মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৬২৭১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٢) حضرت ابن عباس (رض) جب کسی بچی کی شادی کراتے تو خاوند سے امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاتے۔
(۱۶۲۷۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ إذَا زَوَّجَ اشْتَرَطَ : {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بإحسان}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٣) حضرت ابن عمر (رض) جب کسی کا نکاح کراتے تو فرماتے کہ میں تم سے اس بات پر نکاح کراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } یعنی یا اچھے طریقے سے نبھاؤ یا عمدہ طریقے سے چھوڑ دو ۔
(۱۶۲۷۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إذَا أَنْکَحَ قَالَ : أُنْکِحُک عَلَی مَا قَالَ اللَّہُ : {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٤) حضرت سلیمان نے حضرت ابن عمر کی ایک مولاۃ خاتون کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا تو حضرت ابن عمر (رض) نے ان سے یہی فرمایا۔
(۱۶۲۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ قَالَ : أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ أَنَّہُ خَطَبَ إلَی ابْنِ عُمَرَ مَوْلاَۃً لَہُ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٥) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ کیا اسلاف نکاح کرتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگایا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ یہ شرط تو نہ لگاتے تھے بلکہ شرط لگائے بغیر اس بات کا لحاظ ہوتا تھا۔
(۱۶۲۷۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : سَأَلْتُہ ، فَقُلْتُ : أَکَانُوا یَشْتَرِطُونَ عِنْدَ عُقْدَۃِ النِّکَاحِ : {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} ؟ قَالَ ، فَقَالَ : ذَلِکَ لَہُمْ ، وَإِنْ لَمْ یَشْتَرِطُوا مَا کَانَ أَصْحَابُنَا یَشْتَرِطُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٦) حضرت ضحاک قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔
(۱۶۲۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ جُوَیْبر ، عَنِ الضَّحَّاکِ {وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا} قَالَ : {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٧) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔
(۱۶۲۷۷) حدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ {وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا} قَالَ: {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٨) حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد عقد نکاح ہے۔
(۱۶۲۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ {وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا} قَالَ: عُقْدَۃُ النِّکَاحِ، قَالَ : قَوْلُہُ : قَدْ نکحت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٧٩) حضرت عکرمہ اور حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم نے ان سے اللہ کی امانت کو لیا ہے اور ان کی شرم گاہوں کو اپنے لیے اللہ کے کلمے سے حلال کیا ہے۔
(۱۶۲۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، وَمُجَاہِدٍ {وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا} قَالَ : أَخَذْتُمُوہُنَّ بِأَمَانَۃِ اللہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٠) حضرت ابن عباس (رض) قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔
(۱۶۲۸۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا} قَالَ : {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اور بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے ؟
(١٦٢٨١) حضرت حسن اس بات کو جائز قرار دیتے تھے کہ کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اور بغیر گواہوں کے کرادے۔
(۱۶۲۸۱) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أنْ یُزَوِّجَ الرَّجُلُ عَبْدَہُ أَمَتَہُ بِغَیْرِ مَہْرٍ وَلاَ بَیِّنَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اور بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے البتہ اگر کسی کو گواہ بنالے تو بہتر ہے۔
(۱۶۲۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ فِی الرَّجُلِ یُزَوِّجُ عَبْدَہُ أَمَتَہُ بِغَیْرِ شُہُودٍ قَالَ : یُشْہِد أَحَبُّ إلَیَّ ، وَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَہُوَ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اور بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف غلام اور باندی کو نکاح پر مجبور کرتے تھے اور ان کے لیے دروازہ بند کرتے تھے۔
(۱۶۲۸۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانُوا یُکْرِہُونَ الْمَمْلُوکَیْنِ عَلَی النِّکَاحِ وَیُغْلِقُونَ عَلَیْہِمَا الْبَابَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اور بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٤) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر کے کراسکتا ہے۔
(۱۶۲۸۴) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُزَوِّجَ الرَّجُلُ أَمَتَہُ عَبْدَہُ بِغَیْرِ مَہْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اور بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٥) حضرت ابو فاطمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی اپنے غلام سے یہ کہے کہ میری فلاں باندی لے لو، اگر چاہو تو اس سے نکاح کرلو اور اگر چاہو اسے بیچ کر اس کی قیمت مجھے دے دو ۔ تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کو جوڑا پہنا دے۔
(۱۶۲۸۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ أَبِی فَاطِمَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ سِیرِینَ قَالَ : قُلْتُ : رَجُلٌ قَالَ لِمَمْلُوکِہِ : دُونَک جَارِیَتِی ہَذِہِ فُلاَنَۃُ ، فَإِنْ أَحْبَبْت أَنْ تَتَّخِذَہَا لِنَفْسِکَ وَإِلاَّ فَبِعْہَا وَرُدَّ عَلَیَّ ثَمَنَہَا ، قَالَ : اکْسُہَا ثَوْبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کتنی شادیاں کرسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٦) حضرت علی (رض) فرمایا کرتے تھے کہ غلام صرف دو شادیاں کرسکتا ہے۔
(۱۶۲۸۶) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقُولُ : لاَ یَنْکِحُ الْعَبْدُ فَوْقَ اثْنَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کتنی شادیاں کرسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ غلام چار شادیاں کرسکتا ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ غلام صرف دو شادیاں کرسکتا ہے۔
(۱۶۲۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ فِی الْعَبْدِ قَالَ : یَتَزَوَّجُ أَرْبَعًا ، وَقَالَ عَطَائٌ : اثْنَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کتنی شادیاں کرسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٨) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ غلام صرف دو شادیاں کرسکتا ہے۔
(۱۶۲۸۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُ الْمَمْلُوکُ إلاَّ امْرَأَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کتنی شادیاں کرسکتا ہے ؟
(١٦٢٨٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ غلام صرف دو شادیاں کرسکتا ہے۔
(۱۶۲۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : یَتَزَوَّجُ اثْنَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کتنی شادیاں کرسکتا ہے ؟
(١٦٢٩٠) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ غلام کے لیے دو سے زیادہ شادیاں کرنا مکروہ ہے، خواہ آزاد عورتیں ہوں یاباندیاں۔ غلام کا مال آقا کا مال ہے۔
(۱۶۲۹۰) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِی الرَّجُلِ الْمَمْلُوکِ : یُکْرَہُ لَہُ أَنْ یَجْمَعَ أَکْثَرَ مِنَ اثْنَتَیْنِ ، وَلاَ یُذْکَرُ إمَائً کُنَّ ، أَوْ حَرَائِرَ ، إِنَّمَا مَالُہُ مَالُ مَوْلاَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৯০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کتنی شادیاں کرسکتا ہے ؟
(١٦٢٩١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ غلام صرف دو شادیاں کرسکتا ہے۔
(۱۶۲۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : یَتَزَوَّجُ اثْنَتَیْنِ۔
তাহকীক: