মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৬৯৭১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خلوت کی صورت میں عورت کے لیے نصف مہر ہوگا
(١٦٩٧٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت شریح سے کہا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی، وہ میرے پاس آٹھ سال تک رہی پھر میں نے اس سے شرعی ملاقات کئے بغیر اسے طلاق دے دی۔ انھوں نے فرمایا کہ عورت کو نصف مہر ملے گا۔
(۱۶۹۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِشُرَیْحٍ : إنِّی تَزَوَّجْت امْرَأَۃً فَمَکَثَتْ عِنْدِی ثَمَانَ سِنِینَ ثُمَّ طَلَّقْتُہَا وَہِیَ عَذْرَائُ قَالَ : لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خلوت کی صورت میں عورت کے لیے نصف مہر ہوگا
(١٦٩٧٣) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خلوت کی صورت میں عورت کے لیے نصف مہر ہوگا۔
(۱۶۹۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٧٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ شادی نہیں کرسکتی یہاں تک کہ وہ واپس آجائے یا مرجائے۔
(۱۶۹۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ ، عَنِ مَنصُور ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إذَا فَقَدَتْ زَوْجَہَا لَمْ تُزَوَّجْ حَتَّی یقبل أَو أن یَمُوتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٧٥) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ جب تک اس کی موت کا یقین نہ ہوجائے وہ عورت شادی نہیں کرسکتی۔
(۱۶۹۷۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ قَالَ: لَیْسَ لَہَا أَنْ تُزَوَّجَ حَتَّی تَبَیَّنَ لَہَا مَوْتُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٧٦) حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند گم ہوجائے یا اسے دشمن پکڑ لیں فرماتے ہیں کہ وہ صبر کرے، کیونکہ وہ ایک عورت ہے اور عورتوں کو ایسے حالات پیش آتے ہیں۔ وہ اس وقت اس کی بیوی رہے گی یہاں تک کہ اس کا خاوند واپس آجائے یا مرجائے۔
(۱۶۹۷۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی امْرَأَۃٍ تَفْقِدُ زَوْجَہَا ، أَوْ یَأْخُذُہُ الْعَدُوُّ ، قَالَ : تَصْبِرُ فَإِنَّمَا ہِیَ امْرَأَتُہُ ، یُصِیبُہَا مَا أَصَابَ النِّسَائَ حَتَّی یَجِیئَ زَوْجُہَا ، أَوْ یَبْلُغَہَا إِنَّہُ مَاتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٧٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے وہ شادی نہیں کرسکتی یہاں تک کہ وہ واپس آجائے یا مرجائے۔
(۱۶۹۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: لاَ تُزَوَّجُ امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ حَتَّی یَرْجِعَ، أَوْ یَمُوتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٧٨) حضرت عمرو بن ھانیء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی عورت کا خاوند ایک لمبے عرصے سے غائب ہو اور یہ معلوم نہ ہوسکے کہ وہ زندہ ہے یا مردہ تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ عورت انتظار کرے یہاں تک کہ معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے یا مردہ۔
(۱۶۹۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَانِئٍ قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنِ امْرَأَۃٍ غَابَ زَوْجُہَا عَنْہَا زَمَانًا لاَ تَعْلَمُ لَہُ بِمَوْتٍ وَلاَ حَیَاۃٍ قَالَ : تَرَبَّصُ حَتَّی تَعْلَمَ حَیٌّ ہُوَ أَمْ مَیِّتٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٧٩) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے وہ شادی نہیں کرسکتی یہاں تک کہ اسے خاوند کی موت کا یقین ہوجائے۔
(۱۶۹۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: لاَ تُزَوَّجُ امْرَأَۃُ الْمَفْقُودِ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِ زَوْجِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٨٠) حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے وہ شادی نہیں کرسکتی یہاں تک کہ اسے اس کی خبر مل جائے۔
(۱۶۹۸۰) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ وَحَمَّادٍ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ قَالاَ : لاَ تُزَوِّجُ أَبَدًا حَتَّی یَأْتِیَہَا الْخَبَرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا خاوند گم ہوجائے، جن حضرات کے نزدیک وہ شادی نہیں کرسکتی
(١٦٩٨١) حضرت ابراہیم سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۶۹۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ شوہر کے گم ہوجانے کی صورت میں وہ عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے انتظار نہیں کرے گی
(١٦٩٨٢) حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں کہ عورت شوہر کے گم ہوجانے کی صورت میں چار سال انتظار کرے گی اور چار مہینے دس دن عدت گزارے گی۔
(۱۶۹۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالاَ : فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِینَ وَتَعْتَدُّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ شوہر کے گم ہوجانے کی صورت میں وہ عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے انتظار نہیں کرے گی
(١٦٩٨٣) حضرت عمر (رض) عورت کا شوہر گم ہوجانے کی صورت میں فرماتے ہیں کہ عورت چار سال انتظار کرے گی پھر آدمی کے ولی کو بلایا جائے گا اور وہ عورت کو طلاق دے گا پھر وہ چار مہینے دس دن عدت گزارے گی۔
(۱۶۹۸۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ : حدَّثَنَا مُجَاہِدٌ فِی غرقۃ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّہُ قَالَ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : تَرَبَّصُ أربع سِنِینَ ثُمَّ یُدْعَی وَلِیُّہُ فَیُطَلِّقُہَا فَتَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِکَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ شوہر کے گم ہوجانے کی صورت میں وہ عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے انتظار نہیں کرے گی
(١٦٩٨٤) حضرت سعید بن مسیب گم ہوجانے والے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی بیوی ایک سال عدت گزارے گی۔
(۱۶۹۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فِی الْفَقِیدِ بَیْنَ الصَّفَّیْنِ قَالَ : تَعْتَدُّ امْرَأَتُہُ سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ شوہر کے گم ہوجانے کی صورت میں وہ عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے انتظار نہیں کرے گی
(١٦٩٨٥) حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ایک شخص کو جن اٹھا کرلے گئے۔ اس کی بیوی حضرت عمر (رض) کے پاس آئی اور ساری صورت حال بتائی تو حضرت عمر (رض) نے اسے حکم دیا کہ چار سال انتظار کرے۔ چار سال بعد خاوند کے ولی کو حکم دیا کہ وہ عورت کو طلاق دے دے۔ پھر عورت کو عدت گزارنے کا حکم دیا۔ جب عدت پوری ہوجائے تو وہ شادی کرسکتی ہے اور اگر اس کا خاوندواپس آجائے تو مرد کو بیوی اور مہر میں سے ایک چیز کا اختیار دیا جائے گا۔
(۱۶۹۸۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ أَنَّ رَجُلاً انتَسَفَتْہُ الْجِنُّ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ فَأَتَتِ امْرَأَتُہُ عُمَرَ فَأَمَرَہَا أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ أَمَرَ وَلِیَّہُ بَعْدَ أَرْبَعِ سِنِینَ أَنْ یُطَلِّقَہَا ثُمَّ أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا تَزَوَّجَتْ فَإِنْ جَائَ زَوْجُہَا خُیِّرَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَالصَّدَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ شوہر کے گم ہوجانے کی صورت میں وہ عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے انتظار نہیں کرے گی
(١٦٩٨٦) حضرت سعید بن مسیب گم ہوجانے والے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی بیوی ایک سال عدت گذارے گی۔
(۱۶۹۸۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فِی الْفَقِیدِ بَیْنَ الصَّفَّیْنِ : تَرَبَّصُ امْرَأَتُہُ سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٨٧) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس موجود تھا کہ انھوں ایک ایسے شخص کو جو گم ہوگیا تھا اور اس کی بیوی نے شادی کرلی تھی۔ اختیار دیا کہ چاہے تو بیوی واپس لے لے یا وہ مہر واپس لے لے جو اس نے عورت کو دیا تھا۔
(۱۶۹۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : شَہِدْت عُمَرَ خَیَّرَ مَفْقُودًا تَزَوَّجَتِ امْرَأَتُہُ بَیْنَہَا وَبَیْنَ الْمَہْرِ الَّذِی سَاقَہُ إلَیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٨٨) حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ جب عورت کا خاوند واپس آئے تو اسے بیوی اور دیئے گئے مہر کے درمیان اختیار ہوگا۔
(۱۶۹۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالاَ : إِنْ جَائَ زَوْجُہَا خُیِّرَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَبَیْنَ الصَّدَاقِ الأَوَّلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٨٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو غائب ہوگیا اور اس کی بیوی کو اس کے مرنے کی اطلاع ملی تو اس نے عدت گزار کر شادی کرلی۔ پھر پہلا خاوند آگیا تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ اگر وہ مہر اختیار کرلے تو عورت دوسرے خاوند کے پاس رہے گی اور اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو اختیار کرلے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو دوسرے خاوند کی طرف سے مہر ملے گا اور دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی، پھر وہ تین حیض عدت گزارے گی اور پہلے خاوند کو واپس کردی جائے گی۔
(۱۶۹۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ سُئِلَ عُمَرُ ، عَنْ رَجُلٍ غَابَ ، عَنِ امْرَأَتِہِ فَبَلَغَہَا أَنَّہُ مَاتَ فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ جَائَ الزَّوْجُ الأَوَّلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : یُخَیَّرُ الزَّوْجُ الأَوَّلُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَامْرَأَتِہِ فَإِنَ اخْتَارَ الصَّدَاقَ تَرَکَہَا مَعَ الزَّوْجِ الآخَرِ ، وَإِنْ شَائَ اخْتَارَ امْرَأَتَہُ وَقَالَ عَلِیٌّ : لَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ الآخَرُ مِنْ فَرْجِہَا وَیُفَرَّقُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ثُمَّ تَعْتَدُّ ثَلاَثَ حِیَضٍ ثُمَّ تُرَدُّ عَلَی الأَوَّلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٩٠) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابراہیم کے پاس آیا اور کہا کہ ایک عورت کو اس کے خاوند کے انتقال کرجانے کی خبر ملی اور اس نے شادی کرلی تو بعد میں اس کے زندہ ہونے کا خط آگیا۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ جب وہ آئے تو اپنی بیوی سے دور رہے۔ پھر اگر چاہے تو مہر واپس لے لے اور عورت اپنی حالت پر باقی رہے گی اور اگر وہ عورت کو اختیار کرلے تو عدت گزرنے کے بعد وہ اسی کی بیوی ہوگی۔ البتہ دوسرے خاوند کی طرف سے اسے مہر ضرور ملے گا۔ اس شخص نے کہا کہ کیا میں اس عورت کی مواکلت کرسکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا ہاں البتہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس مت جانا۔
(۱۶۹۹۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی إبْرَاہِیمَ ، فَقَالَ : إنَّہُ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً کَانَ نُعِیَ إلَیْہَا زَوْجُہَا ، إِنَّہُ جَائَ کِتَابٌ مِنْہُ أَنَّہُ حَیٌّ ، فَقَالَ لہ إبْرَاہِیمُ : اعْتَزِلْہَا فَإِذَا قَدِمَ فَإِنْ شَائَ اخْتَارَ الَّذِی أَصْدَقَہَا وکَانَت امْرَأَتَکَ عَلَی حَالِہَا ، وَإِنِ اخْتَارَ الْمَرْأَۃَ فَإِذا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا مِنْک فَہِیَ أمْرَأَۃُ الأَوَّلِ وَلَہَا مَا أَصْدَقَہَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا قَالَ : فَأُواکِلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ وَلاَ تَدْخُلُ عَلَیْہَا حَتَّی تُؤْذِنَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৯০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٩٩١) حضرت سہیہ بنت عمیر شیبانیہ فرماتی ہیں کہ مجھے قندابیل میں اپنے خاوند کے انتقال کی خبر ملی۔ میں نے بعد میں عباس بن طریف جو بنو قیس کے بھائی تھے شادی کرلی۔ بعد میں میرے پہلے خاوند بھی واپس آگئے۔ ہم مسئلہ پوچھنے حضرت عثمان بن عفان کے پاس گئے، اس وقت وہ محصور تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں اس حال میں تمہارے درمیان فیصلہ کیسے کرسکتا ہوں ؟ ہم نے کہا کہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ انھوں نے خاوند کو مہر اور عورت میں سے ایک چیز کا اختیار دیا۔ جب حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا تو ہم حضرت علی (رض) کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو انھوں نے پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا۔ پس انھوں نے مہر کو اختیار کرتے ہوئے مجھ سے اور دوسرے خاوند سے دو دو ہزار لئے۔
(۱۶۹۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ ، عَنْ سُہَیۃَ ابْنَۃِ عُمَیْرٍ الشَّیْبَانِیَّۃِ قَالَتْ : نُعِیَ إلَیَّ زَوْجِی مِنْ قَنْدَابِیلَ فَتَزَوَّجْت بَعْدَہُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِیفٍ أَخَا بَنِی قَیْسٍ ، فَقَدِمَ زَوْجِی الأَوَّلُ فَانْطَلَقْنَا إلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : کَیْفَ أَقْضِی بَیْنَکُمْ وأنا عَلَی حَالِی ہَذِہِ ؟ قُلْنَا : قَدْ رَضِینَا بِقَضَائِکَ فَخَیَّرَ الزَّوْجَ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ فَلَمَّا أُصِیبَ عُثْمَانُ انْطَلَقْنَا إلَی عَلِیٍّ وَقَصَصْنَا عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَخَیَّرَ الزَّوْجَ الأَوَّلَ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّی أَلْفَیْنِ وَمِنَ الآخَرِ أَلْفَیْنِ۔
তাহকীক: