মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৭৭৫১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٥٢) حضرت صلہ، حضرت قثم اور حضرت ناجیہ بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کوئی حاملہ باندی خریدے تو وضع حمل سے پہلے اس کے ساتھ جماع نہ کرے۔ اور اگر غیر حاملہ خریدے تو اس کو حیض آنے تک اس کے قریب نہ جائے۔
(۱۷۷۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ وَقُثَمٍ وَنَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ قَالُوا : أَیُّمَا رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً حُبْلَی فَلاَ یَطَؤُہَا حَتَّی تَضَعَ حَمْلَہَا وَأَیُّمَا رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً فَلاَ یَقْرَبْہَا حَتَّی تَحِیضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٥٣) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آدمی کسی ایسی باندی یا عورت سے جماع کرے جس کے پیٹ میں کسی دوسرے کا بچہ ہو۔
(۱۷۷۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : نُہِیَ أَنْ یَطَأَ الرَّجُلُ وَلِیدَۃً ، أَوِ امْرَأَۃً وَفِی بَطْنِہَا جَنِینٌ لِغَیْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٥٤) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ جب تستر فتح ہوا تو حضرت ابو موسیٰ (رض) کے ہاتھ کچھ باندیاں لگیں۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں خط میں یہ حکم لکھ بھیجا کہ وضع حمل سے پہلے کوئی شخص کسی عورت سے جماع نہ کرے، مشرکین کی اولاد میں حصہ دار نہ بنو کیونکہ پانی بچے کو پورا کرتا ہے۔
(۱۷۷۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ تُسْتَرُ أَصَابَ أَبُو مُوسَی سَبَایَا فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ أَنْ لاَ یَقَعَ أَحَدٌ عَلَی امْرَأَۃٍ حبلی حَتَّی تَضَعَ وَلاَ تُشَارِکُوا الْمُسْلِمِینَ فِی أَوْلاَدِہمْ فَإِنَّ الْمَائَ تَمَامُ الْوَلَدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٥٥) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ میں ایک منادی سے اعلان کرایا کہ حاملہ سے وضع حمل تک اور غیرحاملہ سے حیض کے آنے تک جماع نہ کرو۔
(۱۷۷۵۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِیًا فنادی فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا ؛ أَنْ لاَ یَطَأَ الرِّجَالُ حَامِلاً حَتَّی تَضَعَ ، وَلاَ حَائِلاً حَتَّی تَحِیضَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٥٦) حضرت ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خیبر میں حاملہ عورت سے وضع حمل سے پہلے جماع سے منع فرمایا تھا۔
(۱۷۷۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : حدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَمَکْحُولٌ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی یَوْمَ خَیْبَرَ عن أَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَی حَتَّی یَضَعْنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کسی باندی کو خریدے یاقیدی بنائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٥٧) حضرت ابو دردائ (رض) سے روایت ہے کہ ایک غزوہ کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسی حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو قریب الولادت تھی (اور قیدی بنا کر لائی گئی تھی) ، وہ خیمے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استفسار فرمایا کہ یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ جائے۔ وہ اس (سے پیدا ہونے والے بچے ) سے کیسے خدمت لے گا حالانکہ اس کی سماعت اور بصارت کو تقویت دے رہا ہے ؟ وہ اس کا وارث کیسے ہوگا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے ؟
(۱۷۷۵۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی امْرَأَۃٍ مُجِحٍّ وَہِیَ عَلَی بَابِ خِبَائٍ ، أَوْ فُسْطَاطٍ ، فَقَالَ : لِمَنْ ہَذِہِ ؟ فَقَالُوا : لِفُلاَنٍ ، قَالَ : أَیُلِمُّ بِہَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لَقَدْ ہَمَمْت أَنْ أَلْعَنَہُ لَعْنَۃً تَدْخُلُ مَعَہُ قَبْرَہُ ، فَکَیْفَ یَسْتَخْدِمُہُ وَہُوَ یَغْذُوہُ فِی بَصَرِہِ وَسَمْعِہِ ، کَیْفَ یَرِثُہُ وَہُوَ لاَ یَحِلُّ لَہُ۔

(مسلم ۱۰۶۶۔ ابوداؤد ۲۱۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردہ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا ؟
(١٧٧٥٨) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے پاس ایک یتیم بچی تھی، وہ کھانا بھی اس کے ساتھ کھاتی تھی، آدمی کی بیوی کو اندیشہ ہوا کہ کہیں آدمی اس سے شادی نہ کرلے، چنانچہ ایک مرتبہ جب وہ آدمی کہیں گیا ہوا تھا تو اس عورت نے کچھ عورتوں کی مدد سے اس لڑکی کو باندھا اور اس کے پردہ بکارت کو زائل کردیا، جب آدمی واپس آیا تو دستر خوان پر اس یتیم بچی کو نہ پایا۔ اس نے اپنی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ اس کا تو ذکر ہی نہ کرو، آدمی نے وجہ پوچھی تو عورت نے بچی پر زنا کا الزام لگادیا۔ آدمی اس بچی کے پاس آیا اور اس سے واقعہ کی تصدیق چاہی، بچی نے رونے کے علاوہ کوئی بات نہ کی، اس نے اصرار کیا تو بچی نے ساری بات بتادی۔ وہ آدمی اس مقدمے کو لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی۔ حضرت علی (رض) نے اس آدمی کی بیوی کو اور باقی عورتوں کو بلا لیا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے فوراً ساری بات کو تسلیم کرلیا۔ حضرت علی (رض) نے حضرت حسن (رض) سے فیصلہ کرنے کو کہا تو حضرت حسن (رض) نے فرمایا کہ تہمت لگانے والی عورت پر حد جاری ہوگی اور پردہ بکارت کو زائل کرنے کا جرمانہ اس عورت پر اور پکڑنے والی عورتوں پر ہوگا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر اونٹوں سے پسوائی کا کام لیا جاتا تو آج میں ان عورتوں کو اونٹوں کے نیچے پسوا دیتا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس زمانے میں اونٹوں سے پسوائی کا کام نہیں لیا جاتا تھا۔
(۱۷۷۵۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْم ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ رَجُلاً کَانَتْ عِنْدَہُ یَتِیْمَۃٌ وکَانَتْ تَحْضُرُ مَعَہُ طَعَامَہُ قَالَ : فَخَافَتِ امْرَأَتہ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا عَلَیْہَا قَالَ : وَغَابَ الرَّجُلُ غَیْبَۃً فَاسْتَعَانَتِ امْرَأَتہ نِسْوَۃً عَلَیْہَا فَضَبَطْنَہَا لَہَا وَأَفْسَدَتْ عُذْرَتَہَا بِیَدِہَا ، وَقَدِمَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ یَفْقِدُہَا ، عَنْ مَائِدَتِہِ ، فَقَالَ لاِمْرَأَتِہِ : مَا شَأْنُ فُلاَنَۃَ لاَ تَحْضُرُ طَعَامِی کَمَا کَانَتْ تَحْضُرُ ؟ فَقَالَتْ : دَعْ عَنْک فُلاَنَۃَ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُہَا ؟ قَالَ : فَقَذَفَتْہَا قَالَ : فَانْطَلَقَ الرجل حَتَّی دَخَلَ عَلَیْہَا ، فَقَالَ : مَا شَأْنُک ؟ مَا أَمْرُک ؟ قَالَ : فَجَعَلَتْ لاَ تَزِیدُ عَلَی الْبُکَائِ ، فَقَالَ : أَخْبِرِینِی فَأَخْبَرَتْہُ قَالَ : فَانْطَلَقَ إلَی عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَأَرْسَلَ إلَی امْرَأَۃِ الرَّجُلِ وَإِلَی النِّسْوَۃِ فَسَأَلَہُنَّ قَالَ : فَمَا لَبِثْنَ أَنِ اعْتَرَفْنَ قَالَ : فَقَالَ لِلْحَسَنِ : اقْضِ فِیہَا ، فَقَالَ الْحَسَنُ : أَرَی الْحَدَّ عَلَی مَنْ قَذَفَہَا وَالْعُقْرَ عَلَیْہَا وَعَلَی الْمُمْسِکَاتِ قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : لَوْ کُلِّفت إبِلٌ طَحِینًا لَطَحَنَتْ قَالَ : وَمَا یَطْحَنُ یَوْمَئِذٍ بَعِیرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردہ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا ؟
(١٧٧٥٩) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ چار نوعمر لڑکیاں کھیلنے کے لیے جمع ہوئیں، ایک نے کہا کہ وہ آدمی ہے، دوسری نے کہا کہ وہ عورت ہے، تیسری نے کہا کہ وہ عورت کا باپ ہے، چوتھی نے کہا کہ وہ آدمی کا باپ ہے۔ آدمی کے باپ کا کردار ادا کرنے والی نے عورت کے باپ کا کردار ادا کرنے سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ جب شادی ہوگئی تو لڑکے کا کردار ادا کرنے والی لڑکی نے عورت کا کردار ادا کرنے والی بچی کے پردہ بکارت کو نقصان پہنچا دیا۔ یہ سارا مقدمہ عبد الملک بن مروان کے پاس پیش کیا گیا۔ انھوں نے مہر کے برابر رقم چاروں لڑکیوں پر لازم کی اور عورت کا کردارادا کرنے والی لڑکی کے حصے کو اٹھا دیا۔ یہ فیصلہ عبداللہ بن معقل مزنی (رض) کے پاس پیش ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر یہ میرے پاس آتا تو میں صرف پردہ بکارت کو زائل کرنے والی لڑکی پر تاوان کو لازم کرتا۔
(۱۷۷۵۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ جَوَارٍ أَرْبَعًا اجْتَمَعْنَ ، فَقَالَتْ إحْدَاہُنَّ : ہِیَ رَجُلٌ ، وَقَالَتِ الأُخْرَی : ہِیَ امْرَأَۃٌ وَقَالَتِ الثَّالِثَۃُ : أَنَا أَبُو الَّتِی زَعَمَتْ أَنَّہَا امْرَأَۃٌ وَقَالَتِ الرَّابِعَۃُ : أَنَا أَبُو الذی زَعَمَتْ أَنَّہَا رَجُلٌ، فَخَطَبَتِ الَّتِی زَعَمَتْ أَنَّہَا أَبُو الرَّجُلِ إلَی الَّتِی زَعَمَتْ أَنَّہَا أَبُو الْمَرْأَۃِ ، فَزَوَّجَتْہَا، فَأَفْسَدَتِ الَّتِی زَعَمَتْ أَنَّہَا رَجُلٌ الْجَارِیَۃَ الَّتِی زَوَّجَتْہَا ، فَاخْتَصَمُوا إلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ ، فَجَعَلَ صَدَاقَہَا عَلَی أَرْبَعَتِہِنَّ ، وَرَفَعَ حِصَّۃَ الَّتِی زَعَمَتْ أَنَّہَا امْرَأَۃٌ ، لأَنَّہَا أَمْکَنَتْ مِنْ نَفْسِہَا ، قَالَ : فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ مَعقِلٍ الْمُزَنِیّ ، فَقَالَ : لَوْ أَنِّی وُلِّیتُ ذَلِکَ لَمْ أَرَ الصَّدَاقَ إلاَّ عَلَی الَّتِی أَفْسَدَتْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردہ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا ؟
(١٧٧٦٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی انگلی سے ایک بچی کا پردہ بکارت زائل کردیا اور کہہ دیا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ حضرت علی (رض) کے پاس یہ مقدمہ لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ عورت پر پردہ بکارت کو زائل کرنے کا تاوان ہوگا اور تہمت لگانے کی وجہ سے اسی کوڑے پڑیں گے۔
(۱۷۷۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ امْرَأَۃً افْتَضَّتْ جَارِیَۃً بِأُصْبُعِہَا وَقَالَتْ : إنَّہَا زَنَتْ فَرَفَعَتْ إلَی عَلِیٍّ فَغَرَّمَہَا الْعُقْرَ وَضَرَبَہَا ثَمَانِینَ لِقَذْفِہَا إیَّاہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردہ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا ؟
(١٧٧٦١) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ شام میں کچھ لڑکیاں کھیلنے کے لیے جمع ہوئیں، ایک لڑکی دوسری پر سوار ہوئی اور دوسری نیچے دب گئی جس کی وجہ سے اس کا پردہ بکارت زائل ہوگیا۔ یہ مقدمہ عبد الملک بن مروان کے پاس لایا گیا تو انھوں نے فضالہ بن عبید (رض) اور قبیصہ بن ذؤیب (رض) سے اس بارے میں سوال کیا۔ ان دونوں نے فرمایا کہ ان سب لڑکیوں پر دیت واجب ہوگی اور ایک کا حصہ اٹھالیا جائے گا۔ ابن معقل (رض) نے فرمایا کہ دیت صرف اس پر ہونی چاہیے جس نے اسے دبایا ہے۔ حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہی ہونا چاہیے اور دیت کے بجائے پردہ بکارت کو زائل کرنے کا تاوان ہونا چاہیے۔
(۱۷۷۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ نِسْوَۃً کُنَّ بِالشَّامِ ، فَأَشِرْنَ وَبَطِرن وَلَعِبْنَ الْحُزُقَّۃَ ، فَرَکِبَتْ وَاحِدَۃٌ الأُخْرَی ، وَنَخَسَتِ الأُخْرَی ، فَأَذْہَبَتْ عُذْرَتَہَا ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ وَقَبِیصَۃَ بْنَ ذُؤَیْبٍ ، فَقَالاَ : عَلَیْہِنَّ الدِّیَۃُ، وَیُرْفَعُ نَصِیبَ وَاحِدَۃٍ ، وَقَالَ ابْنُ مُعْقِلٍ : یَرَی مِنْ نَطَفِہَا إلَی نَاخِسَتِہَا ، وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : وَأَنَا أَرَی ذَلِکَ وَلَہَا عُقْرُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت اپنے ہاتھ سے کسی لڑکی کا پردہ بکارت زائل کردے تو اس پر کیا تاوان ہوگا ؟
(١٧٧٦٢) حضرت بکر (رض) فرماتے ہیں کہ دو لڑکیاں حمام میں تھیں، ایک نے دوسرے کو دھکا دیا تو اس کا پردہ بکارت زائل ہوگیا۔ قاضی شریح (رض) نے اس کے لیے مہرِ مثلی کا فیصلہ فرمایا۔
(۱۷۷۶۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ بَکْرٍ ؛ أَنَّ جَارِیَتَیْنِ کَانَتَا بِالْحَمَّامِ ، فَدَفَعَتْ إحْدَاہُمَا الأُخْرَی فَانْتَقَضَتْ عُذْرَتُہَا ، فَقَضَی لَہَا شُرَیْحٌ : عَلَیْہَا بِمِثْلِ صَدَاقِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٦٣) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو دونوں عورتوں کو مہر ملے گا اور مہر کے لیے خاوند اس سے رجوع کریں گے جس کی غلطی سے ایسا ہوا ہے۔
(۱۷۷۶۳) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أنَّہُ قَالَ فِی رَجُلَیْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَیْنِ فَأُدْخِلَ عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا امْرَأَۃُ صَاحِبِہِ قَالَ لَہُمَا الصَّدَاقُ وَیَرْجِعُ الزَّوْجَانِ عَلَی مَنْ غَیَّرَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٦٤) حضرت شعبی (رض) کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بھی یونہی فرماتے ہیں۔
(۱۷۷۶۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٦٥) حضرت حسن (رض) بھی یونہی فرماتے ہیں۔
(۱۷۷۶۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ ذَلِکَ أَیْضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو آدمیوں کی دو بہنوں سے شادی ہوئی لیکن ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری لائی گئی تو کیا حکم ہے ؟
(١٧٧٦٦) حضرت خلاس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو بھائیوں کا د و بہنوں سے نکاح ہوا، ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری عورت لائی گئی، یہ مقدمہ حضرت علی (رض) کی عدالت میں پیش ہوا آپ نے ہر عورت کو اس کے اصل خاوند کی طرف واپس فرمایا اور حکم دیا کہ عدت گزرنے تک خاوند اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں۔ پھر آپ نے جماع کرنے والوں پر مہر کو لازم قرار دیا اور تاوان اس شخص پر لازم کیا جس نے شادی کرائی تھی۔
(۱۷۷۶۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ أَخَوَانِ أُخْتَیْنِ ، فَأُدْخِلَتِ امْرَأَۃُ ہَذَا عَلَی ہَذَا ، وَامْرَأَۃُ ہَذَا عَلَی ہَذَا ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إلَی عَلِیٍّ ، فَرَدَّ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إلَی زَوْجِہَا ، وَأَمَرَ زَوْجَہَا أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا ، وَجَعَلَ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا الصَّدَاقَ عَلَی الَّذِی وَطِئَہَا لِغِشْیَانِہِ إیَّاہَا ، وَجَعَلَ جَہَازَہَا وَالْغُرْمَ عَلَی الَّذِی زَوَّجَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ فاحشہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
(١٧٧٦٧) حضرت ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاحشہ کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
(۱۷۷۶۷) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ عَنَ أَبی مَسْعُوْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ مَہْرِ البَغِیِّ۔ (بخاری ۲۲۳۷۔ ترمذی ۱۲۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ فاحشہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
(١٧٧٦٨) حضرت رافع بن خدیج (رض) فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی بری ہے اور زنا کی کمائی بری ہے۔
(۱۷۷۶۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ قَالَ : حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِیثٌ وَمَہْرُ الْبَغِیِّ خَبِیثٌ۔ (مسلم ۱۱۹۹۔ ابوداؤد ۳۴۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ فاحشہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
(١٧٧٦٩) حضرت ابو جحیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاحشہ کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
(۱۷۷۶۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کَسْب مَہْرِ الْبَغِیِّ۔ (احمد ۴/۳۰۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ فاحشہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
(١٧٧٧٠) حضرت ابو جحیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاحشہ کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
(۱۷۷۷۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ مَہْرِ الْبَغِیِّ۔ (ابویعلی ۸۹۲۔ طبرانی ۲۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ فاحشہ کی کمائی کی حرمت کا بیان
(١٧٧٧١) حضرت جابر (رض) قرآن مجید کی آیت { وَمَنْ یُکْرِہْہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِنْ بَعْدِ إکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ} کے بارے میں فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول اپنی باندی سے کہتا تھا کہ جاؤ اور ہمارے لیے جسم فروشی کی کمائی لاؤ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَلاَ تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَمَنْ یُکْرِہْہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِنْ بَعْدِ إکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ}
(۱۷۷۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ فِی قَوْلِہِ : {وَمَنْ یُکْرِہْہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِنْ بَعْدِ إکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ} قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أُبَیِّ ابْنُ سَلُولَ یَقُولُ لِجَارِیَتِہِ : اذْہَبِی فَابْغِینَا شَیْئًا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی : {وَلاَ تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَمَنْ یُکْرِہْہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِنْ بَعْدِ إکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَحِیمٌ}۔ (مسلم ۲۶)
tahqiq

তাহকীক: