মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭৩৯১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٩٢) حضرت عبد الرحمن بن معقل (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کی مجلس میں حاضر تھا، ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ لمبی مدت کو عدت بنائے گی۔ ایک آدمی نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) تو وضع حمل پر عدت کے مکمل ہونے کا فتوی دیتے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ وہ نہیں جانتے۔
(۱۷۳۹۲) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ : شَہِدْتُ عَلِیًّا وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنِ امْرَأَۃٍ تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ حَامِلٌ قَالَ : تَتَرَبَّصُ أَبْعَدَ الأَجَلَیْنِ ، فَقَالَ رَجُل إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ: یَقُولُ تَسْفِی نَفْسَہَا ؟ فَقَالَ عَلِیٌّ : إنَّ فَرُّوخَ لاَ یَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٣) حضرت عبداللہ (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی عورت سے شادی کرے، نہ اسے مہر دے اور نہ اس سے دخول کرے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ عورت کو پورا مہر ملے گا، اسے میراث ملے گی اور اس پر پوری عدت واجب ہوگی۔ حضرت معقل بن سنان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (رض) کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
(۱۷۳۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَمَاتَ عَنْہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : لَہَا الصَّدَاقُ وَلَہَا الْمِیرَاثُ وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ : شَہِدْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضَی فِی بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ مِثْلَ ذَلِکَ۔ (ابن ماجہ ۱۸۹۱۔ احمد ۴/۲۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٤) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۷۳۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ : مِثْلَہُ۔
(ابوداؤد ۲۱۰۸۔ ابن ماجہ ۱۸۹۱)
(ابوداؤد ۲۱۰۸۔ ابن ماجہ ۱۸۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٥) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۷۳۹۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ مَہْدِیٍّ ، عَنْ فِرَاسٍ۔ (ترمذی ۱۱۴۵۔ ابوداؤد ۲۱۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٦) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے ایک بیٹے کی شادی کرائی۔ ان کا انتقال مہر کے مقرر کرنے سے پہلے اور دخول کرنے سے پہلے ہوگیا، لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے مہر کا مطالبہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہے، انھوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو ثالث بنایا تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس عورت کو مہر نہیں ملے گا۔
(۱۷۳۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ أن ابْنَ عُمَرَ زَوَّجَ ابْنًا لَہُ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِہِ ، فَتُوُفِّیَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، وَلَمْ یُسَمِّ لَہَا صَدَاقًا ، فَطَلَبُوا إلَی ابْنِ عُمَرَ الصَّدَاقَ ، فَقَالَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ ، فَأَبَوْا أَنْ یَرْضَوْا بِذَلِکَ، فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَأَتَوْہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٧) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ وہ وارث بھی ہوگی اور عدت بھی گزارے گی۔
(۱۷۳۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ تَرِثُ وَتَعْتَدُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٨) حضرت ابوشعثائ (رض) اور حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر نکاح کے بعد مہر کی ادائیگی سے پہلے کسی کا انتقال ہوجائے تو عورت کو میراث ملے گی مہر نہیں ملے گا۔
(۱۷۳۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ ، وَعَطَائٍ فِی الَّذِی یُفَوَّضُ إلَیْہِ فَیَمُوتُ قَبْلَ أَنْ یَفْرِضَ قَالاَ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٣٩٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اسے میراث ملے گی مہر نہیں ملے گا۔
(۱۷۳۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرو وَعَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ یُرَی أَنَّہُ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠٠) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کے لیے مہر مقرر کرنے اور دخول سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا۔ تو لوگوں نے کہا کہ اسے میراث ملے گی مہر نہیں ملے گا۔ حضرت مسروق (رض) نے فرمایا کہ میراث اس وقت تک نہیں ملتی جب تک اس سے پہلے مہر نہ ہو۔
(۱۷۴۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ رَجُلاً بِالْمَدِینَۃِ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا قَالُوا : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ مَہْرَ لَہَا وَقَالَ مَسْرُوقٌ : لاَ یَکُونُ مِیرَاثٌ حَتَّی یَکُونَ قَبْلَہُ مَہْرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اسے آدھا مہر ملے گا۔ یا فرمایا کہ اسے پورا مہر ملے گا۔ (راوی ابوبکر کو شک ہے)
(۱۷۴۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ ، أَوِ الصَّدَاقُ ، شَکَّ أَبُو بَکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠٢) حضرت علقمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے اور اس سے جماع کرنے سے پہلے انتقال کرگیا۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد اب تک مجھ سے اتنا مشکل سوال نہیں کیا گیا، تم کسی اور سے پوچھ لو، لوگ ایک ماہ ادھر ادھر سوال کرتے پھرتے رہے لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچے۔ چنانچہ وہ آدمی پھر حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ آپ اس شہر میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، آپ ہی بتا دیجئے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے بات کروں گا، اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کے خاندان کی عورت کے برابر مہر ملے گا نہ کم نہ زیادہ، اور اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر اس عورت کی عدت لازم ہوگی جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ حضرت ابن مسعود (رض) کا یہ فتویٰ سن کر بنو اشجع کے لوگ کہنے لگے کہ ہم گواہی دیتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو جتنا خوش دیکھا اتنا خوش میں نے انھیں کبھی نہیں دیکھا۔
(۱۷۴۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إنَّ رَجُلاً مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا وَلَمْ یُجَامِعْہَا حَتَّی مَاتَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : مَا سُئِلْت عَنْ شَیْئٍ مُنْذُ فَارَقْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ ہَذَا، سَلُوا غَیْرِی فَتَرَدَّدُوا فِیہَا شَہْرًا قَالَ: فَقَالَ: مَنْ أَسْأَلُ وَأَنْتُمْ أَخِیَّۃُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ بِہَذَا الْبَلَدِ؟ فَقَالَ: سَأَقُولُ فِیہَا بِرَأْیِی فَإِنْ یَکُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللہِ ، وَإِنْ یَکُنْ خَطَأً فَمِنِّی وَمِنَ الشَّیْطَانِ ، أَرَی أَنَّ لَہَا مَہْرَ نِسَائِہَا لاَ وَکْسَ وَلاَ شَطَطَ وَلَہَا الْمِیرَاثُ وَعَلَیْہَا عِدَّۃُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ : نَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضَی مِثْلَ الَّذِی قَضَیْت فِی امْرَأَۃٍ مِنَّا یُقَالُ لَہَا بِرْوَعُ ابْنَۃُ وَاشِقٍ قَالَ : فَمَا رَأَیْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَرِحَ بِشَیْئٍ مَا فَرِحَ یَوْمَئِذٍ بِہِ۔(ابن حبان ۴۱۰۱۔ حاکم ۱۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠٣) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ایک بیٹے نے حضرت عبید اللہ بن عمر (رض) کی ایک بیٹی سے شادی کی۔ اس لڑکی کی والدہ کا نام اسماء بنت زید بن خطاب تھا۔ حضرت ابن عمر (رض) کے اس بیٹے کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی انتقال ہوگیا۔ لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے مہر اور میراث کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔ لوگوں نے حضرت ابن عمر (رض) کی اس بات کا انکار کیا تو انھوں نے حضرت زید بن ثابت (رض) کو ثالث بنایا تو حضرت زید نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گی۔
(۱۷۴۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : تَزَوَّجَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بِنْتًا لِعُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ کَانَتْ أُمُّہَا أَسْمَائَ بِنْتَ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فَتُوُفِّیَ وَلَمْ یَکُنْ فَرَضَ لَہَا صَدَاقًا فَطَلَبُوا مِنْہُ الصَّدَاقَ وَالْمِیرَاثَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا فَأَبَوْا ذَلِکَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ زَیْدٌ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس لڑکی کو میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔
(۱۷۴۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ وہ عورت جس کا خاوند مہر کی تقرری اور شرعی ملاقات سے پہلے انتقال کرجائے اسے اپنے خاندان کی دوسری عورتوں کے برابر مہر ملے گا۔ وہ اس بات کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کیا کرتے تھے۔ وہ عورت اس عورت کی طرح عدت گزارے گی جس کا خاوند فوت ہوجائے اور اسے میراث بھی ملے گی۔
(۱۷۴۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الَّتِی یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا قَبْلَ أَنْ یَفْرِضَ لَہَا وَقَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا : أَنَّ لَہَا صَدَاقَ نِسَائِہَا وَیُحَدِّثُ بِذَلِکَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعِدَّۃَ الْمُتَوَفَّی وَلَہَا الْمِیرَاثُ۔ (سعید بن منصور ۹۳۳۔ عبدالرزاق ۱۰۹۰۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
(١٧٤٠٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔
(۱۷۴۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَہُ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت پر خاوند کا کیا حق ہے ؟
(١٧٤٠٧) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی اپنی بیٹی کو لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ میری یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کررہی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچی سے فرمایا کہ اپنے باپ کی بات مان لو۔ اس لڑکی نے کہا کہ میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہ بتادیں کہ بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیوی پر خاوند کا حق یہ ہے کہ اگر خاوند کو پھوڑا نکل آئے اور اس کی بیوی اس پھوڑے کو چاٹے یا اس سے پیپ اور خون نکلے اس کی بیوی اس کو چاٹے تو پھر بھی اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اس پر اس لڑکی نے کہا کہ پھر تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے باپ سے فرمایا کہ عورتوں کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر نہ کرو۔
حدثنا أبو عبد الرحمن بقی بن مخلد ، قَالَ : حدثنا أبو بکر عبد اللہ بن محمد بن أبی شیبۃ ، قال:
(۱۷۴۰۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا رَبِیعَۃُ بن عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ نَہَارٍ الْعَبْدِیِّ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَی بِابْنَۃٍ لَہُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّ ابْنَتِی ہَذِہِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ قَالَ ، فَقَالَ لَہَا : أَطِیعِی أَبَاک قَالَ ، قَالَتْ : لاَ حَتَّی تُخْبِرَنِی مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ ؟ فَرَدَّدَتْ عَلَیْہِ مَقَالَتَہَا قَالَ ، فَقَالَ : حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ أَنْ لَوْ کَانَ بِہِ قُرْحَۃٌ فَلَحَسَتْہَا ، أَوِ ابْتَدَرَ مَنْخِرَاہُ صَدِیدًا ، أَوْ دَمًا ثُمَّ لَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہُ قَالَ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا قَالَ ، فَقَالَ : لاَ تُنْکِحُوہُنَّ إلاَّ بِإِذْنِہِنَّ۔ (ابن حبان ۴۱۶۴۔ حاکم ۱۸۸)
(۱۷۴۰۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا رَبِیعَۃُ بن عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ نَہَارٍ الْعَبْدِیِّ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ رَجُلاً أَتَی بِابْنَۃٍ لَہُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّ ابْنَتِی ہَذِہِ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ قَالَ ، فَقَالَ لَہَا : أَطِیعِی أَبَاک قَالَ ، قَالَتْ : لاَ حَتَّی تُخْبِرَنِی مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ ؟ فَرَدَّدَتْ عَلَیْہِ مَقَالَتَہَا قَالَ ، فَقَالَ : حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ أَنْ لَوْ کَانَ بِہِ قُرْحَۃٌ فَلَحَسَتْہَا ، أَوِ ابْتَدَرَ مَنْخِرَاہُ صَدِیدًا ، أَوْ دَمًا ثُمَّ لَحَسَتْہُ مَا أَدَّتْ حَقَّہُ قَالَ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا قَالَ ، فَقَالَ : لاَ تُنْکِحُوہُنَّ إلاَّ بِإِذْنِہِنَّ۔ (ابن حبان ۴۱۶۴۔ حاکم ۱۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت پر خاوند کا کیا حق ہے ؟
(١٧٤٠٨) حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس عورت کا انتقال اس حال میں ہو کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔
(۱۷۴۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی نَصْرٍ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْیَرِیِّ ، عَنْ أُمہِ قَالَت : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ مَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَنْہَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّۃَ۔ (ترمذی ۱۱۶۱۔ طبرانی ۸۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت پر خاوند کا کیا حق ہے ؟
(١٧٤٠٩) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خاوند کا حق یہ ہے کہ بیوی اسے اپنے نفس سے منع نہ کرے خواہ وہ چکی پر بیٹھی ہو۔ اس عورت نے پھر سوال کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خاوند کے گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خاوند کو اجر اور بیوی کو گناہ ملے گا۔ اس عورت نے پھر عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس پر اللہ کے فرشتے، رحمت کے فرشتے اور غضب کے فرشتے اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ توبہ نہ کرلے یا واپس نہ آجائے۔ اس عورت نے سوال کیا کہ خواہ اس کا خاوند ظالم ہی ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں خواہ وہ ظالم ہی ہو۔ پھر اس عورت نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے آج کے بعد میں اپنے معاملے کا مالک کسی کو نہیں بناؤں گی یعنی شادی نہیں کروں گی۔
(۱۷۴۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زوجتہ ؟ قَالَ : لاَ تَمْنَعُہُ نَفْسَہَا وَلَوْ کَانَتْ عَلَی ظَہْرِ قَتَبٍ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ ؟ قَالَ : لاَ تَصَدَّقُ بِشَیْئٍ مِنْ بَیْتِہِ إلاَّ بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ کَانَ لَہُ الأَجْرُ وَعَلَیْہَا الْوِزْرُ ، قَالَتْ : یَا نَبِی اللہ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی امرأتہ قَالَ : لاَ تَخْرُجَ مِنْ بَیْتِہِ إِلا بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْہَا مَلاَئِکَۃُ اللہِ وَمَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلاَئِکَۃُ الْغَضَبِ حَتَّی تَتُوبَ ، أَوْ تراجع قَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللہِ : فَإِنْ کَانَ لَہَا ظَالِمًا ؟ قَالَ : وَإِنْ کَانَ لَہَا ظَالِمًا ، قَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لاَ یَمْلِکُ عَلَیَّ أَمْرِی أَحَدٌ بَعْدَ ہَذَا أَبَدًا مَا بَقِیتُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت پر خاوند کا کیا حق ہے ؟
(١٧٤١٠) حضرت حصین بن محصن (رض) فرماتے ہیں کہ میری پھوپھی کسی کام کے سلسلے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جب حاجت پوری ہوگئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تمہارے خاوند ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو ؟ انھوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ان کی بھلائی کا ہی سوچتی ہوں، سوائے اس کے کہ میں عاجز آ جاؤں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دھیان رکھنا وہی تمہاری جنت ہے اور وہی تمہاری جہنم ہے۔
(۱۷۴۱۰) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ بُشَیرِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّۃً لَہُ أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَطْلُبُ حَاجَۃً فَلَمَّا قَضَتْ حَاجَتَہَا قَالَ : أَلَکِ زَوْجٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَیْنَ أَنْتِ مِنْہُ ؟ قَالَتْ : مَا آلُوہُ خَیْرًا إلاَّ مَا عَجَزْتُ عَنْہُ قَالَ : انْظُرِی ، فَإِنَّہُ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ۔
(احمد ۴/۳۴۱۔ حاکم ۱۸۹)
(احمد ۴/۳۴۱۔ حاکم ۱۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت پر خاوند کا کیا حق ہے ؟
(١٧٤١١) حضرت معاذ بن جبل (رض) جب یمن سے واپس آئے تو انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے ایک قوم کو دیکھا جو ایک دوسرے کو سجدہ کیا کرتے تھے، کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کریں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں، سوائے اللہ کے کسی کو سجدہ نہیں کیا جاسکتا، اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں۔
(۱۷۴۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الْیَمَنِ قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، رَأَیْنَا قَوْمًا یَسْجُدُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ أَفَلاَ نَسْجُدُ لَکَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ ، إنَّہُ لاَ یَسْجُدُ أَحَدٌ لأَحَدٍ دون اللہ وَلَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا یَسْجُدُ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ النِّسَائَ یَسْجُدْنَ لأَزْوَاجِہِنَّ۔
তাহকীক: