মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৪৮৩৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٨) حضرت زیاد بن علاقہ سے روایت ہے۔ کہ حضرت عمر نے ایک خوبصورت جسم والے شخص کو دیکھا تو آپ نے اس کو پوچھا یا اس نے آپ کو بتایا۔ کہا۔ یہ جسامت گوہ کی وجہ سے ہے۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ ہر گوہ کے سوراخ میں دو گوہ ہوں۔
(۲۴۸۳۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ رَأَی رَجُلاً حَسَنَ الْجِسْمِ ، فَسَأَلَہُ أَوْ أَخَبَرہُ ، فَقَالَ : مَنْ أَکَلَ الضِّبَابَ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَدِدْتُ أَنَّ فِی کُلِّ جُحْرِ ضَبٍّ ضَبَّیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৩৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٩) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گوہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ میں اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “
(۲۴۸۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : لاَ آکُلُہُ ، وَلاَ أُحَرِّمُہُ۔ (عبدالرزاق ۸۶۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৩৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٠) حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ گوہ کے ذریعہ نفع دیتے ہیں۔ یہ عام چرواہوں کا کھانا ہے۔ اور اگر یہ میرے پاس دستیاب ہوتی تو میں بھی اس کو کھاتا۔
(۲۴۸۴۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّہَ لَیَنْفَعُ بِالضَّبِّ ، فَإِنَّہُ لَطَعَامُ عَامَّۃِ الرُّعَاۃِ ، وَلَوْ کَانَ عِنْدِی لَطَعِمْتُ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤١) حضرت سعد بن معبد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے قحط کے سال محارب قبیلہ کے ایک موٹے آدمی کو دیکھا تو آپ نے پوچھا تمہارا کھانا کیا ہے ؟ اس نے بتایا۔ گوہ ۔ حضرت عمر نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ گوہ کے ہر سوراخ میں دو گوہ ہوں۔
(۲۴۸۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَعْبَدٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ رَأَی رَجُلاً مِنْ مُحَارِبٍ سَمِینًا فِی عَامِ سَنَۃٍ ، فَقَالَ : مَا طَعَامُکَ ؟ قَالَ : الضِّبَابُ ، قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّ فِی کُلِّ جُحْرِ ضَبٍّ ضَبَّیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٢) حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : مجھے گوہ ، مرغی سے زیادہ محبوب ہے۔
(۲۴۸۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: ضَبٌّ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ دَجَاجَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٣) حضرت شعبی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گوہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” وہ حلال ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن مجھے اس سے گھن آتی ہے۔ “
(۲۴۸۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : حَلاَلٌ لاَ بَأْسَ بِہِ ، وَلَکِنِّی أَعَافُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٤) حضرت ابو المنہال ، اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے گوہ کے بارے میں سوال کیا ؟ انھوں نے جواب میں فرمایا : نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔
(۲۴۸۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، عَنْ عَمِّہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : لَسْت بِآکِلِہِ ، وَلاَ زَاجِر عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٥) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوہ کی بُو محسوس کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں “ یا فرمایا ” ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو اس کو نہیں کھاتی ۔ “ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس کی اجازت عنایت فرما دی۔
(۲۴۸۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رِیحَ ضَبٍّ ، فَقَالَ : إِنِّی ، أَوْ إِنَّا مِنْ قَوْمٍ لاَ نَأْکُلُہُ ، وَرَخَّصَ لَہُمْ فِی أَکْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٦) حضرت حارث، حضرت علی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ گوہ کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۴۸۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ عَبْدِالْجَبَّارِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عرَیْبٍ الْہَمْدَانِیِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِیٍّ؛ أَنَّہُ کَرِہَ الضَّبَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٧) حضرت عبد الاعلیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن الحنفیہ سے سوال کیا گوہ کے بارے میں ؟ تو انھوں نے فرمایا۔ اگر وہ تمہیں پسند ہے تو تم اس کو کھالو۔
(۲۴۸۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : إِنْ أَعْجَبَکَ فَکُلْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٤٨) حضرت عصمہ بن ربعی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ہم کچھ لوگ تھے جن کی حالت بہت اچھی تھی۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے پوچھا۔ تمہاری خوراک کیا ہے ؟ ہم نے کہا : گوہ۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : وہ تمہں ا کفایت کر جاتی ہے۔ ہم نے کہا : جی ہاں ! اس پر آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ ہر ایک گوہ کے ساتھ اس کا مثل (ایک اور گوہ) ہو۔
(۲۴۸۴۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ عِصْمَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : قدِمْنَا عَلَی عُمَرَ وَنَحْنُ أُنَاسٌ سِمَانٌ حَسَنَۃٌ ہَیْئَتُنَا ، قَالَ : فَقَالَ : مَا طَعَامُکُمْ ؟ قُلْنَا : الضِّبَابُ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : وَتُجْزِیکُمْ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَدِدْت أَنَّ مَعَ کُلِّ ضَبٍّ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٤٩) حضرت عکرمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ کیا میں تلی کھا لوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے تو صرف بہتے ہوئے خون کو حرام کیا ہے۔
(۲۴۸۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : آکُلُ الطِّحَالَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّمَا حُرِّمَ الدَّمُ الْمَسْفُوحُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٥٠) حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں تلی کو کھاتا ہوں اور وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ لیکن میں اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہوں کہ میں اس کو حرام قرار دوں۔
(۲۴۸۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : إِنِّی آکُلُ الطِّحَالَ وَمَا یُعْجِبُنِی ، وَلَکِنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُحَرِّمَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٥١) حضرت ہشام، حضرت حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ تلی کے (کھانے میں) کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
(۲۴۸۵۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِالطِّحَالِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٥٢) حضرت منذر، حضرت محمد بن الحنفیہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان سے جب تلی اور بام مچھلی کے بارے میں۔۔۔ اور حضرت وکیع کہتے ہیں اور ان چیزوں کے بارے میں جن کو ناپسند کیا جاتا ہے ۔۔۔ سوال کیا جاتا تو آپ یہ آیت تلاوت کرتے۔ { قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا }۔
(۲۴۸۵۲) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ، وَوَکِیعٌ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ؛ أَنَّہُ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْجِرِّی، وَالطِّحَالِ ، قَالَ وَکِیعٌ : وَأَشْیَائَ مِمَّا یُکْرَہُ ؟ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {قُلْ لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٥٣) حضرت منصور یا کوئی اور حضرت ابراہیم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں تلی میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۴۸۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، أَوْ غَیْرِہِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالطِّحَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٥٤) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بام مچھلی اور تلی کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۴۸۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَأْکُلُ الْجِرِّیثَ وَالطِّحَالَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ تلی کھانے کے بارے میں
(٢٤٨٥٥) حضرت علی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ تلی، شیطان کا لقمہ ہے۔
(۲۴۸۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ إِسْرَائِیلَ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِیٍّ، قَالَ: الطِّحَالُ لُقْمَۃُ الشَّیْطَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ مجوس کے کھانے سے کھانے کے بار ے میں اقوال
(٢٤٨٥٦) حضرت قابوس، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ سے سوال کیا۔ اس نے کہا۔ ہماری کچھ مجوسی دائیاں ہیں۔ اور جب ان کی عید ہوتی ہے تو وہ ہمیں ہدیہ دیتے ہیں ؟ تو حضرت عائشہ نے فرمایا : ہاں ۔ اس دن کے لیے کچھ ذبح کیا جائے۔ تم اس کو تو نہ کھاؤ لیکن تم ان کے درختوں سے کھا سکتے ہو۔
(۲۴۸۵۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : إِنَّ لَنَا أَظْآرًا مِنَ الْمَجُوسِ ، وَإِنَّہُ یَکُونُ لَہُمُ الْعِیدُ فَیُہْدُونَ لَنَا ؟ فَقَالَتْ : أَمَّا مَا ذُبِحَ لِذَلِکَ الْیَوْمِ فَلاَ تَأْکُلُوا ، وَلَکِنْ کُلُوا مِنْ أَشْجَارِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ مجوس کے کھانے سے کھانے کے بار ے میں اقوال
(٢٤٨٥٧) حضرت ابو برزہ سے روایت ہے کہ کچھ مجوسی ان کے ہاں رہائش پذیر تھے۔ اور وہ مجوسی، حضرت ابو برزہ کو نیروز اور مہرجان کے موقع پر ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔ پس ابو برزہ اپنے اہل خانہ سے کہا کرتے تھے۔ جو چیز میوہ جات کے قبیل سے ہو تم اس کو کھالیا کرو اور جو چیز اس کے علاوہ ہو تم اس کو واپس کردیا کرو۔
(۲۴۸۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ حَکِیمٍ، عَنْ أُمِّہِ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ؛ أَنَّہُ کَانَ لَہُ سُکَّانٌ مَجُوسٌ، فَکَانُوا یُہْدُونَ لَہُ فِی النَّیْرُوزِ وَالْمِہْرَجَانِ ، فَکَانَ یَقُولُ لأَہْلِہِ : مَا کَانَ مِنْ فَاکِہَۃٍ فَکُلُوہُ ، وَمَا کَانَ مِنْ غَیْرِ ذَلِکَ فَرُدُّوہُ۔
তাহকীক: