মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭০১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی میراث یارجوع نہ ہو تو شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۷۰۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ ، وَقَالَ عَطَائٌ : إذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا مِیرَاثٌ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ عَلَیْہَا رَجْعَۃٌ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَتَزَوَّجَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١٣) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
(۱۷۰۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَتَزَوَّجَ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١٤) حضرت محمد بن ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی سفیان کے نکاح میں چار بیویاں تھیں۔ انھوں نے ایک کو طلاق دے کر اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں سے شادی کرلی۔ مروان نے اس بارے میں حضرت ابن عباس سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ چوتھی کی عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں سے نکاح نہیں سکتا۔
(۱۷۰۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ أَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ کَانَتْ عِنْدَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَطَلَّقَ إحْدَاہُنَّ ثُمَّ تَزَوَّجَ خَامِسَۃً قَبل أَن تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ فَسَأَلَ مَرْوَانُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لاَ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١٥) حضرت ابو صادق فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
(۱۷۰۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی صَادِقٍ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُ خَامِسَۃً حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔ اگر وہ مرجائے تو اس کا شوہر چاہے تو اسی دن بھی شادی کرسکتا ہے۔
(۱۷۰۱۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا کَانَتْ تَحْتَ الرَّجُلِ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَطَلَّقَ إحْدَاہُنَّ فَلاَ یَتَزَوَّجُ خَامِسَۃً حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ فَإِنْ مَاتَتْ فَإِنْ شَائَ فَلْیَتَزَوَّجْ مِنْ یَوْمِہِ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ نہیں ہے
(١٧٠١٧) حضرت قاسم اور حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو وہ جب چاہے شادی کرسکتا ہے۔
(۱۷۰۱۷) حَدَّثَنَا حَمَّاد بن خالد ، عَنْ مَالِکِ بن أَنس ، عَنْ رَبِیعَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ وَعُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُمَا قَالاَ : فِی الَّذِی عِنْدَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَطَلَّقَ إحْدَاہُنَّ : یَتَزَوَّجُ مَتَی ما شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی عورت کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے ؟
(١٧٠١٨) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے کسی عورت کو طلاق دی اور اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلی، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے دونوں کے درمیان جدائی کرادی اور مہر مرد کے ذمہ لازم رکھا۔ اور فرمایا کہ جب پہلی بیوی عدت پوری کرلے تو یہ نکاح کا پیغام بھیجے اگر اس نے دخول کیا ہے تو پورا مہر واجب ہوگا اور عورت پر پوری عدت ہوگی اور وہ دونوں عدت گزاریں گی اور ہر ایک کی عدت تین حیض ہوگی اگر انھیں حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے تک عدت گزاریں گی۔
(۱۷۰۱۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَلَمْ تَنْقَضِ عِدَّتُہَا حَتَّی تَزَوَّجَ أُخْتَہَا ، فَفَرَّقَ عَلِیٌّ بَیْنَہُمَا وَجَعَلَ لَہَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا وَقَالَ : تُکْمِلُ الأُخْرَی عِدَّتَہَا وَہُوَ خَاطِبٌ فإنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الصَّدَاقُ کَامِلاً وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ کَامِلَۃً وَتَعْتَدَّانِ مِنْہُ جَمِیعًا ، کُلُّ وَاحِدَۃٍ ثَلاَث قُرُوئٍ ، فَإِنْ کَانَتَا لاَ تَحِیضَانِ فَثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی عورت کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے ؟
(١٧٠١٩) حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر اس کی بہن سے شادی کی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے مروان سے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادو یہاں تک کہ طلاق یافتہ عورت کی عدت گزر جائے۔
(۱۷۰۱۹) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ قَالَ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَۃً ثُمَّ تَزَوَّجَ أُخْتَہَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِمَرْوَانَ فَرِّقْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی عورت کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے پھر اسے طلاق دے دے۔ پھر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے تو اس کا نکاح حرام ہے۔ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔ عورت کے لیے نہ مہر واجب ہوگا اور نہ ہی عدت واجب ہوگی۔
(۱۷۰۲۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا نَکَحَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ ثُمَّ طَلَّقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَ أُخْتَہَا فِی عِدَّتِہَا ، قَالَ : نِکَاحُہُما حَرَامٌ وَیُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَلاَ صَدَاقَ لَہَا وَلاَ عِدَّۃَ عَلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی عورت کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٢١) حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ حضرت عامر سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس کو طلاق دے دے پھر اس عورت کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔
(۱۷۰۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ ، عَنْ رَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَۃً ثُمَّ طَلَّقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَ أُخْتَہَا فِی عِدَّتِہَا ، قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی عورت کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٢) حضرت حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ایک آدمی کسی عورت کو تین طلاق دے دے اور اس کی عدت میں اسی کی بہن سے شادی کرلے۔
(۱۷۰۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ إذَا کَانَت لَہُ امْرَأَۃٌ فَطَلَّقَہَا ثَلاَثًا کَرِہَ أَنْ یَتَزَوَّجَ أُخْتَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کسی عورت کو طلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ کسی عورت کو طلاق دے کر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی نہیں کی کرسکتی۔
(۱۷۰۲۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ فِی عِدَّۃِ أُخْتِہَا مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے اس کی رخصت دی ہے
(١٧٠٢٤) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی عورت کو تین طلاقیں دے کر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے۔
(۱۷۰۲۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا إذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا أَنْ یَتَزَوَّجَ أُخْتَہَا فِی عِدَّتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے اس کی رخصت دی ہے
(١٧٠٢٥) حضرت حسن، حضرت سعید بن مسیب اور حضرت خلاس فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو تین طلاقیں دے اور وہ عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ عبید بن نضیلہ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے۔ جب اس بات کا تذکرہ حضرت حسن سے کیا گیا تو گویا انھوں نے اسے ناپسند کیا۔
(۱۷۰۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَخِلاَسٍ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا وَہِیَ حَامِلٌ ، قَالُوا : لاَ بَأْسَ أَنْ یَتَزَوَّجَ أُخْتَہَا فِی عِدَّتِہَا ، قَالَ : وَکَانَ عُبَیْدُ بْنُ نُضَیلَۃَ یَکْرَہُہُ حَتَّی ذُکِرَ ذلک لِلْحَسَنِ فَکَأَنَّہُ نَزَعَ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی عورت کی زوجیت کی صورت میں اس کی پھوپھی اور خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ خَالَتِہَا۔ (بخاری ۵۱۰۸۔ احمد ۳/۳۳۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٧) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی عورت کی زوجیت کی صورت میں اس کی خالہ اور پھوپھی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۲۷) حَدَّثَنَا عبد اللہ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی خَالَتِہَا وَلاَ عَلَی عَمَّتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٨) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ کسی عورت کی زوجیت کی صورت میں اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٢٩) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ کسی عورت کی زوجیت کی صورت میں اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کسی عورت کی زوجیت کی صورت میں اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ بھتیجی کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی پھوپھی سے نکاح نہیں کیا جاسکتا، بھانجی کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا، چھوٹی بہن کے منکوحہ ہونے کی صورت میں بڑی بہن سے اور بڑی بہن کے منکوحہ ہونے کی صورت میں چھوٹی بہن سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا وَلاَ تُنْکَحُ الْعَمَّۃُ عَلَی بِنْتِ أخیہا وَلاَ الْخَالَۃُ عَلَی بِنْتِ أُخْتِہَا وَلاَ تُزَوَّجُ الصُّغْرَی عَلَی الْکُبْرَی وَلاَ الْکُبْرَی عَلَی الصُّغْرَی۔ (ترمذ ی۱۱۲۶۔ ابوداؤد ۲۰۵۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کیا اپنی بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے ؟
(١٧٠٣١) حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی عورت کے منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
(۱۷۰۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلَی عَمَّتِہَا وَلاَ عَلَی خَالَتِہَا۔
তাহকীক: