মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭৮১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مرض الموت میں بیوی کے لیے مہر کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٢) حضرت مسروق (رض) نے ایسے اقرار کو درست قرار دیا۔
(۱۷۸۱۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ أَنَّ مَسْرُوقًا أَجَازَ إقْرَارَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مرض الموت میں بیوی کے لیے مہر کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٣) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ مہر مثلی کا اقرار کرنا درست ہے۔
(۱۷۸۱۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : یَجُوزُ إقْرَارُہُ لَہَا بِصَدَاقِ مِثْلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مرض الموت میں بیوی کے لیے مہر کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٤) حضرت حسن (رض) کے نزدیک ایسا اقرار درست ہے۔
(۱۷۸۱۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَانَ یُجِیزُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مرض الموت میں بیوی کے لیے مہر کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٥) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ خاوند کے لیے ایسا اقرار درست نہیں کیونکہ عورت اس کی وارث ہے اور وارث کے لیے وصیت نہیں ہوتی۔
(۱۷۸۱۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یُجِیزُ إقْرَارَہُ لَہَا لأَنَّہَا وَارِثٌ ، وَلاَ یَجُوزُ وَصِیَّۃٌ لِوَارِثٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر مہر کے بارے میں میاں بیوی کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٦) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ مرد کا قول معتبر ہوگا اور حضرت حماد اور حضرت ذکوان (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت کا قول مہر مثلی سے کم کا ہو تو عورت کا قول معتبر ہوگا۔
(۱۷۸۱۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : الْقَوْلُ قَوْلُ الرَّجُلِ وَقَالَ حَمَّادُ ، وَابْنُ ذَکْوَانَ : الْقَوْلُ قَوْلُہَا مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ مَہْرِ مِثْلِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر مہر کے بارے میں میاں بیوی کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٧) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر عورت کا قول مہر مثلی سے کم کا ہو تو عورت کا قول معتبر ہوگا۔
(۱۷۸۱۷) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ : ہُوَ قَوْلُہَا مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ صَدَاقِ نِسَائِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر مہر کے بارے میں میاں بیوی کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٨) حضرت سعید بن جبیر اور حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے عورت سے مہر آجل اور مہر عاجل کے بدلے نکاح کیا ، پھر آدمی نے دخول کرلیا تو گواہی اس بات پر قائم ہوگی کہ اس نے مہرا دا کردیا ہے۔
(۱۷۸۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَعَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالاَ: فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی عَاجِلٍ، أَوْ آجِلٍ فَدَخَلَ بِہَا قَالاَ: الْبَیِّنَۃُ أَنَّہُ دَفَعَہُ إلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت خاوند کی وفات کے بعد مہر کا دعویٰ کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١٩) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت خاوند کی وفات کے بعد مہر کا دعویٰ کرے تو قاضی اس سے گواہی مانگے گا۔
(۱۷۸۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی الْمَرْأَۃِ تَدَّعِی الصَّدَاقَ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا قَالَ : یَسْأَلُہَا الْبَیِّنَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت خاوند کی وفات کے بعد مہر کا دعویٰ کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨٢٠) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت خاوند کی وفات کے بعد مہر کا دعویٰ کرے تو گواہی لائے گی۔ حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ اسے مہر مثلی ملے گا۔
(۱۷۸۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : بینتہا وَقَالَ حَمَّادٌ : صَدَاقُ نِسَائِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت خاوند کی وفات کے بعد مہر کا دعویٰ کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨٢١) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ گواہی مہر والوں پر یعنی عورت کے اولیاء پر ہوگی اور مرد کے اہل پر اس سے نکالا ہوا ہوگا۔
(۱۷۸۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : الْبَیِّنَۃُ عَلَی أَہْلِ الصَّدَاقِ أَوْلِیَائِ الْمَرْأَۃِ وَعَلَی أَہْلِ الرَّجُلِ الْمُخْرَجِ مِنْ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٢) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو مرد بیوی سے لعان کرے گا اور اسے نصف مہر ملے گا اور اگر اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو اسے پورا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۲۲) حدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنِ الْفُضَیْلِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الرَّجُلِ یَقْذِفُ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا قَالَ : یُلاَعِنُہَا وَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ فَإِنْ ظَہَرَ بِہَا حَمْلٌ فَلَہَا الصَّدَاقُ کَامِلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٣) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو مرد اس سے لعان کرے گا اور اسے آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : إذَا قَذَفَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا لاَعَنَہَا وَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٤) حضرت حسن اور حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو مرد اس سے لعان کرے گا اور اسے آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ عُمَرَ قَالاَ : إذَا قَذَفَہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا لاَعَنَہَا وَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٥) حضرت زرارہ بن اوفیٰ (رض) سے یونہی منقول ہے۔
(۱۷۸۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٦) حضرت ابراہیم (رض) سے یونہی منقول ہے۔
(۱۷۸۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٧) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو مرد اس سے لعان کرے گا اور اسے آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : إذَا قَذَفَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا لاَعَنَ وَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٨) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر اس کا حمل ظاہر ہو تو اسے پورا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : إذَا کَانَ بِہَا حَمْلٌ فَلَہَا الصَّدَاقُ کَامِلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو کیا اسے مہرملے گا ؟
(١٧٨٢٩) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی پر تہمت لگادے تو مرد اس سے لعان کرے گا اور اسے آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۲۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : یُلاَعِنُ وَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بیویوں کے درمیان عدل کرنے کا بیان
(١٧٨٣٠) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج کے مابین عدل سے تقسیم فرمایا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ اے اللہ ! یہ میری وہ تقسیم ہے جو میرے اختیار میں تھی اور جو میرے اختیار میں نہیں تیرے اختیار میں ہے اس کے بارے میں مجھ سے مواخذہ نہ فرما۔
(۱۷۸۳۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِہِ فَیَعْدِلُ ثُمَّ یَقُولُ : اللَّہُمَّ ہَذِہِ قِسْمَتِی فِیمَا أَمْلِکُ فَلاَ تَلُمْنِی فِیمَا تَمْلِکُ أَنْتَ وَلاَ أَمْلِکُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بیویوں کے درمیان عدل کرنے کا بیان
(١٧٨٣١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج کے مابین عدل سے تقسیم فرمایا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ اے اللہ ! یہ میری وہ تقسیم ہے جو میرے اختیار میں تھی اور جو میرے اختیار میں نہیں تیرے اختیار میں ہے اس کے بارے میں مجھ سے مواخذہ نہ فرما۔
(۱۷۸۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِہِ فَیَعْدِلُ ثُمَّ یَقُولُ : اللَّہُمَّ ہَذَا فِعْلِی فِیمَا أَمْلِکُ فَلاَ تَلُمْنِی فِیمَا تَمْلِکُ وَلاَ أَمْلِکُ۔ (احمد ۶/۱۴۴۔ ابن حبان ۴۲۰۵)
তাহকীক: