মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭৬৩১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دیہاتی کا مہاجرہ عورت سے نکاح کرنا مکروہ ہے
(١٧٦٣٢) حضرت زید بن وہب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ہماری طرف خط لکھا کہ کوئی دیہاتی کسی مہاجرہ عورت سے نکاح نہ کرے کہ اسے دار ہجرت سے نکال دے۔
(۱۷۶۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بِنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیْدَ بِنْ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ زَیْدٍ بِنْ وَہْبٍ قَالَ : کَتَبَ إلَیْنَا عُمَرُ إِنَّ الأَعْرَابِیَّ لاَ یَنْکِحُ الْمُہَاجِرَۃَ ، یُخْرِجَہَا مِنْ دَارِ الْہِجْرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دیہاتی کا مہاجرہ عورت سے نکاح کرنا مکروہ ہے
(١٧٦٣٣) حضرت حسن (رض) اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دیہاتی کسی مہاجرہ سے نکاح کرے۔
(۱۷۶۳۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بِنَ العَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الحَسَنِ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَتَزَوَّجَ الأَعْرَابِیُّ المُہَاجِرَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دیہاتی کا مہاجرہ عورت سے نکاح کرنا مکروہ ہے
(١٧٦٣٤) حضرت شعبی (رض) اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ کوئی دیہاتی کسی مہاجرہ سے نکاح کرے تاکہ اسے شہر سے لے جائے۔
(۱۷۶۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بِنْ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَتَزَوَّجَ الأَعْرَابِیُّ المُہَاجِرَۃَ لِیُخْرِجَہَا مِنَ المِصْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دیہاتی کا مہاجرہ عورت سے نکاح کرنا مکروہ ہے
(١٧٦٣٥) حضرت رکین (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ منظور بن زبان نے اپنے ماموں سے رشتہ مانگا۔ (اس وقت وہ دونوں حج یاعمرے میں تھے) انھوں نے جواب میں کہا کہ ٹھیک ہے جب میں واپس لوٹوں گا تو تمہارا نکاح کرادوں گا، ادھر اس لڑکی کے سگے بھائی نے اپنے ماموں زاد سے اس لڑکی کا نکاح کرادیا جس کا رشتہ اس کے باپ نے وہاں طے کیا تھا، جب وہ واپس آئے تو لڑکی کا نکاح ہوچکا تھا، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں اس نکاح سے بالکل بری ہوں۔ میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہاجرات کا نکاح دیہاتیوں سے نہیں کرایا جاسکتا۔
(۱۷۶۳۵) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بِنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الرَّکِیْنِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَطَبَ مَنْظُوْرُ بِنْ زَبَّان إِلَی خَالِہِ وَکَانَا حَاجَّیْنِ ، أَوْ مُعْتَمِرَیْنِ فَقَالَ : نَعَمْ إَذَا رَجَعْتُ أَنْکَحْتُکَ ، فَخَرَجَ إِلَیْہَا أَخُوْہَاَ ابْنُ أُمِّہَا وَأَبِیْہَا فَأَنْکَحَہَا ابْنَ خَالِہَا فَقَدِمَ وَقَد أنکحت ، فَغَضِبَ أَبُوہَا غَضَبًا شَدِیْدًا وَقَالَ : إِنِّی أبرأ إِلَی اللہِ مِنْ ہَذَا النِّکَاحِ ، إِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُوْلُ : لاَ یُنْکَحُ المُہَاجِرَاتُ الأَعْرَابَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٣٦) حضرت عمرو بن شرید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کی ایک بیوی اور ایک باندی ہو، ان میں سے ایک کسی لڑکے کو جنم دے اور دوسری کسی لڑکی کو دودھ پلائے تو کیا اس لڑکے کا دودھ پینے والی لڑکی سے نکاح درست ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں، کیونکہ دونوں میں دودھ کے اترنے کا سبب ایک مرد ہے۔
(۱۷۶۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیس ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عن الزہری ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَجُلٍ لَہُ امْرَأَۃٌ وَسُرِّیَّۃٌ ولدت إحْدَاہُمَا غُلاَمًا وَأَرْضَعَتْ إحْدَاہُمَا جَارِیَۃً ہَلْ یَصْلُحُ لِلْغُلاَمِ أَنْ یَتَزَوَّجَ الْجَارِیَۃَ ؟ قَالَ : لاَ ، اللِّقَاحُ وَاحِدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٣٧) حضرت مجاہد (رض) کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
(۱۷۶۳۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُ کَرِہَ لَبَنَ الْفَحْلِ وَکَرِہَ قَوْلَ إبْرَاہِیمَ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٣٨) حضرت حسن (رض) کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
(۱۷۶۳۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، وَابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَرِہَہُ یَعْنِی لَبَنَ الْفَحْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٣٩) حضرت شعبی (رض) کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
(۱۷۶۳۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَبْرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৩৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤٠) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی حرمت کو ثابت کرتا ہے۔
(۱۷۶۴۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : کَانَ یَرَی لَبَنَ الْفَحْلِ یُحَرِّم۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤١) حضرت سالم (رض) کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے۔
(۱۷۶۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سفیان ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ سَالِمٍ أنَّہُ کَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤٢) حضرت عباد بن منصور (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد (رض) سے سوال کیا کہ میرے والد کی بیوی نے ایک لڑکی کو میری باپ شریک بہن کے حصے کا دودھ پلایا، کیا وہ لڑکی میرے لیے حلال ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں، تیرا باپ اس کا باپ ہے۔ میں نے یہی سوال حضرت طاوس (رض) کیا انھوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حضرت حسن (رض) سے کیا انھوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حضرت مجاہد (رض) سے کیا انھوں نے فرمایا کہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ میں اس میں کوئی بات نہیں کہتا۔ میں نے ابن سیرین (رض) سے یہ سوال کیا تو انھوں نے بھی حضرت مجاہد (رض) والی بات کہی۔
(۱۷۶۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ : قُلْتُ امْرَأَۃ أَبِی أَرْضَعَتْ جَارِیَۃً مِنْ عَرَضِ النَّاسِ بِلِبَانِ إخْوَتِی مِنْ أَبِی ، تَحِلُّ لِی ؟ قَالَ : لاَ ، أَبُوک أَبُوہَا ، وَسَأَلْت طَاوُوسًا ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَسَأَلْت الْحَسَنَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَسَأَلْت مُجَاہِدًا ، فَقَالَ : اخْتَلَفَ فِیہِ النَّاسُ وَلاَ أَقُولُ فِیہَا شَیْئًا وَسَأَلْت ابْنَ سِیرِینَ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُجَاہِدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤٣) حضرت ایوب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا تذکرہ حضرت محمد بن سیرین (رض) سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ اہل مدینہ کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے اسے مکروہ بتایا ہے اور بعض کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جن حضرات نے اسے مکروہ بتایا ہے وہ ہمارے نزدیک زیادہ بہتر ہیں۔ قاسم بن محمد بھی اسے مکروہ بتاتے تھے۔
(۱۷۶۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ قَالَ : ذَکَرْت ذَلِکَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، فَقَالَ نُبِّئْت أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ اخْتَلَفُوا فِیہِ فَمِنْہُمْ مَنْ کَرِہَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یَکْرَہْہُ وَمَنْ کَرِہَ أَفْضَلُ فِی أَنْفُسِنَا مِمَّنْ لَمْ یَکْرَہْہُ ، وَکَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِیمَنْ یَکْرَہُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤٤) حضرت محمد بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زہری ہشام (رض) کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں مدینہ منورہ آئے اور انھوں نے بیان کیا کہ حضرت عروہ (رض) حضرت عائشہ (رض) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابو قعیس (رض) حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات کے لیے اجازت چاہتے تھے، حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابو قعیس کو ابو قعیس کے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے انھیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عروہ (رض) کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے اس بات کا تذکرہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے انھیں اجازت کیوں نہیں دی، رضاعت بھی ان چیزوں کو حرام کردیتی ہے جنہیں نسب حرام کرتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد سن کر اہل مدینہ گھبرا گئے۔ عبداللہ بن ابی حبیبہ مولی زبیر نے اس موقع پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
(۱۷۶۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قدِمَ الزُّہْرِیُّ المدینۃ فِی أَوَّلِ خِلاَفَۃِ ہِشَامٍ فَذَکَرَ أَنَّ عُرْوَۃَ کَانَ یُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَبَا الْقُعَیْسِ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَی عَائِشَۃَ وَقَدْ أَرْضَعَتْہُمَا امْرَأَۃُ أَخِیہِ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَہُ فَزَعَمَ عُرْوَۃُ أَنَّ عَائِشَۃَ ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : فَہَلاَّ أَذِنْت لَہُ ؟ فَإِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ فَفَزِعَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ لِذَلِکَ فَطَلَّقَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی حَبِیبَۃَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ امْرَأَتَہُ عِنْدَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤٥) حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین (رض) نے ایک مرتبہ دودھ اترنے کا سبب بننے والے مرد کے حکم کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ مکروہ ہے، بعض نے اس کی اجازت دی ہے۔ جن لوگوں نے اسے مکروہ خیال کیا ان کا قول زیادہ بہتر ہے۔ قاسم بن محمد (رض) بھی اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۷۶۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : ذُکِرَ لَبَنُ الْفَحْلِ ، فَقَالَ وَقَدْ کَرِہَہُ أُنَاسٌ وَرَخَّصَ فِیہِ أُنَاسٌ ، فَکَانَ مَنْ کَرِہَہُ عِنْدَ النَّاسِ أَفْضَلُ ، وَکَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِمَّنْ کَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک کسی عورت کے دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد بھی شرعی حیثیت رکھتا ہے
(١٧٦٤٦) حضرت ہشام (رض) نے دودھ اترنے کا سبب بننے والے مرد کو شرعی حیثیت دی ہے۔
(۱۷۶۴۶) حَدَّثَنَا مَالِکٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ ہِشَامٍ أَنَّ أَبَاہُ کَرِہَ لَبَنَ الْفَحْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
(١٧٦٤٧) حضرت زینب بنت ابی سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ (رض) نے مجھے دودھ پلایا تھا۔ چنانچہ (ان کے خاوند) حضرت زبیر بن عوام (رض) میرے پاس اس وقت تشریف لے آتے جب میں کنگھی کررہی ہوتی اور میری چٹیا کو پکڑ لیتے، اور وہ مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتے اور وہ اپنے بیٹوں کو میرا بھائی سمجھتے۔ یومِ حرہ کو ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے حمزہ بن زبیر (رض) کے لیے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ حمزہ اور مصعب (حضرت زبیر کے دو بیٹے ، حضرت اسماء کے بیٹے نہ تھے بلکہ ) بنو کلب کی عورت سے تھے۔ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو پیغام دیا کہ کیا میری بیٹی کا نکاح ان سے ہوسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ کیا تم میری طرف سے بھیجے گئے رشتے کا انکار کررہی ہو حالانکہ میں تمہارا بھائی ہو ؟ جو بچے حضرت اسمائ (رض) سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو حضرت زبیر (رض) کی کسی اور بیوی سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں، تم یہ مسئلہ کسی اور سے پوچھ سکتی ہو۔ اس وقت بہت سے صحابہ کرام (رض) اور امہات المومنین (رض) بقیدِ حیات تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔
(۱۷۶۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی عُبَیدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَمْعَۃَ عَن أُمِہ زَینَب ابنَۃ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَت : کَانَتْ أَسْمَائُ أَرْضَعَتْنِی ، وَکَانَ الزُّبَیْرُ یَدْخُلُ عَلَیَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ وَیَأْخُذُ الْقَرْنَ مِنْ قُرُونِی وَیَقُولُ : أَقْبِلِی عَلیَّ فحدثنی بربی أنَّہُ أَبِی وَأن مَا وَلَدَ إخْوَتِی ، فَلَمَّا کَانَ یوم الْحَرَّۃِ أَرْسَلَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ یَخْطُبُ ابْنَتِی عَلَی حَمْزَۃَ بن الزُّبَیْر وَحَمْزَۃُ وَمُصْعَبٌ لِلْکَلْبِیَّۃِ فَأَرْسَلْت إلَیْہِ : ہَلْ تَصْلُحُ لَہُ ؟ فَأَرْسَلَ إلَیَّ : إنَّمَا تُرِیدِینَ مَنْعِی بِنْتَکِ وَأَنَا أَخُوک ، وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَائُ فَہُمْ إخْوَتُک وما وَلَدُ الزُّبَیْرِ لِغَیْرِ أَسْمَائَ فَلَیْسَ لَکَ بِإِخْوَۃٍ فَأَرْسِلِی فَسَلِی فَأَرْسَلْتُ فَسَأَلْتُ وَأَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّہَاتُ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالُوا : إنَّ الرَّضَاعَۃَ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ لاَ تُحَرِّمُ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
(١٧٦٤٨) حضرت یزید بن عبداللہ بن قسیط (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سعید بن مسیب، عطاء اور حضرت سلیمان بن یسار (رض) سے مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔
(۱۷۶۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَعَطَائً وَسُلَیْمَانَ ابْنَی یَسَارٍ ، عَنِ الرَّضَاعَۃِ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ فَقَالُوا : لاَ تُحَرِّمُ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
(١٧٦٤٩) حضرت رافع بن خدیج (رض) کی اولاد میں سے ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج (رض) نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھائی رفاعہ بن خدیج کے بیٹے سے کرائی، حالانکہ اس لڑکی کو ایک ایسی عورت نے دودھ پلایا تھا جو اس لڑکے کی ماں تو نہ تھی لیکن حضرت رفاعہ بن خدیج (رض) کی ایسی باندی تھی جس سے ان کی اولاد بھی ہوئی تھی۔ یعنی اس باندی کے دودھ اترنے کا سبب حضرت رفاعہ (رض) تھے۔
(۱۷۶۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حدَّثَنِی آل رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ زَوَّجَ ابْنَتَہُ ابْنَ أَخِیہِ رِفَاعَۃَ بْنِ خَدِیجٍ وَقَدْ أَرْضَعَتْہَا أُمُّ وَلَدٍ لَہُ سِوَی أُمِّ ابنہِ الَّذِی أَنْکَحَہَا إیَّاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৪৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
(١٧٦٥٠) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ دودھ اترنے کا سبب بننا مرد کو رضاعی باپ نہیں بناتا۔
(۱۷۶۵۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ لَبَنَ الْفَحْلِ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬৫০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
(١٧٦٥١) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ دودھ اترنے کا سبب بننا مرد کو رضاعی باپ نہیں بناتا۔
(۱۷۶۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ أَنَّہُ لَمْ یَرَ بِلَبَنِ الْفَحْلِ بَأْسًا۔
তাহকীক: