মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭৩৭১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسرا آدمی اس سے اس لیے شادی کرے تاکہ وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٣٧٢) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
(۱۷۳۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ جابر بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔ (ابوداؤد ۲۰۷۰۔ احمد ۱/۸۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسرا آدمی اس سے اس لیے شادی کرے تاکہ وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٣٧٣) حضرت عمرو بن دینار (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے، پھر دیہات سے ایک آدمی آئے جو نہ مرد کو جانتا ہو اور نہ عورت کو، وہ اپنا کچھ مال نکالے اور عورت سے اس بنیاد پر شادی کرے کہ عورت کو مرد کے لیے حلال کرے تو یہ کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ درست نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا یہ درست نہیں۔ اس سے اپنے نفس کی چاہت کے بغیر نکاح نہ کرے، اس سے اپنے نفس کی چاہت کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو عورت پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک آدمی عورت کا شہد نہ چکھ لے۔
(۱۷۳۷۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی الْفُرَاتِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْقَرْیَۃِ بِغَیْرِ عِلْمِہِ وَلاَ عِلْمِہَا فَأَخْرَجَ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ فَتَزَوَّجَہَا بہ لِیُحِلَّہَا لَہُ ، فَقَالَ : لاَ ، ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مِثْلِ ذَلِکَ ، فَقَالَ : لاَ حَتَّی یَنْکِحَہَا مُرْتَغِِبًا لِنَفْسِہِ ، حَتَّی یَتَزَوَّجَہَا مُرْتَغِِبًا لِنَفْسِہِ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِکَ لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتَّی یذُوقَ الْعُسَیْلَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسرا آدمی اس سے اس لیے شادی کرے تاکہ وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٣٧٤) حضرت عباد بن منصور (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت حسن (رض) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میری قوم کے ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، پھر اسے اور اس کی بیوی کو اس پر افسوس ہوا۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اس عورت سے شادی کروں، اسے اس کا مہر دوں، پھر اس سے شرعی ملاقات کروں اور پھر اسے طلاق دے دوں تاکہ وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے، یہ کرنا کیسا ہے ؟ حضرت حسن (رض) نے اس سے فرمایا کہ اے نوجوان ! اللہ سے ڈرو اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو پامال نہ کرو۔
(۱۷۳۷۴) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ : حدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی الْحَسَنِ ، فَقَالَ : إنَّ رَجُلاً مِنْ قَوْمِی طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَنَدِمَ وَنَدِمَتْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ فَأَتَزَوَّجَہَا وَأَصْدُقَہَا صَدَاقًا ثُمَّ أَدْخُلَ بِہَا کَمَا یَدْخُلُ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِہِ ، ثُمَّ أُطَلِّقَہَا حَتَّی تَحِلَّ لِزَوْجِہَا ، قَالَ ، فَقَالَ لَہُ الْحَسَنُ : اتَّقِ اللَّہَ یَا فَتَی وَلاَ تَکُونَنَّ مِسْمَارَ نَارٍ لِحُدُودِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسرا آدمی اس سے اس لیے شادی کرے تاکہ وہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٧٣٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
(۱۷۳۷۵) حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِیِّ ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔
(ترمذی ۴۳۷۔ احمد ۲/۳۲۳)
(ترمذی ۴۳۷۔ احمد ۲/۳۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٧٦) حضرت ابو سنابل (رض) فرماتے ہیں کہ سبیعہ بنت حارث نے اپنے خاوند کی وفات کے بیس اور کچھ دن بعد بچے کو جنم دیا۔ جب وہ نفاس سے پاک ہوئیں تو انھوں نے زیب وزینت اختیار کرلی۔ انھیں اس بات پر برا بھلا کہا گیا، جب اس بات کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو ٹھیک ہے، کیونکہ ان کی عدت گزر چکی ہے۔
(۱۷۳۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِی السَّنَابِلِ قَالَ : وَضَعَتْ سُبَیْعَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ حَمْلَہَا بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِبِضْعٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِہَا تَشَوَّفَتْ فَعِیبَ ذَلِکَ عَلَیْہَا وَذُکِرَ أَمْرُہَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ مَضَی أَجَلُہَا۔
(طبرانی ۸۹۶۔ دارمی ۲۲۸۱)
(طبرانی ۸۹۶۔ دارمی ۲۲۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٧٧) حضرت ابو سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں، حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ (رض) ایک مجلس میں تھے۔ ہمارے درمیان مذاکرہ ہوا کہ اگر ایک عورت کا خاوند مرجائے اور وہ عورت خاوند کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد بچے کو جنم دے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا ؟ میں نے کہا کہ اس کی عدت مکمل ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں سے جو زیادہ ہو وہ اس کی عدت ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں تو اپنے بھائی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انھوں نے حضرت ابن عباس (رض) کے غلام کریب کو حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس بھیجا۔ حضرت ام سلمہ (رض) نے اس مسئلے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سبیعہ اسلمی (رض) نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد بنو عبد الدار کے ایک آدمی جن کی کنیت ابو سنابل تھی انھوں نے سبیعہ اسلمی (رض) کو نکاح کا پیغام دیا اور ان سے کہا کہ آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے۔ سبیعہ نے کسی اور سے نکاح کا ارادہ کیا تو ابوسنابل نے کہا کہ تمہاری عدت مکمل نہیں ہوئی۔ سبیعہ نے اس بات کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا تو آپ نے انھیں شادی کرنے کی اجازت دے دی۔
(۱۷۳۷۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یحیی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : کُنْتُ أَنَا ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ فَتَذَاکَرْنَا : الرَّجُلُ یَمُوتُ ، عَنِ الْمَرْأَۃِ فَتَضَعُ بَعْدَ وَفَاتِہِ بِیَسِیرٍ فَقُلْتُ : إذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَجَلُہَا آخِرُ الأَجَلَیْنِ فَتَرَاجَعَا بِذَلِکَ ، فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِی یَعْنِی أَبَا سَلَمَۃَ فَبَعَثُوا کُرَیْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ إلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، فَقَالَتْ : إنَّ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً ، وَإِنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ یُکَنَّی أَبَا السَّنَابِلِ خَطَبَہَا وَأَخْبَرَہَا أَنَّہَا قَدْ حَلَّتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَیْرَہُ ، فَقَالَ لَہَا أَبُو السَّنَابِلِ : إنَّک لَمْ تَحِلِّینَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ سُبَیْعَۃُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَہَا أَنْ تَتَزَوَّجَ۔ (مسلم ۱۲۲۔ ترمذی ۱۱۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٧٨) حضرت مسور (رض) فرماتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے خاوند کی وفات کے ایک مہینے بعد بچے کو جنم دیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں شادی کی اجازت دے دی۔
(۱۷۳۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ أَنَّ سُبَیْعَۃَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِشَہْرٍ فَأَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تَزَوَّجَ۔ (بخاری ۵۳۲۰۔ احمد ۴/۳۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٧٩) ایک انصاری نے حضرت ابن عمر (رض) سے بیان کیا کہ میں نے آپ کے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر حاملہ عورت کا خاوند مرنے کے بعد جنازے کی چارپائی پر ہو اور عورت بچے کو جنم دے دے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔
(۱۷۳۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَاک یَقُولُ : لَوْ وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا ذَا بَطْنِہَا وَہُوَ عَلَی السَّرِیرِ فَقَدْ حَلَّتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٠) حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ جب خاوند کفن میں ملبوس گھر میں پڑا ہو اور اس کی بیوی بچے کو جنم دے دے تو عدت مکمل ہوگئی۔
(۱۷۳۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْہَبٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ ، عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ قَالاَ : إذَا وَضَعَتْ وَہُوَ فِی جَانِبِ الْبَیْتِ فِی أَکْفَانِہِ فَقَدْ حَلَّتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨١) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اس بارے میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) سے مشورہ کیا تو حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ بچے کو جنم دیتے ہی عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت زید نے فرمایا کہ اگر عورت ایسی عمر کو پہنچ چکی ہو جس میں حمل اور ولادت کا تصور نہیں ہوتا تو اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ طویل مدت عدت کی مدت ہوگی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر حاملہ کے خاوند کی نعش کو قبر میں نہ اتارا گیا ہو اور وہ بچے کو جنم دے دے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔
(۱۷۳۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رضی اللہ عنہ وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ زَیْدٌ : قدْ حَلَّتْ وَقَالَ عَلِیٌّ : أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا قَالَ زَیْدٌ: أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَتْ یَئیسًا قَالَ عَلِیٌّ : فَآخِرُ الأَجَلَیْنِ قَالَ عُمَرُ : لَوْ وَضَعَتْ ذَا بَطْنِہَا وَزَوْجُہَا عَلَی نَعْشِہِ لَمْ یَدْخُلْ حُفْرَتَہُ لَکَانَتْ قَدْ حَلَّتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٢) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ چھوٹی سورة النساء (سورۃ الطلاق) (جس میں عدت کے وضع حمل ہونے کا تذکرہ ہے) قرآن مجید کی آیت { أَرْبَعَۃ أَشْھُر وَّعَشْرًا } کے بعد نازل ہوئی ہے۔
(۱۷۳۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: وَاللَّہِ مَنْ شَائَ لَقَاسَمْتُہُ لَنَزَلَتْ سُورَۃُ النِّسَائِ الْقُصْرَی بَعْدَ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ (ابوداؤد ۲۳۰۱۔ ابن ماجہ ۲۰۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٣) حضرت ابو قلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو بچہ جنتے ہی اس کی عدت مکمل ہوجائے گی۔
(۱۷۳۸۳) حَدَّثَنَا عبد الوہاب الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ حَامِلٌ : إذَا وَضَعَتْ حَلَّتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٤) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حاملہ کو طلاق دے دے یا اس کا خاوند فوت ہوجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔
(۱۷۳۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَامِلٌ ، أَوْ تُوُفِّیَ عَنْہَا فَإِنَّ أَجَلَہَا أَنْ تَضَعَ حَمْلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٥) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے زیادہ مدت اس کی عدت ہوگی۔
(۱۷۳۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : أَجَلُ کُلِّ حَامِلٍ أَنْ تَضَعَ حَمْلَہَا قَالَ : وَکَانَ عَلِیٌّ یَقُولُ : آخِرُ الأَجَلَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے زیادہ مدت اس کی عدت ہوگی۔
(۱۷۳۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُذْکَرْ فِیہِ مَسْرُوقٌ ، عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : آخِرُ الأَجَلَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٧) حضرت عمرو بن سالم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ کچھ عورتوں کی عدت قرآن مجید میں بیان نہیں کی گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی { وَاللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ أَشْہُرٍ وَاللاَّئِی لَمْ یَحِضْنَ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ }(الطلاق : ٤)
(۱۷۳۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَالِمٍ قَالَ : قَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ عِدَدًا مِنْ عِدَدِ النِّسَائِ لَمْ یُذْکَرْ فِی کِتَابِ اللہِ ، الصِّغَارُ وَالْکِبَارُ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی : {وَاللاَّئِی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَثَۃُ أَشْہُرٍ وَاللاَّئِی لَمْ یَحِضْنَ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ}۔ (حاکم ۴۹۲۔ ابن جریر ۱۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٨) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) کے حلقے میں تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ حاملہ کی عدت دونوں میں سے زیادہ طویل مدت ہے۔ اس پر میں نے حضرت سبیعہ (رض) کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عتبہ (رض) کی روایت بیان کی تو ان کے شاگرد مجھے گھورنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عتبہ (رض) کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ جب کہ انھوں نے مسجد کے ایک گوشے میں اس کو بیان کیا۔
(۱۷۳۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : کُنْتُ فِی حَلْقَۃٍ فِیہَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی قَالَ : فَقَالَ : آخِرُ الأَجَلَیْنِ قَالَ : فَذَکَرْتُ حَدِیثَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنْ سُبَیْعَۃَ قَالَ فَضمَزَ لِی أَصْحَابُہُ قَالَ: فَقُلْتُ : إنِّی لَجَرِیئٌ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ إِنْ کَذَبْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ فِی نَاحِیَۃِ المَسْجِد۔
(بخاری ۴۵۳۲۔ نسائی ۵۷۱۵)
(بخاری ۴۵۳۲۔ نسائی ۵۷۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٨٩) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت دونوں مدتوں میں سے زیادہ ہے۔
(۱۷۳۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا : عِدَّتُہَا آخِرُ الأَجَلَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٩٠) حضرت عبیداللہ (رض) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سبیعہ (رض) نے اپنے خاوند کی وفات کے بیس دن یا ایک مہینہ بعد بچے کو جنم دیا۔ ان کے یہاں ابو سنابل بن بعکک (رض) کا گزر ہوا تو انھوں نے کہا کہ کیا تم شادی کے لیے تیار ہو ؟ چار مہینے دس دن تک شادی نہ کرنا۔ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اور ساری بات بیان کی تو آپ نے فرمایا کہ تم شوہروں کے لیے حلال ہو۔
(۱۷۳۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: وَضَعَتْ سُبَیْعَۃُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِعِشْرِینَ، أَوْ بِشَہْرٍ ، أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ فَمَرَّ بِہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ ، فَقَالَ : قَدْ تَصَنَّعْتِ لِلأَزْوَاجِ ؟ لاَ ، حَتَّی یَأْتِیَ عَلَیْک أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا فَأَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ: قَدْ حَلَلْتِ لِلأَزْوَاجِ۔
(بخاری ۵۳۱۹۔ بیہقی ۴۱۹)
(بخاری ۵۳۱۹۔ بیہقی ۴۱۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کو جنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
(١٧٣٩١) حضرت مسروق (رض) اور حضرت عمرو بن عتبہ (رض) نے حضرت سبیعہ بنت حارث (رض) کو خط لکھا اور ان کے واقعے کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے جواب میں لکھا کہ انھوں نے اپنے خاوند کی وفات کے پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا تھا۔ پھر وہ خیر کی تلاش میں تیار ہوگئیں۔ ابو سنابل بن بعکک (رض) کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انھوں نے کہا کہ تم نے بہت جلدی کی، دونوں عدتوں میں سے زیادہ طویل مدت کو گزارو یعنی چار مہینے دس دن۔ پھر وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لیے دعاء مغفرت فرما دیجئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا بات پیش آئی ؟ انھوں نے سارا قصہ سنایا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تمہیں اچھا خاوند ملے تو اس سے شادی کرلو۔
(۱۷۳۹۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّہُمَا کَتَبَا إلَی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ یَسْأَلاَنِہَا عَنْ أَمْرِہَا فَکَتَبَتْ إلَیْہِمَا أَنَّہَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِخَمْسَۃٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَتَہَیَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَیْرَ فَمَرَّ بِہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ ، فَقَالَ : قدْ أَسْرَعْتِ ، اعْتَدِّی آخِرَ الأَجَلَیْنِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اسْتَغْفِرْ لِی ، فَقَالَ : وَمَا ذَاکِ ؟ فَأَخْبَرَتْہُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِی۔ (بخاری ۵۳۱۹۔ مسلم ۱۱۲۲)
তাহকীক: