মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৬৭৩১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٢) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سودہ (رض) بہت عمر رسیدہ ہوگئیں تو انھوں نے اپنے حصے کا دن ہمیشہ کے لیے حضرت عائشہ (رض) کے لیے ہبہ کردیا۔
(۱۶۷۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ سَوْدَۃَ لَمَّا أَسَنَّتْ وَہَبَتْ یَوْمَہَا لِعَائِشَۃَ حَتَّی لَقِیَتِ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٣) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۱۶۷۳۳) حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ بِمِثْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٤) حضرت ابو رزین قرآن مجید کی آیت (ترجمہ)” ان میں سے آپ جسے چاہیں چھوڑ دیں اور جسے چاہے ساتھ رکھ لیں “ (الاحزاب : ٥١) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) ، حضرت ام سلمہ (رض) ، حضرت زینب (رض) اور حضرت حفصہ (رض) کو رکھنا چاہتے۔ ان کا حصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور آپ کے جسم میں برابر ہوتا۔ جنھیں آپ چھوڑنا چاہتے تھے وہ حضرت سودہ (رض) ، حضرت جویریہ (رض) ، حضرت ام حبیبہ (رض) ، حضرت میمونہ (رض) اور حضرت صفیہ (رض) تھیں۔ آپ ان کے لیے جو چاہتے تقسیم فرماتے۔ جب آپ نے انھیں چھوڑنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ ہمارے لیے جو چاہیں حصہ مقرر فرما دیں اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑدیں۔
(۱۶۷۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ أَبِی رَزِینٍ فِی قولہ تعالی : {تُرْجِی مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِی إلَیْک مَنْ تَشَائُ} فَکَانَ مِمَّنْ آوَی عَائِشَۃُ وَأُمُّ سَلَمَۃَ وَزَیْنَبُ وَحَفْصَۃُ ، فَکَانَ قسمتہن مِنْ نَفْسِہِ وَمَالِہِ فیہن سَوَائً ، وَکَانَ مِمَّنْ أَرْجَی سَوْدَۃُ وَجُوَیْرِیَۃُ وَأُمُّ حَبِیبَۃَ وَمَیْمُونَۃُ وَصْفِیَّۃُ ، فَکَانَ یَقْسِمُ لَہُنَّ مَا شَاء َ ، وَکَانَ أَرَادَ أَنْ یُفَارِقَہُنَّ فَقُلْنَ لَہُ : اقْسِمْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ مَا شِئْت وَدَعْنَا نَکُونُ عَلَی حَالِنَا۔ (ابن جریر ۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٥) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت اپنے خاوند کی سات درہم کے بقدر مالک بن گئی۔ اس بارے میں حضرت میسرہ سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے خاوند کے لیے حرام ہوگئی۔ اور میں نہیں جانتا کہ وہ اس کے لیے کیسے حلال ہوگی ؟ میں حضرت شعبی سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ابوبکر بن ابی موسیٰ سے ملو اور ان سے سوال کرو۔ وہ ان دنوں وہاں قاضی تھے۔ میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب تم کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ کام کرلو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ میں حضرت شعبی کے پاس آیا اور ان سے سارا واقعہ ذکر کیا تو وہ مسکرا دیئے۔ اور فرمایا کہ تم عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے خاوند کے لیے حرام ہوگئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیسے حلال ہوگی ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ اسے ہبہ کردے، یا آزاد کردے یا بیچ دے۔ میں واپس حضرت شعبی کے پاس گیا میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے سوال کرو کہ وہ عدت گزارے گی یا نہیں ؟ میں ان کے پاس واپس آیا تو انھوں نے فرمایا کہ نہیں وہ عدت نہیں گزارے گی۔ میں حضرت شعبی کے پاس واپس آیا اور انھیں اطلاع دی تو انھوں نے فرمایا کہ فتوی کو محفوظ کرلو۔ میں ابن معقل کے پاس آیا۔ راوی عبدالسلام فرماتے ہیں کہ ان کا قول مجھے یاد نہیں رہا البتہ عمار بن رزیق نے عطاء بن سائب کی روایت سے ابن معقل کا قول نقل کیا ہے کہ وہ دونوں نکاح کا اعادہ کریں گے۔
(۱۶۷۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ امْرَأَۃً مَلَکَتْ مِنْ زَوْجِہَا قِیمَۃَ سَبْعَۃ دَرَاہِمِ فَسُئِلَ مَیْسَرَۃُ ، عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : حرُمَتْ عَلَیْہِ وَلاَ أَدْرِی مِنْ أَیْنَ تَحِلُّ لَہُ ؟ فَلَقِیت الشَّعْبِیَّ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : الْقَ أَبَا بَکْرِ بْنَ أَبِی مُوسَی فَاسْأَلْہُ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ قَاضٍ فَأَتَیْتہ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : إذَا لَمْ تَسْتَطِعْ شَیْئًا فَدَعْہُ إلَی مَا تَسْتَطِیعُ فَأَتَیْت الشَّعْبِیَّ فَذَکَرْت ذَلِکَ لَہُ فَضَحِکَ وَقَالَ : اذْہَبْ إلَی عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ فَأَتَیْتہ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ ، حَرُمَتْ عَلَیْہِ ، فَقُلْتُ ، مِنْ أَیْنَ تَحِلُّ لَہُ ؟ فقَالَ : تَہَبُ ، أَوْ تُعْتِقُ ، أَوْ تَبِیعُ فَرَجَعْت إلَی الشَّعْبِیِّ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إلَیْہِ فَاسْأَلْہُ أَتَعْتَدُّ مِنْہُ ؟ فَأَتَیْتہ ، فَقَالَ : لاَ ، إنَّمَا ہُوَ مَاؤُہُ فَرَجَعْت إلَی الشَّعْبِیِّ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : طَابَقَ الْفَتْوَی فَأَتَیْت ابْنَ مَعقِلٍ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ عَبْدُ السَّلاَمِ : فَلَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ فَأَخْبَرَنِی عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ قَالَ : یَسْتَقْبِلاَنِ لِلنِّکَاحِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٦) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میسرہ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو اپنے غلام مالک کی وارث بن جائے تو انھوں نے فرمایا کہ وہ عورت اپنے خاوند کے لیے حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۷۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَأَلْتُ مَیْسَرَۃَ ، عَنِ امْرَأَۃٍ وَرِثَتْ مِنْ زَوْجِہَا شَیْئًا قَالَ : حَرُمَتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٧) حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں جو اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے فرماتے ہیں کہ اگر اس عورت نے مالک بنتے ہی فورا اپنے خاوند کو آزاد نہ کیا تو وہ اس پر حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۷۳۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی امْرَأَۃٍ مَلَکَتْ مِنْ زَوْجِہَا شَیْئًا فقَالَ : حرُمَتْ عَلَیْہِ إلاَّ أَنْ تُعْتِقَہُ سَاعَۃَ تَمْلِکُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٨) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۶۷۳۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ أَنَّ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٣٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ عورت اپنے خاوند پر حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۷۳۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : حَرُمَتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ وہ عورت خاوند پر حرام ہوجائے گی اور اگر چاہے تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
(۱۶۷۴۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یونس ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قد حرُمَتْ عَلَیْہِ فَلْیَسْتَأْنِفْ نِکَاحَہَا إِنْ أَرَادَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤١) حضرت شعبی بھی یونہی فرماتے ہیں۔
(۱۶۷۴۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ : وَقَالَ ذَلِکَ الشَّعْبِیُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٢) حضرت طاوس سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جسے اس کے غلام خاوند کی ملکیت میں حصہ مل جائے اور وہ اسی وقت اسے آزاد کردے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر ایک مکھی کے برابر بھی تاخیر ہوئی تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۶۷۴۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ ، عَنْ طَاوُوسٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ امْرَأَۃٍ وَقَعَ لَہَا فِی زَوْجِہَا شِرْکٌ فَأَعْتَقَتْہُ سَاعَۃَ مَلَکَتْہُ ، فَقَالَ : لَوْ کَانَ قَدر ذُبَابٍ فَرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٣) حضرت زہری فرماتے ہیں وہ عورت اپنے خاوند پر حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۷۴۳) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : حرُمَتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٤) حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے۔ ان دونوں نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند پر حرام ہوجائے گی۔ اور اگر وہ اس سے شادی کرے تو مرد کے پاس تین طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
(۱۶۷۴۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا ، عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرِثُ مِنْ زَوْجِہَا سَہْمًا قَالاَ : حرُمَتْ عَلَیْہِ ، وَإِنْ تَزَوَّجَہَا فَإِنَّہَا عِنْدَہُ عَلَی ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر آزادی کے بعد شادی کرے تو اس کے پاس تین طلاقوں کا حق ہوگا۔ اور ان کے درمیان کی فرقت طلاق شمار نہیں کی جائے گی۔
(۱۶۷۴۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ إِنْ أُعْتِقَ بعد تَزَوَّجَہَا فَإِنَّہَا عِنْدَہُ عَلَی ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ لَمْ تَکُنْ فرقتہما طَلاَقًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ وہ عورت اپنے خاوند پر حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۷۴۶) حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مَیْسَرَۃَ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: حرُمَتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٧) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی مالک بنے تو اگر وہ اسے اسی وقت آزاد کردے تو ان کا نکاح باقی رہے گا۔
(۱۶۷۴۷) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِی الْمَرْأَۃِ تَمْلِکُ زَوْجَہَا قَالَ: إِنْ أَعْتَقَتْہُ مَکَانَہَا فَہُمَا عَلَی نِکَاحِہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت اپنے غلام خاوند کے کسی حصہ کی مالک بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦٧٤٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی غلام کی کوئی آزاد بیوی ہو اور غلام کا مالک مرجائے اور وہ بیوی اپنے خاوند کے کسی حصے کی مالک بن جائے تو اگر اس نے اپنے خاوند کو آزاد کردیا تو ان کا پہلا نکاح باقی رہے گا اور اگر اس نے آزاد نہ کیا تو وہ عورت اپنے خاوند پر حرام ہوجائے گی۔
(۱۶۷۴۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : إذَا کَانَ لِلْمَمْلُوکِ امْرَأَۃٌ حرۃ فَمَاتَ مَوْلَی الْمَمْلُوکِ فَوَرِثَتِ امْرَأَتُہُ نَصِیبًا مِنْہُ فَإِنْ أَعْتَقَتْہُ مَکَانَہَا فَہُمَا عَلَی نِکَاحِہِمَا الأَوَّلِ ، وَإِنْ لَمْ تُعْتِقْہُ حَرُمَتْ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٤٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ پھر وہ دونوں اللہ کا فضل تلاش کریں۔
(۱۶۷۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ کَثِیرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : یُؤَجَّلُ سَنَۃً فَإِنْ وَصَلَ ، وَإِلاَّ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا فَالْتَمَسَا مِنْ فَضْلِ اللہِ یَعْنِی الْعِنِّینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥٠) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ کسی قابل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔
(۱۶۷۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ أَبِیہِ وَحُصَیْنُ بْنُ قَبِیصَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ أَنَّہُ قَالَ : یُؤَجَّلُ الْعِنِّینُ سَنَۃً فَإِنْ جَامَعَ ، وَإِلاَّ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نامرد کو علاج کے لیے کتنی مہلت دی جائے گی ؟
(١٦٧٥١) حضرت مغیرہ بن شعبہ نے نامرد کو ایک سال کی مہلت دلوائی۔
(۱۶۷۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ أَبِی حَنْظَلَۃَ النعمان ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّہُ أَجَّلَ الْعِنِّینَ سَنَۃً۔
তাহকীক: