মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬৯৯১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٩٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ گم شدہ آدمی کی شادی کرنے والی بیوی خاوند کے واپس آجانے کی صورت میں پہلے کی بیوی ہے۔
(۱۶۹۹۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَیَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ امْرَأَۃُ الأَوَّلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٩٣) حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے پاس ایک مقدمہ لایا گیا کہ ایک عورت کو اس کے خاوند کے انتقال کی خبر ملی اور اس نے شادی کرلی۔ پھر اس کا پہلا خاوند بھی آگیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے پہلے خاوند کو اختیاردیا جائے گا اگر چاہے تو بیوی کو لے لے اور اگر چاہے تو اپنا دیا ہوا مہر واپس لے لے۔ حضرت عمر بن حمزہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بھی یہی کہا کرتے تھے۔
(۱۶۹۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : قَضَی فِینَا ابْنُ الزُّبَیْرِ فِی مَوْلاَۃٍ لَہُمْ کَانَ زَوْجُہَا قَدْ نُعِیَ فَزُوِّجَتْ ثُمَّ جَائَ زَوْجُہَا ، فَقَضَی أَنَّ زَوْجَہَا الأَوَّلَ یُخَیَّرُ إِنْ شَائَ امْرَأَتَہُ، وَإِنْ شَائَ صَدَاقَہُ ، قَالَ عُمَرُ : وَکَانَ الْقَاسِمُ یَقُولُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٩٤) حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اس شخص کو مہر اور بیوی میں اختیار دیا جو گم ہوگیا تھا اور اس کی بیوی نے شادی کرلی تھی۔ اس نے مہر کو اختیار کرلیا اور وہ مال آپ نے دوسرے خاوند پر لازم کیا۔ حضرت حمیدکہتے ہیں کہ میں اس عورت کے پاس گیا جس کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا تھا تو اس نے کہا کہ میں نے ایک بچی کے ذریعے دوسرے خاوند کی مدد کی ہے۔
(۱۶۹۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حُمَید بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ خَیَّرَ الْمَفْقُودَ وَقَدْ تَزَوَّجَتِ امْرَأَتُہُ ، فَاخْتَارَ الْمَالَ فَجَعَلَہُ عَلَی زَوْجِہَا الأَحْدَثِ قَالَ حُمَیْدٌ : فَدَخَلْتُ عَلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی قَضَی فِیہَا ہَذَا ، فَقَالَتْ : فَأَعَنْتُ زَوْجِی الآخَرَ بِوَلِیدَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٦٩٩٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ آقا خاوند نہیں ہے۔
(۱۶۹۹۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ : لَیْسَ بِزَوْجٍ یَعْنِی السَّیِّدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٦٩٩٦) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ آقا خاوند نہیں ہے۔
(۱۶۹۹۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْت الشَّعْبِیَّ یَقُولُ : لَیْسَ بِزَوْجٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٦٩٩٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ آقا خاوند نہیں ہے۔
(۱۶۹۹۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ یَقُولُ : لَیْسَ بِزَوْجٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٦٩٩٨) حضرت زید فرماتے ہیں کہ آقا خاوند کے حکم میں ہے اگر اس کا حلال کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
(۱۶۹۹۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زَیْدٍ قَالَ : ہُوَ زَوْجٌ إذَا لَمْ یُرِدِ الإِحْلاَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٦٩٩٩) حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) سے اس بارے میں سوال کیا گیا اس وقت ان کے پاس حضرت علی (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت عثمان (رض) اور حضرت زید (رض) نے اس بارے میں رخصت دی اور دونوں نے فرمایا کہ وہ زوج ہے۔ حضرت علی (رض) ان کی اس بات پر ناگواری کی وجہ سے وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
(۱۶۹۹۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ وَعِنْدَہُ عَلِیٌّ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : فَرَخَّصَ فِی ذَلِکَ عُثْمَانُ وَزَیْدٌ ، قَالاَ : ہُوَ زَوْجٌ ، فَقَامَ عَلِیٌّ مُغْضَبًا کَارِہًا لِمَا قَالاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৯৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٠٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آقا خاوند ہے۔
(۱۷۰۰۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : ہُوَ زَوْجٌ یقول السَّیِّدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٠١) حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو دو طلاقیں دے دے۔ پھر اس باندی کا آقا اس سے وطی کرے تو کیا وہ واپس اپنے خاوند کے پاس جاسکتی ہے۔ انھوں نے اسے ناپسند فرمایا۔
(۱۷۰۰۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ حَمَّادًا ، عَنْ رَجُلٍ تَحْتَہُ أَمَۃٌ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ یَغْشَاہَا سَیِّدُہَا ، ہَلْ تَرْجِعُ إلَی زَوْجِہَا ؟ فَکَرِہَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٠٢) حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو طلاق دے دے پھر اس کا آقا اس سے جماع کرے تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے۔ انھوں نے فرمایا وہ عورت اب پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔
(۱۷۰۰۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ مَمْلُوکَۃٌ فَطَلَّقَہَا ثُمَّ إنَّ سَیِّدَہَا تَسَرَّاہَا ثُمَّ تَرَکَہَا ، أَتَحِلُّ لِزَوْجِہَا الَّذِی طَلَّقَہَا أَن یراجعہا ؟ قَالَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٠٣) حضرت زید بن ثابت اور حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایسی بیوی کو دو طلاقیں دے دے جو باندی ہو پھر اس کا آقا اس سے جماع کرلے اور اس سے مقصود کوئی دھوکا وغیرہ نہ ہو تو وہ اپنے پہلے خاوند کے پاس نکاح کے ذریعے واپس جاسکتی ہے۔
(۱۷۰۰۳) حَدَّثَنَا عَبدَۃ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ أن زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَالزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، کَانَا لاَ یَرَیَانِ بَأْسًا إذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ أَمَۃٌ تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ غَشِیَہَا سَیِّدُہَا غشیانا لاَ یُرِیدُ بِذَلِکَ مُخَادَعَۃً وَلاَ إحْلاَلاً أَنْ تَرْجِعَ إلَی زَوْجِہَا بخطبۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٠٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو دو طلاقیں دے دے۔ پھر اس باندی کا آقا اس سے وطی کرے تو وہ پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔
(۱۷۰۰۴) حَدَّثَنَا عَبدَۃ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبرَاہِیمَ فِی الأَمَۃِ یُطَلِّقُہَا زَوْجُہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ یَغْشَاہَا سَیِّدُہَا : إنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِزَوْجِہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کے نکاح میں کوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے ؟
(١٧٠٠٥) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی باندی بیوی کو دو طلاقیں دیں پھر اس کے آقا نے اس سے جماع کرلیا تو وہ اس سے شادی کرسکتا ہے۔
(۱۷۰۰۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ : إذَا طَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ وَطِئَہَا السَّیِّدُ تَزَوَّجَہَا إِنْ شَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠٠٦) حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مروان نے حضرت زید بن ثابت سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اس کو مکروہ قرار دیا۔
(۱۷۰۰۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ مَرْوَانَ سَأَلَہُ عَنْہَا فَکَرِہَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠٠٧) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ پانچویں سے اس وقت تک شادی نہیں کرسکتا جب تک طلاق یافتہ کی عدت نہ گذر جائے۔
(۱۷۰۰۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدِالْکَرِیمِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: لاَ یَتَزَوَّجُ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠٠٨) حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
(۱۷۰۰۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ؛ فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَلَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ قَالَ : لاَ یَحِلُّ لَہُ أَنْ یَتَزَوَّجَ الْخَامِسَۃَ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠٠٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔
(۱۷۰۰۹) حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِیبٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُ خَامِسَۃً حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০০৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا مکروہ ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی میراث یارجوع نہ ہو تو شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۷۰۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : لاَ یَتَزَوَّجُ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ ، قَالَ عَطَائٌ : إذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا مِیرَاثٌ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْہَا رَجْعَۃٌ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَتَزَوَّجَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭০১০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(١٧٠١١) حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں چار عورتیں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے دے تو طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک پانچویں سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ طلاق یافتہ کی عدت پوری ہونے تک نکاح نہیں کرسکتا۔
(۱۷۰۱۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَ لَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَطَلَّقَ إحْدَاہُنَّ ثَلاَثًا ، أَیَتَزَوَّجُ خَامِسَۃً ؟ قَالَ : لاَ حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّۃُ الَّتِی طَلَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক: