মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৭৭৯১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاحِ شغار (رشتے کے لین دین کے ساتھ) نکاح کرنا کیسا ہے ؟
(١٧٧٩٢) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔
(۱۷۷۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدَۃ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الشِّغَارِ۔(بخاری ۶۹۶۰۔ مسلم ۵۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاحِ شغار (رشتے کے لین دین کے ساتھ) نکاح کرنا کیسا ہے ؟
(١٧٧٩٣) حضرت عطائ (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۷۷۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ معقل ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاحِ شغار (رشتے کے لین دین کے ساتھ) نکاح کرنا کیسا ہے ؟
(١٧٧٩٤) سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ اسلاف نکاح شغار کو ناپسند فرماتے تھے۔ شغار یہ ہے کہ آدمی کسی مرد کی شادی بغیر مہر کے اس شرط پر کرائے کہ وہ اس کی شادی کرائے گا۔
(۱۷۷۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ الشِّغَارَ وَالشِّغَارُ : الرَّجُلُ یُزَوِّجُ الرَّجُلَ عَلَی أَنْ یُزَوِّجَہُ بِغَیْرِ مَہْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاحِ شغار (رشتے کے لین دین کے ساتھ) نکاح کرنا کیسا ہے ؟
(١٧٧٩٥) حضرت عطائ (رض) نکاح شغار کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا نکاح باقی رہے گا اور دونوں کو مہر ملے گا۔
(۱۷۷۹۵) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ فِی الْمُشَاغِرَیْنِ : یُقَرَّانِ عَلَی نِکَاحِہِمَا وَیُؤْخَذُ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا صَدَاقٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاحِ شغار (رشتے کے لین دین کے ساتھ) نکاح کرنا کیسا ہے ؟
(١٧٧٩٦) حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اسلام میں نکاح شغار نہیں ہے۔
(۱۷۷۹۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ شِغَارَ فِی الإِسْلاَمِ۔ (ترمذی ۱۱۲۳۔ ابوداؤد ۲۵۷۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاحِ شغار (رشتے کے لین دین کے ساتھ) نکاح کرنا کیسا ہے ؟
(١٧٧٩٧) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شغار سے منع فرمایا ہے۔
(۱۷۷۹۷) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنِ الشِّغَارِ۔ (مسلم ۶۲۔ احمد ۳/۳۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے خطبو ں کا بیان
(١٧٧٩٨) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز اور حاجت کا خطبہ سکھایا۔ نماز کا خطبہ تشہد ہے اور حاجت کا خطبہ یہ ہے : (ترجمہ) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس سے مدد مانگتے ہیں، ہم اس سے معافی چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کے شرور سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر قرآن مجید کی تین آیات پڑھتے : (ترجمہ) اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے، اور تم اسی حال میں مرنا کہ تم مسلمان ہو۔ (ترجمہ) اللہ سے ڈرو جس کے بارے میں اور صلہ رحمی کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (ترجمہ) اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو۔ اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔۔۔ یہ خطبہ پڑھنے کے بعد اپنی حاجت کا ارادہ کرو۔
(۱۷۷۹۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِِ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُطْبَۃَ الصَّلاَۃِ وَخُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ فَأَمَّا خُطْبَۃُ الصَّلاَۃِ فَالتَّشَہُّدُ ، وَأَمَّا خُطْبَۃُ الْحَاجَۃِ ، فَـ إِنَّ : الْحَمْدَ لِلَّہِ نَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ یَہْدِہِ اللَّہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلاَ ہَادِیَ لَہُ ، وَأَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ یَقْرَأُ ثَلاَثَ آیَاتٍ مِنْ کِتَابِ اللہِ : {اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} {وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَائَلُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ إنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا} {اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ} ثُمَّ تَعْمِدُ لِحَاجَتِک۔ (ابوداؤد ۲۱۱۱۔ احمد ۱/۴۳۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے خطبو ں کا بیان
(١٧٧٩٩) حضرت جعفر (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی (رض) حضرت حسن (رض) کی ایک لڑکی کا نکاح اس حال میں کروا رہے تھے کہ وہ ہڈی سے گوشت اتار کر کھا رہے تھے۔
(۱۷۷۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ کَانَ یُزَوِّجُ بَعْضَ بَنَاتِ الْحَسَنِ وَہُوَ یتعرق العرق۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے خطبو ں کا بیان
(١٧٨٠٠) حضرت نصر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر نکاح کرادیا۔
(۱۷۸۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نَصْرٍ ، عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَرَأَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ثُمَّ زَوَّجَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے خطبو ں کا بیان
(١٧٨٠١) حضرت اسماعیل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق (رض) نے حضرت شریح (رض) کی شادی کرائی لیکن خطبہ نہیں پڑھا اور فرمایا کہ یہ ضرورت پوری ہوگئی۔
(۱۷۸۰۱) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ أَنَّ مَسْرُوقًا زَوَّجَ شُرَیْحًا وَلَمْ یَخْطُبْ ثُمَّ قَالَ : قَدْ قُضِیت تِلْکَ الْحَاجَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے خطبو ں کا بیان
(١٧٨٠٢) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا تو انھوں نے فرمایا کہ ابو عبداللہ (رض) کا بیٹا نکاح کا اہل ہے۔ ہم اللہ کی تعریف کرتے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے ہیں۔ ہم نے اللہ کے امر {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } پر عمل کرتے ہوئے تمہاری شادی کرادی۔ حضرت شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے چلتے ہوئے ایک آدمی کا نکاح کرادیا۔
(۱۷۸۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ : خَطَبْت إلَی ابْنِ عُمَرَ ابْنَتَہُ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ أَبِی عَبْدِ اللہِ لأَہْلٌ أَنْ یُنْکَحَ ؟ نَحْمَدُ اللَّہَ وَنُصَلِّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ زَوَّجْنَاک عَلَی مَا أَمَرَ اللَّہُ: {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} قَالَ : شُعْبَۃُ : أَحْسَبُہُ قَالَ : أَنْکَحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَجُلاً وَہُوَ یَمْشِی ، قَالَ : شُعْبَۃُ : قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ حَفْصٍ : لاَ أَدْرِی الَّذِی قَالَ: أَحْسَبُہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَوِ ابْنُ عُمَرَ۔ (بیہقی ۱۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عورت کا بالکل سیدھا لیٹ کر سونا مکروہ ہے
(١٧٨٠٣) حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اپنی بیٹیوں کو بالکل سیدھا لیٹ کر مت سونے دو کیونکہ جب تک وہ اس حالت میں رہتی ہیں شیطان ان میں رغبت کرتا رہتا ہے۔
(۱۷۸۰۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمَیْدَۃَ مَوْلاَۃٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَتْ : کَانَ عُمَرُ یَقُولُ : لاَ تَدَعِینَ بَنَاتِی یَنَمْنَ مُسْتَلْقِیَاتٍ عَلَی ظُہُورِہِنَّ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَظَلُّ یَطْمَعُ مَا دُمْنَ کَذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک عورت کا بالکل سیدھا لیٹ کر سونا مکروہ ہے
(١٧٨٠٤) حضرت ابن سیرین (رض) کے نزدیک عورت کا بالکل سیدھا لیٹ کر سونا مکروہ ہے۔
(۱۷۸۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَکْرَہُ أَنْ تَکُونَ الْمَرْأَۃُ مُسْتَلْقِیَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟
(١٧٨٠٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت اسلام قبول کرے اور اس کا کوئی یہودی، عیسائی یا مجوسی خاوند ہو جس نے اسلام قبول نہ کیا ہو تو جب تک دخول نہ کرے اسے کچھ نہیں ملے گا۔
(۱۷۸۰۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَۃُ وَلَہَا زَوْجٌ یَہُودِیٌّ ، أَوْ نَصْرَانِیٌّ ، أَوْ مَجُوسِیٌّ ، وَلَمْ یُسْلِمْ ہُوَ فَلاَ شَیْئَ لَہَا مَا لَمْ یَدْخُلْ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟
(١٧٨٠٦) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔
(۱۷۸۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : لاَ شَیْئَ لَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟
(١٧٨٠٧) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۰۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بن العَوام ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَلَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟
(١٧٨٠٨) حضرت حماد (رض) فرماتے ہیں کہ اس عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۰۸) حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْہَیْثُمِ ، عَنْ حَمَّادٍ قَالَ : لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟
(١٧٨٠٩) حضرت جابر بن زید (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی کافر مرد کے نکاح میں عیسائی عورت ہو اور وہ عورت اسلام قبول کرلے جبکہ اس کا شوہر اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید (رض) نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی، اگر مرد نے دخول کیا ہے تو عورت کو پورا مہر ملے گا اور اگر دخول نہیں کیا تو عورت اسے حاصل شدہ مال واپس کرے گی۔
(۱۷۸۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ؛ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَہُ نَصْرَانِیَّۃٌ فَأَسْلَمَتْ ، وَأَبَی زَوْجُہَا أَنْ یُسْلِمَ قَالَ : أَرَی أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَہُمَا ، فَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الْمَہْرُ کَامِلاً ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ دَخَلَ بِہَا رَدَّتْ إلَیْہِ مَا أَعْطَاہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا ؟
(١٧٨١٠) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
(۱۷۸۱۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّہُ قَالَ : لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮১০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مرض الموت میں بیوی کے لیے مہر کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٨١١) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرض الموت میں بیوی کے لیے مہر کا اقرار کرے تو یہ درست نہیں۔
(۱۷۸۱۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّہُ قَالَ : فِی رَجُلٍ أَقَرَّ لامْرَأَتِہِ بِصَدَاقِہَا فِی مَرَضِہِ قَالَ : لاَ یَجُوزُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক: