মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭০৩১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٢) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس طرح آدمی کے لیے اس عورت سے وطی کرنا ناجائز ہے جس کے بطن میں کسی دوسرے کا جنین ہو۔
(۱۷۰۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ نُہی أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا أو عَلَی خَالَتِہَا أو یَطَأُ الرجل امْرَأَۃً فِی بَطْنِہَا جَنِینٌ لِغَیْرِہِ۔ (مالک ۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس عورت کی پھوپھی اور خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اسے طلاق دے تو اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے ان میں سے کسی سے نکاح نہیں کرسکتا۔
(۱۷۰۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : لاَ یَتَزَوَّجُ الرَّجُلُ عَمَّۃَ امْرَأَتِہِ وَلاَ خَالَتَہَا فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ یَتَزَوَّجُ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٤) حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا کہ ایک عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی رضاعی خالہ سے نکاح کیا گیا تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔
(۱۷۰۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : سَأَلْتُہُ ، عَنِ امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ عَلَی خَالَتِہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ قَالَ: یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٥) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی عورت کو اور اس کی رضاعی پھوپھی کو غلامی میں جمع کرے۔
(۱۷۰۳۵) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لاَ یَنْبَغِی لِلرَّجُلِ أَنْ یَجْمَعَ بَیْنَ امْرَأَۃٍ وَعَمَّتِہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ مِمَّا مَلَکَتِ الْیَمِینُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٦) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا کہ کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی پھوپھی یاخالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۳۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ فَتَحَ مَکَّۃَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا۔
(احمد ۲/۲۰۷۔ عبدالرزاق ۱۰۷۵۱)
(احمد ۲/۲۰۷۔ عبدالرزاق ۱۰۷۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٧) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جائے۔
(۱۷۰۳۷) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٨) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی خالہ سے نکاح کیا تو حضرت عمر (رض) نے اسے مارا اور دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
(۱۷۰۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی خَالَتِہَا فَضَرَبَہُ عُمَرُ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جائے۔
(۱۷۰۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَعقِلٍ ، عَنْ عَطَائٍ وَیَزِیدُ بْنُ إِبراہِیم ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا ، أَوْ عَلَی خَالَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا بیان
(١٧٠٤٠) حضرت عطاء اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کیا جائے کیونکہ اس سے دونوں کے درمیان فسا دہوگا۔
(۱۷۰۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : یُکْرَہُ الْجَمْعُ بَیْنَ ابْنَتَیِ الْعَمِّ لِفَسَادٍ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا بیان
(١٧٠٤١) حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے ایک صاحبزادہ نے دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کیا اور ایک ہی رات میں وہ دونوں انھیں پیش کی گئیں۔
(۱۷۰۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ ابْنًا لِعَلِیٍّ جَمَعَ بَیْنَ ابْنَتَی عَمٍّ لَہُ قَالَ : فَأُدْخِلَتَا عَلَیْہِ فِی لَیْلَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا بیان
(١٧٠٤٢) حضرت حسن قطعی رحمی کے اندیشے سے اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کیا جائے۔
(۱۷۰۴۲) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْقَرَابَۃِ مِنْ أَجْلِ الْقَطِیعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا بیان
(١٧٠٤٣) حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت کے لیے اس کی چچا زاد بہن کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس شخص سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ قطع رحمی ہے جو کہ درست نہیں۔
(۱۷۰۴۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : سُئِلَ : ہَلْ یَصْلُحُ لِلْمَرْأَۃِ أَنْ تُزَوَّجَ عَلَی ابْنَۃِ عَمِّہَا ؟ قَالَ : تِلْکَ الْقَطِیعَۃُ وَلاَ تَصْلُحُ الْقَطِیعَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دو چچا زاد بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا بیان
(١٧٠٤٤) حضرت عیسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قطع رحمی کے اندیشے سے کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی قریبی رشتہ دار خاتون سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(۱۷۰۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی خَالِدٌ الْفَأْفَاء ، عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلَی قَرَابَتِہَا مَخَافَۃَ الْقَطِیعَۃِ۔ (ابوداؤد ۲۰۸۔ عبدالرزاق ۱۰۷۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٤٥) حضرت ابو یزید کہتے ہیں کہ سباع بن ثابت نے رباح بن وہب کی بیٹی سے شادی کی۔ سباع کا کسی اور عورت سے ایک بیٹا تھا اور بنت رباح کی کسی اور خاوند سے ایک بیٹی تھی۔ اس لڑکے نے لڑکی سے زنا کیا اور لڑکی کو حمل ٹھہر گیا۔ یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس لایا گیا تو ان دونوں نے گناہ کا اعتراف کیا۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں کوڑے لگوائے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان دونوں کا نکاح کردیا جائے لیکن اس لڑکے نے انکار کردیا۔
(۱۷۰۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ تَزَوَّجَ ابْنَۃَ رَبَاحِ بْنِ وَہْبٍ وَلَہُ ابْنٌ مِنْ غَیْرِہَا وَلَہَا ابْنَۃٌ مِنْ غَیْرِہِ فَفَجَرَ الْغُلاَمُ بِالْجَارِیَۃِ فَظَہَرَ بِالْجَارِیَۃِ حَمْلٌ فَرُفِعَا إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاعْتَرَفَا فَجَلَدَہُمَا وَحَرَص أَنْ یُجْمَعَ بَیْنَہُمَا فَأَبَی الْغُلاَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٤٦) حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی مرد وعورت باہم مبتلائے برائی ہوں اور ان پر حد بھی جاری ہو اور وہ شخص اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ، اس معاملے کی ابتداء برائی سے ہوئی اور انتہاء نکاح پر ہوگی۔
(۱۷۰۴۶) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی رَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ أَصَابَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنَ الآخَرِ حَدًّا ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا ، قَالَ : لاَ بَأْسَ ، أَوَّلُہُ سِفَاحٌ وَآخِرُہُ نِکَاحٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٤٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس معاملے کی ابتداء برائی سے ہوئی اور انتہاء نکاح پر ہوگی۔
(۱۷۰۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : أَوَّلُہُ سِفَاحٌ وَآخِرُہُ نِکَاحٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٤٨) حضرت اخنس فرماتے ہیں کہ ایک رات میں { حم عسق } سورت پڑھ رہا تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا (ترجمہ) وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ اس آیت نے میرے دل پر بہت اثر کیا، میں صبح اس بارے میں سوال کرنے کے لیے حضرت عبداللہ (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے پھر اس سے شادی کرلے تو یہ کیسا ہے ؟ اس پر حضرت عبداللہ (رض) نے یہ آیت پڑھی : (ترجمہ)” وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے “
(۱۷۰۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ أَبِی جُنَابٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قرَأْت مِنَ اللَّیْلِ (حم عسق) فَمَرَرْت بِہَذِہِ الآیَۃِ : {وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ ، عَنْ عِبَادِہِ وَیَعْفُو ، عَنِ السَّیِّئَاتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} فَغَدَوْت إلَی عَبْدِ اللہِ أَسْأَلُہُ عَنْہَا فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ ، عَنِ الرَّجُلِ یَفْجُرُ بِالْمَرْأَۃِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا فَقَرَأَ عَبْدُ اللہِ : {وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ ، عَنْ عِبَادِہِ وَیَعْفُو ، عَنِ السَّیِّئَاتِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٤٩) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اس معاملے کی ابتداء برائی اور انتہاء نکاح ہے یا یہ فرمایا کہ اس کی ابتداء حرام اور انتہاء حلال ہے۔
(۱۷۰۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ عن عُرْوَۃَ بن عَبْدِ اللہِ بْنِ قُشَیرٍ ، عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَوَّلُہُ سِفَاحٌ وَآخِرُہُ نِکَاحٌ أوَ أَوَّلُہُ حَرَامٌ وَآخِرُہُ حَلاَلٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٥٠) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ دو غیر شادی شدہ مرد وعورت نے زنا کیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے انھیں کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا پھر ایک سال بعد ان دونوں کا نکاح کرادیا۔
(۱۷۰۵۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ رَجُلاً فَجَرَ بِامْرَأَۃٍ وَہُمَا بِکْرَانِ فَجَلَدَہُمَا أَبُو بَکْرٍ وَنَفَاہُمَا ثُمَّ زَوَّجَہَا إیَّاہُ بَعْدَ الْحَوْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৫০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
(١٧٠٥١) حضرت سعید بن مسیب اس نکاح میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۷۰۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَام ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا۔
তাহকীক: