মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬৭৫১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٢) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۶۷۵۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ سَنَۃً ، فَإِنْ وَصَلَ إلَیْہَا ، وَإِلاَّ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٣) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت شریح کو خط میں لکھا کہ نامرد کو اس دن سے ایک سال کی مہلت دی جائے گی جب سے اس کا مقدمہ قاضی کے پاس پیش ہوا۔
(۱۶۷۵۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إلَی شُرَیْحٍ أَنْ یُؤَجِّلَ الْعِنِّینِ سَنَۃً مِنْ یَوْمِ یُرْفَعُ إلیہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اس شخص کو دس مہینے کی مہلت دی جو اپنی بیوی سے جماع کرنے کے قابل نہ تھا۔
(۱۶۷۵۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ أَجَّلَ رَجُلاً عَشَرَۃَ أَشْہُرٍ لَمْ یَصِلْ إلَی أَہْلِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی سے جماع کرنے کے قابل نہ ہو اسے علاج کے لیے ایک سال یا دس مہینے کی مہلت دی جائے گی۔
(۱۶۷۵۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ: إذَا لَمْ یَصِلَ الرَّجُلُ إلَی امْرَأَتِہِ أُجِّلَ سَنَۃً أَو عَشَرَۃَ أَشْہُرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نامرد کو اس دن سے مہلت دی جائے گی جب سے اس کا فیصلہ سلطان کی مجلس میں پیش ہوا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے وقت تو یاد نہیں البتہ اسے اس دن سے مہلت دی جائے گی جس دن اس کا مقدمہ قاضی کی عدالت میں پیش ہوا۔
(۱۶۷۵۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ وَعَنْ الْمُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالاَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ مِنْ یَوْمِ یُرْفَعُ إلَی السُّلْطَانِ قَالَ یُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ : یُؤَجَّلُ سَنَۃً وَقَالَ مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : لاَ أَحْفَظُ الْوَقْتَ وَلَکِنَّہُ یُؤَجَّلُ مِنْ یَوْمِ یُرْفَعُ إلَی السُّلْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٧) حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب فرمایا کرتے تھے کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
(۱۶۷۵۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشعبی أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ بِقَوْلِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۶۷۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ سَنَۃً فَإِنْ وَصَلَ إلَیْہَا ، وَإِلاَّ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس دن مقدمہ عدالت میں پیش ہوا اس دن سے ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
(۱۶۷۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : یَسْتَقْبِلُ بِہَا مِنْ یَوْمِ تُخَاصِمُہُ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦٠) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
(۱۶۷۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ سعید بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ وَالَّذِی یُؤْخَذُ ، عَنِ امْرَأَتِہِ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۶۷۶۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ سَنَۃً فَإِنْ وَصَلَ إلَیْہَا ، وَإِلاَّ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦٢) حضرت یحییٰ بن سعید اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ ابو حلیمہ معاذ القاری نے حارثہ بن نعمان انصاری کی بیٹی سے شادی کی۔ لیکن وہ ان سے جماع کرنے پر قادر نہ ہوسکے۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں ایک سال کی مہلت دی۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ مجھے عبد الرحمن انصاری نے بتایا کہ جب ایک سال گزر گیا تو دونوں کے درمیان حضرت عمر (رض) نے جدائی کرادی اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے حارثہ کی بیٹی کا مسئلہ حل کرادیا۔
(۱۶۷۶۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَشْیَاخِہِمْ أَنَّ أَبَا حَلِیمَۃَ مُعَاذًا الْقَارِیَّ تَزَوَّجَ ابْنَۃَ حارثۃ بْنِ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِیِّ فَلَمْ یَصِلْ إلَیْہَا فَأَجَّلَہُ عُمَرُ سَنَۃً ، قَالَ یَحْیَی : فَأَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیُّ أَنَّہُ حَیْثُ حَالَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَفَّ عَلَی حارثۃ ابْنَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦٣) حضرت عمر (رض) نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دی۔
(۱۶۷۶۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّہُ أَجَّلَ الْعِنِّینَ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ اور میرے خیال میں یہ مہلت اس وقت سے ہوگی جب اس کا مقدمہ قاضی کے پاس آیا۔
(۱۶۷۶۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَقُولُ : یُؤَجَّلُ سَنَۃً لاَ أَعْلَمُہُ إلاَّ مِنْ یَوْمِ یُرْفَعُ إلَی السُّلْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦٥) حضرت نسیر فرماتے ہیں کہ میں عبد الملک بن مروان کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک نابینا نامرد لایا گیا انھوں نے اسے علاج کے لیے ایک سال کی مہلت دی۔
(۱۶۷۶۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ نُسَِیرٍ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ فَأُتِیَ بِعِنِّینٍ فَإِذَا إنْسَانٌ ضَرِیرٌ فَأَجَّلَہُ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٦٦) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔
(۱۶۷۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ شِمْر ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ سَنَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو نامرد سے چھٹکارے کے لیے اختیار دیا جائے تو اسے نکاح کی بقاء اور اختتام کے بارے میں اختیار ہے
(١٦٧٦٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ سال پورا ہونے پر عورت کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو ختم کردے۔
(۱۶۷۶۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ وَعُبَیدَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالاَ : تُخَیَّرُ فِی رَأْسِ الْحَوْلِ فَإِنْ شَائَتْ أَقَامَتْ ، وَإِنْ شَائَتْ فَارَقَتْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کو نامرد سے چھٹکارے کے لیے اختیار دیا جائے تو اسے نکاح کی بقاء اور اختتام کے بارے میں اختیار ہے
(١٦٧٦٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے خط لکھا کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دو ، اگر وہ جماع پر قادر ہوجائے تو ٹھیک ورنہ عورت کو اختیار دے دو ، چاہے تو نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو ختم کردے۔
(۱۶۷۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ : کَتَبَ إلَیَّ عُمَرُ أَنْ أَجِّلْہُ سَنَۃً فَإِنَ اسْتَطَاعَہَا ، وَإِلاَّ خَیِّرْہَا فَإِنْ شَائَتْ أَقَامَتْ ، وَإِنْ شَائَتْ فَارَقَتْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب اس نے نکاح کے باقی رکھنے کو اختیار لے لیا تو اس کا خیار ختم ہوجائے گا
(١٦٧٦٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی اگر وہ جماع پر قادر ہوجائے تو ٹھیک ورنہ عورت کو اختیار دیا جائے گا۔ اگر وہ نکاح کے باقی رکھنے کو اختیار کرلے تو اس کا اختیار ختم ہوجائے گا۔
(۱۶۷۶۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ أَجَلاً فَإِنْ وَصَلَ ، وَإِلاَّ خُیِّرَتْ فَإِنَ اخْتَارَتْہُ فَلَیْسَ لَہَا خِیَارٌ بَعْدَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کی بیوی کے مہر کی کیا صورت ہوگی ؟
(١٦٧٧٠) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دی۔ اور فرمایا کہ اگر وہ ایک سال میں جماع کے قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت کو پورا مہر ملے گا۔
(۱۶۷۷۰) حَدَّثَنَا یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّہُ أَجَّلَ الْعِنِّینَ سَنَۃً فَإِنْ أَتَاہَا ، وَإِلاَّ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا وَلَہَا الصَّدَاقُ کَامِلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৭০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کی بیوی کے مہر کی کیا صورت ہوگی ؟
(١٦٧٧١) حضرت شریح اس نامرد کے بارے میں جو اپنی بیوی سے جماع پر قادر نہ ہوسکا فرماتے تھے کہ اسے آدھا مہر دینا ہوگا۔
(۱۶۷۷۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الْعِنِّینِ إذَا لَمْ یَصِلْ إلَی امْرَأَتِہِ : إنَّ عَلَیْہِ نِصْفَ صَدَاقٍ۔
tahqiq

তাহকীক: