মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৫৫ টি

হাদীস নং: ২৪৮১৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پالتو گدھوں کے بارے میں
(٢٤٨١٨) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن پالتو گدھے کے کھانے سے منع کیا۔
(۲۴۸۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، وَمَکْحُولٌ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی یَوْمَ خَیْبَرَ عَنْ أَکْلِ الْحِمَارِ الأَہْلِیِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پالتو گدھوں کے بارے میں
(٢٤٨١٩) حضرت شیبانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے پالتو گدھوں کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہمیں خیبر کے دن سخت بھوک لگی ۔ اور ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے۔ ہمیں لوگوں کے شہر سے باہر نکلے ہوئے گدھے مل گئے۔ پس ہم نے انھیں ذبح کردیا۔ ہماری ہانڈیاں اس وقت ابل رہی تھیں کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے ندا لگا دی۔ ہانڈیاں الٹ دو ۔ اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ۔ پس ہم نے پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کیا حرام قرار دیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں۔ ہم باہم بات کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس لیے حرام قرار دیا کہ یہ خمس میں نہیں دیے جاتے۔
(۲۴۸۱۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَہْلِیَّۃِ ؟ فَقَالَ : أَصَابَتْنَا مَجَاعَۃٌ یَوْمَ خَیْبَرَ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَۃً مِنَ الْمَدِینَۃِ ، فَنَحَرْنَاہَا ، وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِی ، إِذْ نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ أَنْ أَکْفِئُوا الْقُدُورَ ، وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَیْئًا ، فَقُلْتُ : حَرَّمَہَا تَحْرِیمَ مَاذَا ؟ فَقَالَ : تَحَدَّثْنَا بَیْنَنَا ، فَقُلْنَا : حَرَّمَہَا الْبَتَّۃَ ، وَحَرَّمَہَا مِنْ أَجْلِ أَنَّہَا لَمْ تُخَمَّسْ۔ (بخاری ۴۲۲۰۔ مسلم ۱۵۳۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پالتو گدھوں کے بارے میں
(٢٤٨٢٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (جنگ) خیبر کے دن پالتو گدھوں کو حرام قر ار فرمایا۔
(۲۴۸۲۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ یَوْمَ خَیْبَرَ الْحِمَارَ الإِنْسِیَّ۔ (ترمذی ۱۷۹۵۔ احمد ۲/۳۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پالتو گدھوں کے بارے میں
(٢٤٨٢١) حضرت ابو سعید خدری ، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ ہانڈیوں کے پاس سے گزرے جو کہ ابل رہی تھیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا : ” یہ کون سے گدھے ہیں : پالتو یا وحشی ؟ “ ہم نے کہا۔ نہیں یہ تو پالتو گدھے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” پھر تم ان ہانڈیوں کو الٹ دو ۔ “ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم نے ان کو الٹ دیا۔ حالانکہ ہم سخت بھوک میں تھے۔ اور ہمیں اس کھانے کی چاہت بھی تھی۔
(۲۴۸۲۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاکِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّہُ مَرَّ بِالْقُدُورِ وَہِیَ تَغْلِی فَقَالَ لَنَا : مَا ہَذِہِ الْحُمُرُ ، أَہْلِیَّۃٌ ، أَمْ وَحْشِیَّۃٌ ؟ فَقُلْنَا : لاَ ، بَلْ أَہْلِیَّۃٌ ، قَالَ : فَأَکْفِئوہَا ، قَالَ : فَأَکْفَأْنَاہَا ، وَإِنَّا لَجِیَاعٌ نَشْتَہِیہِ۔ (ابو یعلی ۱۱۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پالتو گدھوں کے بارے میں
(٢٤٨٢٢) حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان گدھوں کا گوشت اور ان کا دودھ حرام ہے۔
(۲۴۸۲۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : لُحُومُہَا وَأَلْبَانُہَا حَرَامٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں پالتو گدھے کھائے جائیں گے
(٢٤٨٢٣) بنو مرہ کے ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا زیادہ ترمال (مویشی) گدھوں پر مشتمل ہے۔ کیا میں ان میں سے کھا سکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ’ کیا وہ جنگل میں نہیں چرتے اور کیا وہ درخت نہیں کھاتے ؟ “ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم ان میں سے کھالو۔
(۲۴۸۲۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ وَاضِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الظَّفَرِیِّ ، عَنْ سلْمَی بِنْتِ نَصْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی مُرَّۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ جَلَّ مَالِی الْحُمُرُ ، أَفَأُصِیبُ مِنْہَا ؟ قَالَ : أَلَیْسَ تَرْعَی الْفَلاَۃَ ، وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ ؟ قُلْتُ : بَلَی ، قَالَ : فَأَصِبْ مِنْہَا۔ (مسند ۶۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں پالتو گدھے کھائے جائیں گے
(٢٤٨٢٤) حضرت غالب بن ذیخ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں قحط سالی نے آلیا ہے۔ اور میرا صحت مند مال مویشی گدھے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم اپنے صحت مند مال مویشی میں سے کھاؤ۔ میں نے انھیں آوارہ اور گندخوری کی وجہ سے ناپسند کیا تھا۔ “
(۲۴۸۲۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ غَالِبِ بْنِ ذیخ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَصَابَتْنَا سَنَۃٌ ، وَسَمِینُ مَالِی فِی الْحُمُرِ ، فَقَالَ : کُلْ مِنْ سَمِینِ مَالِکَ ، فَإِنَّمَا قَذِرْتُہَا مِنْ جَوالِّ الْقَرْیَۃِ۔

(ابوداؤد ۳۸۰۳۔ طبرانی ۶۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں پالتو گدھے کھائے جائیں گے
(٢٤٨٢٥) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ گدھوں کے گوشت کو باربرداری کی ضرورت کے لیے مکروہ قرار دیا گیا۔
(۲۴۸۲۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : إِنَّمَا کُرِہَتْ إِبْقَائً عَلَی الظَّہْرِ ، یَعْنِی لُحُومَ الْحُمُرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں پالتو گدھے کھائے جائیں گے
(٢٤٨٢٦) مزینہ ظاہر ہ کے کچھ لوگ روایت کرتے ہیں کہ حضرت غالب بن ابجر نے بتایا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ میں نے کہا۔ میرے مال میں سے صرف گدھے باقی رہ گئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے گھر والوں کو اپنے مال کا موٹا حصہ کھلاؤ۔ “ اور فرمایا : ” مں ا تو تمہارے لیے صرف گند خور آوارہ کو ناپسند کرتا ہوں۔ “
(۲۴۸۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ الظَّاہِرَۃِ ، قَالَ : قَالَ غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : لَمْ یَبْقَ مِنْ مَالِی إِلاَّ أَحَمِرَۃٌ ؟ قَالَ : أَطْعِمْ أَہْلَک مِنْ سَمِینِ مَالِکَ ، قَالَ : إِنَّمَا کَرِہْتُ لَکُمْ جَوالَّ الْقَرْیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٢٧) حضرت عبد الرحمن بن حسنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ ہمیں کچھ گوہ ملیں۔ چنانچہ ہانڈیاں (گوہ کے ساتھ) اُبلنے لگیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھاـ۔ ” یہ کیا ہے ؟ “ ہم نے جواب دیا۔ ہمیں کچھ گوہ مل گیی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مسخ کر دئیے گئے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ وہی نہ ہو۔ “ راوی کہتے ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہانڈیوں کو الٹوا دیا جبکہ ہم سخت بھوکے تھے۔
(۲۴۸۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَأَصَبْنَا ضِبَابًا ، فَکَانَتِ الْقُدُورُ تَغْلِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا ہَذَا ؟ فَقُلْنَا : ضِبَابٌ أَصَبْنَاہَا ، قَالَ : إِنَّ أُمَّۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ مُسِخَتْ ، وَأَنَا أَخْشَی أَنْ تَکُونَ ہَذِہِ ، قَالَ : فَأَکْفَأَہَا وَإِنَّا لَجِیَاعٌ۔ (احمد ۴/۱۹۶۔ ابویعلی ۹۳۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٢٨) حضرت ابن عمر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا گوہ کے بارے میں جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبرپر تھے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” میں گوہ کو کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ “
(۲۴۸۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنِ الضَّبِّ؟ فَقَالَ: لاَ آکُلُہُ، وَلاَ أُحَرِّمُہُ۔ (مسلم ۱۵۴۲۔ احمد ۲/۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٢٩) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ ہم لوگ ایسی زمین میں رہائش پذیر ہیں جہاں گوہ بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ جانوروں کی طرف مسخ کئے گئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کن جانوروں کی طرف مسخ ہوئے تھے ۔ “ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو نہ کھانے کا حکم دیا اور نہ اس کو گوہ سے منع فرمایا۔
(۲۴۸۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّا بِأَرْضٍ مُضِبَّۃٍ ، فَمَا تَأْمُرُنِی ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمَّۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ ، وَلاَ أَدْرِی فِی أَیِّ الدَّوَابِّ ہِیَ ، فَلَمْ یَأْمُرْ ، وَلَمْ یَنْہَ۔ (مسلم ۵۰۔ ابن ماجہ ۳۲۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٠) حضرت ثابت بن ودیعہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک گوہ لائی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایک قوم مسخ ہوئی تھی۔ “ واللہ اعلم۔ “
(۲۴۸۳۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِیعَۃَ، قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَقَالَ : أُمَّۃٌ مُسِخَتْ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

(احمد ۴/۲۲۰۔ طیالسی ۱۲۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣١) حضرت اسود ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گوہ ہدیہ کی گئی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے نہ کھایا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں یہ مانگنے والوں کو نہ کھلا دوںـ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم مانگنے والوں کو بھی وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتی ہو۔ “
(۲۴۸۳۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : أُہْدِیَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَبٌّ ، فَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلاَ أُطْعِمُہُ السُّؤَّالَ ؟ قَالَ : لاَ تُطْعِمِی السُّؤَّالَ إِلاَّ مِمَّا تَأْکُلِینَ۔ (احمد ۶/۱۰۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٢) جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ہدیہ میں ایک گوہ دی گئی۔ میں نے اس کو تیار کیا۔ پھر حضرت میمونہ کے پاس ان کی قوم کے دو افراد آئے تو حضرت میمونہ نے یہ گوہ ان کو تحفۃً پیش کردی۔ اس دوران جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندر تشریف لائے جبکہ یہ دونوں حضرات (اس کو) کھا رہے تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا پھر اس کو اٹھا لیا۔ اس پر ان دونوں کے ہاتھ میں جو لقمہ تھا اس کو انھوں نے نیچے رکھ دیا۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا : ” تم کھاؤ۔ کیونکہ تم دونوں اہل نجد ہو۔ تم اس کو کھاتے ہو۔ لیکن ہم اہل مدینہ ہیں۔ ہمیں اس سے گھن آتی ہے۔ “
(۲۴۸۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أُہْدِیَ لَنَا ضَبٌّ فَصَنَعْتُہُ ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَجُلاَنِ مِنْ قَوْمِہَا ، فَأَتْحَفَتْہُمَا بِہِ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُمَا یَأْکُلاَنِ ، فَوَضَعَ یَدَہُ ، ثُمَّ رَفَعَہَا ، فَطَرَحَا مَا فِی أَیْدِیہِمَا ، فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُلاَ ، فَإِنَّکُمَا أَہْلُ نَجْدٍ تَأْکُلُونَہَا ، وَإِنَّا أَہْلُ الْمَدِینَۃِ نَعَافُہَا۔

(ابویعلی ۷۰۴۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٣) حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے آپ کے خطبہ کو کاٹ کر پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گوہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کردیا گیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سے جانور کی طرف مسخ ہوا ہے۔ “
(۲۴۸۳۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : أَتَی نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِیٌّ وَہُوَ یَخْطُبُ ، فَقَطَعَ عَلَیْہِ خُطْبَتَہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ تَقُولُ فِی الضَّبِّ ؟ قَالَ : إِنَّ أُمَّۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ مُسِخَتْ ، فَلاَ أَدْرِی أَیَّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ۔ (طبرانی ۲۲۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٤) حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مدینہ میں ایک ولیمہ میں دعوت تھی۔ ہمیں تیرہ عد د گوہ پیش کی گئیں۔ پس کچھ لوگوں نے کھا لیں اور کچھ نے نہ کھائیں۔ پھر میں اگلے دن حضرت ابن عباس سے ملا اور میں نے انھیں یہ بات بتائی۔ بہت سے لوگ حضرت ابن عباس کے گرد تھے ان میں سے کچھ نے کہا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں، میں اس کو حلال کرتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “ اس پر حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے بُری گفتگو کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تو بعثت ہی حلال اور حرام کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت میمونہ کے پاس تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں حضرت فضل بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور ایک دوسری عورت بھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دسترخوان بڑھایا گیا جس پر گوشت تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس کو) کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا۔ ” میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا “۔ اور لوگوں سے کہا۔ ” تم کھاؤ۔ “ چنانچہ حضرت فضل ابن عباس ، حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے (اس کو) کھایا۔ اور حضرت میمونہ نے فرمایا : میں تو اس چیز کو کھاؤں گی جس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تناول فرمائیں گے۔
(۲۴۸۳۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِینَۃِ ، فَقَرَّبَ إِلَیْنَا ثَلاَثَۃَ عَشَرَ ضَبًّا ، فَآکِلٌ وَتَارِکٌ ، فَلَقِیتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتہ ، فَأَکْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَہُ حَتَّی قَالَ بَعْضُہُمْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ آکُلُہُ ، وَلاَ أَنْہَی عَنْہُ ، وَلاَ أُحِلُّہُ ، وَلاَ أُحَرِّمُہُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَبِئْسَ مَا قُلْتُمْ ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحِلاًّ وَمُحَرِّمًا ، بَیْنَمَا ہُوَ عِنْدَ مَیْمُونَۃَ، وَعِنْدَہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، وَامْرَأَۃٌ أُخْرَی ، إِذْ قُرِّبَ إِلَیْہِ خِوَانٌ عَلَیْہِ لَحْمٌ ، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَأْکُلَ ، قَالَتْ لَہُ مَیْمُونَۃُ : إِنَّہُ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَکَفَّ یَدَہُ وَقَالَ : إِنَّ ہَذَا اللَّحْمَ لَمْ آکُلْہُ قَطُّ ، وَقَالَ لَہُمْ: کُلُوا، فَأَکَلَ مِنْہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، وَالْمَرْأَۃُ، وَقَالَتْ مَیْمُونَۃُ: لاَ آکُلُ إِلاَّ مِنْ شَیْئٍ یَأْکُلُ مِنْہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(مسلم ۱۵۴۵۔ احمد ۱/۲۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٥) حضرت زبرقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت شقیق بن سلمہ کو بھنی ہوئی گوہ ہدیہ کی گئی اور میں نے بھی اس میں سے کھایا۔
(۲۴۸۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنِ الزِّبْرِقَانِ، قَالَ: أُہْدِیَ لِشَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ ضَبٌّ مَشْوِیٌّ، فَأَکَلْتُ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٦) حضرت ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر پر نکلے ۔ اس میں صحابہ کرام کو سخت بھوک نے آلیا۔ پس ایک صاحب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس بہت سی گوہ تھیں۔ انھوں نے وہ گوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” بنو اسرائیل کا ایک طبقہ زمین کے جانوروں میں مسخ ہوگیا تھاْ ‘ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نہ خود کھایا اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے منع کیا۔
(۲۴۸۳۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَخْرَجًا ، فَأَصَابَتْہُمْ مَجَاعَۃٌ ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ وَمَعَہُ ضِبَابٌ ، فَأَہْدَاہَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَیْہَا فَقَالَ : مُسِخَ سِبْطٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ دَوَابَّ فِی الأَرْضِ ، فَلَمْ یَأْکُلْہُ ، وَلَمْ یَنْہَ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮৩৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
(٢٤٨٣٧) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوہ کی بُو محسوس کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
(۲۴۸۳۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رِیحَ ضَبٍّ فَرَخَّصَ لَہُمْ فِی أَکْلِہِ۔
tahqiq

তাহকীক: