قَالَ : فَیَشْتَہِی ، قَالَ : فَیُقَالَ : لَکَ ہَذَا وَعَشْرَۃُ أَضْعَافِہِ ، قَالَ ، فَقَالَ مُوسَی : یَا رَبِ ، فَمَا لأَہْلِ صَفْوَتِکَ ؟ قَالَ : فَقِیلَ : ہَذَا الَّذِی أَرَدْتُ ، قَالَ : خَلَقْتُ کَرَامَتَہُمْ وَعَمِلْتُہَا بِیَدِی ، وَخَتَمْتُ عَلَی خَزَائِنِہَا مَا لاَ عَیْنٌ رَأَتْ ، وَلاَ خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ ، ثُمَّ تَلاَ : {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ ، جَزَائً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ}۔ (مسلم ۱۷۷۔ ترمذی ۳۱۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫২
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٣) حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ علیین والوں کیلئے کھڑکیاں ہوں گی جہاں سے وہ دیکھیں گے جب انھیں اوپر سے کوئی جنتی دیکھے گا تو اس کی وجہ سے جنت روشن ہوجائے گی جنتی لوگ کہیں گے علیین میں سے کسی نے دیکھا ہے۔
(۳۵۱۵۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ؛ أَنَّ عَبْد اللہِ بْنِ عَمْرُو، قَالَ : إِنَّ لأَہْلِ عِلِّیِّینَ کُوًی یُشْرِفُونَ مِنْہَا ، فَإِذَا أَشْرَفَ أَحَدُہُمْ أَشْرَقَت الْجَنَّۃُ ، قَالَ : فَیَقُولُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ : قَدْ أَشْرَفَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ عِلِّیِّینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৩
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٤) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار جنت میں جگہ دنیا وما فیھا سے بہتر ہے۔
(۳۵۱۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ ، أَوْسَوْطُہُ مِنَ الْجَنَّۃِ ، خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ (عبدالرزاق ۲۰۸۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৪
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٥) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر قرآن کریم کی آیت { فِی رَوْضَۃٍ یُحْبَرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ الحبر سے مراد جنت میں سماع ہے گانا سننا ہے۔
(۳۵۱۵۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ؛ فِی قَوْلِہِ : {فِی رَوْضَۃٍ یُحْبَرُونَ} قَالَ : الْحَبْرُ السَّمَاعُ فِی الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৫
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٦) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے اگر جنتی حوروں میں سے کوئی حور زمین والوں پر جھانک لے تو ساری زمین مشک کی خوشبو سے بھر جائے، جنتی عورت کا نصیف دنیا وما فیھا سے بہتر ہے کیا تمہیں معلوم ہے نصیف سے کیا مراد ہے ؟ وہ اوڑھنی ہے۔
(۳۵۱۵۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَبِیعَۃ بْنُ کُلْثُومٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، لَوْ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ أَشْرَفَتْ عَلَی أَہْلِ الأَرْضِ ، لَمَلأَتِ الأَرْضَ مِنْ رِیحِ الْمِسْک ، وَلَنَصِیفُ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا ، ہَلْ تَدْرُونَ مَا النَّصِیفُ ؟ ہُوَ الْخِمَارُ۔ (بخاری ۲۷۹۶۔ ترمذی ۱۶۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৬
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٧) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک بالشت جگہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔
(۳۵۱۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَشِبْرٌ مِنَ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ (ابن ماجہ ۴۳۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৭
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٨) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک ادنیٰ جنتی کا رتبہ یہ ہوگا کہ ایک شخص کے ہزار محل ہوں گے اور ہر دو محلوں کے درمیان ایک سال کا فاصلہ ہوگا وہ دیکھے اس کی انتہاء کو جیسے ان کے قریب کو دیکھے گا ہر محل میں حورعین، خوشبو دار پودے اور غلمان ہوں گے جو بھی وہ طلب کریں گے وہ ان کو پیش کردیا جائے گا۔
(۳۵۱۵۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِیسَی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثُوَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ أَدْنَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً ، رَجُلٌ لَہُ أَلْفُ قَصْرٍ ، مَا بَیْنَ کُلِّ قَصْرین مَسِیرَۃُ سَنَۃٍ ، یُرَی أَقْصَاہَا کَمَا یُرَی أَدْنَاہَا ، فِی کُلِّ قَصْرٍ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ وَالرَّیَاحِینِ وَالْوِلْدَانِ مَا یَدْعُو بِشَیْئٍ إِلاَّ أُتِیَ بِہِ۔ (طبری ۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৮
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٥٩) حضرت مغیث سے مروی ہے کہ جنت میں کچھ محل سونے کے، کچھ چاندی کے، کچھ یا قوت کے، کچھ زبر جد کے ہیں، اس کے پہاڑ مشک کے اور مٹی ورس اور زعفران کی ہے۔
(۳۵۱۵۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : قَالَ مُغِیثُ بْنُ سُمَیٍّ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ قَصْرًا مِنْ ذَہَبٍ ، وَقُصُورًا مِنْ فِضَّۃٍ ، وَقُصُورًا مِنْ یَاقُوتٍ ، وَقُصُورًا مِنْ زَبَرْجَدٍ ، جِبَالُہَا الْمِسْکُ ، وَتُرَابُہَا الوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ۔ (ابو نعیم ۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫৯
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٦٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جنتیوں میں ایک کہے گا، ہمیں بازار لے چلو، پھر وہ مشک کے پہاڑوں پر آئیں گے اور وہاں بیٹھ کر باہم گفتگو کریں گے۔
(۳۵۱۶۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : إِنَّ قَائِلَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ، لَیَقُولُ : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَی السُّوقِ ، فَیَأْتُونَ جِبَالاً مِنْ مِسْکٍ ، فَیَجْلِسُونَ فَیَتَحَدَّثُونَ۔ (عبدالرزاق ۲۰۸۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬০
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٦١) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک جنتی شخص کو سو بندوں کی شہوت عطا کی جائے گی ان کا کھانا اور ان کی ضرورت اور خواہش، جب وہ کھائے گا تو اس کو پاکیزہ شراب پلائی جائے گی جس کی وجہ سے اس کے بدن سے مشک کی طرح پسینہ نکلے گا اور اس کی شہوت اور خواہش دوبارہ ازسر نو لوٹ آئے گی۔
(۳۵۱۶۱) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّہُ یُقْسَمُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ شَہْوَۃُ مِئَۃ ، وَأَکْلُہُمْ وَنَہْمَتُہُمْ ، فَإِذَا أَکَلَ سُقِی شَرَابًا طَہُورًا ، یَخْرُجُ مِنْ جِلْدِہِ رَشْحًا کَرَشْحِ الْمِسْکِ ، ثُمَّ تَعُودُ شَہْوَتُہُ۔ (ابن جریر ۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬১
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٦٢) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا پھر پکارا جائے گا اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ پھر ان کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے کیا لے کر آئے ہو ؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ! آپ نے ہمیں مختلف مصیبتوں میں آزمایا ہم ثابت قدم رہے آپ کو معلوم ہے راوی فرماتے ہیں کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے اموال اور بادشاہت کو ہم سے پھیرے رکھا ان کو کہا جائے گا تم نے سچ کہا، ان کو تمام لوگوں سے قبل جنت میں داخل کردیا جائے گا اور حساب وکتاب کی شدت مالداروں اور بادشاہوں پر باقی رہے گی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس دن مومنین کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ان کیلئے نور کی کرسی رکھی جائے گی، ان پر بادلوں کا سایہ ہوگا، اور وہ دن ان پر دن کی گھڑی سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔
(۳۵۱۶۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: یُجْمَعُونَ ، فَیُقَالَ : أَیْنَ فُقَرَائُ ہَذِہِ الأُمَّۃِ وَمَسَاکِینُہَا ؟ قَالَ: فَیَبْرُزُونَ ، فَیُقَالَ: مَا عِنْدَکُمْ؟ فَیَقُولُونَ : یَا رَبِ ، ابْتَلَیْتَنَا فَصَبَرْنَا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ ، قَالَ : وَأُرَاہُ ، قَالَ : وَوَلَّیْتَ الأَمْوَالَ وَالسُّلْطَانُ غَیْرَنَا ، قَالَ : فَیُقَالَ : صَدَقْتُمْ ، فَیَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ سَائِرِ النَّاسِ بِزَمَنٍ ، وَتَبْقَی شِدَّۃُ الْحِسَابِ عَلَی ذَوِی الأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَیْنَ الْمُؤْمِنُونَ یَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : تُوضَعُ لَہُمْ کَرَاسِیُّ مِنْ نُورٍ ، وَیُظَلِّلُ عَلَیْہِمَ الْغَمَامُ ، وَیَکُونُ ذَلِکَ الْیَوْمَ أَقْصَرَ عَلَیْہِمْ مِنْ سَاعَۃٍ مِنْ نَہَارٍ۔ (ابن حبان ۷۴۱۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬২
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٦٣) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) مدینہ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت فرمایا کہ جنتی لوگ پہلی چیز کیا کھائیں گے ؟ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے بتایا یا ہے کہ جنتی لوگوں کی سب سے پہلے خوراک مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہوگا۔
(۳۵۱۶۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَلاَمٍ أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَقْدِمَہُ الْمَدِینَۃَ ، فَسَأَلُہُ : مَا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَنِی جِبْرِیلُ آنِفًا : أَنَّ أَوَّلَ مَا یَأْکُلُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ ، زِیَادَۃَ کَبِدِ حُوتٍ۔ (بخاری ۳۳۲۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬৩
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٦٤) حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ جنت میں براق کی طرح کی سواری دیکھی جائے گی پوچھا جائے گا یہ کیا ہے ؟ کہا جائے گا علیین میں سے ایک شخص ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جا رہا ہے۔
(۳۵۱۶۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : رُئِی فِی الْجَنَّۃِ کَہَیْئَۃِ الْبَرْقِ ، فَقِیلَ : مَا ہَذَا ؟ قِیلَ : رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ عِلِّیِّینَ تَحَوَّلَ مِنْ غَرْفَۃٍ إِلَی غَرْفَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬৪
جنت اور دوزخ کے حالات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
(٣٥١٦٥) حضرت ضحاک (رض) قرآن کریم کی آیت { أُولَئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غرفہ سے مراد جنت ہے۔
(۳۵۱۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ؛ {أُولَئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ} قَالَ : الْغَرْفَۃُ الْجَنَّۃُ۔
তাহকীক: